Masoomiyat By Zarish Noor Readelle50109 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
ناول “” معصومیت””
ازقلم “” زرش نور””
قسط نمبر ۸
بختاور خان اور ان کے بیٹے برہان خان اور وہاج خان جب ہال میں داخل ہوۓ تو حیدر سکندر اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
اسلام علیکم نانا!!
وعلیکم سلام!!
کیسے ہو !!
جی شکر ہے اللہ کا!!
مکرم سخت غصے میں تھا!!
دادا جی مجھے آپ کو کچھ بتانا۔
بولو بیٹا!!
دادا جی مختیار کو شہباز خان کے بندوں نے ہمارے گاؤں میں گھس کر گھسیٹتے ہوۓ لے کر گئے اور ابھی وہ تھانے میں بند ہے۔
کون لے کر گیا ہے! نام بتاؤ ۔
مختیار نے کن اکھیوں سے حیدر کی طرف دیکھا!! اس کے بولنے سے پہلے ہی حیدر بولا۔
میں لے کر گیا ہوں !!
بختاور خان نے اب اپنا رخ حیدر کی جانب کیا !! حیدر بیٹا میں پوچھ سکتا ہوں کیوں !!
اب سب کی نظریں حیدر پر تھی۔
دادا جی اسے اس کے دادا نے آگے لگا کر ہمارے خلاف استعمال کیا ہے۔
مکرم تم چپ ہو جاؤ میں نے جس سے سوال کیا ہے جواب بھی وہی دے گا۔
نانا جی!! اس نے ایک چار سال کی بچی کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اور اگر آپ اس کا ساتھ دیں گے تو سمجھیں آپ بھی میرے دشمنوں میں سے ہیں۔
اب بختاور خان نے مکرم کی طرف دیکھا!
مکرم اب کیا کہو گے!
مکرم نے نظریں جھکا لیں۔
دادا جی وہ!
بس یہ یا وہ کچھ بھی نہیں مکرم اگر تم یہ بات پہلے سے جانتے تھے تو تمہیں بھی اس کے ساتھ سزا ملنی چاہئے اگر نہیں تو اب اس کی سفارش نہیں کرنا۔
جی !! یہ کہہ کر وہ وہاں سے نکل گیا!!
اپنی نانی سے ملے ہو حیدر!!
جی نہیں!!
چلو پھر آؤ میرے ساتھ !
زبیدہ خاتون دیکھو آج کون آیا ہے!!
زبیدہ خاتون نے اپنی عینک اٹھا کر پہنی اور حیدر کے لئے اپنی بانہیں ووا کر دیں ہمیشہ کیطرح اس سے مل کر وہ رونےلگیں۔
ارے نیک بخت بچہ تجھ سے ملنےآیا ہے تو اسےرلا ہی ہے۔
حیدر نے نانی سے الگ ہوتے ہوۓ اپنی آنکھیں صاف کی۔
زبیدہ خاتون نے اسے اپنے برابر بٹھایا ۔ سنا کیا حال ہے تیرے دادا اور دادی کا۔
جی ٹھیک ہیں۔
سکندر کی وجہ سے ہم بہت دور ہو گئے ہیں ورنہ کبھی ہم میں بھی بہت اتفاق اور محبت تھی۔بس وقت وقت کئ بات ہے۔آخر میں وہ پھر سے رنجیدہ ہو گئیں۔
نگینہ اور بشری کمرے میں داخل ہوئیں ۔۔ حیدر نے کھڑے ہو کر سلام کیا۔
وسلام کیسے ہو بیٹا!
میں ٹھیک ہوں۔
حیدر تم کراچی میں کیا کرتے ہو۔وہاج خان نےحیدر سے پوچھا۔
کچھ نہیں ماموں بس اپنا چھوٹا سا بزنس ہے۔
چلو اچھی بات ہے۔باتیں کرتی ہوۓ وقت کا احساس ہی نہیں ہوا۔
جب حیدر بختاور خان کی حویلی سے نکلا تو رات کا ایک بج رہا تھا۔ حیدر نے ان کے بہت اصرار کے باوجود وہاں نہیں رکا۔
وہ وہاں سے کراچی کے لئے نکل آیا کیونکہ حویلی میں سکندر خان کی موجودگی میں وہ کم ہی حویلی جاتا تھا۔
سب لوگ ناشتے پر موجود تھے میرال اور ریحانہ کچن میں ناشتہ بنا رہی تھیں۔میرال احمر کے آگے پراٹھا رکھ پلٹ رہی تھی کے فرقان نے میرال سے کہا بیٹا تم بھی آ جاؤ نہ ناشتہ کر لو۔ نہیں ماموں میں!! اس کی بات درمیان میں ہی رہ گئی ۔
اس نے کون سا آفس جانا ہے بعد میں کر لے گی!! پلوشہ خاتون نے فرقان صاحب سے کہا اور ساتھ میں میرال کو کچن میں جانے کے لئے بولا۔
کچن میں یہ سب سنتی ریحانہ بیگم نے میرال کو گلے لگا یا بیٹا بھابھی دل کی بری نہیں ہیں تم دل پر نہ لینا ۔ تم اور میں ساتھ ناشتہ کریں گیں میں اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کرواؤں گی۔
اسی وقت فرقان صاحب کچن کے دروازے سے بولے!! اگر آپ دونوں مامی بھانجی کا ایموشنل سین ختم ہوگیا ہوتو میری سٹڈی میں ایک کپ گرما گرم چاۓ دے دیں۔
جی ضرور!! ان کی بات پر دونوں مسکرا دیں۔
پاپا میرا ایک دوست ہے اس نے ہمیں ایک انوسٹر ڈھونڈ کے دیا ہے آج رات کو ڈنر پر وہ ہماری ملاقات کرواۓ گا۔ آپ یا چاچو میں سے کوئی چلے گا۔
نہیں بیٹا بس تم چلے جانا ساتھ عاطر کو لے جانا۔
جیسے آپ کہیں۔
سفیان بتاؤ بات ہو گئی ہے ان لوگوں سے ۔
جی !! ہو گئی ہے۔ تم آج رات کو پی سی پہنچ جانا۔
اوکے!! کال بند کر کے حیدر سکندر مسکرا دیا۔اب بس کچھ دن اور پھر تم میری دسترس میں ہو گی۔
