No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
اس کی آنکھ مسلسل باتوں کی آواز سے کھلی تھی۔ وہ ایک دم اٹھی تو كراه بیٹھی۔ جسم پر لگی چوٹوں سے ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ نظر سامنے دیوار پر ٹنگی گھڑی پر پڑی تو وہ چونک اٹھی۔ سحری کا وقت بس ختم ہونے والا تھا۔ وہ جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری تو نظر اپنے حلیے پر گئی۔
اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ وہ جو سوچ رہی تھی کہ جس گھر میں پناہ لے چکی ہے یہاں سے آج کی سحری کا انتظام کر لے گی پر اپنی حالت دیکھتے اس سے پہلے کہ اپنا ارادہ موقف کرتی اس کی نظر سامنے صوفے پر پڑی مردانہ چادر پر پڑی۔ صوفے کے پاس نیچے زمیں پر مردانہ جوتے کا ایک جوڑا بھی پڑا تھا۔
اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
اس نے سب سے پہلے کمرے سے ملحقہ باتھ روم کا رخ کیا۔ فرش ہونے کے بال بال چوٹی میں باندھے۔
اس نے دھیرے دھیرے آگے بڑھتے وہ چادر پکڑ کر اچھے سے اپنے کندھوں کے گرد اوڑھی تو اس کا پورا وجود ہی اس چادر میں چھپ سا گیا۔
جوتے میں پیر اڑسے تو پیر آگے ہی نکلتے چلے گئے۔ اس کے پاؤں کے لئے وہ جوتا بہت بڑا تھا پر فلحال کام دے سکتا تھا۔
چادر کو مضبوطی سے پکڑتی وہ دروازہ کھول کر اللّه کا نام لیتی کمرے سے باہر نکل آئی۔
ایک طرف سے مردانہ آوازیں آ رہی تھیں۔ آوازوں کا تعقب کرتی وہ ایک بڑے کمرے کی طرف آ گئی جہاں چار مرد بیٹھے سحری کر رہے تھے۔
وہ چاروں ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوئے سحری کر رہے تھے جب فہام ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھا .
“بھیا!”
اس کی پکار پر کوئی بھی متوجه نہ ہوا۔
“بھیا!!!!!!! سن لیں یار اور تم بھی سنو چھوٹو!!!!”
وه اب کے زور دے کر بڑے دونوں سے بولا ساتھ ہی طلال کو بھی آواز دے ڈالی۔
“فهام کبھی تو چپ کر کے سحری کر لیا کرو۔ ہر وقت فضول بولتے رہتے ہو تم بس!!!!”
عالم کی سنجیدہ آواز پر طالم اور طلال نے دانت نکوسے۔
“اچھا نا بھیا بس ایک بات!!!”
اب کے منت بھرے لہجے میں بولا۔
“اچھا بولو ہم سن رہے ہیں۔”
میٹھی لسی کا گلاس اٹھاتے ہوئے طالم نے اسے اجازت نامہ سونپا۔
“کیا کبھی آپ میں سے کسی نے اس دھرتی پر حور دیکھی ہے؟؟؟”
اس نے نہایت سنجیدگی سے اپنا سوال پیش کیا۔
اس کے سوال پر عالم اور طلال نے اسے ایسے دیکھا جیسے کوئی عجوبہ دیکھ لیا ہو جب کہ طالم نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں میں نے دیکھی ہے بہت دفعہ۔ لنگور کی بغل میں حور!!!”
طالم نے جس قدر پر جوش ہو کر جواب دیا تھا اس قدر زبردست گھوری سے تینوں بھائیوں نے اسے نوازا۔
“کیا ہو گیا بھئی!!!! حور کی بغل میں لنگور ہو یا لنگور کی بغل میں حور ایک ہی بات ہی۔ ذرا سی ادلا بدلی ہی تو کی ہے بس۔”
وہ اپنی بات کی صفائی پیش کرتا مسلسل عالم کی کرسی کے پیچھے دیکھ رہا تھا جہاں وہ کنفیوز کھڑی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں الجھا رہی تھی۔
“پر میں نے اس دھرتی پر بلکہ اپنے ہوم سویٹ ہوم میں ہی دیکھی ہے ایک حور!!!!”
اس کے تسلسل سے ایک ہی طرف دیکھنے پر تینوں بھائیوں کی گردنیں بھی میكانكی انداز میں اسی طرف گھومی تھیں جہاں وہ رات والی اجنبی لڑکی کھڑی تھی اور پھر عالم کے علاوہ باقی سب کی گردنیں وہیں جم کر رہ گئیں تھیں۔
“سحری کرو وقت کم ہے اور آپ بھی آئیں سحری کریں ہمارے ساتھ۔”
تینوں بھائیوں کو تنبیہ کرنے کے بعد وہ سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھ کر بولا تو وہ ہلکا ہلکا لنگڑا کر چلتی طلال کے ساتھ ایک کرسی چھوڑ کر بیٹھ گئی تو طلال اسے سرو کرنے لگا۔
اپنی سحری سے فارغ ہونے کے بعد عالم وہاں سے اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ ایک منٹ میں ہی وہ واپس آیا اور اس لڑکی کی کرسی سے تھوڑے فاصلے پر کھڑا ہو گیا۔
“سنیں آپ۔۔۔۔۔”
وہ اسے کس نام سے پکارتا؟
“آبرو!!!”
اپنا نام بتا کر وہ اپنی نظریں پھر سے جھکا گئی۔
“آپ زخمی میں کافی۔ میں یہی کہوں گا کہ آپ روزہ مت رکھیں۔ ہمارا دین اتنا سخت نہیں۔ اگر پھر بھی رکھنا چاہیں تو یہ پین کلر لے لیں ابھی۔ باقی بات نماز کے بعد ہو گی۔”
وه اسے دوائی پکڑا کر وہاں سے چلا گیا تو آبرو نے سر ہلا کر دوائی لے لی۔سحری کے بعد چاروں بھائی برتن اٹھانے لگے تو آبرو بھی جھجھکتی ہوئی اٹھی اور برتن اٹھانے لگی۔
“آبرو آپی آپ بیٹھی رہیں پلیز ہم کر رہے ہیں۔”
طلال نے اس کے ہاتھ سے برتن لے کر اسے واپس بیٹھا دیا۔
برتن سمیٹنے کے بعد سب اسے بتاتے نماز کے لئے چلے گئے تو وه بھی گیسٹ روم میں آ گئی۔ وضو کرنے کے بعد اسے با آسانی الماری سے جاۓ نماز مل گیا تھا۔
نماز ادا کر کے دعا کے لئے ہاتھ اٹھاۓ تو آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔
“یااللّه تو بے نیاز ہے۔ تیرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔یااللّه تو بے پرواہ ہے۔ میں تیرے سے کوئی گلا نہیں کر سکتی۔ میں کر ہی نہیں سکتی نہ ہی مجھے حق ہے۔ پر میرے مولا میں کہاں جاؤں۔ میرا تیرے سوا کون ہے اب۔ میرے محافظ ہی میرے لوٹیرے نکل آئے ہیں۔ میں کیا کروں کہاں جاؤں کس پر بھروسہ کروں۔ میرے مالک میری عزت کی حفاظت فرما اور مجھے درست راستہ دکھا آمین!!!”
دعا مانگ کر وہ اٹھی بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔
یوں ہی لیٹے لیٹے کب آنکھ لگی اسے علم ہی نہ ہو سکا۔
@@@@@
وه مری کے زرخیز پہاڑوں میں بنے ڈھلوانی راستوں پر اپنی سوزوکی بائیک چلا رہا تھا ۔اس کی بائیک کی دھیمی رفتار کو تب بریک لگی جب اسے سامنے ایک بڑے سے پتھر پر سفید چادر میں چھپی ایک لڑکی نظر آئی۔وه تعجب زدہ ہوتا بے اختیار بائیک روک گیا۔ بائیک رکنے کی آواز پر پتھر پر بیٹھی سفید چادر میں چھپی اس لڑکی نے گردن موڑے چہرہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تو اس کی نم سیاہ آنکھیں دیکھ کر اسے مزید حیرت ہوئی۔ نہ جانے کس جذبے کے تحت وه بائیک ایک طرف کھڑی کرتا اس کے قریب رکھے پتھر پر بیٹھ گیا۔
اس کے یوں قریب بیٹھنے پر وه چہرہ اس کی طرف موڑ گئی۔ نقاب سے بے پرواہ چہرہ دل موہ لینے کی حد تک خوب صورت نہ تھا پر نہ جانے اس عام سے چہرے میں ایسی کون سی کشش تھی جو اس شہزادے کو اپنے ساتھ باندھ گئی تھی۔
“اتنی شام میں یہاں کیا کر رہی ہو اور رو کیوں رو رہی ہو”
اس کے نرمی سے پوچھنے پر اس کی کالی گهٹاؤں سی آنکھوں سے مینا برسنا شروع ہو گیا۔ اسے یوں روتے دیکھ وہ بوکھلا گیا۔
“ارے ارے رو تو مت لٹل گرل!!!!”
وه واقعی نہیں جانتا تھا وہ چھوٹی سی لڑکی کیوں رو رہی تھی۔
“مم۔۔۔۔مجھے بھوک لگی ہے!!!!”
وہ روتے روتے سفید چادر کے ایک پلو سے ناک صاف کرتی بولی تو مقابل کے چہرے پر بے یقینی کے بادل چھا گئے۔ اب یہ بدل اس کی حرکت کی وجہ سے چھائے یا بات کی وجہ سے یہ معلوم نہ تھا۔
“تم روزہ افطار کرنے کے بعد بھوک لگنے کی وجہ سے رو رہی ہو؟”
اس کے سوال پر اس نے سوں سوں کرتے گھور کر اسے دیکھا۔
“آپ نے روزہ افطار کر لیا؟”
وہ الٹا اس سے سوال کر گئی تو وه الجھتا ہوا سر اثبات میں ہلا گیا۔
“آپ نے افطاری میں کتنی چیزیں کھائیں؟”
وہ ایک اور سوال داغ گئی۔
“سات”
کچھ سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا اور مقابل کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں مزید مایوسی چھا گئی تھی۔
“میں نے اور اماں نے افطاری میں صرف پانی پیا۔ گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں۔
اپنے غم کی داستان سناتی وہ گھٹنوں میں منہ چھپا کر رو دی۔ کچھ دیر رو لینے کے بعد بعد اس نے سر اٹھایا تو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔
“غریبوں کے دکھ کی داستان بھی کوئی نہیں سنتا “
وه نم آواز میں بڑبڑا دی۔
اسے وہیں بیٹھے کچھ وقت مزید گزر گیا۔رات کی سیاہی پهيل رہی تھی۔ اس نے سرد آہ خارج کی اور گھر واپس جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ابھی وہ اٹھی ہی تھی جب وہ پھر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“یہ لو یہ پکڑو !!!!”
طالم نے اپنے ہاتھ میں پکڑا بڑا سا شاپر اس کے آگے کیا تو وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“پکڑو!!!”
اس نے دوبارہ زور سے کے کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتی وہ شاپر اس کے ہاتھ سے پکڑ گئی جو کافی وزنی تھا۔
“کام کرنا چاہو گی؟”
طالم نے پوچھا تو وہ بغیر سوچے سمجھے ہاں میں سر ہلا گئی۔
“نام کیا ہے تمہارا؟؟؟”
طالم کو اب یاد آیا کہ اس کا نام تو پوچھنا بھول ہی گیا تھا وہ۔
“نن۔۔۔نیہال!!!”
وہ گھبراہٹ میں تھوڑا اٹک کر بولی تو وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“یہ کیسا نام ہوا نن۔۔۔نیہال “
اس نے یوں ہی توڑ کر اس کا نام ادا کیا تو نیہال خامخواہ شرمندہ ہو کر رہ گئی۔
نہیں۔۔۔میرا نام۔۔۔نیہال ہے۔”
اب کی دفعہ اس نے بہت سوچ سمجھ سے کام لیا۔
“اوکے نیہال تم کل افطاری کے بعد نہیں تب زیادہ لیٹ ہو جاۓ گا ایسا کرنا تم ظہر کی نماز کے بعد اسی جگہ پر آ جانا میں تمہیں تمہارا کام بتا دوں گا اب جاؤ اپنے گھر اللّه حافظ۔”
اپنی بات ختم کرنے کے بعد وہ ایک منٹ بھی نہ رکا اور اپنی بائیک پر بیٹھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
نیہال نے ہاتھ میں پکڑے شاپر میں دیکھا تو کھانے کا سامان تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔
وہ دوبارہ اس راستے کی طرف دیکھنے لگی جہاں سے طالم گیا تھا۔ اسے یہ سب خواب لگ رہا تھا۔ بھلا کوئی کیوں اس کی مدد کرتا؟؟ اس نے ایک نظر آسمان پر ڈالی جہاں سیاہی پهيلتی جا رہی تھی پھر ہر سوچ دماغ سے جھٹک کر گھر کی طرف جانے والے راستے پر چلنا شروع ہو گئی۔ کھانے کی چیزیں دیکھنے کے بعد بھوک نے مزید شدّت اختیار کر لی تھی۔
@@@@@
وہ یونیورسٹی سے واپس آ رہا تھا جب ایک بچہ بھاگتا ہوا اس کی گاڑی کے آگے آ گیا۔ اس نے بہت مشکل سے گاڑی کنٹرول کی۔ گاڑی روک کر وہ دروازہ کھول کر باہر بھاگا تو ڈھائی تین سالہ بچا سڑک پر بیٹھا رو رہا تھا۔
وہ باہر نکلا ساتھ ہی ایک لڑکی بھاگتی ہوئی وہاں آئی۔
“حمین میری جان!!!”
وہ بچے کو گود میں اٹھا کر چومتی جا رہی تھی جب کہ بچہ مسلسل رو رہا تھا۔
“ایکسکیوز می مس!!!!!”
اس کی پکار پر اس لڑکی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
اس کے چہرے کی طرف دیکھتے فہام کھو سا گیا۔
وہ بہت خوب صورت تھی۔ غزالی آنکھیں، چھوٹی سی ناک چھوٹے سے گلابی ہونٹ اور بھرے بھرے گال سرخ و سفید رنگت۔ سب سے زیادہ جس چیز نے فہام کو اٹریكٹ کیا وہ تھی اس کے چہرے سے ٹپكتی معصومیت۔ وہ بہت معصوم سی لگ رہی تھی۔
بچے کو اپنے ساتھ لگا کر چومنے کے ساتھ ساتھ وہ روتی ہی چلی جا رہی تھی۔رونے کی وجہ سی اس کی چھوٹی سی ناک بھی سرخ پڑ چکی تھی۔
“جی؟؟؟”
وہ ناسمجهی سے اسے دیکھنے لگی۔
“آئی تھنک ہمیں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہئے اسے گرنے کی وجہ سے شاید کوئی چوٹ لگی ہے تبھی اتنا رو رہا ہے۔ ویسے یہ ہے کون آئی مین اس کی ماما کہاں ہیں؟؟؟؟”
ایک تو فہام دی گریٹ کی دراز زبان!!!!
“یہ میرا بیٹا ہے!!! اور آپ سہی کہہ رہے ہیں مجھے واقعی اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا چاہئے!!!”
اس کی پہلی بات سنتے فہام کو تو سکتا ہی ہو گیا۔ وہ سوچ ہی نہیں سکتا تھا اتنی پیاری سی چھوٹی سی نظر آنے والی لڑکی شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں بھی ہو سکتی ہے۔
اس کی فیلنگز پر تو جیسے کسی نے بالٹی بھر ٹھنڈہ ٹھار پانی پهينك دیا تھا۔
“افسوس مت کر فہام خوش ہو ناشکرے انسان!!! اللّه نے تجھے گناہ سے بچایا ہے۔ رمضان میں بچیاں دیکھنے سے گناہ ملتا ہے گناہ۔”
خود کو تسلی دیتا وہ واپس گاڑی میں بیٹھ گیا۔
وہ گاڑی وہاں سے نکال رہا تھا جب وہی لڑکی سڑک کنارے نظر آئی۔ وہ بچہ اس نے کندھے سے لگا مسلسل رو رہا تھا جسے سمبھالنے کے چکر میں وہ ہلکان ہو رہی تھی۔
وہاں کھڑی وہ شاید ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی۔ فہام گاڑی اس کے قریب لے گیا۔
“بےبی بہت رو رہا ہے آئیں میں آپ کو ہوسپٹل لے چلتا ہوں ویسے بھی غلطی میری ہے میری گاڑی کے آگے آیا آپ کا بچہ۔ آ جائیں پلیز انکار مت کریے گا میں ایک شریف انسان ہوں!!!”۔اس نے گاڑی کا شیشہ نیچا کرتے اسی لڑکی سے کہا تو وہ ایک منٹ کے لئے کچھ سوچتی ہاں میں سر ہلا گئی۔
فہام نے فرنٹ ڈور کھولا تو وہ اپنے بچے کو لے کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔
@@@@@
