Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

ناول “” معصومیت””

از “” زرش نور””

قسط نمبر ۲

میرال میری جان ! نانی کے پاس آؤ۔

جی نانی!

پتر پتہ ہے آج بہت سے لوگ تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ اب میں جہاں بھی جاؤں گی تم میرے ساتھ چلو گی۔

نہیں نانو مجھے نہیں جانا ! سب لوگ گھور گھور کے دیکھتے ہیں اور پھر جب پتہ چلتا ہے کے میرے ماں باپ نہیں ہیں تو ترس بھری آنکھوں سے دیکھتے ہیں تب مجھے آچھا نہیں لگتا۔

بیٹا میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔ میں چاہتی ہوں میں جلد سے جلد تمہیں اپنے گھر کا کر دوں۔

لیکن نانو!!

لیکن ویکن کچھ نہیں بس اب آؤ سو جاؤ ۔ یہ لائٹ بند کر آنا ۔

جی نانی۔

حیدر بیٹا!! اُٹھ گئے ہیں؟؟

جی خان بابا اندر آ جائیے۔

بیٹا جی نیچے بڑے سائیں آئیں ہیں گاؤں سے آپ کو بلا رہے ہیں۔

دادا جی آئیے ہیں؟؟

جی !

یہ سنتے ہی حیدر دوڑنے کے انداز میں نیچے پہنچا۔

دادا جی !!آپ بغیر بتاۓ ۔ مجھے بتا تو دیتے۔

تمہیں بتا دیتے تو تمہارے چہرے پر ایسی خوشی کیسے دیکھتا۔ انھوں نے فخر سے اپنے سب سے لاڈلے پوتے کو دیکھا ۔

خان بابا ناشتہ لگوائیں ۔

جی بیٹا!

دادا جی آج کیسے آناہوا؟؟

بیٹا میرا دوست ہے یہاں یاور آفریدی !! اُس سے ملنے آیا ہوں ۔ تم بھی چلو گے میرے ساتھ۔

جیسے آپ کا حکم دادا جی ! حیدر خوشدلی سے بولا۔

اماں جی آپ کو ابا جی بھلا رہے ہیں ان کے کوئی دوست آۓ ہیں۔ ثریا بیگم کو اپنی بڑی بہو پلوشے نے آکر بتایا۔

بہو میں آ رہی ہوں زرا میرال کو تو بھلا دو۔

جی اماں جی!

یہ کہہ کر وہ باہر نکل آئیں اور آکر کچن میں میرال تم جاؤ تمہیں اماں جی بھلا رہی ہیں۔

اس کے کچن سے جانے کے بعد! پلوشے بیگم نے اپنی دیورانی ساجدہ بیگم سے چلو پھر سے شروع ہیں نانی ، نواسی کے ڈرامے۔ بہت سے لوگوں کے سامنے اس کو لے کے جا چکی ہیں لیکن کیا پھر وہی میں کہتی ہوں صرف شکل نہیں ہوتی آج کل بچیوں میں اعتماد بھی ہونا چاہئے لیکن یہ لڑکی دو لوگوں کو دیکھ بے ہوش ہونے لگتی ہے۔

پلوشے ایسا نہیں بولتے بن ماں باپ کی بچی ہے، ہم بھی بیٹیوں والے ہیں اللہ اس کے نصیب بھی آچھا کرے-

ثریا بیگم ! میرال کے ہمراہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں ۔ یاور آفریدی کے جگری دوست شہباز خان موجود تھے۔ ثریا بیگم نے ان سے مل کر خاص طور پر میرال سے ملوایا۔وہ اکثر آتے رہتے تھے گھر کی ساری بچیوں سے ملے ہوۓ تھے لیکن میرال سے آج پہلی بار ملے تھے۔

شہباز یہ میری نواسی ہے۔

شہباز خان نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ماشاءاللہ کہا۔

اتنے میں پلوشے خاتون چاۓ لے آئی!!

ثریا بیگم نے پلوشے خاتون کو بیٹھنے کے لئے بولا اور میرال کوسب کو چاۓ پیش کرنے کے لئے بولا۔

میرال جوں ہی ٹیبل کے پاس پہنچی حیدر جو کال سننے کے لئے باہر گیا تھا اندر داخل ہوا وہ ثریا بیگم اور پلوشے خاتون سے مل کر دادا جی کے ساتھ بیٹھ گیا اور یاور خان سے باتیں کرنے لگا۔

میرال سب کے لئے چاۓ ڈال کر ثریا بیگم کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی اور ایسے بیٹھی کے اس کا چہرہ آدھا چھپ گیا۔

ثریا بیگم نے جوں ہی حیدر سکندر کو چاۓ لینے کے لئے بولااور اس نے نظر اٹھائی واپس جھکانا بھول گیا وہ آدھے چہرے میں بھی اسے پہچان گیا تھا۔
پھر جب تک وہ بیٹھا رہا اس کی نظریں گھوم پھر کر وہاں پہنچ جاتیں۔
کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہ لوگ جانے کے لئے اٹھ گئے۔

اٹھنے سے پہلے حیدر نے اپنی گاڑی کی چابی ٹیبل پر رکھ دیاور میرال کیطرف غور سے دیکھا اسی وقت میرال نے بھی نظر یں اٹھائی اس کی نیلی آنکھیں جب حیدر سکندر کی گرے آنکھوں سے ٹکرائی میرال نے جلدی سے اپنی نظریں جھکا لیں لیکن حیدر سکندر کو لگا وہ اپنا سب کچھ یہی چھوڑ کر جا رہا ہے۔

گاڑی کے پاس پہنچ کر حیدر بولا داداجی میں چابی شاید اندر بھول آیا ہوں !
پلوشے بیگم اندر کی طرف بڑھنے لگی ان سے پہلے سکندر اندر کی طرف بڑھ گیا ۔

اندر برتن سمیٹتی میرال کو قدموں کی چاپ سنائی دی اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو حیدر تھا وہ جلدی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
حیدر نے پاس آ کر چابی اُٹھائی اور ایک بغور نظر میرال کے چہرے پر ڈالی اس دوران میرال نے نظر اوپر نہیں اٹھائی ۔

سنو ! تمہارا نام کیا ہے؟؟
جی! میرال حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی!

دیکھو جب تک تم مجھے اپنا نام نہیں بتاؤ گی! میں یہاں سے نہیں جاؤں گا ۔

میرال!! وہ اس کی دھمکی پر جلدی سے بولی ۔

حیدر اس کی معصومیت پر مسکرا کر باہر نکل گیا

💞💖❤️💖💕🤎💛🧡🤍💙🌸💚💜