Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ناول “” معصومیت””
از🖋 زرش نور
قسط نمبر ۲۱

عمر اس وقت گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا فرنٹ سیٹ پر حیدر بیٹھا تھا جب کے پیچھے والی سیٹوں پر علی اور سکندر صاحب بیٹھے تھے۔ حیدر کی نظر اپنے موبائل کی سکرین پر تھی اس نے دونوں ہونٹ سختی سے بھینچ ہوئے تھے ۔ اس کا رواں رواں اس وقت دعا بنا ہوا تھا ۔ وہ دل ہی دل میں بس دعائیں مانگے جا رہا ہے کہ بس اس اس کی میرال صیح سلامت مل جائے۔وہ عمر کو گائیڈ کر رہا تھا کے آگے کدھر جانا ہے۔گاڑی جوں ہی ایک کچے راستے کی طرف مڑی حیدر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا لیکن تھوڑا سا آگے جا کر وہ سڑک ختم ہو گئی ۔ حیدر سب سے پہلے گاڑی سے نکلا اور اس نے اپنی گاڑی سے اپنی سیفٹی گن اٹھا لی تھی۔راستے میں وہ لوگ آگے بڑھنے لگے حیدر سب سے آگے تھا اس سے ٹھیک طرح سے چلا نہیں جا رہا تھا وہ کمر سے تھوڑا جھک کر چل رہا تھا کیونکہ سیدھا ہو کر چلنے سے اس کے زخم میں کھینچاؤ ہوتا تھا۔
تھوڑا سا آگے چل کر درختوں کا جھنڈ شروع ہو گیا وہ جھنڈ جیسے ہی ختم ہوا انہیں آگے ایک پرانا بوسیدہ سا گھر نظر آیا ۔ گھر کے گیٹ پر پہنچ کر ان لوگوں نے تھوڑی دیر اندر سے کوئی آوازیں سننے کی کوشش کی لیکن انہیں کوئی آواز سنائی نہ دی ۔ حیدر نے گیٹ پر تھوڑا سا دباؤ ڈالا تو وہ کھلتا چلا گیا۔گیٹ سے اندر بڑا سا دلان تھا دلان کے آخر میں دو کمرے تھے ایک تو لاک تھا جب کے دوسرا کھلا تھا۔ عمر اور علی احتیاط باہر ہی کھڑے ہو گئے تھے جب کے سکندر اور حیدر اندر گئے ۔ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی حیدر کے ہاتھ سے گن گر گئی وہ سامنے کرسی پر موجود تھی خون میں لت پت پڑی تھی ۔ حیدر بہت ہمت کر کے اس تک پہنچا اور اس کے چہرے پر ہاتھ سے اسے جگانے لگا جیسے وہ سو رہی ہو ۔ میرال کا سر ایک جھٹکے سے حیدر کے کندھے سے لگا حیدر اونچی آواز میں رونے لگا اس کا ضبط ٹوٹ گیا تھا۔ بیٹے کی حالت دیکھ کر سکندر نے بہت ضبط سے کام لیا اور آگے بڑھ کر میرال کی نبض چیک کی جو بہت سست لیکن چل رہی تھی ۔ سکندر نے جلدی سے حیدر سے میرال کو الگ کیا حیدر یہ زندہ ہے اس کی نبض چل رہی ہے حیدر نے جلدی سے اس کی کلائی پکڑی اور اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا۔لیکن ناکام رہا صکندر نے اس سے میرالُ کو لے لیا اور باہر کی طرف بھاگے۔


اس وقت وہ ہاسپٹل میںicu کے باہر بیٹھا تھا اس کی اہنی کنڈیشن کچھ اچھ نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ پچھلے تین گھنٹوں سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا تھا۔ اس وقت دونوں حویلی سے سارے لوگ ہاسپٹل میں موجود تھے۔ بختاور خان خود کو اس سب کا ذمہ دار سمجھ رہے تھے۔ وہ شرمسار تھے وہ حیدر سے بھی معافی مانگ چکے تھے حیدر نے ان کے ہاتھ پکڑ لیا نہیں نانا یہ سب تو ہماری قسمت میں پہلے سے ہی لکھ دیا گیا تھا ۔
کوئی چار گھنٹے کے بعد ڈاکٹرز باہر آئے اور انہیں بتایا کے وہ اب خطرے سے باہر ہے لیکن یہ کوئی پتہ نہیں کے اسے کب ہوش آئے گا اگر اسے اگلے 24 گھنٹوں میں ہوش آ جاتا ہے تو ٹھییک نہیں تو آپ لوگ کسی بھی طرح کی صورتحال کے لئے تیار رہیں اسے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔سب کے بہت کہنے کے باوجود حیدر گھر نہیں گیاوس کے سامنے بیٹھا اسے دیکھتا رہا باقی سب کو اس نے گھر بھیج دیا لیکن سکندر نہیں مانے اور ہاسپٹل میں ہی رکے۔
دوسرے دن دوپہر کو میرال کو ہوش آیا اسے آنکھیں کھلتے دیکھ کر حیدر کی جان میں جان آئی خوشی سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آۓ۔


آج اس واقعے کو پورے دس دن گزر چکے ہیں حیدر کا زخم تو ٹھیک ہو گیا ہے ۔لیکن میرال کی کنڈیشن کچھ آچھی نہیں تھی سب کے منع کرنے کے باوجود وہ میرال کو ہاسپٹل سے سیدھا اپنے شہر والے گھر میں لے آیا تھا ۔ اس بار شہباز خان حیدر سے اس بات پر
ناراض ہوۓ تھے لیکن سکندر نے کچھ نہیں کہا بس اتنا بولے بابا جان کرنے دیں جو اس کا دل چاہتا ہے۔ وہ میرال کے لئے حیدر کی دیوانگی دیکھ چکے تھے۔میرال کے ننھیال سے بھی سب لوگ آۓ تھے نانی نے تو باقاعدہ رونا دھونا شروع کر دیا تھا میرال کو دیکھ کر لیکن اس نے انہیں خود ہی سمجھایا کے وہ ٹھیک ہے اس نے انہیں اپنے زخم نہیں دیکھاۓ ۔ وہاںُ سب کو یہی بتایا تھا کے چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا ۔
آج احمر حیا اور پلوشہ بیگم میرال کو دیکھنے آۓ تھے ۔وہ سب ملازم کی معیت میں میرال کے کمرے تک آۓ ۔ وہُ سب حیدر کا گھر دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔وہ لوگ ابھی بیٹھے تھے کے حیدر آگیا وہ سب سے ملُکر میرال کی بیڈ کی سائیڈ پہ رکھی چئیر پر بیٹھ گیا ۔پلوشہ بیگم اس کا تفصیلی جائزہ لینے لگی وائٹ کلر کی شرٹ ساتھ ایش گرے پینٹ اسی کلر کا کوٹ پہنے وہ بہت پیارا لگ رہا تھا اب انہوں نے غور سے دیکھا میرال نےبھی گرے اور وائٹ سوٹ پہنا ہوا تھا ۔
حیدر نے جھک کر میرال کے کان میں کچھ کہا جس کے جواب میں اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔ پلوشہ بیگم کو یہ سب بالکلُ بھی آچھا نہیں لگ رہا تھا ان کا تو خیال تھا کے اتنے بڑے گھر میں اس کی شادی ہو رہی ہے تواس کی ویسی عزت بھی نہیں ہو گی لیکن یہاں آ کر دیکھ کرانُکے تن بدن میں آگ لگ گئی۔