Masoomiyat By Zarish Noor Readelle50109 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
ناول “” معصومیت””
از🖋 زرش نور
قسط نمبر ۲۰
آج بختاور خان برہان خان ، وہاج خان،زبیدہ خاتون ، بشری بیگم اور نگینہ بیگم مزار پر جا رہے تھے ۔میرال بھی ان لوگوں کے ساتھ جا رہی تھی۔ میرال نے بلیک کلر کا سادہ سا سوٹ پہنا اور اس کے ساتھ گرین کلر کی کڑھائی والی شال رکھ کر وہ باہر آئی رو کچھ دیر کے لئے سب کی نظریں اس پر رک گئی ۔ ماشااللہ نانی نے آگے بڑھ کر اس کی نظر اتاری ۔ لیکن دور کسی کی نظر میرال پر ہی جمی تھی اور آج وہ اپنے کام کو مکمل کرنا چاہتا تھا۔میرال نانا جی اور نانی ایک گاڑی میں جب کے باقی سب دوسری گاڑی میں بیٹھے تھے۔ میرال بہت ایکسائیٹڈ تھی مزار پر جانے کے لئے اس سے پہلے وہ کبھی بھی کسی بھی مزار پر نہیں گئی تھی۔وہ نہیں جانتی تھی کے اس مزار پر کیا کچھ اس کا منتظر ہے۔
حیدر آج بہت خوش تھا وہ فلائٹ میں بیٹھا سوچ رہا تھا کے جب میرال اسے دیکھے گی تو اس کے کیا ایکسپر یشن ہوں گے۔وہ خود بھی جلد سے جلد اس تک پہنچنا چاہتا تھا۔
جہاز نےجب پاک سرزمیں کو چھوا تو حیدر نے خدا کا شکر ادا کیا ۔ اس کے آفس سے اسے لینے ڈرائیور آیا تھا۔ اس نے ڈرائیور کو واپس آفس بھجوا دیا اور خود گاؤں کی لئے نکل آیا گاڑی لے کر وہ بہت احتیاط کے ساتھ لیکن بہت ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
میرال نے مزار کا ہر کونہ دیکھا وہ بہت جوش سے ایک ایک جگہ کو دیکھ رہی تھی ۔باقی سب مزار پر چادر وغیرہ چڑھا کر اب کچھ دیر سستانے کے لئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے لیکن میرال کو آرام نہیں کرنا تھا ۔ وہ مزار سے باہر نکل آئی اور اس نے مزار کے سامنے ایک باغ دیکھا وہ دور سےبہت پیارا لگ رہا تھا۔ میرال اسے پاس سے دیکھنے کے لئے نیچے اتری وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر کے اس نے روڈ کراس کی مزار اور باغ کے درمیان میں روڈ تھی تبھی اسے پیچھے سے جانی پہچانی آواز سنائی دی ۔ یہ آواز تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔
حیدر سیدھا نانا کی حویلی پہنچا لیکن یہاں آ کر اسے پتہ چلا کہ سب لوگ مزار پر گئی ہیں اس نے عہاں بیٹھ کر انتظار کرنے کی بجاۓ وہیں جا کر میرال کو سرپرائز کرنے کا سوچا اور گاڑی لے کر مزار کی طرف چل دیا۔وہ مزار پر پہنچ کر اپنی گاڑی کو سائیڈ پر لگا رہا تھا تبھی اسے روڈ کی دوسری سائیڈ پر میرال نظر آئی۔حیدر نے اسے پکارا تو وہ جھٹ سے مڑی اس کی چہرے پر خوشی دیکھنے والی تھی۔وہ حیدر کو آج بہت ہی پیاری لگی۔حیدر نے اس کی طرف قدم بڑھاۓ تبھی ایک گاڑی ان دونوں کے درمیان آ گئی۔ حیدر کو بس اتنا محسوس ہوا کےاس کی پسلیوں میں کسی نے گرم لوہا گھسا دیا ہو۔اور وہ گاڑی تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ گئی اور حیدر کو بےہوش ہونے سے پہلے صرف اتنا یاد رہا تھا کے میرال روڈ کی دوسری سائیڈ پر موجود نہیں تھی۔
میرال حیدر کو دیکھ کر حیران رہ گئی اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کے آج وہ آۓ گا۔پھر اس نے حیدر کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا لیکن تبھی ایک گاڑی ان دونوں کے درمیان میں آگئی اس سے پہلے کے میرال کچھ سمجھتی گاڑی کا دروازہ کھلا اور ایک نقاب پوش نے اس گاڑی کے اندر کھینچ لیا اور اس کے اس کے منہ پر کوئی چیز رکھی اور اس کے بعد اسے کوئی ہوش نہیں رہا۔
بختاور خان نماز پڑھنے کی غرض سے اٹھے تبھی انہوں نے لوگوں کو نیچے دوڈ کی طرف بھا گتے دیکھا۔کسی سے پو چھنے پر پتہ چلا کے کوئی نوجوان ہے جسے کوئی گولیاں مار کر بھاگ گیا ہے۔وہ بھی دیکھنے کے لئے نیچے اترے لیکن نوجوان کو دیکھ کر ان کے پاؤں کے نیچے سے زمیں ہی نکل گئی انہوں نے سب کو بلایا اور جلدی ہی قریبی ہاسپٹل میں اسے پہنچایا ہاسپٹل والوں نے اسے فرسٹ ایڈ دی اور اسے کسی بڑے ہاسپٹل میں لے جانے کا مشورہ دیا۔پولیس بھی وہاں پہنچ آئی۔بڑا ہاسپٹل شہباز خان کے گاؤں میں ہی تھا۔ حیدر کو ہاسپٹل منتقل کیا گیا اور کہیں سالوں کے بعد آج بختاور خان کانپتے ہاتھوں کے ساتھ شہباز خان کا نمبر ڈائل کر رہے تھے۔دوسری ہی بیل پہ کال اٹھا لی گئی ۔بختاور بات کر رہا ہوں ! دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔۔
سب لوگ اس وقت ہاسپٹل میں موجود تھے شہباز خان کو لگ رہا تھا کے اگر اسے کچھ ہو گیا تو ان کا دل بھی اس کے ساتھ ہی رک جاۓ گا۔وہ بہت ضبط کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن یہ وہ ہی جانتے تھے کے وہ کس دل سے اپنے لاڈلے پوتے کو اس حالت میں دیکھ رہے تھے۔دو گھنٹے کے بعد ڈاکٹرز نے بتایا کہ وہ اب خطرے سے باہر ہے۔شہباز خان نے عمر اور علی کو حویلی بھیجا جا کر صدقے کے بکرے دو اور عورتوں کو بتا دو کے میرا بیٹا اب ٹھیک ہے۔تبھی انہیں میرال کی یاد آئی وہ بختاور خان کی طرف مڑے میرال کہاں ہے۔ان کی بات سن کر وہ پریشان ہو گئے اور تبھی وہاں برہان خان آئے اور انہوں نے بتایا کے وہ ہر جگہ میرال کو ڈھونڈ چکے ہیں لیکن وہ کہیں نہیں ملی۔سکندر خان پریشانی سے اٹھے اور سیدھے پولیس سٹیشن پہنچے ۔ وہ پولیس کو لے کر انہوں مزار کے آس پاس کا سارا علاقہ چھان مارا لیکن میرال کہیں نہیں ملی۔
میرال کو ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک پرانی بوسیدہ سی کرسی کے ساتھ باندھا ہوا پایا ۔اس کی آنکھیں کھولنے پر سامنے بیٹھے دو نقاب پوش میں سے ایک اٹھ کر میرال کے پاس آیا ۔آج حیدرسکندر
ے بدلہ لینے کا موقعہ ملا ہے۔لیکن کیا کروں ایسی حسینہ کو مارتے ہوۓ دکھ تو ہوگا۔یہ کہہ کر اس نے میرال کے چہرے پر ہاتھ پھیر نا چاہا میرال نے اپنا چہرہ پیچھے کر لیا اور نفرت سے اس شخص کے منہ پر تھوک دیا۔اس شخص نے کھینچ کے دو تھپڑ میرال کے منہ پر مارے۔تم لوگ حیدر سکندر کو آنے تو دو وہ تم لوگوں کو بہت برا حال کرے گا ۔یاد رکھو گے تم لوگ۔
ان دونوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ اے بی بی مرے ہوۓ لوگ کب سے واپس آنے لگے۔
میرال ساکت وجامد ان کا چہرہ دیکھنے لگی اور وہ دونوں اس پر ہنسنے لگے۔میرال کو لگا کے بس سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔
جلدی کر یار اس کا کام بھی ختم کر پھر ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔
ایک نےمیرال کے منہ پر ہاتھ رکھا اور دوسرے نے چاقو سے پےدرپے کہیں وار میرال پر کئے۔اور زمیں پر خون ٹپ ٹپ گرنے لگا۔
حیدر کو صبح چار بجے ہوش آیا ہوش میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے میرال کے بارے میں پوچھا۔
دادا جی میرال کہاں ہے انہوں نے چھپانے کی کوشش کی لیکن وہ اکھڑ گیا دادا جی جھوٹ نہیں صرف سچ میرال کہاں ہے ۔ دادا جی نے اسے سب بتا دیا اسی وقت ڈاکٹر اندر داخل ہوا سر آپ کو ریسٹ کی ضرورت ہے۔
دیکھو ڈاکٹر مجھے نیند کا انجیکشن نہیں لگانا ورنہ جب نیند سے اٹھو گا تو سب سے پہلے تمہاری جان لوں گا۔صرف اینٹی بائیوٹک دو ساتھ ہی اس نے سکندر کو عمر اور علی کو کال کرنے کے لئے بولا اور ساتھ ہی اپنا موبائل مانگا اس نے اپنے موبائل پر جی پی ایس ٹریسر اون کیا جو کے میرال کی کلائی پر باند ھی گھڑی کے ساتھ کونکیٹ تھا۔
