52.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

کریم مینشن کے ڈائیننگ ہال میں اس وقت ہربونگ مچی ہوئی تھی۔کچن میں کھڑا خوبرو جوان مہارت سے بیلن چلاتا روٹیاں بنا رہا تھا۔ایک چولہے پر چاۓ رکھی تھی جب کہ دوسرے پر فرائی پین میں شامیاں فرائی کر رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وه توے سے روٹی اتارتا اس کے کان سے عجلت بھری آواز ٹکرائی۔
“بھئیا جلدی سے روٹی لا دیں یار۔”
طلال کی آواز پر اس نے جلدی سے توے سے روٹی اتار کر چنگیر میں رکھی اور پین میں فرائی ہوتی شامی کو اٹھا کر پلیٹ میں رکھا اور پھر دونوں چیزوں کو اٹھا کر چیئر پر بیٹھے اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کے آگے رکھا۔۔
“بھئیا چائے !!!!”۔
طلال کے ساتھ بیٹھے فہام کی فرمائش پر اوہ کہتا واپس مڑنے لگا جب ڈائیننگ ہال میں داخل ہوتا عالم اسے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کا کہتا خود چائے کپوں میں ڈالنے لگا۔
چائے کپوں میں ڈالنے کے بعد وہ ٹیبل پر لے آیا جہاں وہ تینوں بیٹھے سحری کر رہے تھے۔
یہ تھا کریم مینشن کے ڈائیننگ ہال کا منظر جہاں چاروں بھائی عالم کریم ،طالم کریم،فہام کریم اور طلال کریم رمضان المبارک کی پہلی سحری کر رہے تھے چوں کہ ان کے والدین عباس کریم اور فریحہ عباس کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا اور کوئی بہن بھی نہ تھی اس لئے گھر میں کوئی صنف نازک بھی موجود نہ تھی۔ بڑے سے گھر میں قل چار بھائی ہی تھے بس۔
سب سے بڑا عالم باپ کے بزنس کو کامیابی سے آگے بڑھا رہا تھا اور چھوٹے بھائیوں کو باپ بن کر پال رہا تھا۔
اس سے چھوٹا طالم یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔
اس سے چھوٹا فہام بھی یونیورسٹی کا طالب علم تھا جب کہ سب سے چھوٹا طلال کالج کا سٹوڈنٹ تھا۔
“بھیا آملیٹ میں نمک کم ہے۔”
طلال کی شکایت پر طالم نے گردن موڑ کر کاٹ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھے۔
“ایک چٹکی نمک کم ہونے سے تمہارا آملیٹ پھیکا نہیں پڑ جاۓ گا۔ غضب خدا کا جوان جہان خوبرو لونڈے کی جوانی رل رہی ہے یہاں کچن میں اور تمہیں نمک کی پڑی ہے لائک سیریسلی!!!!”
طلال کی شکایت پر طالم کو تو جیسے سکتا ہی ہو گیا تھا۔
“چٹکی بھر نمک کی قیمت تم کیا جانو طالم بابو!!!!”۔
بھلا فہام صاحب کی زبان کی کون لگام ڈال سکتا تھا۔
“سائلنس پلیز!!!! سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے بس۔”
عالم کی سنجیدہ آواز پر سب تیزی سے تمیز کا مظاہرہ کرتے سحری کرنے لگے۔
جب سب سحری کر چکے تو عالم اور طالم برتن سمیٹنے لگے جب کہ طلال اور فہام ٹیبل صاف کرنے لگے۔
اذانیں شروع ہوئیں تو چاروں نے وضو کر کے مسجد کا رخ کیا۔ نماز پڑھ کے واپس آنے کے بعد وہ چاروں اب کچن کے دروازے میں کھڑے تھے۔ سوال یہ تھا کہ برتن کون دھوئے گا۔
“”بھیا آپ جائیں ہم مینیج کر لیں گے!!!”
وه تینوں یک زبان ہو کر عالم سے بولے تو وہ ابرو اچکا کر رہ گیا۔
“آر یو شیور؟”۔
عالم کے سوال پر وہ تینوں تیزی سے اثبات میں سر ہلا گئے تو وہ اوکے کہتا وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا اب وہاں کھڑے تینوں افراد ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔
“میرا کوئز ہے آج برو!!! اور مجھے اپنی نیند کی قربانی دے کر اس کی تیاری کرنی ہے تو اس لئے میری طرف سے تو معذرت!!!”
طالم کا عذر تو تیار تھا۔
“اور میری بھی بہت امپورٹنٹ پریزنٹیشن ہے آج جس کی تیاری کرنی ہے مجھے اس لئے آج میری طرف سے بھی سوری یار”
فہام نے بھی اپنی مجبوری بتائی تو طلال بے چارگی سے اپنے دونوں بڑے بھائیوں کو دیکھنے لگا۔
“بھیا آپ دونوں جانتے ہیں میں اس وقت کیا سوچ رہا ہوں؟؟”
اس کے سوال پر ان دونوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں ہم جانتے ہیں تم یہی سوچ رہے ہو گے کہ ہم دونوں کی مصروفیت کی وجہ سے تمہیں برتن دھونے پڑیں گے اب۔”۔
طالم نے کہا تو طلال نے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں میں یہ نہیں سوچ رہا بلکہ یہ سوچ رہا ہوں کہ آخر ایسا کیا گناہ کر بیٹھا جو آپ دونوں جیسے خود غرض بھائی ملے مجھے۔ جائیں آپ دونوں۔ دھو لوں گا میں اکیلا ہی سب برتن۔”
خفگی سے کہتا وہ کچن میں داخل ہوا تو طالم اور فہام ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھتے اگلے ہی پل تیزی سے طلال پر جھپٹے۔
“ہمارا شیر تو خفا ہی ہو گیا۔ ہم تو بس مذاق کر رہے تھے یار۔ ساتھ مل کر برتن بھی دھوئیں گے اور صفائی بھی کریں گے۔ بھائیوں کے ہوتے تو ٹینشن کیوں لیتا ہے۔ہم تو تمہیں تنگ کر رہے تھے بس۔”
کچھ دیر بعد کچن سے آتی ہنسی مذاق کی آواز پر عالم مسکرا دیا۔
@@@@@
وہ دیوانہ وار بھاگتی جا رہی تھی۔پیروں میں كنكر چبھ رہے تھے۔ لہو لہان پیر چلنے سے انکاری تھے پر عزت جانے کا خوف رکنے نہ دے رہا تھا۔وہ پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر بھاگتی ہی چلی جا رہی تھی۔
بھاگتے بھاگتے جب اسے قدموں کی آواز قریب سنائی دینے لگی تو جس گھر کا گیٹ کھلا نظر آیا اسی میں داخل ہو گئی۔
وہ ایک بہت بڑے شاندار سے گھر کا بڑا کالا گیٹ تھا۔ گیٹ کا چھوٹا دروازہ ادھ کھلا ہوا تھا۔ وہ اندر داخل ہوتی اپنے پیچھے دروازہ بند کر گئی۔
“کون ہے؟”
بھاری مردانا آواز پر اس کی پہلے سے الجھی سانسیں سینے میں اٹک سی گئیں۔
طالم اور فہام باہر واک کرنے نکلے تھے اس لئے باہر کا دروازہ کھلا ہوا تھا.عالم باہر لان میں ہی واک کر رہا تھا جب کھٹکے کی آواز آئی۔ اسے لگا دونوں بھائی واپس آ گئے ہیں پر دونوں بھائیوں کی جگہ وہاں کوئی لڑکی تھی وہ بھی بہت بری حالت میں۔ وہ لڑکی اپنے پیچھے دروازہ بند کیے کھڑی هانپ رہی تھی۔
اس کے پکارنے پر وہ مزید کانپنے لگی۔
عالم نے اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے تو وه خوف سے تھر تھر کانپنتی دونوں ہاتھ منہ پر جما گئی۔
“ہاتھ منہ کے آگے سے ہٹاؤ لڑکی!!!!”
کڑکتی ہوئی آواز نے اس کے تھکے ہوئے اعصابوں پر حملہ کیا تو وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی چلی گئی۔ اس سے پہلے کہ وه لہرا کر گرتی عالم بوکھلا کر تیزی سے اسے دونوں بازوؤں سے تھام گیا۔
عین اسی وقت گیٹ کا چھوٹا دروازہ دوبارہ کھلا اور وہاں سے طالم اور فہام نمودار ہوئے۔
“استغفرالله!!!! یہ میری گناہ گار آنکھیں کیسا منظر دیکھ رہی ہیں!!!! ہمارے بگ بی کی باہوں میں ایک نازک انداز حسینہ!!!!”
یہ الفاظ جس کی زبان سے ادا ہوئے تھے وہ تھا فہام!!! دا گریٹ فہام!!!
“بات تمہاری سولہ آنے کھری ہے۔ تمہاری آنکھیں ہیں تو گناہ گار پر اس وقت بلکل سہی منظر دیکھ رہی ہیں۔ ہمارے بگ بی کی باہوں میں واقعی ایک نازک حسینہ موجود ہے!!!!”
فہام کے بعد طالم کی فضول گوئی نے عالم کا دماغ گھما کر رکھ دیا۔
“شٹ اپ یو بوتھ!!!! اس کو آ کر سمبھالو جو میرے گلے پڑ گئی ہے۔”
عالم ان دونوں کو لتاڑتا ہوا بولا تو دونوں نے جلدی سے اپنے دانت اندر کرتے شرافت کا مظاہرہ کرنا چاہا۔
“بھیا یہ آپ کی گلے لگی میرا مطلب پڑی ہیں تو آپ ہی کچھ سوچیں نہ کہ کیسے سمبھالنا ہے۔ ویسے یہ ہیں کون؟”۔
بولتے بولتے فہام کی زبان پھر سے پھسلنے لگی جسے عالم کی گھوری نے راستے پر لایا۔
“پتا نہیں میں باہر واک کر رہا تھا ایک دم یہ اندر آئی میں نے پوچھا کون ہے تو بیہوش ہو کر گرنے لگی تو میں نے تھام لیا۔”
عالم کے بتانے پر دونوں نے اثبات میں سے ہلایا۔
“میرے خیال میں ہمیں اسے اندر لے جانا چاہئے ایسے دروازے پر کھڑے ہو کر مذاکرات کرنا ٹھیک نہیں۔”
طالم کی بات پر عالم نے سر ہلایا۔
“زندگی میں پہلی بار طالم کریم نے کوئی عقل کی بات کی ہے۔”
فہام کی بات پر طالم نے اسے سخت گھوری سے نوازا۔
عالم نے جھجھکتے ہوئے اس انجان وجود کو باہوں میں اٹھا کر گھر کے اندرونی حصّے کا رخ کیا۔ان دونوں بھائیوں نے بھی اس کی پیروی کی۔
گیسٹ روم میں پہنچ کر عالم نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس پر بلینکٹ اوڑھایا کیوں کہ اس کے وجود سے دوپٹہ ندارد تھا۔ کپڑے بھی جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے۔
“بھیا کیا ہم انہیں یہاں رکھ کر ٹھیک کر رہے ہیں؟؟”
یہ سوال دروازہے کے پاس کھڑے طلال کی طرف سے آیا تھا۔
بھیا کی جان ہم صرف ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حالت میں ہم انہیں گھر سے باہر تو نہیں پهينك سکتے نا۔ باقی یہ ہوش میں آ جائیں پھر ہی کچھ پتا چل سکے گا۔”
عالم کی بات پر تینوں بھائیوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“بھیا ان کے فیس سے بال پیچھے کر کے دیکھ لوں پلیز؟؟ مجھے دیکھنا ہے کہ یہ کیسی ہیں!!! ان کے بال کتنے پیارے ہیں نا۔ کیا یہ خود بھی اتنی ہی پیاری ہیں!!! ویسے آپ مجھے گھوریں مت یہ میری آپی ہیں میں آپی سمجھ کر تعریف کر رہا ہوں!!!”
طلال کمرے میں جلتے نائٹ بلب کی روشنی میں نظر آتے اس اجنبی لڑکی کے لمبے سیاہ بالوں اور دمكتی رنگت کی تعریف میں رطب اللسان تھا جب بھائیوں کی گھوری پر فوری طور پر صفائی پیش کر دی۔ چہرہ اس لئے نہیں دیکھ سکے تھے کہ اس کے بال اس کا چہرہ ڈهانپ گئے تھے۔
“بری بات طلال۔ انھیں ریسٹ کرنے دو۔ چلو سب سو جا کر صبح سحری کے لئے بھی اٹھنا ہے پھر۔”
عالم ان سب سے کہتا ایک آخری نظر اس اجنبی حسینہ پر ڈال کر سب سے پہلے خود کمرے سے نکلا پھر ان تینوں کے نکلنے کے بعد کمرے کا دروازہ بند کرتا خود بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
@@@@@
وہ چھوٹی سی لڑکی اس بوسیدہ مکان میں بیٹھی رو رہی تھی۔
“نیہال اری او نیہال !!!”
نحیف سی آواز پر وہ جلدی سی آنسو پونچھتی اٹھی اور کمرے کی طرف بڑھی۔
“جج۔۔۔۔جی اماں!!!”
مريل سی آواز میں پوچھتی وہ قدم آگے بڑھا گئی۔
“آج کھانے کو کچھ ملے گا یا نہیں؟صرف پانی سے افطاری کی تھی۔”
عمر گزر گئی پر آواز کی سختی نہ گئی۔
“گھر پر کچھ نہیں ہے کھانے کو اماں۔ صبر کر کے سو جائیں۔”
بھیگی آواز میں کہتی وہ کمرے سے تو کیا گھر سے ہی نکل گئی۔ چلتے چلتے گھر سے آگے نکل آئی۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو ایک پتھر پر بیٹھ کر رونا شروع کر دیا۔
“یا اللّه میں کیا کروں کہاں جاؤں!!!!!”
وہ نیہال تھی . اپنے باپ کی لاڈلی نیہا!!! پر وہی لاڈ اٹھانے والا باپ جب ایک دن پہاڑ سے گر کر دنیا سے رخصت ہوا تو دنیا میں کوئی لاڈ اٹھانے والا بھی نہ رہا۔ ماں کو تو نہ جانے اس سے اللّه واسطے کا بیر تھا۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا ماں کو خود سے پیار کرتے یا پیار سے بات کرتے نہ دیکھا۔ بہن بھائی کوئی تھا نہیں۔ ماں نے نہ جانے کیا سوچ کر نزددیکی سکول سے میٹرک کروا دیا۔ اس نے میٹرک میں ٹوپ کیا تو نزدیکی کالج میں مفت داخلہ مل گیا۔ گھر کے سارے کام کرتی تو اس کی پڑھائی سے بھی اس کی ماں کو کوئی مسلہ نہ تھا۔ یوں حال ہی میں نیہال کا ایف اے بھی ہو گیا۔
اب تھا کچھ یوں کہ پہلے اس کی ماں لوگوں کے کپڑے سلائی کرتی تھی تو گھر چلتا تھا۔ اب رمضان سے کچھ ماہ پہلے ایک ایکسیڈنٹ میں ایک ٹانگ اور ایک بازو ٹوٹ گیا۔ روزی روٹی کا ذریع ختم ہو گیا۔ فاقوں کی نوبت آ گئی۔ آگے پیچھے تو کوئی تھا نہیں۔ نیہالنے ایک دو جگہ ٹیچنگ کی جاب کرنی چاہی پر لوگ حوس میں بھوکے ہوئے پڑے ہیں ہر جگہ ہی۔ عورت کے لئے چار دیواری سے باہر نکل کر كمانا کون سا آسان کام ہے۔
وہ یوں ہی بیٹھی رو رہی تھی جب کسی نے بھاری دلکش آواز میں اسے پکارا۔
@@@@@