Masoomiyat By Zarish Noor Readelle50109 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
ناول “” معصومیت””
از 🖋 زرش نور
قسط نمبر ۱۶
تھوڑی دیر کے بعد حیدر کمرے میں داخل ہوا ۔ “” وہ کچھ پریشان لگ رہا تھا۔”
کیا ہوا ہے؟؟ خیریت
“” وہ آہستہ سے چلتا ہوا میرال کے پاس آیا۔””
ہاں سب خیریت ہے “” وہ ہاتھ کی انگلیوں سے سر مسلتے ہوۓ بولا ۔”” مجھے کچھ ارجنٹ کام سے ابھی گاؤں کے لئے نکلنا ہے دادا جی بلا رہے ہیں۔
تم اکیلے پریشان تو نہیں ہو گی میں صفیہ بی کو کہتا ہوں وہ تمہارے پاس ہی آ کر سو جاتی ہیں ۔
ٹھیک ہے !
پھر میں چلتا ہوں “” وہ جانے کے لئے کھڑا ہو گیا۔””
میرال بھی دروازے تک اس کے ساتھ آئی۔ دروازے پر رک کر حیدر نے پیچھے کھڑی میرال کی طرف دیکھا اور اس کی پیشانی پر اپنے پیار کی مہر ثبت کی اور تیز تیز قدم اٹھاتا اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
ٹھیک پا نچ منٹ کے بعد صفیہ بی مندی آنکھوں سے اپنا تکیہ اور چادر سنبھا لتی کمرے میں داخل ہوئیں۔
بی بی جی چھوٹے صاحب نے بھیجا ہے میں سو جاؤں یہاں ۔
جی سو جائیں!!
میرال بھی خاموشی کے ساتھ اپنی جگہ پر لیٹ گئی لیکن نیند اس کی آنکھوں سےکوسوں دور تھی رات کے ناجانے کون سے پہر اس کی آنکھ لگی۔
حیدر گھر سے نکلا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے-اسے گاؤں سے کال آئی تھی کے گاؤں جاتے ہوۓ شہباز خان پر کسی نے حملہ کی جس میں ان کا ایک وفاداری ساتھی جاں بحق ہو گیا جب کے شہباز خان موجزاتی طور پر محفوظ رہے۔حیدر کے بس میں نہیں تھا کے وہ اڑ کر دادا جی کے پاس پہنچ جاۓ وہ دو بار ان سے بات بھی کر چکا تھا ۔لیکن وہمطمئن نہیں ہوا۔ انہوں نے اسے رات کو آنے منع کیا تھا لیکن وہ حیدر سکندر ہے مجال ہے جو کسی کی سن لے۔
رات کو ایک بجے وہ حویلی پہنچا تو وہاں دن کا سماں لگ رہا تھا ۔ بہت سے لوگ آ جا رہے تھے۔ حیدر اپنی گاڑی گیراج میں پارک کر کے بھاگتا ہوا اندر حجرے تک پہنچا جہاں اس وقت شہباز خان موجو د تھے۔
حیدر جب حجرے میں داخل ہوا تو سب سے پہلی نظر سکندر پر پڑی جس نے ملامتی نظروں سے حیدر کو دیکھا۔ شہباز خان بھی کھڑے ہو گئے اور حیدر سے ناراضگی کا اظہار کیا۔” میں نے تمہیں اس وقت آنے سے منع کیا تھا نہ؟؟ پھر کیوں آۓ؟؟
بس دادا جی نہیں رہا گیا۔
بیٹھو وہ رعب دار انداز میں بولے لیکن وہ بھی حیدر سکندر تھا ایسی باتوں سے ڈرنے والا نہیں تھا۔
نہیں دادا جی میں دادی سے مل کے آتا ہوں اور ان کی سنے بغیر حجرے سے نکلتا چلا گیا۔
حویلی میں داخل ہوتے ہوئے سب سے پہلے ندا بیگم سے مد بھیڑ ہوئی۔
اسلام علیکم”” یہ کہہ کر حیدر آگے بڑھ گیا۔””
بڑے ہال میں پہنچا تو وہاں فاروق ، وجاہت ،شاہانہ، تابندہ اور چھوٹی پارٹی میں سے بھی سارے لوگ موجود تھے شایان اور شانزے سب سے پہلے حیدر کے پہنچے۔ وہ شایان سے گلے ملا اور شانزے کے سر پر بوسہ دیا باقی بھی سب اٹھ کر ملے فاروق صاحب نے گم جوشی سے گلے لگایا البتہ زویا اپنی جگہ سے نہیں ہلی اسے لگا کہ اس بار وہ اسے نہیں چھوڑے گا سب سے مل کر حیدر دادی کی طرف بڑھا جنہوں نے اسے دیکھ کر اپنی بانہیں پھیلائی اور حیدر کو ان کی بانہوں میں آ کر ممتا کا احساس ہوتا تھا اس وقت بھی وہ بہت دیر ان کے گلے لگا رہا۔پھر وہاج ہی بولا دادی ہمارے حصے کا لاڈ بھی ادھر ہی جاتا ہے اب بس بھی کر دیں۔اس کی بات پر باقی سب کھلکھلا کر ہنس دئیے۔ینگ پارٹی ساری حیدر کے گرد دائرے میں بیٹھ گئے اور اس مختلف سوالات کرنے لگے۔
وہ بھی خوش مزاجی سے ان کے سوالات کے جواب دے رہا تھا پھر آہستہ آہستہ سب لوگ اپنے کمروں میں چلے گئے۔ حیدر دادی کو ان کے کمرے میں چھوڑ کر خود دادا جی کے پاس آ گیا۔جہاں فاروق بھی موجود تھے انہوں نے حیدر سے زویا کی طرف سے معافی مانگی۔
کوئی بات نہیں چاچو وہ میرے لئے شانزے کی طرح ہی ہے اس کی اس بات پر سکندر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا کیا وہ اب ہمیں اپنی فیملی سمجھتا ہے انہیں اندر سے ایک عجیب خو شی ہوئی انہیں بھی اب احساس ہو گیا تھا کہ انہوں نے حیدر کی ماں کے ساتھ زیادتی کی تھی۔
صبح دس بجے لال خان کا جنازہ ادا ہوا پھر اس کے بعد شہباز خان سکندر وجاہت فاروق عمر علی سب لوگ تھانے گئے اورلال خان کے قاتلوں کے خلاف رپورٹ درج کروائی ایس ایچ او نے جلد سے جلد قاتلوں کو پکڑنے کا دعوہ کیا۔حیدر وہاں سے سب سے مل کر شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔شہر پہنچ کر وہ گھر کی بجاۓ آفس چلا گیا جہاں بہت سے کام پینڈنگ تھے کام کی مصروفیت میں اسے یاد ہی نہیں رہا کے وہ گھر کال کر کے بتا دے کہ وہ واپس آ گیا ہے ۔ ہوش اسے تب آیا جب گھڑی پر ٹائم دیکھا جہاں رات کے دس بج چکے تھے۔ وہ اپنی فائلز سمیٹ کر روانہ ہوا راستے میں آتے ہوئے اس نے ایک موبائل شاپ سے میرال کے لئے موبائل لیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے رات کے بارہ بج گئے تھے ۔ خان بابا جاگ رہے تھے انہوں نے کھانے کے لئے پوچھا لیکن حیدر نے انہیں آرام کرنے کا بول کر اپنے کمرے میں آ گیا۔ میرال گہری نیند سو رہی تھی ۔ وہ چینج کر کے آیا اور میرال کے برابر لیٹ گیا وہ تھوڑی دیر کہنی کے بل لیٹ کر اسے دیکھتا رہا لیکن کچھ سارا دن کی تھکاوٹ تھی اور کل رات جاگنے کی وجہ سے جلدی ہی سو گیا۔
میرال کی آنکھ اپنے اوپر کچھ وزن محسوس کر کے آ نکھ کھلی حیدر کا بازو اس کی کمر کے گرد تھا اس کے بازو کا وزن محسوس کر کے ہی میرال کی آنکھ کھلی میرال نے بہت آہستگی سے اس کا بازو ہٹانا چاہا لیکن حیدر نے سوتےُہوئےُاپنا بازو اس کی گردن کے گرد پھیلایا اور اس کا سر اپنے سینے پر رکھ کر دوسری بازو بھی اس کے گرد پھیلا کر سو گیااس کے کلون کی خوشبو میرال کے حواسوں پر چھانے لگی ۔میرال اس کے جاگنے کے ڈر سے چپ چاپ لیٹی رہی اور پھر پتہ نہیں کس وقت اس کی آ نکھ لگی۔
کیسی لگی یہ ایپیسوڈ کمینٹ کر کے ضرور بتائیں۔
❤️❤️❤️❤️
