Masoomiyat By Zarish Noor Readelle50109 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
ناول “” معصومیت””
از🖋 زرش نور
قسط نمبر ۱۷
حیدر کی جب آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا میرال اس کے سینے پر سر رکھے سکون سے سو رہی تھی ۔ اس کے بالوں کی خوشبوں اسے مد ہوش کر رہی تھی۔ اس نے اسے دونوں بازو کے گھیرے میں لیا تبھی میرال کی آنکھ کھلی وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی۔حیدر نے اسے جاگتے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں ۔وہ خود سے الجھتی اٹھی اور اٹھ کر واش روم میں فریش ہونے چلی گئی وہ حیدر کے جاگنے سے پہلے کمرےسے نکلنا چاہتی تھی۔واش روم کے دروازے کے بند ہونے کی آواز سن کر حیدر نے آنکھیں کھول دیں وہ کروٹ لے کر لیٹ گیا اسے ابھی بھی اپنے سینے سے اس کی خوشبو آ رہی تھی۔
میرالُ واش روم سے باہر آئی تو حیدر کو جاگتے دیکھ کر اس کے قدم سست پڑ گئے ۔وہ باہر جانے والے دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی تبھی اسے حیدر کی آواز سنائی میرے کپڑے نکال دو میں فریش ہو کر آتا ہوں وہ اسے مصروف رکھنا چاہتا تھا تاکہ وہ کمرے میں ہی رہے یہ کہہ کر وہ واش روم میں چلا گیا۔
وہ باہر آیا تو وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھی تھی۔ شیشے کے آگے کنگی کرتے ہوۓ حیدر نے اسے غور سے دیکھا اسے لگا وہ سر جھکاۓ رو رہی ہے۔وہ پنجوں کے بل پلٹا اس کے آگے ایک سٹول رکھ کر بیٹھا ۔
کیا ہوا ہے؟؟
اس کے پوچھنے کی دیر تھی میرال نے اور شدت سے رونا شروع کردیا۔
حیدر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کے وہ کیا کرے۔اس نے ٹشو باکس اس کے آگے کیا ۔میرال اس نے نرمی سے اسے پکارا کیا ہوا ہے۔ مجھے نتاؤ گی تو میں کچھ کر سکوں گا نہ لیکن مجھے پتہ تو چلے کہ مسئلہ کیا ہے۔
میرا کل پیپر ہے اور میری تیاری نہیں ہے اور اب میری شادی بھی ہو گئی ہے تو میں پیپر کیسے دوں گی۔
بس یہی بات ہے یا کچھ اور بھی؟؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
اوکےبولو میں سن رہا ہوں اور کیا بات ہے؟؟
آپ بہت پڑھے لکھے ہیں اور آپ کے آفس میں بہت ساری لڑکیاں کام کرتی ہیں آپ کی کزنز بھی بہت پیاری ہیں پھر آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی؟؟
آچھا اور یہ انفارمیشن آپ کو کس نے دی ہے۔
وہ صفیہ بی کی بیٹی سلطانہ لیکن آپ اس کو کچھ مت کہئیے گا وہ بہت آچھی ہے۔
حیدر نے نرمی سے میرال کے دونوں ہاتھوں کواپنے ہاتھوں میں لیا۔ ہاں یہ سچ ہے میرے ساتھ خواتین کام کرتی ہیں اور باقی باتیں بھی صیح ہیں جہاں تک میرا خیال ہے تم یہ جاننا چاہتی ہو کے میں نے تم سے شادی کیوں کی؟
تو اس کا آسان جواب یہ ہے کے تم میری زندگی ہو تم میری پہلی نظر کی محبت ہو اگر مجھے تم نہ ملتی تو میری زندگی ادھوری تھی۔
میں تمہیں رات کو چھوڑ کر گاؤں اس لئے گیا تھا کیونکہ دادا پر جاتے ہوۓ کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا تھا۔
وہ کیسے ہیں اب ۔” میرال نے تشویش سے پوچھا۔”
ٹھیک ہیں””حیدر کو اس کا دادا کے لئے اس طرح پوچھنا بہت آچھا لگا۔”
اب رو گی تو نہیں؟
اس نے نہ میں گردن ہلائی۔حیدر سٹول سے اٹھ کر اس کے برابر بیٹھ گیا اور اسے بانہوں کے حصار میں لے لیا ۔میرال نے خود کو اس کے سپرد کردیا کیونکہ وہ جان چکی تھی کے وہ اس سے بہت پیار کرتا ہے۔
آج میرال کا آخری پیپر تھا وہ پیپر دے کر باہر نکلی تو حیدر سامنے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔میرال کے دیکھنے پر اس نے میرال کو سمائل پاس کی لیکن اسے محسوس ہوا کے وہ کچھ افسردہ ہے۔اس نے میرال کے لئے فرنٹ ڈور اوپن کیا اور جب وہ بیٹھ گئی تو دروازہ بند کر کے خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں آج کچھ افسردہ لگ رہے ہیں آپ ؟؟
میرال مجھے اس نے کچھ توقف لیا میرال مجھے دو ماہ کے لئے مانچسٹر جانا پڑے گا میں تو تمہیں ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں لیکن تمہارا پاسپورٹ بھی نہیں بنا ہوا اور میری پرسوں شام کی سیٹ بک ہے۔
کوئی بات نہیں آپ جائیں میں رہ لوں گی ۔ اس کے گلے میں آنسو کا گولا بن گیا تھا اس نے بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کی۔
آؤ پہلے چل کے کہیں کھانا کھا لیتے ہیں ۔پھر ہمیں گا ؤں کے لئے نکلنا ہے کیونکہ دادا جی نے کہا ہے کے میں تمہیں ان کے پاس چھوڑ کر جاؤں۔ اگر تم اپنی نانی کے گھر جانا چاؤ تو میں دادا جی کو منع کر دوں گا۔
نہیں آپ جہاں کہیں۔
چلیں پھر! اس نے سر اثبات میں ہلایا۔
میرال راستے میں سو گئی پیپرز کی وجہ سے وہ ان دنوں رات کو جاگتی رہی تھی گاؤں کی کچی پکی سڑک پر وہ بہت احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا ۔ گاؤں کے پاس پہنچ کر حیدر نے میرال کو جگایا۔ گاڑی جب حویلی کے اندر داخل ہوئی تو میرال کے چودہ طبق روشن ہو گئے شہر میں اس کے نانا کا گھر بھی بہت بڑا تھا حیدر کے ساتھ جس گھر میں وہ رہ رہی تھی وہ بھی بہت بڑا تھا لیکن یہ حویلی تو اس کی سوچوں سے بھی بڑی تھی آج پہلی بار وہ حیدر کے سامنے احساس کمتری کا شکار ہو رہی تھی۔ حویلی کے مین ڈور سے اندر داحل ہوتے وقت حیدر نے میرال کو آگے چلنے کے لئے بولا سارے لوگ اس وقت حویلی کے اس بڑے ہال میں موجود تھے۔ دادا جی نے حیدر کی شادی کا حویلی میں سب کو بتا دیا تھا۔ حیدر ایک ایک کر کے سب سے ملتا گیا ساتھ ساتھ میرال سے بھی تعارف کرواتا گیا۔ سب میرال سے مل کر حیران ہو رہے تھے ان کا حیال تھا کے کوئی الٹرا ماڈرن قسم کی لڑکی ہو گی ۔ لیکن یہ تو بہت ہی سادہ سی بہت عام سی تھی۔سکندر صاحب کے پاس پہنچ کر حیدر رک گیا یہ اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتا سکندر حود ہی بول پڑے میں تمہارا سسر ہوں اور یہ تمہاری ساس انہوں نے ندا بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا اور میرال حیران تھی اتنے دنوں میں حیدر نے ایک بار بھی اپنے ما ں باپ یا بہن بھائیوں کسی کا بھی زکر نہیں کیا سب بہت آچھے طریقے سے ملے ندا بیگم اور شاہانہ بیگم کو چھوڑ کر میرال کو نانی نے اپنے نغل میں بٹھایا۔حیدر نانااور فاروق صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا۔ کھانا کھا کر بڑے سب اپنے اپنے کمروں میں تشریف لے گئے تب سب ینگ جنریشن نے اپنی محفل سجائی۔ حیدر اور میرال کو ساتھ ساتھ بٹھایا حویلی میں آتے جاتے نوکر بھی حیدر کی بیوی کو بہت اشتیاق سے دیکھ رہے تھے۔
رات کے بارہ بجے اللہ اللہ کر کے ان کی جان چھوٹی ۔ حیدر میرال کو لے کر حویلی میں موجود اپنے کمرے میں آیا وہ دونوں چینج کر کے بیڈ پر آۓ تو میرال نے سب سے پہلے حیدر سے پوچھا حیدر آپ نے مجھے اپنے ماں باپ کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔حیدر نے اسے اپنے ماں اور باپ کے بارے میں سب بتایا ۔ میرال کو آج حیدر سے اور محبت ہو گئی اس کے بارے میں سب جان کر کے وہ بھی اس کی طرح محبتوں کو ترسا ہوا ہے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️🧡
