No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
اسے نیند میں ہی کسی کی گہری نظروں کا ارتكاز اپنے چہرے پر محسوس ہوا تو وہ كسمسا کر دھیرے سے آنکھیں کھول گئی۔ اس کی آنکھیں سیدھا اس کی گہری آنکھوں سے جا ٹکرائی جو اس اس پر جھکا اسے تکنے میں مصروف تھا۔
اس کی نظروں کی لپك محسوس کر کے آبرو جھجھک سی گئی۔
ایک ہی رات میں وہ انسان اس کے وجود کی ساتھ ساتھ اس کی ہر آتی جاتی سانس پر بھی دسترس پا گیا تھا۔
“پپ۔۔۔۔پیچھے ہٹیں پلیز!!!”۔
وہ اس کے سینے پر اپنا لرزتا ہوا ہاتھ جما کر اسے پیچھے کرنے کی کوشش کرتی ہوئی بولی تو عالم اس کا لرزتا ہوا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام گیا۔
“اور اگر پیچھے نہ ہٹوں تو؟؟؟”۔
اس کے شرارت سے پوچھنے پر آبرو نے حیرت سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ عالم جیسے سنجیدہ انسان سے وہ کسی قسم کی شرارت کی توقع نہیں کر سکتی تھی۔
“سحری کا وقت ہو گیا ہے!!!”
وہ اس کی توجہ سامنے لگی گھڑی کی طرف کروا گئی۔
“تو ؟؟؟ آپ کو اپنے نئے نویلے شوہر کے لئے سحری بنانی ہے کیا؟؟؟”
عالم کے سوال پر وہ تیزی سے اثبات میں سر ہلا گئی۔
“پر میں تو ایسا ظلم نہیں کر سکتا کہ میری نئی نویلی دلہن جس کے ہاتھوں کی مہندی بھی ابھی تازہ ہے اس سے کھانا بنواؤں !!!”۔
عالم بھاری آواز میں کہتا اس کے حنائی ہاتھ کو تھام کی اپنی ناک کے قریب لے جاتا گہری سانس بھرنے لگا۔ وہ مہندی کی مہک کو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا۔
“عالم پلیز !!!”۔
وہ سانس لینے میں محال ہوتی بے ساختہ اسے نام سے پکار گئی۔
عالم اس کی پیشانی پر بکھرے بال ہٹا کر اس کی پیشانی پر جھکتا وہاں اپنے لب رکھ گیا۔ اس کے پاک لمس سے سکوں محسوس کرتی آبرو آنکھیں موند گئی۔
“ایک بات ہمیشہ یاد رکھئے گا آبرو!!! “
وہ آبرو کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھ گیا۔
“آپ کو اپنی عزت بنایا ہے میں نے پورے دل و جان سے اپنا بنایا ہے اور آپ سے بھی یہی امید کرتا ہوں۔آپ سمجھ رہی ہیں نا ؟؟؟”
اس کے سوال پر وہ بے ساختہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
“چلیں اٹھ کر فریش ہو جائیں پھر باہر چلتے ہیں وہ نکمے سحری بنا چکے ہوں گے۔”
وہ اسے کہتا اٹھا تو وہ بھی دوپٹہ گلے میں ڈالتی باتھروم کی طرف بڑھ گئی۔
@@@@@
“زہے نصیب!! زہے نصیب!!!”
ان دونوں کو ساتھ آتے دیکھ کر فهام چہک اٹھا۔
اس کی بات پر آبرو جھینپ اٹھی تو عالم گھور کر رہ گیا جس کا آج فهام نے کوئی خاص اثر نہیں لیا تھا۔
“ویلکم آپی!!!!”
اسے دیکھ کر وہ تینوں اکٹھے بولے تو آبرو مسکرا کر سر ہلا گئی۔
عالم نے پہلے آبرو کے لئے چیئر نکالی پھر اس کے بیٹھنے کے بعد خود بیٹھا۔
“آج بڑی اشتہا انگیز خوشبو پهيلی ہوئی ہے!!!”
عالم نے بیٹھتے ہی ڈائیننگ ٹیبل پر نظر دوڑا کر کہا۔
“آج آبرو آپی کی ایز مسز عالم پہلی سحری ہے اس لئے ہم نے خاص اہتمام کرنے کی کوشش کی ہے!!!”۔
طلال نے پرجوش ہو کر بتایا تو آبرو ان کی محبتوں پر مسکرا کر رہ گئی۔
عالم نے آبرو کی پلیٹ میں چکن چنے ڈالے تو وہ پوڑی کے ساتھ کھانے لگی۔
“تو پھر بتائیے آپی!!! کیسے لگے آپ کو ؟؟؟”
فهام نے پوچھا تو چونک کر اپنے سامنے پڑے سالن کو دیکھنے لگی۔
“بہت اچھے بنے ہیں بہت یمی!!!”۔
وہ مسکرا کر بولی۔ اسے واقعی بہت مزہ آ رہا تھا کھانے کا۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ لڑکوں نے یہ سب بنایا ہے۔
“ارے آپی میں کھانے کے متعلق نہیں بلکہ عالم بھیا کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ آپ کو عالم بھیا کیسے لگے؟؟؟”۔
فهام کے سوال پر پانی پیتی آبرو کو زور کا پهندا لگا تو وہ بری طرح کھانسنے لگی۔
عالم نے جلدی سے پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگایا اور ساتھ ہی ساتھ فهام کو بھی بھر پور گھوری سے نوازا۔
وہ نارمل ہوئی تو کنفیوز ہو کر سب کو دیکھنے لگی۔
“اچھے ہیں!!!”۔
دھیمی سی آواز میں بول کر وہ اپنی پلیٹ پر جھک گئی۔
“ہیں!!! اتنا بڑا ظلم!!!! کھانا بہت اچھا تھا اور بھیا صرف اچھے ہیں !!!! اتنا كهلم کھلا تضاد کیوں بھئی ؟؟؟”۔
طالم نے بھر پور ڈرامائی انداز میں پوچھا تو وہ بے بسی سے عالم کی طرف دیکھنے لگی۔
“چپ چاپ سحری کرو۔ خبر دار اگر اب مجھے کسی کی بھی آواز آئی تو!!!”
عالم کی سنجیدہ تنبیہ پر وہ سب منہ بسور کر اپنی اپنی پلیٹ پر جھک گئے۔
@@@@@
وہ اپنے مخصوص پتھر پر بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی جب وہ اس کے سامنے آ بیٹھا۔ وہ ذرا بھی حیران نہیں ہوئی۔ اب تو وہ اسے اس کی آہٹ سے ہی پہچان جایا کرتی تھی۔
“کیسی ہو ؟”
اس کے سوال پر پر نہال نے ذرا سا سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
“بہت اچھی ہوں !!!”
وہ مسکرا کر سے جھکاتی پھر سے نوٹس پر ہاتھ چلانے لگی۔
اس کے کونفیڈینس بھرے جواب پر وہ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
“یہ لو !!!”
اس کی آواز پر نہال نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تو وہ ایک بیگ اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔
نہال نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔
“پکڑ لو۔ یقین کرو اس میں خود کش بمب موجود نہیں جو تمہیں راکھ کر دے گا۔”
اس کی بات پر نہال خفت زدہ ہوتی اس کے ہاتھ سے بیگ تھام گئی۔
“اب کھول کے بھی دیکھو یار صرف پکڑ کر گھورنے کو نہیں بولا میں نے۔”
طالم نے اسے یوں ہی بیگ پکڑے دیکھ کر بولا تو وہ نا سمجھی سے اسے دیکھ کر سر ہلاتی بیگ کھولنے لگی۔
بیگ کے اندر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ بیگ میں موجود ایک ایک کتاب کو ہاتھوں سے چھو کر دیکھنے لگی۔
“یہ کس کی ہیں؟؟”
وہ آنکھوں میں اشتیاق لئے پوچھنے لگی۔
“یہ تمہاری ہیں !!!”
وہ اس کے چمکتے ہوئے چہرے پر نظر ڈال کر بولا تو وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی جس پر وہ محض سر ہلا گیا۔
“آپ۔۔۔آپ بہت بہت اچھے ہیں ۔۔۔بہت زیادہ اچھے!!!”
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ سامنے بیٹھے انسان کا شکریہ کس طرح ادا کرے۔ اسے کتابوں سے عشق تھا اور اس کا عشق اس کی دسترس سے ہمیشہ دور رہا تھا کیوں کہ اس کے پاس کتابیں خریدنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے تھے۔
“آپ کو پتا ہے میں ہمیشہ سے ۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کر پاتی کوئی تیزی سے اس کی بات کاٹ گیا ۔
“نہال آپی جلدی چلو آپ کی امی کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔”
وہ دس بارہ سال کا کوئی بچا تھا۔ اس کی بات پر نہال گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور سب چیزیں سمیٹنے لگی۔
“چلو میں ساتھ چلتا ہوں میرے ساتھ آ جاؤ ہم جلدی پہنچ جائیں گے۔”
طالم نے بائیک پر بیٹھتے اسے اپنے پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ پریشانی میں سر ہلاتی اس سے فاصلے پر بیٹھ گئی۔
وہ لوگ نہال کے گھر پہنچے تو کافی لوگ اس کے گھر کے دروازے کے آگے جمع تھے۔ نہال کا دل گھبرانے لگا۔ وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھی جب کہ اسے یوں ایک جوان لڑکے کے ساتھ آتا دیکھ کر لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونا شروع ہو گئی تھیں۔
“امی !!!! امی !!!!”
وہ آوازیں لگاتی اندر کی طرف بڑھی پر سامنے نظر آتا منظر اس کو ساکت کر گیا۔ چھوٹے سے صحن کے درمیان میں اس کی ماں کی چارپائی پڑی تھی جس پر اس کی ماں کا بے جان وجود پڑا تھا۔ کچھ خواتین ارد گرد بیٹھی تھیں۔
“ارے کہاں تھی بے حیا لڑکی؟؟”
“شکل سے کیسی معصوم دکھتی تھی اور اب کیسے جوان جہان لڑکے کے ساتھ فرار تھی!!!”
“ماں بستر پر پڑی تھی اور بیٹی عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی!!!”
“ان حرکتوں کی وجہ سے ہی اس کی ماں صدمہ لے کر مر گئی۔”
“ارے ماں کو مار دیا اس نے اپنی آوارہ عادت کی وجہ سے !!”
الفاظ تھے یا خنجر جو نہال کے کانوں کے ساتھ اس کا سینہ چھلنی کر رہے تھے۔
پر اس کے لئے سب سے زیادہ صدمے والی بات یہ تھی کہ اس کی ماں اسے اس ظالم دنیا میں اکیلے چھوڑ کر جا چکی تھی۔
“امی !!!!”
وہ چیخ کر اپنی ماں کو پکارتی ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی چلی گئی۔
@@@@@
وہ آج عالم کے آفس آیا ہوا تھا۔ آتے ہی اس نے آفس ورکرز کو گھما کر رکھ دیا تھا۔ اسے جس انسان کی تلاش تھی وہ اب تک آیا نہیں تھا اس لئے باقی سب کی شامت آئی ہوئی تھی۔
ابھی بھی وہ مینیجر کا دماغ کھپا رہا تھا جب طالم کی کال آ گئی۔
“ہاں بول کس کو کال کی ؟؟”
وہ فون اٹھا کر کان سے لگا گیا۔
“عینک والے جن کو !!! کیا نام تھا اس کا ۔۔۔۔ہاں یاد آ گیا ۔ زگوٹا جن!!!”
طالم کی فضول بکواس پر فهام نے کھا جانے والی نظروں سے موبائل کو دیکھا۔
“جلدی بکواس کر کیا کام پڑ گیا تجھے جس کے لئے تو نے بادشا سلامت کو یاد کیا ہے !!!”
فهام رعب دار انداز میں کہتا ٹانگ پر ٹانگ چڑھا گیا۔
“بادشا سلامت کہنا یہ تھا کہ آتے ہوئے ٹماٹر اور ہرا دھنیہ لیتے ہوئے آئیے گا اور اگر آپ کی شان میں گستاخی نہ ہو تو میری بات کان کھول کر سن لیں آج باتھ روم صاف کرنے کی آپ کی بری ہے اس لئے وقت پر گھر تشریف لے آئیے گا۔”
طالم نے نہایت سکون سے فهام کو بے سکون کیا تھا۔
“منہ دھو رکھو۔ میں نہیں کروں گا باتھ روم صاف اب طلال کی باری ہے۔ تم لوگ ہر دفعہ بے ایمانی کر جاتے ہو میرے ساتھ۔ “
وہ تڑپ ہی تو اٹھا تھا بے چارہ جب کہ مینیجر منہ کھولے اپنے باس کی باتیں سن رہا تھا۔
“آپ یہاں سے تشریف لے جائیں میرا حسین مکھڑا کیا دیکھ رہے ہیں !!!”
فهام کی طنزیہ بات پر وہ ہڑبڑا کر آفس سے نکلا جب کہ فهام اپنے دماغ میں ان چیزوں کی لسٹ بنانے لگا جو اسے گھر واپسی پر لے کر جانی تھیں۔
