No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
بھیا اس دفعہ افطاری نہیں کروائیں گے ہم کیا؟”
صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر نیچے زمین پر بچھے قالین پر بیٹھے طلال نے سوال کیا۔
ظہر کی نماز کے بعد وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ طالم اور فهام اپنے اپنے موبائلوں میں لگے ہوئے تھے۔ عالم اپنے آفس کا کام کر رہا تھا اور طلال اپنے کالج کا کام۔
“کروائیں گے بیٹا۔ پر کچھ دن بعد۔ ابھی کچھ ضرورت مند ہیں میری نظر میں پہلے ان کی مدد کریں گے ہم۔ ہمارے ہم پلہ دوست احباب خود سے اپنا پیٹ بھر سکتے ہیں۔ ان کو گھر بلا کر افطاری کروانے سے بہتر یہ ہے کہ پہلے ان لاچار اور ضرورت مند لوگوں کی ضرورت پوری کی جاۓ جن کا اور کوئی وسیلہ نہیں۔ روزہ ہمیں غریب کی بھوک کا احساس دلاتا ہے۔ہمیں دنیاوی دکھاوا نہیں دیکھنا۔ ہمیں اپنی آخرت آسان کرنی ہے۔ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کر کے۔ اللّه نے اگر ہمیں دیا ہے تو اسے پاس رکھنے سے وہ زیادہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی ضرورت مند مخلوق میں تقسیم کرنے سے اس میں برکت پیدا ہو گی۔
ہم گھر پر افطاری کروانے کی بجائے مسجد میں کروا دیں گے اس سے زیادہ ثواب حاصل ہو گا۔”
عالم بہت نرم اور حلیم انداز میں انہیں سمجھا رہا تھا۔تینوں بھائی اپنے اپنے کام روک کر پوری دل جمعی سے اس کی بات سن رہے تھے۔
“آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بھیا!!!!”
طالم کی بات پر عالم نرمی سے مسکرا دیا۔
“بھیا ہمیشہ سب کچھ ٹھیک کہتے ہیں ۔ میرے بھیا دنیا کے بیسٹ سے بھی بیسٹ بھیا ہیں!!!”
طلال لاڈ سے مان بھرے لہجے میں بولا تو عالم مسکرا کر اس کے بال بکھیر گیا۔
“نہیں تو ہم سوتیلے ہیں کیا؟؟ ہمیں کیا کوڑے کے ڈھیر سے اٹھا کر لایا گیا تھا؟؟؟؟”
فهام کے یوں بے یقینی سے پوچھنے پر عالم نے مسکرا ضبط کرتے نفی میں سر ہلایا جب کہ باقی دونوں اس کی نوٹنکی پر سر جھٹک گئے۔
عالم کی نظر اچانک ڈرائنگ روم کے دروازے پر پڑی جہاں آبرو کھڑی آنکھیں میں حسرت لئے ان چاروں کو دیکھ رہی تھی۔
عالم نے چونک کر اس کے گرد لپٹی اپنی چادر دیکھی۔
“اندر آ جائیں!!!!”
وہ جو آنکھوں میں حسرت لئے انہیں محبت سے باتیں کرتے دیکھ رہی تھی عالم کی بھاری آواز پر چونک اٹھی۔
“جج۔۔۔جی میں؟؟؟”
وہ ایک دم پزل ہو گئی اتنے مردوں میں۔
“جج۔۔۔۔جی آپ!!!”
فهام اسی کے انداز میں بولا تو عالم نے اسے سخت گھوری سے نوازا جس پر وہ سر پر ہاتھ پهير کر رہ گیا۔
وہ دھیرے دھیرے قدر اٹھاتی آگے بڑھی اور عالم کے اشارے پر سامنے پڑے سنگل صوفے پر ٹک گئی۔
“آپ کہاں سے آئی ہیں اور یہاں تک کیوں اور کیسے پہنچی!!! مجھے سب کچھ سچ سچ سننا ہے!!!”
عالم نے سنجیدہ آواز میں دو ٹوک الفاظ میں حکم سنایا تو وہ حلق تر کرتی اثبات میں سر ہلا کر بولنا شروع ہو گئی۔
@@@@@
آبرو ہاشم، سید ہاشم اور ستارا ہاشم کی اکلوتی اولاد تھی جسے انہوں نے بہت لاڈ سے پالا تھا۔
“ماما پاپا آپ لوگ جلدی آئیے گا میں آپ لوگوں کے بغیر اتنے دن نہیں رہ سکتی جانتے ہیں نا آپ!!!!”
آبرو ہاشم کے بازو میں اپنا بازو ڈالے لاڈ سے بولی تو وہ ہنستے ہوئے اس کا ماتھا چوم گئے۔
“ہم جانتے ہیں ہمارا بچا ہمارے بغیر اتنی دیر نہیں رہ سکتا پر میری جان ہم اللّه کے گھر جا رہے ہیں۔ ہمیں خوشی خوشی رخصت کرو۔ اگر آپ کے پیپرز نہ ہوتے تو کبھی آپ کو اکیلا نہ چھوڑ کر جاتے۔ پر اللّه کے گھر سے ہمارا بلاوا آیا ہے۔ ہمیں تو جانا ہی ہے نا!!!!”
وہ اسے بازوؤں کے گھیرے میں لئے باہر کی طرف بڑھے۔
وہ دونوں میاں بیوی عمرے کے لئے جا رہی تھے۔
آبرو کے پیپرز تھے اس لئے وہ اپنے چچا کے گھر رک رہی تھی۔
“بھائی صاحب کر دی نا غیروں والی بات!!! اکیلی کہاں ہے آبرو بیٹی ہم سب ہیں نا اس کے ساتھ۔ آپ اسے کسی غیر کے پاس نہیں چھوڑ کر جا رہے جو یوں پریشان ہو رہے ہیں۔ بلکل مطمئن ہو کر جائیں آپ۔ آبرو اپنے گھر میں ہی ہے۔ کیوں آبرو بیٹی؟؟؟”
وہ مسکرا کر شکوہ کرتے آخر میں آبرو سے پوچھنے لگے تو آبرو مسکرا کر ہاں میں سر ہلا گئی۔
تھوری دیر بعد آبرو سے ملتے وہ ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔
“آبرو چلو کہیں باہر چلتے ہیں!!!”
روحان نے لاؤنج میں بیٹھی آبرو سے کہا وہ وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“سوری روحان مجھے اپنے پیپر کی تیاری کرنی ہے ایکسکیوز می پلیز!!!”
وہ کنی كترا کر نکل گئی تو روحان لب بھینچ کر رہ گیا۔ یہ لڑکی ہر بار روحان کو انکار کر کے اس کی انا کو ٹھيس پہنچا جاتی تھی۔
” میں اس کے چاچو کا بیٹا ہوں کوئی غیر تھوڑی جو اس کو کھا جاؤں گا!!!!”
ایسا روحان کا کہنا تھا لیکن آبرو نے روحان کی لاکھ کوشش کے باوجود بھی اسے کبھی لفٹ نہ کروائی۔
وہ ابھی سے ہی اپنے ماما پاپا کو مس کر رہی تھی۔ کمرے میں آ کر اس نے کتاب پکڑی اور صوفے پر بیٹھ گئی۔ پڑھتے پڑھتے کب آنکھ لگی اسے پتہ ہی نہ چلا۔
اس کی آنکھ ملازمہ کے جھنجھوڑنے پر کھلی۔
“غضب ہو گیا بیبی جی غضب ہو گیا!!! ارے آپ کا تو سب کچھ ختم ہو گیا جی!!!”
ملازمہ روتی ہوئی بین کر رہی تھی۔
آبرو اس کے یوں رونے پر گھبرا اٹھی۔
“کیا ہو گیا ہے اس طرح رو کیوں رہی ہو اور میرا کیا ختم ہو گیا؟؟؟”
وہ نا سمجھی سے پوچھتی اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
“ایئر پورٹ جاتے ہوئے راستے میں ایک ایکسیڈنٹ میں آپ کے والدین اور ڈرائیور کا انتقال ہو گیا ہے جی۔ میتوں کو گھر لیا جا رہا ہے۔ آپ یتیم ہو گئیں بیبی جی!!!!”
ملازمہ کی بات پر دھڑ دھڑ کر کے ساتوں آسمان ایک ساتھ اس کے سر پر ٹوٹ پڑے۔
“کیا بکواس کر رہی ہو۔ ہوش میں تو ہو؟؟؟”
وہ اس پر دھاڑی۔ صوفے سے اپنا دوپٹہ پکڑا اور کمرے سے باہر بھاگی۔ سیڑیھاں اترتے ہوئے اس کے پیر لرز رہے تھے۔ اتنے میں اسے ایمبولینس کا سائیرن سنائی دیا۔
دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ وہ لاؤنج میں آئی تو اس کے چچا بیٹھے رو رہے تھے۔ روحان کی آنکھیں بھی نم تھی۔
اسے دیکھ کر اس کے چچا اٹھے اور اسے گلے لگا کر رونے لگے۔
“صبر کرو میری بچی صبر کرو۔ وہ اللّه سے اتنی ہی عمر لکھوا کر آئے تھے۔”
چچا اسے ساتھ لگا کر دلاسے دے رہے تھے۔ اس کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ اتنی دیر میں ڈیڈ باڈیز کو لاؤنج میں لے آیا گیا۔
وہ لرزتے قدموں سے آگے بڑھی۔ کانپتے ہاتھوں سے ایک وجود کے اوپر سے چادر ہٹائی۔
اس کے باپ کا کچھ دیر پہلے والا تروتازہ اور هنستا مسکراتا چہرہ اس وقت خون میں لت پت اس کے سامنے تھا۔
اس کے دونوں ہاتھ بے ساختہ اپنے ہونٹوں پر گئے۔ آنکھوں میں بے یقینی لئے وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
ہمت کرتے اس نے دوسرے وجود کے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ ہر وقت مسکراتا اس کی ماں کا چہرہ خون سے سرخ تھا اور مسکراتی آنکھیں بند تھیں۔ لبوں پر قفل تھا۔
اب کہ وہ رک نہ سکی۔ اس کی چیخوں سے پورا گھر گونج اٹھا۔ یوں ہی چیختے روتے وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی چلی گئی۔
@@@@@@
ہفتہ گزر چکا تھا اس کے ماں باپ کو اس دنیا سے گئے پر وہ تھی کہ اس دنیا سے ہی غافل ہو گئی تھی۔
وہ ساکت آنکھیں لئے بیٹھی تھی۔ اس کے کانوں میں اب تک چچا کے الفاظ گونج رہے تھے۔
“مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔ جتنی جلدی اس حقیقت کو تسلیم کر لو اتنا ہی اچھا ہے۔ جمعے کو تمہارا نکاح ہے روحان کے ساتھ۔ اپنے ذہن کو تیار کر لو اچھے سے۔ انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔”
چچا کے دو ٹوک الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ ماں باپ کی وفات کے بعد جس طرح چچا سخت دل ہو کر اپنا رويه بدل چکا تھا اس نے سوچ لیا تھا وہ انکار نہیں کرے گی۔ چپ چاپ سر جھکا کر ساری زندگی گزار دے گی۔ اس قدر دل برداشتہ ہو چکی تھی وہ!!!!
وہ یوں کر بھی گزرتی اگر ایک بھیانک حقیقت اس کے سامنے نہ آتی۔
وہ چچا کو اقرار کا پیغام دینے ان کے کمرے میں گئی تھی جب اندر سے آتی آوازں نے اس کے قدم جما دیے۔
“اگر میں ہاشم کو نہ مرواتا تو اس کی جائیداد کیسے حاصل کرتا۔ہاشم کی ساری جائیداد کی اكلوتی وارث ہے آبرو !!!اب آبرو میری بہو بنے گی تو ساری جائیداد خود بخود میرے پاس آ جاۓ گی!!!”
یہ چند الفاظ اس کے پیروں تلے سے زمین نکال گئے تھے۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس کے متعلق روحان کے ارادے نیک نہ تھے اس لئے اس رات وہاں سے بھاگ آئی پر چوکیدار نے اسے بھاگتے ہوئے دیکھ لیا اور یوں سب سے بچتی بچاتی وہ کریم مینشن پہنچ گئی۔
@@@@@
“آپی پلیز آپ روئیں مت!!! ایسے آپ کے ماما پاپا کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔”
وہ جو اپنے اوپر بیتے ظلم کی داستان سنا کر رو رہی تھی طلال کی بات کر تڑپ کر اس کی طرف دیکھنے لگی .
“آپ پریشان مت ہوں برا کرنے والے کے ساتھ کبھی اچھا نہیں ہوتا۔”
ہر وقت شریر بنا فهام بھی اداس اور دکھی ہو گیا تھا۔
“بیشک مقافات عمل اٹل ہے۔ آپ پریشان مت ہوں!!!!”
طالم نے بھی فهام کی بات کی تاعید کی۔
تب سے خاموش بیٹھے عالم نے گلہ کھنکار کر بات کا آغاز کیا
“جو کچھ بھی آپ کے ساتھ ہوا بہت برا ہوا اور مجھ سمیت ہم سب کو اس کا بہت افسوس ہوا۔ ہم آپ کی مدد ضرور کریں گے۔ انویسٹیگیشن کروائیں گے اور اصل قاتل کو بھی پکڑوائیں گے۔ “
عالم کی بات پر آبرو نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے دائیں ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جماۓ اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
آبرو کو ان چاروں بھائیوں کی آنکھوں میں ایک چیز مشترک نظر آئی تھی۔
عزت!!!! ان سب کی آنکھوں میں اس کے لئے عزت تھی۔ حیا تھی۔
“اب آپ اپنے کسی جاننے والے کا نمبر پتا بتائیں تا کہ ہم آپ کو با حفاظت ان تک پہنچا سکیں۔”
عالم کی بات پر پھر سے اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنا شروع ہو گئے۔
“کیا ہوا آپی؟؟؟”
طلال نے پریشانی سے پوچھا تو وہ بے بسی سے اس کی جانب دیکھنے لگی۔
“دديال کا بتا چکی ہوں اور میرا ننیل یہاں نہیں ہوتا۔ سب امریکا رہتے ہیں۔مجھے کسی کا نمبر نہیں آتا۔”
وہ ہر طرح سے بے بس تھی۔
اس کی بات پر عالم کی پیشانی پر تفكر کے بادل چھائے جب کہ باقی تینوں نے نظروں کا تبادلہ کیا۔
“دیکھیں آبرو ہم آپ کی پریشانی سمجھ سکتے ہیں پر آپ بھی جان چکی ہیں کہ اس گھر میں صرف ہم چاروں بھائی رہتے ہیں۔ہمارے گھر کوئی خاتون نہیں موجود۔ بغیر کسی رشتے کے آپ کا یوں ہمارے درمیان رہنا مناسب نہیں۔”
بات تو عالم کی بھی سولہ آنے درست تھی۔
وہ جانتی تھی وہ سہی کہہ رہا تھا۔ اس کا دل کیا دھاڑیں مار مار کر روۓ۔ اس کا عارضی مگر قابل یقین ٹھکانا بھی چھننے والا تھا۔
فهام نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ لڑکی اسے پہلی نظر میں ہی جنت کی کوئی حور ہی لگی تھی۔ اس نے بہت کم لڑکیاں ایسی دیکھی تھیں خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بلا کی معصوم بھی نظر آتی تھیں۔ اس کی آواز بھی بہت پیاری تھی۔ بہت کومل سی!!!
اس نے طالم کی طرف دیکھا تو وہ بھی اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
“کیا تم بھی وہی سوچ رہے ہو جو میں سوچ رہا ہوں؟”
اس نے چمکتی آنکھوں سے طالم سے سوال کیا تو وہ زور و شور سے اثبات میں سر ہلا گیا۔
