Masoomiyat By Zarish Noor Readelle50109 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
ناول “” معصومیت””
از🖋 زرش نور
قسط نمبر ۱۸
صبح حیدر کی آنکھ کھلی تو میرال کہیں نہیں تھی اس کا سیل فون بھی سائیڈ ٹیبل پر پڑا تھا۔وہ فریش ہو کر باہر نکلا تو وہ اپنے بیگ میں کچھ ڈھوںڈ رہی تھی۔
تم اتنے سویرے کدھر گئی تھی میں دادی کے پاس تھی ان کو ناشتہ کروایا ہے۔
آپ کے لئے ناشتہ لگواؤں ؟؟
تم کر چکی ہو ؟؟ جی وہ دادی نے اصرار کیا تو کر لیا ہے۔
دادی کو بتاتی نہ میں نے آپ کے پوتے کے ساتھ ناشتہ کرنا ہے” حیدر شرارت سے بولا۔”
حیدر میرال کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔ میرال نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اشارے سے پوچھا کیا ہے۔
میں نے ناشتہ کر کے نکلنا ہے تم میرا بیگ پیک کر آئی تھی نہ میں گھر سے بیگ لے کرنکل جاؤں گا۔
میرال نے اثبات میں سر ہلایا لیکن اس بار وہ اپنے آنسو حیدر سے نہ چھپا پائی۔ حیدر نے انگلیوں کے پوروں سے اس کے آنسو صاف کیے اور اسے گلے لگا لیا میرال کے رونے میں شدت آ گئی۔اسی وقت بغیر دستک دئیے شانزے کمرے میں داخل ہوئی۔ اوہو میں غلط وقت پر آ گئی ہوں سوری ۔
میرال جلدی سے حیدر سے الگ ہوئی لیکن حیدر نے اسے کھینچ کر قریب کر لیا اور شانزے کی طرف مڑا۔اب تو آپ آ ہی گئی ہیں میڈم بتائیے کیسے آنا ہوا؟؟
وہ ہم سب لوگ گھومنے کا پروگرام بنا رہے تھے تو پوچھنا تھا آپ دونوں بھی ساتھ چلیں گے۔
میں تو بس نکل رہا ہوں واپسی کے لئے اپنی بھابھی کو ساتھ لے جاؤ۔
نہیں آج میں نے نہیں جانا پھر کبھی سہی۔
چلیں ٹھیک ہے میں چلتی ہوں آپ لوگ رومینس کر لیں۔
میرال شرمندہ ہو گئی !حیدر میرال کی حالت دیکھ کر کھلکھلا کت ہنس دیا۔
میرال نےاس کے اسطرح ہنسنے پر اس کے سینے پر زوردار مکہ رسید کیا۔
حیدر نےہنستے ہوۓ اس کے گال کھینچے۔
آچھا میری بات سنو میں جلدی واپس آنے کی کوششں کروں گا تم رونا نہیں اور ہاں اگر ڈر لگے تو دادی کے کمرے میں سو جانا۔
حیدر نے پاکٹ سے خاصی بھاری رقم نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھی اور ساتھ میں اے ٹی ایم کارڈ بھی یہ میرا کارڈ ہے اسے یوز کر لینا اس کا پاس ورڈ میں نے تمہارے موبائل میں سیو کر دیا ہے۔
اس نے دونوں چیزیں لیں اور الماری میں رکھ دیں۔ میں آپ کے لئےے ناشتہ لگواتی ہوں یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکلنے لگی تو حیدر نے ایک بار پھر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا میرال پریشان نہیں ہونا۔میرال نے اثبات میں سر ہلایا اور کمرے سے نکل گئی۔
تھوڑی دیر کے بعد حیدر نیچے آیا بلیک پینٹ پہ بلیک شرٹ بازو پر کوٹ ڈالے دوسرے ہاتھ میں اپنا لیپ ٹاپ اٹھاۓ وہ ڈائنگ روم میں داخل ہوا دین محمد چیچا میرا یہ بیگ میری گاڑی میں رکھوا دیں۔
جی بیٹا!
وہ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا ۔ناشتے کے بعد وہ دادی کے کمرے میں آیا تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس نے اپنا سر دادی کے آگے جھکا دیا دادی اجازات دیں میری شام کی فلائٹ ہے چلتا ہوں دادا اور دادی سے ملُکر وہ باہر نکل آیاُگاڑی تک میرال اس کے ساتھ آئی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے میرال کو کچھ ضروری ہدایات کیں جب دل کرے نانا کی طرف چلی جانا جب بھی شہر جاؤ دادا جی کو بولنا تمہارے ساتھ صنوبر کو بھیج دیں گے ۔ میں نے انہیں بتا دیا ہے۔چلتا ہوں اب موبائل پہ ہی بات ہو گی۔اپناخیال رکھنا۔ خدا حافظ
خدا حافظ!گاڑی جب تک گیٹ عبور کرتی میرال وہیں کھڑی رہی گاڑی جب نظروں سے اوجھل ہو گئی وہ بوجھل دل سے اندر کی طرف چل دی لیکن ابھی دو تین قدم ہی چلی تھی تبھی گاڑی کے ہارن کی آواز دوبارہ سنائی دی اس نے جلدی سے مڑ کر دیکھا تو حیدر ہی تھا اس نے ریویس میں ہی گاڑی واپس لائی تھی اس نے میرال کو ہاتھ ہلایا کمرے سے دیکھتے سکندر صاحب کو بھی زندگی میں پہلی بار بیٹے کے ایسے جانے پر دکھ ہوا۔
