Love Tere Naal Hogaya By Meem Aain Readelle50153 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
“بھیا آپ ان سے پوچھیں کہ وہ مجھ سے شادی کریں گی کیا ؟؟؟”
فهام کے سوال پر تینوں بھائیوں نے جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا۔
“یہ ممکن نہیں فهام!!!!”
عالم کے دو ٹوک انکار پر فهام نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا۔
“کیوں بھیا کیوں ممکن نہیں یہ؟؟؟”
وہ عالم کے مقابل کھڑا اس سے سوال کر رہا تھا پر لہجے میں عاجزی تھی اور آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔
“کیوں کہ میں نہیں چاہتا کہ وہ بچی یہ سمجھے کہ ہم اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ وہ اس وقت بے سہارا ہے اور ہم لوگوں کے رحم و کرم پر ہے ایسے میں ہم اس پر اپنا فیصلہ نہیں تھوپ سکتے۔ تم سمجھ رہے ہو نا میری بات؟؟؟”۔
عالم کی بات پر وہ لب بھینچ کر سر ہلا گیا۔
“بھیا اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ایک بار۔۔۔۔صرف ایک بار عنایا سے خود بات کر سکتا ہوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں اسے فورس نہیں کروں گا اور اس کے فیصلے کا احترام کروں گا پلیز بھیا؟؟؟”۔
وہ عالم کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اس کی منت و سماجت کرنے لگا تو عالم نے ایک نظر آبرو کی طرف ڈالی جو اسے ہاں کہنے کا اشارہ کر رہی تھی۔ وہ ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
“ٹھیک ہے جاؤ !!!!”
اس کے جواب پر فهام کا چہرہ کھل اٹھا۔
“شکریہ میرے پیارے بھیا!!!! اللّه آپ کو ڈھیر سارے مجھ جیسے پیارے پیارے بچے دے آمین ثم آمین !!!!”
وہ جوش سے دعا دیتے وہاں سے بھاگا جس پر سب کے قہقہے بلند ہوئے جب کہ آبرو شرم سے سر جھکا کر رہ گئی۔
@@@@@
وہ اپنی گود میں سوۓ ہوئے حمین پر نظریں جمائے ماضی کی یادوں میں کھوئی ہوئی تھی جب دروازے پر ہوتی دستك نے اسے حقیقت کی دنیا میں لا پٹخا۔
“آ جائیں!!!”
اس کی اجازت ملتے ہی دروازہ کھلا اور فهام اندر داخل ہوا۔
“عنایا کیا آپ پانچ منٹ مجھے دے سکتی ہیں؟؟؟ ایک ضروری بات کرنی ہے!!!”
فهام کی بات پر وہ سر ہلاتی گود میں سوۓ ہوئے حمین کو آرام سے بیڈ پر لٹا گئی۔
فهام نے ہاتھ کے اشارے سے کمرے میں ایک طرف لگے صوفوں کی طرف اشارہ کیا تو وہ اس طرف بڑھ گئی۔
فهام بھی اس کی پیروی کرتا ساتھ والے صوفہ پر بیٹھ گیا۔
“کیا سوچا ہے آگے کا ؟؟؟
اسکے سوال پر وہ نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“کیا مطلب؟؟”
وہ واقعی اس کے سوال کا مقصد نہیں سمجھی تھی۔
“مستقبل کے بارے میں کیا سوچا ہے؟”
اب کی دفعہ اس نے واضح انداز میں پوچھا۔
“مم۔۔۔میں نے یہی سوچا ہے کہ سر سے بات کروں گی کہ وہ مجھے آفس کی طرف رہائش کا بندوبست کر دیں یا پھر کسی دار الامان چلی جاؤں گی۔”
اس کی عقل پر فهام عش عش کر اٹھا۔
“محترمہ آپ جانتی بھی ہیں اس معاشرے میں اکیلی عورت کا کیا مقام ہے؟؟ اسے کس نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟؟ ہر جگہ بھوکے بھیڑیے نوچنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ اکیلی عورت کی اس معاشرے میں کوئی زندگی نہیں۔ اور جہاں تک بات ہے دار الامان کی تو آپ نہیں جانتی وہاں کس قدر کالے دھندھے ہوتے ہیں۔ کیوں اپنی عزت کی دشمن بننا چاہتی ہیں ؟؟؟”
اس کی باتیں سنتے ہی وہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“میں کیا کروں کروں کہاں جاؤں پھر !!!!”
اس کے لہجے میں بے بسی ہی بے بسی تھی۔
“کہیں مت رجائیں یہیں رہیں!!!”
فهام کی بات پر عنایا نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
“كك۔۔۔کیا مطلب؟؟ میں یہاں کیسے رہ سکتی ہوں ؟؟”۔
اس کے سوال پر فهام اس کی جانب قدرے جھکا۔
“مجھ سے شادی کر کے!!!”۔
اس کی بات پر عنایا کو جھٹکا لگا۔
“کیا بکواس ہے!!! آپ جانتے بھی ہیں آپ کیا بات کر رہے ہیں۔”
وہ بے یقینی سے پوچھنے لگی۔
“میں اچھے سے جانتا ہوں کہ میں کیا بات کر رہا ہوں۔ دیکھیں عنایا گھما پھرا کر بات کرنا پسند نہیں مجھے اس لئے سیدھی بات کروں گا۔ مجھے پہلی نظر میں ہی آپ اچھی لگی تھیں۔ یہ مت سوچئے گا کہ آپ ہمارے رحم و کرم پر ہیں اس لئے میں آپ کی بے بسی کا فائدہ اٹھا رہا ہوں۔ میری شادی کی عمر ہو چکی ہے مجھے ایک عدد بیوی کی ضرورت ہے اور آپ کو ایک عدد سائبان کی جب کہ آپ کے بیٹے کو ایک عدد باپ کی۔ اب آپ سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لیجئے۔”
وہ سن سی اس کی ساری باتوں کو سن رہی تھی۔
“پر میں پہلے سے شادی شدہ ہوں۔”
پہلا اعتراض اٹھایا گیا۔
“تصحیح کر لیں محترمہ آپ شادی شدہ نہیں بلکہ بیوہ ہیں اور آپ کو دوسری شادی کی پوری اجازت حاصل ہے۔”
اعتراض کو بہت خوبصورتی سے رد کر دیا گیا تھا۔
“پر میرا ایک بیٹا بھی ہے!!!”
دھیرے سے احتجاج کیا گا۔
“شادی کے بعد وہ ہم دونوں کا بیٹا ہو گا اور مجھے یقین ہے کہ میں اسے آپ سے بھی زیادہ محبت دوں گا۔”
اس کے جواب سے مقابل کے چہرے پر رضامندی کے تاثرات چھلکنے لگے۔
“پر میں آپ سے پیار بھی تو نہیں کرتی!!!”
ایک اور اعتراض!!!
“کوئی بات نہیں۔ ہولے ہولے ہو جاۓ گا پیار !!!”
وہ بہت پیار اور نرمی سے اس کے سارے اعتراض رد کر گیا تو وہ سب کچھ اللّه پر چھوڑتی اثبات میں سر ہلا گئی۔
@@@@@
نکاح کے بعد وہ خوشی خوشی یہاں سے وہاں اچھلتا پھر رہا تھا۔
“کیسا فیل ہو رہا ہے بھیا ؟؟؟”
طلال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
“آج لگتا ہے میں ہواؤں میں ہوں
آج اتنی خوشی ملی ہے !!!!!!!!”
وہ اپنے پھٹے سپیکر جیسی آواز میں گنگنایا تو طلال نے بے ساختہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر اس سے فاصلہ اختیار کیا۔
“اللّه کا واسطہ بھابھی کے سامنے اپنی اس سریلی آواز کا جادو نہ جگائیے گا ورنہ وہ برداشت نہیں کر پائیں گی اور بیہوش ہو کر گر جائیں گی۔”
اس کی بات پر فهام کو صدمہ ہی لگ گیا۔
“تم نے فهام دی گریٹ کی آواز کو ان ڈائریکٹکی بھونڈی آواز کہا۔ تمہاری ہمّت کیسے ہوئی گستاخ!!!!”
وہ طلال کی گردن دبوچ گیا تو اس کی چیخنے پر سب ان دونوں کی جانب دیکھنے لگے۔ عالم نے نفی میں سر ہلایا جیسے کہہ رہا ہو کہ ان دونوں کا کچھ نہیں ہو سکتا۔
@@@@@
وہ دونوں اس وقت کچن میں موجود تھیں جب کہ عنایا کمرے میں حمین کو تیار کر رہی تھی.
مرد حضرات عید کی نماز ادا کرنے گئے ہوئے تھے۔
“نہال جاؤ شاباش تیار ہو جاؤ اب جا کر وہ لوگ آتے ہی ہوں گے بس۔”
کھیر کا پیالہ فریج میں رکھتے آبرو نے پاس کھڑی نہال سے کہا جو فریش جوس بنا رہی تھی۔
“جی آپی جا رہی ہوں بس یہ ہو گیا۔ آپ بھی چلیں نا!!!”
نہال نے جگ آبرو کو پکڑاتے ہوئے کہا جسے پکڑ کر وہ فریج میں رکھ گئی۔
“ہاں چھل چلو تیار ہو جاتے ہیں ان کے آنے سے پہلے ہم بھی ورنہ ہمارے شوہر نامدار کے مزاج نہیں ملیں گے۔”
آبرو کی بات پر نہال مسکرا کر رہ گئی۔
یوں ہی باتیں کرتے کرتے وہ دونوں اپنے اپنے کمروں کو طرف بڑھ گئیں۔
نہال نے ایک نظر گھڑی پر ڈالتے جلدی سے الماری سے اپنا جوڑا نکالا اور باتھروم کی طرف بڑھ گئی۔ فریش ہونے کے بعد باہر آئی اور بال سکھانے لگی۔
بال سکھا کر پشت پر کھلا چھوڑنے کے بعد وہ میک اپ اٹھاتی اپنے چہرے کو سجانے لگی۔
میک اپ کرنے کے بعد اس نے کانوں میں جهمکے ڈالے اور ایک تفصیلی نظر اپنے سراپے پر ڈالی۔ اپنی تیاری سے مطمئن ہونے کے بعد وہ جھک کر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی چوڑیاں اٹھانے لگی جب کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ اپنی جگہ سٹل ہو گئی۔
وہ مضبوط قدم اٹھاتا اس کے نزدیک آیا اور اس کے ہاتھ سے چوڑیاں تھام گیا۔ اس کا نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام کر وہ ان کانچ کی چوڑیوں کو اس کو کلائی کی زینت بناتا ایک بھر پور نگاہ اس کے حسین سراپے پر ڈال گیا۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو!!!”
اس کی سرگوشی پر وہ خود میں سمٹنے لگی۔
وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لگا گیا۔
“عید مبارک مسز طالم کریم !!!”
اس کے میٹھے الفاظ اس کے کانوں میں رس گھولنے لگے تو وہ سکون سے آنکھیں موند گئی۔
@@@@@
وہ تیار کھڑی تھی۔ الماری میں منہ دیے عالم کی شرٹس سہی کر رہی تھی جب وہ دھیرے سے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لے گیا۔
“عید مبارک جان عالم !!!”۔
وہ اس کے گال پر لب رکھتا بولا تو وہ شرم سے خود میں سمٹنے لگی۔
“خیر مبارک!!!”
اس کی میٹھی سی آواز پر عالم سرشار ہوتا اس کا رخ اپنی طرف موڑ گیا۔
“ماشاءالله!!!”
اس پر نظر پڑتے ہے بے ساختہ عالم کے منہ سے نکلا تھا جس پر وہ سرخ ہوتی سر جھکا گئی
“اللّه نے آپ کی صورت میں مجھے اس قدر نوازا ہے کہ میں اس کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتا!!!”
اپنا ماتھا اس کے ماتھے کے ساتھ جوڑتے وہ اسے خوبصورت اظہار سے نواز گیا۔
“مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے آبرو!!!”
عالم کی بات پر آبرو نے پیچھے ہٹتے سوالیه نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
“میں نے آپ کے چچا اور اس کے بیٹے پر کیس کیا تھا۔ انویسٹیگیشن ہو چکی ہے۔ آپ کے چچا اور اس کا بیٹا دونوں جیل میں ہیں۔ آپ کی تین تاریخ کو گواہی کے لئے کورٹ میں پیش ہونا ہے۔ پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں میں آپ کے ساتھ ہوؤں گا!!!”
عالم کی بات پر آبرو نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔
“آپ۔۔۔آپ سچ کہہ رہے ہیں۔ کیا واقعی میرے ماں باپ کے قاتل اپنے انجام کو پہنچیں گے!!’
اس کے سوال پر وہ مسکراتا ہوا سر ہلا گیا۔
آپ سے وعدہ کیا تھا میری جان پھر کیسے نہ وعدہ وفا کرتا۔”
آبرو ایک دم اس کے سینے سے لگ گئی۔
“تھنک یو عالم آپ بہت اچھے ہیں میں آپ کا شکریہ ادا کر ہی نہیں سکتی۔ میں اللّه کی بہت شکر گزار ہوں جس نے مجھے آپ جیسے همسفر سے نوازا۔”
وہ اس کے سینے سے لگی اسے خوب صورت اظہار سے نواز گئی۔ وہ اس کے گرد اپنا حصار مضبوط کر گیا۔
بیشک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ غم کے بدل چھٹ چکے تھے اور اب ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھی۔
