No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوتی بیڈ پر آ بیٹھی جب دروازہ ناک ہوا۔
“ہم اندر آ سکتے ہیں ؟”
طلال کی آواز پر وہ چونک اٹھی۔
“آ جائیں !!!”
اس کی اجازت ملتے ہی تینوں بھائی ایک دوسرے کے آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں موجود ڈبوں کو اس نے حیرت بھری نظروں سے دیکھا۔
“یہاں بیڈ پر رکھ دیں؟؟”
فهام کے پوچھنے پر وہ سر ہلاتے تینوں ڈبے بیڈ پر رکھ گئے۔
آبرو نے ان تینوں کو ایک نظر دیکھا جو ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
“یہ سب ۔۔۔۔؟؟”
وہ ان چیزوں کے متعلق پوچھنے لگی۔
“ایکچولی میں۔۔۔مطلب ہم تینوں آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں!!!”
طالم کی بات پر آبرو نے سر ہلا کر انہیں بات جاری رکھنے کی اجازت دی۔
“آپ کی عمر کیا ہے؟؟”
سوال طلال کی جانب سے آیا تھا۔
“تئیس سال!!!”
وہ دھیمے لہجے میں بولتی نظریں جھکا گئی۔
“ارے واہ مطلب آپ ہم دونوں سے چھوٹی اور طلال سے بڑی ہیں!!!”
فهام پر جوش ہو کر بولا تو وہ صرف مسکرانے پر اكتفا کر گئی۔
“لیکن آپ رشتے میں ہم سے بڑی ہیں۔ ہم تینوں آپ کو بھابھی نہیں بلکہ آپی کہیں گے۔ جانتی ہیں کیوں ؟؟؟”
فهام کے سوال پر وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“ہماری کوئی بہن نہیں ہے۔ ہمیں بچپن سے بہت شوق تھا بہن کا پر اس طلال نے سارا کام خراب کر دیا۔ ہائے کاش یہ پیدا نہ ہوتا اس لنگور کی جگہ اللّه ہمیں کوئی پیاری سی بہن دے دیتا!!!”
طالم اہ بھر کر رہ گیا۔
“بھیا!!!!! میں عالم بھیا کو بتاؤں گا آپ نے مجھے لنگور بولا۔”
طلال کے چیخنے پر وہ بوکھلا گئی۔
“لنگور نہیں تو کیا حور بولوں تجھے۔ ویسے شکل تو تیری واقعی لڑکیوں سے ملتی ہے پر افسوس تیری چوزے جیسی شکل پر صرف لنگور ہی فٹ آتا ہے۔”
طالم کی بات پر طلال صدمے سے شیشے میں نظر آتا اپنا عکس دیکھنے لگا۔
اس کے چہرے پر ابھی ٹھیک طرح داڑھی مونچھیں نہیں آئی تھیں اس لئے وہ دونوں بھائی اسے لڑکی کہہ کر چھیڑتے تھے۔
ان کی باتوں نے آبرو کو مسکرانے پر مجبور کر دیا۔
“ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔۔”
اس سے پہلے طالم بات مکمل کرتا فهام اس کی بات کاٹ گیا۔
“تو رہنے دے میں بتاتا ہوں۔ بات کچھ یوں ہے کہ ہمیں بہت شوق تھا ہماری بھی کوئی پیاری سی بہن ہوتی ۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اس کی شاپنگ کرتے اس کے چھوٹے چھوٹے کام کرتے اور ڈھیر ساڑی باتیں کرتے۔ ماما کے بعد آپ ہمارے گھر میں آنے والی پہلی لڑکی ہیں ۔ بڑی بھابھی ماں جیسی ہوتی ہے لیکن ہمیں آپ کے لئے یہ لفظ سہی نہیں لگ رہا کیوں کہ آپ کو بھابھی نہیں اپنی بہن سمجھنا چاہتے ہیں۔ بھابھیاں سب اچھی نہیں ہوتیں لیکن بہنیں سب بہت اچھی ہوتی ہیں۔ بھائیوں پر جان وارتی ہیں۔ اس لئے ہم آپ کو بہن بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم آپ کو آپی کہہ سکتے ہیں ؟؟؟”
فهام کی باتوں پر وہ آبدیدہ ہو گئی۔
“ہاں ضرور کیوں نہیں !!! میرے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کی اور کیا بات ہو گی۔”
وہ مسکرا کر بولی تو طلال چھلانگ لگا کر بیڈ پر چڑھ گیا۔
“آپی یہاں آئیں کچھ دکھانا ہے آپ کو۔”
طلال کے کہنے پر آبرو بیڈ پر بیٹھی تو طلال ایک ایک کر کے تینوں ڈبے کھولنے لگا۔
ڈبوں سے نظر آتی چیزیں دیکھ کر وہ ساکت رہ گئی۔
سب سے پہلے ڈبے میں سرخ اور سنہری رنگ کے امتزاج کا ایک بہت خوب صورت جوڑا تھا۔
دوسرے ڈبے میں سرخ آنچل اور سنہری جوتا جب کہ تیسرے ڈبے میں مہندی،کانچ کی چوڑیاں اور ایک مخملی سرخ ڈبہ تھا۔
فهام نے ہاتھ بڑھا کر وه ڈبہ پکڑ کر کھولا تو اندر ایک بھاری سیٹ تھا۔
“یہ ہماری ماما کا زیور ہے۔ ہمیں ان کی ہر چیز سے بہت محبت ہے۔ آپ اپنے نکاح پر اگر یہ سب پہنیں گی تو ہمیں بہت خوشی ہو گی۔ ہم بہت محبت سے یہ سب لے کر آئے ہیں۔”
طالم کی بات کر وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔
“میں یہ سب ضرور پہنوں گی۔”
وہ مسکراتی ہوئی بولی تو تینوں بھائیوں کے چہرے کھل اٹھے۔
“ہم چلتے ہیں اب۔ آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی تو اسی وقت کہہ دیجئے گا ٹھیک ہے نا!!!”۔
فھام کی بات پر وہ سر ہلا گئی تو وہ تینوں کمرے سے نکل گئے۔
@@@@@
وہ پھولوں والی شاپ پر کھڑا پھول پیک کروا رہا تھا جب اس کی نظر اچانک اپنے پہلو میں پڑی۔
“ارے آپ یہاں !! کیسی ہیں آپ ؟”
عنایا جو اپنے پھول پیک ہونے کا انتظار کر رہی تھی جانی پہچانی آواز پر گردن موڑ کے دیکھنے لگی جہاں اس دن والا لڑکا کھڑا تھا .
“سوری آپ کون ؟ میں نے پہچانا نہیں!!!”
اس کی بات پر فهام ہونق بن کر اسے دیکھنے لگا۔
“ارے میں اس دن آپ کو اور آپ کے بیٹے کو ہوسپٹل لے کر گیا تھا بھول گئیں آپ ؟؟”
اس کی بات پر وہ الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے کوئی۔ ایکسکیوز می !!!!”
دو ٹوک الفاظ میں کہتی وہ اپنا پارسل پکڑ کر وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
“یہ کیا تھا!!! فهام دی گریٹ کو اتنی سی لڑکی چونا لگا کر چلی گئی۔”
فهام کی حیرت اور بے یقینی تھی کہ ختم ہی نہ ہو رہی تھی۔
“چل بیٹا نکل لے یہاں سے۔ کوئی عزت ہی نہیں ہے تیری !!!”
وہ خود سے کہتا اپنا پارسل پکڑنے لگا۔
“ویسے اس معصوم چڑیل نے ایسا کیوں کیا ؟؟؟”
اس کے ذہن میں یہ سوال اٹک کر رہ گیا تھا۔
اس نے گردن موڑ کر سڑک کی جانب دیکھا جہاں وہ رکشے میں بیٹھ کر اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی چلی گئی۔
@@@@@
وہ اس مخصوص پتھر پر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ تیزی سے پیپر پر چل رہے تھے۔ایک ہاتھ میں پین پکڑے تیزی سے پیپر پر گھسیٹتی دوسرے ہاتھ سے اپنے چہرے پر آئی آوارہ لٹ کو کان کے پیچھے اڑستی وہ پوری طرح اپنے کام میں مگن تھی جب وہ اسے دیکھتا اس کے سامنے والے پتھر پر بیٹھ گیا۔
“کتنا ہوا ؟؟؟”
وہ ایک دم بولا تو اپنے کام میں پوری طرح مگن نہال چیخ اٹھی۔
“آہ!!!!!”
اس کے چیخنے پر اس کے ہاتھ سے پین چھوٹ کر نیچے زمین پر جا گرا۔
اسے اپنے سامنے دیکھ کر وہ اپنے دھک دھک کرتے دل پر ہاتھ رکھتی خود کو نارمل کرنے لگی۔
نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا رتھا۔
“تم چیخی کیوں ؟؟”
وہ واقعی حیران تھا اس کے بلا وجہ چیخنے پر۔
“آپ نے ڈرا دیا مجھے!!!”
وہ خفگی سے بولی تو وہ مزید حیران ہوا۔
“کیوں میری شکل گوریلے سے ملتی ہے کیا؟؟؟ یا میرے پیر الٹے ہیں؟؟؟ یا میرے جسم کے اوپر جن کی شکل لگی ہے جو تم مجھ سے ڈر گئی !!!”
وہ طنزیہ بولا تو وہ خوامخواہ شرمندہ ہو کر رہ گئی۔
“نہیں وہ آپ نے ایک دم آواز دی تو میں ڈر گئی۔”
وہ بے چاری صفائی دینے لگی۔
“تو تمھارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میری آواز اس قدر خوفناک ہے کہ تمہاری چیخ نکل گئی؟؟؟”
اس کی بات پر وہ بوکھلا گئی۔
اتنی سی بات کو وہ کہاں سے کہاں لے گیا تھا۔
“میرے کہنے کا یہ مطلب بلکل نہیں تھا۔ آپ غلط سمجھ رہے ہیں !!!”
وہ بے چارگی سے بولی تو طالم کو اس پر ترس آ گیا۔
“اچھا دکھاؤ کتنا لکھا گیا۔”
اس کے کہنے پر وہ اپنی جان خلاسی ہونے پر شکر کرتی ہاتھ میں پکڑے پیپرز اس کے آگے کر گئی۔
“ارے واہ تمہاری رائٹنگ تو بہت خوب صورت ہے!!!”
اس کے یوں تعریف کرنے پر نہال کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“کیا سچ میں آپ کو پسند آئی؟؟”
وہ اشتیاق سے پوچھنے لگی۔
وہ پر جوش ہوتی سوال کرنے لگی تو طالم نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔
“ہاں سچ میں!!!
اس کی بے تابی پر وہ مسکرا دیا۔
“مجھے بہت شوق ہے پڑھنے لکھنے کا !!!”
اس کی لہجے سے بھی صاف پتا چل رہا تھا۔
“پر پڑھتی کیوں نہیں آگے۔ تمہیں آگے داخلہ لینا چاہئے!!!”
اس کی بات پر نہال کی آنکھیں بجھ گئیں۔
“جس کے گھر میں کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی نہ ہو وہ لکھائی پڑھائی کے اخراجات کیسے پورے کرے!!!”
لہجے میں تلخی کے ساتھ بے بسی میں شامل ہو گئی تھی۔
“تم پڑھنا چاہتی ہو نا سچ میں؟؟؟”
وہ پھر سے یقین دہانی کرنے لگا۔
“جی میں سچ میں پڑھنا چاہتی پر میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔جب حالات ساتھ نہ دیں تو دل کو مارنا پڑتا ہے!!!”
اس کے لہجے میں محسوس کی جانے والی بے بسی تھی۔
“اور اگر حالات ساتھ دینے لگیں تو ؟؟؟”
اس کی سوال پر وہ چونک اٹھی۔
“اگر ایسا ہو جاۓ تو کون کافر پیچھے ہٹے گا!!!”
حالاںکہ وہ جانتی تھی ایسا ممکن نہیں کسی طور پر بھی۔
“کس سبجیکٹ میں انٹرسٹ ہے تمہیں ؟؟؟”
وہ پیپر اس کے ہاتھوں میں واپس پکڑاتا پوچھنے لگا۔
“انگلش !!!!”
یہ اس کا پسندیدہ سبجیکٹ تھا۔
“اوکے میں کل تو نہیں آ سکوں گا۔ پرسوں آتے ہوئے انگلش کی بکس لے آؤں گا بی ایس کی۔ جب داخلے کھلیں گے تو تمہارا داخلہ بھی کروا دوں گا۔ ابھی چلتا ہوں کیوں کہ میرے بھیا کی شادی ہے تو گھر پر کام ہیں بہت۔ یہ بیگ رکھ لو تمہارے لئے لایا ہوں۔ اللّه حافظ!!!”
وہ اسے کہتا خود تو وہاں سے چلا گیا پر اسے حیرت میں ڈال گیا۔
“کیا میں سچ میں پڑھ سکوں گی ؟؟؟”
وہ خود سے سوال کرتی بے یقین سی تھی۔
