52.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

“میرے شوز کہاں گئے ؟؟؟؟
طلال پریشان سا پورا کمرہ چھان رہا تھا۔
“اور میری ٹائی بھی نہیں مل رہی !!!!”
فهام ڈریسنگ ٹیبل کے سارے دراز کھول کر چیک کر رہا تھا۔
“تم لوگوں کو بولا بھی تھا کہ اپنی اپنی ہر چیز پوری کر کے ایک جگہ رکھو پر تم لوگ کبھی میری سنو تب ہی نا !!!!”
طالم الماری کے پاس جاتا بولا تو فهام اور طلال اسے گھور کر رہ گئے جو الماری میں منہ دیے کھڑا تھا۔
“کیا ہوا بھیا ؟؟؟”
جب وہ اگلے پانچ منٹ بھی پیچھے نہ ہٹا تو طلال نے اسے آواز دے کر پوچھا۔
“یار طلال میرے سٹڈز نہیں مل رہے تو نے دیکھے کیا ؟؟؟”
طالم کے سوال پر دونوں بھائیوں نے نظروں کا تبادلا کیا۔
“اپنی چیزیں پوری کر کے ایک جگہ رکھنی تھی نا!!! پر تم کبھی اپنی زبان کر قائم رہو تب ہی نا !!!”
فهام نے اس کی بات اسی کے منہ پر دے ماری تو طلال کے قہقہے پر وہ ان دونوں کو گھور کر رہ گیا۔
@@@@@
آبرو کو تیار کرنے بیوٹیشن آ چکی تھی۔ وہ بھی اپنے کمرے میں کھڑا تیار ہو رہا تھا جب دروازہ ناک ہوا۔
“يس !!!!”
اس کی اجازت ملتے ہی دروازہ کھلا اور وہ تینوں بھائی اندر داخل ہوئے۔
“آج دن دیهاڑے دروازہ ناک کرنے کی کیا ضرورت پڑ گئی ہمم ؟؟؟”
وہ مسکرا کر ان تینوں سے سوال کرنے لگا۔
“کیوں کہ اب ہمیں عادت ڈالنی ہے نا۔ بھابھی کی موجودگی میں تو یوں دھڑکے سے کمرے میں داخل نہیں ہو سکتے نا اب !!!”
طلال کی بات پر عالم نے غور سے ان تینوں کے چہرے دیکھے ۔
“یہاں آؤ !!!”
عالم کی بات پر وہ تینوں آگے بڑھے تو عالم ان تینوں کو اپنے سینے میں بھینچ گیا۔
“تم لوگ میرے بھائی نہیں بلکہ اولاد ہو میری۔ ماں اور باپ دونوں بن کر پالا ہے تم تینوں کو۔ تم تینوں کی اہمیت میری زندگی میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ یہ کبھی مت سوچنا کہ تم لوگوں کے لئے میرا پیار بٹ جاۓ گا۔ تم سب نے اہم اور پیارا کوئی بھی نہیں مجھے۔ جان بستی ہے تم تینوں میں میری۔ شادی بھی تم لوگوں کی خوشی کی خاطر کر رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں میں تم لوگوں سے جتنا مرضی پیار کر لوں پر ایک ماں یا بہن کی جگہ تو نہیں لے سکتا نا!!! کبھی بد گمان مت ہونا اپنے بھیا سے نہ ہی کبھی کوئی بات کرتے ہوئے جھجھکنا۔ یہ مت سمجھنا شادی کرنے کے بعد میری زندگی میں تم لوگوں کی اہمیت کم ہو جاۓ گی۔ ایسا مر کر بھی نہیں ہو سکتا۔ میری جان ہو تم تینوں۔ سمجھ رہے ہو نا ؟؟؟”
وہ محبت بھری نظروں سے اپنے چھوٹے بھائیوں کو سمجھا رہا تھا۔ طالم اور فهام نم آنکھوں سے مسکرا دیے جب کہ طلال باقاعدہ چھوٹے بچوں کی طرح رو دیا۔
“ارے چھوٹے بچے ہو کیا۔ اتنے بڑے ہو کر ہو رہے ہو یار کسی نے دیکھ لیا تو کیا عزت رہ جاۓ گی۔
عالم نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر کر اس کی آنکھیں صاف کرتے پیار بھری ڈانٹ پلا کر بولا تو طلال اس کے سینے سے لگ گیا۔
“آئی لو یو بھیا آپ دنیا کے بیسٹ بھیا ہیں !!!!”
عالم مسکراتے ہوئے اس کے بال بکھیر گیا۔
“پیچھے ہٹ جا لنگور بھیا کو تیار ہونے دے اب وقت کم رہ گیا ہے۔”
فهام طلال کو عالم سے کھینچ کر الگ کرتا اپنے ساتھ لگا گیا۔
“بھیا !!!!!”
اس کے پھر سے لنگور کہنے پر طلال چیخ اٹھا۔
کچھ دیر میں عالم ان کے سامنے تیار کھڑا تھا۔ سفید کڑکتے ہوئے شلوار قمیض پر کندھوں پر کالی چادر پهيلائے اور پیروں میں کالی پشاوری چپل پہنے وہ واقعی ان کا شہزادہ بھائی لگ رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی وہ تینوں ماشاءالله کہہ گئے۔
تب ہی عالم کا موبائل بج اٹھا تو وہ کال سننے لگا۔
“فهام جاؤ گیٹ پر میرے گیسٹ آئے ہیں انھیں ریسیو کرو جا کر اور عزت سے اندر لے کر آؤ!!!”
عالم کی حکم پر فهام “جی بھیا ” کہتا باہر کی طرف چل دیا۔
جیسے ہی اس نے گیٹ کھولا سامنے کھڑے وجود کو دیکھتے ہی اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔
“تم جھوٹی عورت !!!! یہاں میرے گھر پر کیا کر رہی ہو ؟؟؟”
اسے سامنے دیکھتے وہ چیخ ہی تو اٹھا تھا جو کالے پیروں تک جاتے فراک کے ساتھ زلفیں کھلی چھوڑے اپنی من موہنی صورت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی تھی۔
عنایا اس کے یوں چیخنے پر بوکھلا گئی کیوں کہ اسے اپنی ماں پر چیختے دیکھ کر حمین گلا پھاڑ کر رونا شروع ہو چکا تھا۔
اس دن والے پیارے سے بچے پر نظر پڑتے ہی فهام کا دل للچایا تو وہ بغیر کچھ سوچے سمجھے جھک کر اسے اپنی گود میں اٹھا گیا جس پر حمین اور بھی اونچی آواز میں رونے لگا۔
“میرا بیٹا دیں مجھے!!!!”
وہ اپنے ہاتھ فهام کی طرف بڑھا گئی پر وہ اسے اگنور کیے حمین کی طرف متوجه ہوا۔
“چپ کرو پیارے بےبی پھر میں آپ کو چاکلیٹ دوں گا !!!”
فهام اسے پچکارتے ہوئے بولا پر تب اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ بچا ایک دم رونا دھونا بھول کر ٹکر ٹکر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
“کتنا ندیده بچا ہے تمہارا۔ دیکھو کیسے چاکلیٹ کے نام پر ایک دم چپ ہو گیا۔ پر کچھ بھی کہو تمہارا بیٹا ہے بہت پیارا بلکہ کہیں سے بھی تمہارا بچا نہیں لگتا۔ سچ بتاؤ بچا چور تو نہیں کہیں تم ؟؟؟ ایسا تو نہیں کہ کسی کا بچا چوری کر کے تم اپنی پراپرٹی سمجھ کر بیٹھ گئی اسے۔”
وہ اسے مشکوک نظروں سے دیکھتا بولا تو عنایا چکرا اٹھی اس کے الزامات پر۔ کس قدر لمبی زبان تھی اس شخص کی۔
“آپ پلیز میرا بیٹا واپس کریں مجھے آپ کی کوئی فضول گوئی نہیں سننی۔”
وہ تڑخ کر کہتا اس کے ہاتھ سے حمین کو چھین گئی تو اس کی ہمّت پر فهام اسے دیکھ کر رہ گیا۔
“پیچھے ہٹیں مجھے عالم سر کے پاس اندر جانا ہے۔”
اس کی بات پر فهام چونک کر ایک طرف ہو گیا اور پر سوچ نظروں سے اس کی پشت دیکھنے لگا جو اب لاؤنج میں داخل ہو گئی تھی۔
“عالم بھیا اسے کیسے جانتے ہیں ؟؟؟”
یہ سوال اس کے ذھن میں گردش کرنے لگا جس کا جواب صرف عالم ہی دے سکتا تھا۔ وہ سر جھٹک کر خود بھی اندر کی طرف بڑھ گیا۔
“بھیا ابھی ایک لڑکی آئی تھی اندر۔ کون تھی وہ اور اب کہاں گئی ؟؟؟”
وہ خالی کمرہ دیکھتا عالم سے پوچھنے لگا۔
“میری سیکرٹری ہے عنایا۔ اس کو میں نے انوائٹ کیا تھا اور اب آبرو کے کمرے میں بھیج دیا اس کو۔ میں نے سوچا آبرو کو کمپنی مل جاۓ گی۔ اس وقت اسے ضرورت ہو گی کسی ہمراز کی۔”
عالم کی بات پر وہ سر ہلا کر رہ گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے نکاح کا وقت بھی آن پہنچا۔
نکاح میں نکاح میں ان چاروں بھائیوں اور آبرو کے علاوہ صرف عنایا اور عالم کے تین دوست تھے۔
نکاح خوان کے آتے ہی عالم نے فهام اور طالم کو آبرو کے کمرے کی طرف بھیجا تا کہ اسے باہر لے آئیں۔ نکاح کا انتظام گھر کے کشاده لان میں کیا گیا تھا۔
کچھ پل کے بعد وہ اسے طالم فهام اور عنایا کے ہمراہ وہاں آتی دکھائی دی تو وہ اس کے احترام میں بے ساختہ اٹھ کھڑا ہوا۔
لال جوڑے میں سجی سنوری وہ اپنے حسین مکھڑے کو اس وقت لمبے سے گھونگھٹ میں چھپائے ہوئے تھی۔وہ آ کر جالی کے دوسرے پار بیٹھی تو عالم بھی اپنی جگہ بیٹھ گیا اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ دو اجنبی لوگ نکاح جیسے پاک اور اٹوٹ رشتے میں بندھ چکے تھے۔
@@@@@
وه لرزتی کانپتی بے چینی سے اپنے دونوں ہاتھ مسل رہی تھی۔ کھانا کھانے اور پھر تصویریں بنانے کے بعد طلال اور عنایا اسے عالم کے کمرے میں چھوڑ کر جا چکے تھے۔
اس کی زندگی میں ایک دم اتنا بڑا بدلاؤ آیا تھا کہ وہ خود حیران تھی۔
اس کا دل بے تہاشا گھبرانے لگا تو وہ چہرے کے آگے پڑا گھونگھٹ الٹا گئی۔ٹھیک اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا تو وہ بوکھلاتی ہوئی گھونگھٹ واپس چہرے پر گرا گئی۔
عالم اندر داخل ہوا اور اپنے پیچھے کمرے کا دروازہ لاک کر گیا پھر دھیرے دھیرے بیڈ کی طرف قدم بڑھانے لگا۔
وہ اس کے قریب بیڈ پر آ کر بیٹھا تو آبرو بے ساختہ خود میں سمٹنے لگی۔
“السلام علیکم !!!!”
اس نے بھاری لہجے میں سلام کی تو وہ منہ میں ہی جواب دیتی محض سر ہلا گئی۔
“کیسی ہیں آپ؟؟؟
وہ حال پوچھنے کے ساتھ ہی اپنے ہاتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھاتا گھونگھٹ الٹ گیا۔
“ماشاءالله!!!”
اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی عالم کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ ادا ہوئے تھے۔
وہ دھیرے سے اس کے لرزتے کانپتے ہاتھوں کو اپنے مضبوط بھاری ہاتھوں کی گرفت میں قید کر گیا۔
اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں قید کیا وہ اس کے چہرے پر جھکتا اس کی صبیح پیشانی پر اپنے تپتے ہوئے لب رکھ گیا۔ آبرو لرز اٹھی۔
“نکاح بہت مبارک ہو مسز عالم!!!”
اس کی پیشانی پر عقیدت کے پھول کھلانے کے بعد وہ اس کے کان کے قریب جھکتا خوبصورت الفاظ میں خوب صورت اظہار سے نواز گیا۔
“آپ مجھے مبارک نہیں دیں گی ؟؟؟”
وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے سہلاتا اس کی جھکی پلکوں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تو وہ محض ایک پل کے لئے پلکوں کی باڑ اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔
“آ۔۔۔آپ کو بھی۔۔۔۔نکاح مبارک !!!”
دھیرے سے بولتی وہ پھر سے اپنا سر جھکا گئی۔
“میں جانتا ہوں آبرو یہ سب بہت جلدی ہوا اور آپ کے لئے یہ سب قبول کرنا اتنا آسان نہیں پر آپ ہر بات دل و دماغ سے نکال کر صرف اتنا یاد رکھیں کہ خدا نے آپ کے نام کے ساتھ میرا نام جوڑ کر مجھے آپ کے جسم و جان کا ساتھی بنایا ہے۔ میرے لئے آپ کی عزت آپ کی رائے سب سے مقدم ہے۔ آپ کو اپنے شوہر سے ڈرنے یا خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر آپ مجھ سے ہے ڈریں گی تو مجھے خود پر افسوس ہو گا۔ آپ کو اس رشتے کو سمجھنے اور آگے بڑھانے کے لئے جتنا وقت چاہئے آپ لے سکتی ہیں پر اس کے لئے آپ کو میرے قریب ہی رہنا ہو گا مجھ پر یقین کرنا ہو گا۔سمجھ رہی ہیں نا آپ ؟؟؟”
عالم کے الفاظ اس کا نرم لہجہ آبرو پر ایک سحر طاری کر گئے تھے جس کے زیر اثر وہ اثبات میں سر ہلا گئی تو عالم اپنے ہاتھوں میں دبے اس کے نازک ہاتھوں پر جھک کر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتا بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“چینج کر کے ایزی ہو جائیں تھک گئی ہوں گی آپ !!!”۔
وہ بیڈ کے قریب کھڑا ہوتا اپنا ہاتھ بڑھا گیا تو وہ اپنا نازک ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ میں دے کر بیڈ سے اتر آئی۔
عالم نے الماری کھولتے ایک جوڑا نکال کر اس کے ہاتھوں میں پکڑایا جسے تھام کر وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گئی۔
فریش ہونے کے بعد وہ واپس آئی تو کمرے میں اندھیرا چھایا تھا۔ صرف نائٹ بلب کی مدهم سی روشنی کمرے میں پهيلی ہوئی تھی۔
عالم چینج کر چکا تھا اور بیڈ پر دراز تھا۔دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے اس سمت دیکھا جہاں وہ گلابی رنگ کے نائٹ سوٹ میں کھڑی ایک چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پاس بلایا تو وہ جھجھکتی ہوئی بیڈ کی دوسری سائیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔
“لیٹ جائیں کافی وقت ہو چکا ہے۔ اب ہمیں سونا چاہئے۔”
عالم کی بات پر وہ زور و شور سے سر ہلاتی کنارے پر لیٹ گئی پر دل کی دھڑکن تو تب رکی جب وہ اسے بازو سے پکڑ کر کھینچتا اپنے سینے پر گرا گیا۔
“آپ کی جگہ یہاں ہے۔ اسی کو اپنا مسكن سمجھیں!!!”
وہ اس کا سر اپنے سینے پر رکھتا اس کی کمر کے گرد بازو پهيلائے اسے اپنے ساتھ لگاتا اس کے کان میں سرگوشی کر گیا تو وہ اس کی شرٹ کو دونوں ہاتھوں میں دبوچتی سختی سے آنکھیں میچ گئی۔
اس کی حالت پر وہ زیر لب مسکراتا خود بھی سکون سے آنکھیں موند گیا۔