Masoomiyat By Zarish Noor Readelle50109

Masoomiyat By Zarish Noor Readelle50109 Last updated: 23 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoomiyat

By Zarish Noor

سب لوگوں کی نظریں ان دونوں پر متوجہ ہو چکی تھی لوگوں کی نظروں کو محسوس کرتے ہوۓ وہ اس سے دور ہوا تھا۔اس میں تو اب ہمت ہی نہیں بچی تھی کے اس سے نظر

ملا سکے اس لئے جلدی سے سائیڈ سے

نکل گئی۔ اور حیدر کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔ ایک تو یہ انسان پتہ نہیں کیا لفظ استعمال کروں اس کے لئے "" ٹھرکی"" ہاں ٹھرکی ٹھیک رہے گا۔وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی ہال سے باہر نکل آئی باہر آ کر اسے ہوش آیا کے وہ کہاں

جا رہی ہے۔ وہ چپکے سے واپس آئی اور آ کر ایک کونے میں آکر تھوڑا چھپ کر بیٹھ گئی۔ ابھی اسے بیٹھے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کے اسے لگا کہ ساتھ کوئی اور بھی بیٹھا ہے۔ اس نے رخ موڑ کر دیکھا تو جی بھر کر بد مزہ ہوئی۔ حیدر سکندر اپنی ازلی بےپروائی سے

بیٹھا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اسے گمان گزرا کہ اس نے اس سے کچھ کہا ہے۔

میرال نے اس کی طرف رخ کیا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟؟ آپ کے علاوہ فی الحال یہاں اور کوئی نہیں ہے۔ میرب حسن آپ اتنی ہی بے پروا ہیں یا بنتی رہتی ہیں۔ میرب نے حیران ہو کر اس شخص کو دیکھا۔اور منہ سے فقط اتنا ہی نکلا، جی۔ ایسے ہی سادگی میں رہا کرو یہ مصنوعی حسن تم پر نہیں جچتا چلتا ہوں جلد ہی دوبارہ ملیں گے۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی کے کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ لیکن سب لوگ مصروف تھے رسم ہو رہی تھی۔ ****** قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق سچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق اثر غم زرا بتا دینا وہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق (مومن خان مومن) آج وہ جب سے میرال سے مل کر آیا ہے اسے ایک پل بھی سکون نہیں تھا۔اسے آج کچھ عجیب احساس ہوا تھا کہ اس کی زندگی میں شاید کچھ مسائل ہیں ۔ اس کا دل چا رہا تھا کہ وہ اسے جلد سے جلد اپنے پاس لے آۓ ۔ لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کے وہ اس کے لئے اور مسائل پیدا کرے۔ *** وہ اس وقت سیڑھیوں پر بیٹھی تھی ہاتھ میں قریبی گملے سے توڑے گئے پتے تھے۔جن کے مزید حصے کرنے کے شغل میں مصروف تھی۔ صبح کے آٹھ بج رہے تھے اور سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔گرمیوں کی مناسبت سے اس نے آف وائٹ فراک سٹائل کی قمیض پہن رکھی تھی۔بالو ں میں ہلکا سنہری پن تھا جو اس کی دودھیا رنگت پر اور بھی آچھا لگتا ۔ ساتھ میں سادگی جو اس کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتی تھی۔وہ اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی تبھی اسے وہ آواز سنائی دی ۔ یہ آواز تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔ وہ سامنے ہی کھڑا موبائل پہ کسی سے بات کر رہا تھا اور اس کی نظریں میرال کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں۔ اسی وقت حماد باہر آیا اور وہ دونوں باتوں میں مصروف ہو گئے۔ میرال اس طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گئی۔ اس کی اس حرکت پر حیدر نے با مشکل اپنی مسکراہٹ روکی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں بلیک سوک میں بیٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔ اور میرال کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی ۔ پتہ نہیں کیا ہے اس شخص کی آنکھوں میں جہاں مجھے اپنا آپ بھولنے لگتا ہے۔میرال کن سوچوں میں گم بیٹھی ہو فائقہ نے آ کر اس کے ساتھ بیٹھتے ہوۓ پو چھا۔ کچھ نہیں بس سوچ رہی ہوں پڑھائی دوبارہ شروع کروں بی،اے کی تیاری کرتی ہوں اور پرائیویٹ ایڈمیشن بھیج کے پیپرز دے دوں گی۔ بہت آچھی بات ہے میں تمہیں بکس لا دوں گی۔ نہیں فائقہ میرے پاس اپنے پیسےہیں بس تم میرے ساتھ چلنا جب لینے۔ اوکے پھر کب چلنا ہے۔ میں نانی سے پوچھ کر بتاؤں گی۔ ٹھیک ہے۔ ***** آج میرال اور فائقہ بک شاپ پر آئی تھیں وہ لوگ بک کولیکٹ کر کے کاؤنٹر پر رکھا تبھی فائقہ کو یاد آیا کی اس نے فولڈر لینے

ہیں وہ دونوں ایک سائیڈ پر چلی گئیں کافی دیر ڈھونڈنے کے بعد بھی انہیں فولڈر نہیں ملے تو وہ دونوں

واپس کاؤنٹر پر آئی بکس لے کر پیسے دینے لگیں تو کیشئر نے انہیں مطلع کیا کے آپ کی پیمیںٹ ہو چکی ہے۔

کس نے کی ہے پیمنٹ وہ دونوں ایک ساتھ بولیں۔