Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ناول “” معصومیت””
از 🖋 زرش نور
قسط نمبر ۱۵
جلدی سے نیچے آ جاؤ دادا جی آۓ ہیں حیدر کی بات سن کر میرال نے اس کی نظروں سے جز بز ہو کر سر پر دوپٹہ رکھا اور دروازے کی طرف بڑھی لیکن وہ دروازے میں کسی کھمبے کی طرح ایستادہ تھا۔
چلیں !! میرال نے نظریں نیچے کئے ہی کہا ۔
جی چلئے حیدر نے ایک سرد آ بھری اور اسے باہر جانے کے لئے راستہ دیا اور خود بھی پیچھے پیچھے چل دیا۔
وہ رکی اور مڑ کر پوچھا وہ کہاں ہیں۔
وہُ کون حیدر غائب دماغی سے بولا۔
دادا جی!!
جی وہ نیچے لاؤنج میں ہیں ۔
آچھا!! پھر آپ آگے ہوں می ن پیچھے چلتی ہوں۔
حیدر مسکرا کر آگے بڑھ گیا!
اسلام علیکم دادا جی!!
وعلیکم سلام
دادا جی میرال کے سر پر ہاتھ رکھا۔
تم نے اس الو کے پٹھے کے ساتھ کیسے شادی کر لی۔وہ شرارت سے بولے ۔
میرال ہونق بنی ان کی باتیں سننے لگی۔
بیٹی ناشتہ کروانا ہے کے نہیں ؟؟
جی جی میں دیکھتی ہوں وہ یہ کہہ کر کچن کیطرف بڑھ گئی۔حیدر بھی دادا جی کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیاجہاں سےکچن کا منظر صاف نظر آ رہا تھا۔


ناشتے کےبعد حیدر ، شہباز خان اور میرال یاور آفریدی کی طرف آ گئے سب لوگ شہباز خان کو دیکھ کر بہت حیران ہوۓ اور جس طرح سے وہ دوسرے دن ہی پہنچ آۓ تھے پلوشہ بیگم اور احمر کا خیال تھا کے حیدر نے تو میرال سے اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر شادی تو کر لی لیکن اس کے گھر والے شاید کبھی نہ مانے میرال کو اپنی بہو۔
لیکن جس طرح سے وہ بار بار میرال کو ہنس ہنس کر دیکھ رہے تھے ۔ حیدر اور میرال ایک ساتھ ایک ہی صوفے پر بیٹھے تھے میرال کافی دیر سے سب کے پاس جانا چاہ رہی تھی فائقہ اورفارحہ اسے اشاروں میں بلا رہی تھی لیکن حیدر جان بوجھ کر میرال کے دوپٹے پر بیٹھا ہوا تھا تاکہ میرال وہاں سے کہیں نہ جا سکے آخرکار یہ سب کچھ دیکھتے دادا جی ہی بولے حیدر بیٹا تم بہو کے دوپٹے پر بیٹھے ہو وہ حیدر کی شرارت سمجھ گئے تھے۔ حیدر نے مصنوعی حیرانگی سے میرال کی طرف دیکھا اور اس کا دوپٹہ چھوڑ دیا۔
میرال دوبارہ ڈرائنگ روم میں آئی تو وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ دو گھنٹے کے بعد وہ واپس آیا اور پھر وہ لوگ اس کے ساتھ واپس اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔
میرال جب گاڑی میں بیٹھنے لگی تو حیدر نے اسے بولا میرال لیفٹ سائیڈ پہ نہیں رائٹ سائیڈ سے بیٹھو۔ پہلے تو وہ حیران ہوئی پھر بیٹھنے کے بعد اسے اندازہ ہوا کے گاڑی کی پیچھے والی سیٹ پر دوسری سائیڈ پر جابجا بیگز پڑھے تھے۔
دادا جی تو گاؤں کے لئے روانہ ہو گئے اور جانے سے پہلے میرال کے ہاتھ پر بہت سارے پیسے دے کر اور لنہیں گاؤں آنے کی دعوت دے کر گئے۔
میرال رات کے کھانے کے لئے صفیہ بی کی مدد کے لئے کچن میں گھس گئی کھانا کھا کر میرال کمرے میں آ گئی اس نے عشاء کی نماز ادا کی دعا کے لئے ہاتھ اٹھاۓ تو کچھ سمجھ نہ آیاکہ کیا مانگے۔ اسے تو سب کچھ رب نے بن مانگے ہی دے دیا تھابس اس کی دعاؤں میں ماں باپ نانا نانی کے بعد ایک اور شخص شامل ہو چکا تھا۔کھٹکے کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بہت سارے بیگز لئے چلا آ رہا تھا اس نے سارے بیگز لا کر بیڈ پر ڈال دئیے۔وہ جاۓ نماز لے کر اٹھی تو بولا یہ میں نے تمہارے لئے شاپنگ کی ہے دیکھ لو اور باقی جو کچھ رہ گیا ہو وہ صبح میرے ساتھ چل کر لے لینا۔ یہ کہہ کر وہ اپنا نائٹ سوٹ لے کر واش روم میں چلا گیا۔ واپس آیا تو اسے اسی پوزیشن میں کھڑے پایا۔میرال نے اس کی طرف دیکھا تو بولا کیا ہوا عورتیں تو یہ سب دیکھ کر پاگل ہو جاتی ہیں۔ وہ اس کے سامنے آ کر کھڑاا ہو گیا اسے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا یہ سب کھول کر دیکھو جو پسند آۓ وہ رکھو جو پسند نہ آۓ وہ باہر ہی رہنے دینا میں ایک کال کر کے آتا ہوں تم تب تک یہ سمیٹو وہ اس کا گال تھپتھپا کر باہر نکل گیا ۔ میرال جوں جوں بیگز کھولتی اس کی حیرانگی بڑھتی جا رہی تھی۔کپڑے جوتے کاسمیٹیکس پرفیوم لوشن ہئیر بینڈز جیولری ہر چیز موجود تھی اور اتنی چیزیں اس نے اپنی اب تک کی زندگی میں نہیں لی تھیں اس نے جلدی سے سارے کپڑے الماری میں لگاۓ اور جوتے بھی رکھے لیکن باقی چیزوں کی سمجھ نہ آئی کہ کدھر رکھے تبھی حیدر دوبارہ کمرے میں داخل ہوا اوراسے شش و پنج میں دیکھ کر ساری چیزیں اٹھائی اور ڈریسنگ روم میں الماری میں رکھیں وہ بھی ساتھ ساتھ رکھتی گئی۔
اتنی چیزوں کی کیا ضرورت تھی؟؟
ضرورت تھی تو تبھی لایا ہوں ۔ کل تم پہلی بار اپنے میکے گئی ہو اور مجھے تو وہاں جا کر پتہ چلا کہ تم جو شادی سے پہلے کپڑے پہنتی تھیں وہی پہن کر چلی آئی ہو ادھر بھی۔
اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟؟
مجھے فرق پڑتا ہے تم اب میری بیوی ہو میری زمہداری ہو تمہاری ہر چیز کا خیال رکھنا میرا فرض ہے۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ تک لے آیا ۔
اپنی منہ دیکھائی نہیں لو گی اب میرال کنفیوژ ہو گئی اس کی ہےہتھلیاں پسینے سے بھیگ گئی۔
حیدر نے بہت خوبصورت پینڈینٹ گفٹ کیےاس کو جن کے درمیان میں ہیرا جڑا تھا ۔میرال ایک پل کو دیکھتی ہی رہ گئی۔ تبھی حیدر کے موبائل پر رنگ ہوئی وہ ایکسکیوز کرتا ہوا اٹھا اور باہر نکل گیا۔

اگر ریسپانس اب تک کی آئی گئی ایپیسوڈ سے زیادہ ہوا تو شام کو ایک اور ایپیسوڈ پوسٹ کروں گی۔ شکریہ
❤️❤️❤️