52.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

عالم کے آفس میں اچانک کوئی مسلہ بن گیا تو اسے ایمرجنسی میں کہیں جانا پڑ گیا اسی لئے فیصلہ فلحال تاخیر پا گیا۔
عالم کے جانے کے بعد وہ اسے یاد آیا کہ اس نے اس لڑکی کو ظہر کے بعد آنے کا کہا تھا۔یاد آتے ہی وہ گھر سے نکل آیا۔
اپنی سوزوکی بائیک پر وہ دس منٹ میں ہی مطلوبہ جگہ پر تھا۔
کل کی طرح آج بھی وہ لڑکی سفید چادر لئے ایک بڑے پتھر پر بیٹھی تھی۔اس کی بائیک کی آواز سنتے اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر سے سر جھکا گئی۔
اپنی بائیک روک کر ایک طرف کھڑی کرتا وہ اس کے سامنے پڑے پتھر پر بیٹھ گیا۔
“نہال!!! یہی نام تھا تمہارا رائٹ ؟؟؟”
اس کے سوال پر وہ دھیرے سے سر ہلا گئی۔
“اسکول پڑھی ہو؟؟؟”
ایک اور سوال جس پر وہ پھر سے سر ہلا گئی۔
“اردو اور انگلش دونوں لکھ اور پڑھ لیتی ہو؟؟؟”
اس سوال پر پھر سے سر ہلا دیا۔
“زبان ہے منہ میں؟؟؟”
اس کے عجیب سے سوال پر وہ پزل ہوتی سر ہلا گئی۔
“منہ کھول کر زبان دکھاؤ اپنی!!!”
اس کے حکم پر وہ ہونق بنی منہ کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی کھول گئی۔
“گڈ!!! زبان تو ہے تمہارے پاس پھر اس کے استعمال پر ایسا کون سا خزانہ خرچ ہوتا ہے جو اسے ہلا جلا نہیں رہی تم۔ یوں ہی بیکار پڑے پڑے اگر اس کو زنگ لگ گیا تو پھر کیا کرو گی!!!!”
اس کی بات پر وہ بری طرح خجل ہوئی۔
“میں استعمال کرتی ہوں زبان !!!!”
وہ خجل ہوتی اپنی صفائی دینے کی خاطر بول پڑی تا کہ اسے علم ہو سکے کہ وہ زبان استعمال کرتی ہے۔
“ارے واہ تم تو بولتی بھی ہو !!!”
وہ یوں پرجوش ہو کر بولا جیسے پہلی دفعہ کسی کو بولتے ہوئے دیکھا ہو۔
“اللّه نے زبان دی ہے تو بولوں گی ہی نا۔ اگر گونگی ہوتی تو کل بھی نہ بولتی۔”
وہ برا ہی مان گئی تھی اس کی بات کا۔
“میرا اندازہ بلکل ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔نہیں تھ!!!!۔ تم صرف بولتی نہیں بلکہ ٹھیک ٹھاک بول لیتی ہو۔ میں تو تمہیں ایسے ہی اللّه میاں کی گاۓ سمجھ بیٹھا تھا۔”
اس کی بات پر نہال نے سر اٹھا کر خفگی سے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو نظروں کے اس گہرے ٹکراؤ پر طالم کا دل زوروں سے دھڑک اٹھا۔
“چپ بلکل چپ!!! خاموش!!! پٹوائے گا کیا۔ روزے کی حالت میں کون ایسے ٹھرک پر اترتا ہے یار!!!!”
وہ اپنے دھک دھک کرتے دل کو ڈپٹنے لگا تو نہال نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔
“کیا کہہ رہے ہیں آپ؟؟ میں سمجھی نہیں !!!”
اس کے سوال کرنے پر وہ سر میں ہاتھ پهير کر رہ گیا۔
“شکر کہ نہیں سمجھی۔ اگر سمجھ جاتی تو اس وقت تمھارے ہاتھ ہوتے اور میری گردن !!!!”
اس کی بات پر نہال آنکھیں پهيلا کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“کیا مطلب؟؟؟”
وہ واقعی اس انسان کی باتیں نہیں سمجھ پا رہی تھی۔
“باقی سارے مطلب چھوڑو بس اپنے مطلب کی بات کرو تم!!! کام کرنا چاہتی ہو؟؟؟ ایسا کام جس میں گھر بیٹھے عزت سے کما سکو ؟؟؟”
اب کہ وہ سنجیدہ ہو کر مستفسر ہوا تو نہال بے بسی سے مسکرا دی۔
“جس لڑکی کے سر پر بوڑھی اور لاچار ماں کے سوا کسی کا سایہ نہ ہو اور گھر میں فاقے کٹ رہے ہوں تو عزت سے ملتی روزی کو کیوں انکار کرے گی وہ ؟؟؟”
اس کے لہجے کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھوں سے بھی کرب اور بے بسی جھانک رہی تھی۔
“کتنا پڑھی ہو ؟؟؟”۔
اس کے سوال پر نہال نے سر سے پھسلتی چادر سہی کی۔
“ایف اے کیا ہے!!!”
اس کے جواب پر وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
“دیکھنے میں تو چھوٹی سی لگتی ہو۔ کیا عمر ہ تمہاری ؟؟؟”
وہ واقعی اسے میٹرک کی سٹوڈنٹ سمجھ رہا تھا۔
“انیس کی ہوں۔ کام کیا کرنا ہو گا مجھے؟؟؟”
وقت کو تیزی سے سرکتے دیکھ کر اس نے اپنے کام کا سوال پوچھا۔
“کام بہت آسان سا ہے۔ تمہیں اسائینمنٹ بنانی ہوں گی۔ ڈیٹا میں تمہیں دیا کروں گا۔ تمہیں بس نوٹس بنانے ہیں۔ کر لو گی ؟؟؟”
اسے کام بتاتا وہ آخر میں سوال کر گیا۔
“جی کر لوں گی۔ پر یہ تو بہت تھوڑا کام ہے۔ کتنے پیسے ملیں گے اس کے؟”
وہ مایوس ہو گئی کیوں کہ اتنے سے کام کہ اتنے پیسے نہ ملتے جس سے گھر چل سکتا۔
“روز کا پانچ سو دے سکتا ہوں۔کر لو گی اس میں ؟؟؟”
نہال کی آنکھیں پهيل گئیں۔اس کے لئے یہ پیسے بھی بہت سے بھی زیادہ تھے۔
“آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟؟؟”
وہ بے یقینی بھرے لہجے میں بولی۔
“تم ایک بات بتاؤ؟؟”
وہ سوال کے بدلے سوال داغ گیا۔
“جی؟؟؟”
وہ جواب دیتی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“تمہارا میرا مذاق والا کوئی رشتہ ہے کیا؟؟”
اس کے سوال پر نہال نے شرمندہ ہوتے نفی میں سر ہلایا۔
“پھر میں کیوں مذاق کروں گا؟؟ سچ کہہ رہا ہوں لڑکی اگر یہ آفر منظور ہے تو بتاؤ!!!”
وہ کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔ عصر کی اذان ہونا شروع ہو چکی تھی۔
“جی مجھے منظور ہے۔”
وہ بہت اٹھ کھڑی ہوئی۔
“اوکے روز ظہر کے بعد اسی جگہ۔”
طالم کو یہ جگہ بہت مناسب لگی۔ یہاں کوئی زی روح نہ ہوتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی ان دونوں کو ساتھ دیکھے اور غلط سوچے۔
وہ لڑکا تھا اس کا کچھ نہ بگڑتا پر نہال کی عزت پر حرف آتا کیوں کہ ہمارے معاشرے کی یہی سوچ ہے۔ لڑکا بری الذمہ ہو جاتا ہے جب کہ لڑکی کی عزت پر کبھی نہ مٹنے والا داغ لگ جاتا ہے۔
“بہت شکریہ آپ کا!!!”
نہال کی مشکور آواز پر وہ سر ہلاتا اپنی بائیک کی طرف بڑھ گیا۔
پھر کچھ ہی سیکنڈز میں دھول اڑاتی بائیک نظروں سے اوجهل ہوتی چلی گئی۔
اس نے مسکرا کر سر اٹھاتے آسمان کی طرف دیکھا۔ بیشک اللّه بہترین وسیلے بنانے والا ہے۔
اس نے اپنی چادر اچھے سے سر پر جمائی اور اپنے قدم گھر کی طرف جانے والے راستے کی طرف بڑھا دیے۔
@@@@@
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا سونے کی تیاری میں تھا جب دروازہ ناک ہوا۔
“یس!!!”
اس کی اجازت ملتے ہی دروازہ کھلا اور طالم کمرے میں داخل ہوا۔اس کے بعد فهام اور پھر طلال۔
عالم نے سوالیہ نظروں سے ان تینوں کو دیکھا۔
“اس وقت تم سب وہ بھی ایک ساتھ!! خیریت؟؟”
عالم کے سوال پر تینوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔
“بھیا ہم بیٹھ جائیں ؟؟”
طلال نے پہل کی۔
“ہاں ہاں آؤ بیٹھو تم لوگ!!!”
اس کے کہتے ہی وہ تینوں بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئے۔
“بھیا گھر کتنا خالی خالی لگتا ہے نا!!!”
طالم کی بات پر عالم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
“گھر چیزوں سے بھرا پڑا ہے پھر کس طرح خالی لگتا ہے؟؟؟”
وہ سمجھ نہ سکا اس سوال کا مقصد۔
“گھر چیزوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے بھرا اور بسا کرتے ہیں!!!”
فهام نے پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے بڑے بوڑھوں کی طرح کہا۔
“چار لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی گھر خالی خالی کیسے لگتا ہے؟؟ لائک سیریسلی؟؟؟”
عالم کی بات پر فهام گڑبڑا گیا۔
بھیا آپ نے وہ مثال نہیں سنی کیا؟؟؟”
طلال کے سوال پر عالم نے اس کی طرف رخ موڑا۔
“کون سی مثال؟؟؟”
طلال گڑ بڑا گیا۔
“بھیا آپ بتائیں نا!!!”
وہ طالم اور فهام کی طرف دیکھتا بولا۔
بھیا آپ نے سنا نہیں۔ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ!!!”
وہ پرجوش ہوتا بولا تو باقی دونوں نے بھی زور و شور سے سر ہلایا۔
عالم نا سمجھی سے ان تینوں کو دیکھ رہا تھا۔
“اچھا تو پھر ؟؟”
اس کے ناسمجھی بھرے سوال پر تینوں نے نظروں کا تبادلا کیا۔
“ہمارے گھر میں بھی تو کوئی وجود زن ہونا چاہئے نا!!!
طالم نے کہا تو باقی دونوں نے پھر زور و شور سے سر ہلایا۔
“ہاں نا!!! سوچیں بھیا جب کوئی لڑکی ہو گی ہمارے گھر تو ہمارے گھر بھی لال ،نارنجی ،سرخ، ہرے ، نیلے ،پیلے آنچل لہراتے نظر آیا کریں گے۔چوڑیوں کی چھنکار سنائی دیا کرے گی۔کوئل کی کوک جیسی سریلی آواز سننے کو ملا کرے گی۔ جب گھر داخل ہوں گے تو ویرانی نہیں ملے گی بلکہ کوئی گھر کو بسانے اور سجانے والی انتظار میں ملا کرے گی۔ اف کتنا مزہ آئے گا بھیا!!!!”
وہ جوش سے بول رہا تھا جب کہ باقی دونوں اس کی باتیں سنتے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے .
عالم حیران پریشان سا ان تینوں کی حرکتیں دیکھ رہا تھا۔
“اس سب کا مقصد ؟؟؟”
اس کے سوال پر وہ تینوں بھائی ایک دوسرے کو دیکھتے اس کے مزید نزدیک آئے۔
“ہمیں بھابھی چاہئے بھیا!!! پیاری سی معصوم سی اور اچھی سی!!!!”
وہ تینوں کورس میں بولے تو عالم بوکھلا اٹھا۔
“سٹھیا گئے ہو کیا ؟؟”
وہ بیچارہ اب اور کیا کہتا۔
“پلیز بھیا شادی کر لیں۔ ہماری ماں نہیں رہی آپ نے ماں اور باپ دونوں بن کر ہمیں پالا لیکن ہمیں اب کوئی ماں جیسی چاہئے۔ پلیز بھائی مان جائیے نا!!!”
طلال کے ملتجی لہجے میں چھپی كسك عالم صاف محسوس کر سکتا تھا۔ وہ جتنا مرضی پیار کر لیتا لیکن ماں کی کمی بھلا کیسے پوری کر سکتا تھا۔
“اچھا چلو اگر میں مان بھی جاتا ہوں تو کہاں ملے گی ایسی لڑکی جس میں یہ ساری خوبیاں موجود ہوں۔”
وہ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھتا پرسکون لہجے میں پوچھنے لگا۔
“ہمارے بہت قریب ہے بھیا ذرا نظر تو گھمائیں!!!”
فهام شرارت بھرے لہجے میں بولا۔
“قریب سے تو بس تم تین نمونے ہی نظر آ رہے ہو۔ ویسے کس کی بات ہو رہی ہیں۔”
وہ نا سمجھی سے پوھنے لگا۔
“آبرو!!!!”
وہ آنکھیں پهيلا کر انہیں دیکھنے لگا جو بہت آرام سے آبرو کا نام لے گئے تھے۔
اور پھر پورے ایک گھنٹے بعد وہ آبرو کو منانے میں کامیاب ہو گئے تھے پر اس کے اس حکم کے ساتھ کہ:
“آبرو سے اجازت لو اور اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاۓ گا۔”
وہ تینوں خوشی سے چیختے ہوئے عالم کے گلے لگے پھر آبرو کے کمرے کی طرف بھاگے اور نہ جانے کیسے پر اسے منانے میں بھی کامیاب ٹھہرے تھے۔
یوں ٹھیک دو دن بعد ان دونوں کا نکاح طے پا چکا تھا
@@@@@
انہوں نے ڈھولکی رکھی تھی آج ہگھر پر اس لئے وہ تینوں بھائی آج اپنے سب کام کاج چھوڑ کر گھر کی صفائیوں میں جتے ہوئے تھے۔ عالم آفس گیا تھا جب کہ آبرو کمرہ بند تھی۔ سحری بھی اس نے طلال سے اپنے کمرے میں منگوا لی تھی۔
وہ تینوں بھائی سارا کام آپس میں بانٹ کر اپنے زمے لگا کام کرنے میں مصروف تھے۔
“ہائی اماں میری کمر !!!!! ظالموں کچھ تو خیال کرو میری کم سن جوانی کا!!!”
فہام ہاتھ میں جالا اتارنے والا برش پکڑے سٹول پر کھڑا ہو کر دہایاں دے رہا تھا۔
“عورتوں کی طرح بین کرنے بند کر دو تم فہام۔ یہ جس چیز کو تم کمر کہہ رہے ہو نا اس کو اگر ماپا جاۓ تو کمر نہیں کمرہ نکلے گا اور وہ بھی بڑا سا۔ اس لئے زیادہ نازک بننے کی ضرورت نہیں۔”
طالم کی بات پر فهام تڑپ اٹھا۔
“تم ویسے ہی کہہ دو بھائی کہ تم سے میرا حسن دیکھا نہیں جاتا بس!!!!!”
اس کی بات پر طالم طنزیہ نظروں سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگا۔
“کیا دیکھ رہا ہے۔نظر لگائے گا کیا؟؟”
وہ اسے یوں خود کو گہری نظروں سے اوپر سے نیچے تک دیکھتا پا کر پوچھنے لگا۔
“تمہارا حسن ڈھونڈ رہا ہوں جو کہیں سے بھی نظر نہیں آ رہا۔”
طنزیہ انداز میں کہتا وہ کپڑا پکڑ کے ڈسٹنگ کرنے لگا۔
“کام بھی کر لیں آپ لوگ کب سے باتیں ہی کیے جا رہے ہیں بس!!!!”۔
ماربل کے فرش پر پوچا لگاتے طلال نے پل بھر کو رک کر تنك کر ان دونوں سے کہا پھر اپنے سابقہ کام میں مشغول ہو گیا۔
“گھر کے تیرہ باتھ روم کس نے رگڑ رگڑ کر صاف کیے ہیں؟؟ ہارپک کی سمیل میرے کپڑوں سے بھی آنے لگ گئی ہے اب تو جس قدر دل جمعی سے میں نے باتھ روم چمکائے ہیں۔ تو اب بھی مجھے کام چور کہہ رہا ہے؟؟؟”
طالم محلے کی فسادی آنٹیوں کی طرح ہاتھ نچا نچا کر بولتا طلال پر چڑھ دوڑا.
“یہ جو اس بڑے سے کریم مینشن کی روشن دیواریں مزید صاف نظر آ رہی ہیں ان کے پیچھے کیا راز ہے؟؟ سارے کمروں، باتھ روموں، لاؤنج، کچن اور گیرآج کی دیواروں سے جالا کس نے صاف کیا؟؟ اس گھر کی ہر دیوار چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے “واہ کیا بات ہے فهام کی!!” اور تم کہہ رہے ہو کام بھی کر لیا کریں!!!!”
فهام جالے والا برش فرش پر پهينكتا دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے اس پر برس پڑا۔
وہ دونوں بیچارے تڑپ ہی تو اٹھے تھے اس سنگین الزام پر جب کہ طلال بیچارہ صدمے سے فرش پر گرے جالے کو دیکھ رہا تھا۔
اس نے ابھی پوچا لگا کر فرش صاف کیا تھا جو فهام نے برش پهينك کر گندہ کر دیا۔
اس نے گردن موڑی تو سامنے نظر آتے منظر پر اس کی آنکھیں پهيل گئیں۔ سامنے فرش پر ہارپک کی بوتل بڑی شان سے الٹی پڑی تھی۔ اس کی ساری محنت پر ہارپک پھر گیا۔
“بھیا!!!!!”
ان دونوں کی حرکتوں پر وہ بے بسی سے چلا اٹھا۔
لاؤنج کے دروازے میں کھڑے عالم نے نفی میں سر ہلاتے اپنے چھوٹے بھائیوں کو دیکھا۔