No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
کریم مینشن میں رات کے اس پہر رونق اپنے عروج پر تھی۔ رمضان کے مہینے کے احترام میں عالم انہیں ڈھولکی رکھنے سے سختی سے منع کر گیا تھا جس پر ان کا کہنا تھا کہ ڈھولکی نہیں بجا سکتے مہندی تو لگا سکتے ہیں نا۔
عالم نے انہیں انکار نہیں کیا تھا کیوں کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے بھائیوں کے دل میں کوئی ارمان رہ نہ جاۓ اس کی شادی کو لے کر۔ وہ اپنے تمام شوق پورے کر لیں۔
وہ تینوں بھائی لکڑی کا جھولا پھولوں سے سجا رہے تھے جہاں بیٹھ کر عالم اور آبرو کی رسم ہونی تھی۔
عالم کو کمرے سے نکلتے دیکھ کر فهام نے آنکھوں ہی آنکھوں میں طالم کو کوئی اشارہ کیا جسے سمجھ کر وہ سر ہلا گیا۔
“اوہ شٹ یار !!!! اتنا اہم کام میں کس طرح بھول گیا!!!!”
طالم کی بلند آواز پر جہاں عالم اس کی طرف متوجہ ہوا وہیں باقی دونوں بھی اپنا کام چھوڑ کر اسے دیکھنے لگے۔
“کیا ہوا اب کون سا کام بھول گئے تم۔ سب کچھ تو ہو چکا ہے یار !!!”
فهام لاپرواہی سے کہتا پھر سے سجاوٹ میں مصروف ہو گیا۔
“بتا بھی دیں بھیا کیا بھول گئے آپ؟؟”
طلال کے پوچھنے پر وہ عالم بھی اس کی جانب دیکھنے لگا۔
“آبرو آپی کا مہندی والا ڈریس بھول گیا!!!!”
وہ سر کھجا کر بولتا طلال اور فهام کو آنکھیں پهيلانے پر مجبور کر گیا۔
“کیا !!!!!!!!! تم آبرو آپی کا ڈریس بھول گئے وہ بھی مہندی والا !!!! یعنی جو انہوں نے ایک گھنٹے کے بعد پہننا ہے وہ والا ڈریس بھول گئے تم !!!”
فهام کے چیخنے پر وہ سب ہڑبڑا گئے۔
“آبرو آپی کون سا ڈریس پہنیں گی اب بھیا۔ کتنے شوق سے سب کچھ سوچا تھا ہم نے اب کیا ہو گا۔ سب خراب ہو گیا بھیا !!!”
طلال دکھ سے بولا تو طالم شرمندہ ہو کر رہ گیا۔
“کیا ہو گیا ہے یار اگر نہیں آیا تو اب جا کر لے آؤ۔ اتنا پریشان ہونے والی کون سی بات ہے۔”
عالم تحمل سے بولا تو تینوں اسے دیکھ کر رہ گئے۔
“پریشان ہونے والی بات ہے بھیا۔ ابھی ہمارا سجاوٹ والا اتنا زیادہ کام پڑا ہے۔ کیسے مینیج ہو گا سب کچھ !!!”
فهام کے لہجے میں پریشانی ہی پریشانی تھی۔
“بھیا ہم کسی اور کو بول دیتے ہیں لانے کے لئے۔”
طلال کی بات پر فهام اسے گھورنے لگا۔
“کوئی اور کون لا کر دے گا؟؟؟’
اس کے سوال پر طلال کندھے اچکا کر رہ گیا۔
“اچھا پریشان مت ہو تم لوگ میں لے آتا ہوں جا کر۔”
عالم نے آسان سا حل پیش کیا۔
“کیا سچی بھیا ؟؟؟”
ان تینوں کے چہروں پر چار سو چالیس والٹ کے بلب روشن ہو چکے تھے۔
“ہاں میں لے آتا ہوں ابھی جا کر۔”
عالم ان تینوں سے کہتا ٹیبل پر پڑی گاڑی کی چابی پکڑتا باہر کی طرف بڑھ گیا۔
“بھیا ساتھ جیولری بھی لے کر آئے گا میچنگ والی!!!”
طلال تیزی سے پیچھے سے آواز لگا گیا تو عالم نے سر ہلا دیا۔
عالم جیسے ہی لاؤنج سے نکلا وہ تینوں خوشی سے ناچتے جناتی قہقہے لگانے لگے۔
“دیکھا فهام دی گریٹ کا پلان!!!! ہائے دولہے میاں اپنی پسند سے اپنی ہونے والی دلہن کا جوڑا خریدیں گے اف کتنا رومانٹک لگ رہا ہے سننے میں ہی !!!!”
فهام پر جوش ہو کر بولا تو باقی دونوں سے تیزی سے سر ہلایا۔
“زندگی میں پہلی بار تو نے کوئی عقل والی بات کی ہے فهام!!! آجا میرا بھائی ایک جهپی اور ایک پپی تو بنتی ہے نا !!!!”
طالم خوشی سے کہتا اس پر جهپٹا تو فهام چیخنے لگا۔
“پیچھے ہٹ بے شرم انسان کیوں میری عزت خطرے میں ڈال رہا ہے!!!”
وہ چیختا ہوا اسے پیچھے دھکیل رہا تھا۔
“ہاہاہا فهام بھیا!!!”
اس کی حالت دیکھتا طلال زور زور سے ہنسنے لگا۔
“رک ذرا تجھے بتاتا ہوں۔”
فهام طالم کو پیچھے کرتا طلال پر جهپٹا تو اب چیخنے کی باری طلال کی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ تینوں زمین پر لیٹے پاگلوں کی طرح ہنس رہے تھے۔
@@@@@
وہ شیشے کے سامنے بیٹھی خود کو دیکھ رہی تھی۔
مسٹرڈ پیروں کو چھوتا فراک جس کی آستینیں دبکے کے کام سے بھری ہوئی تھیں پیٹی پر ایک لائن میں بٹنز لگے تھے جب کہ باقی فراک سادہ تھا۔ دونوں ہاتھوں میں گجرے پہن رکھے تھے۔ کانوں میں بھی تازہ گلاب اور موتیے کے پھلووں سی بنی بالیاں پہن رکھی تھیں۔
کالی زلفوں کو چوٹی میں باندھ کر سر پر دوپٹہ جمائے ہر طرح کے سنگھار سے پاک وہ سادگی کی حسین مورت لگ رہی تھی۔
وہ نم نظروں سے اپنا عکس دیکھ رہی تھی۔ اسے اپنے ماں باپ شدت سے یاد آ رہے تھے۔
“آپی !!!”
کمرے کا دروازہ ناک ہوا تو وہ چونک کر ہوش میں واپس لوٹی۔
“آ جائیں !!!”
اس کی اجازت پر دروازہ کھلا اور تینوں بھائی اندر داخل ہوئے۔
“ما شاء اللّه آپی بہت حسین لگ رہی ہیں آپ !!!”
طلال اسے دیکھتے ہی بول اٹھا تو وہ دھیرے سے مسکرا دی۔
“عالم بھیا کی پسند کے جوڑے میں دمک رہی ہیں آپ!!!! “
فهام کی بات پر وہ پلکیں جھکا گئی۔
“تم لوگ کیا تنگ کر رہے ہو میری اتنی پیاری بہن کو۔ پیچھے ہٹو نظر لگاؤ گے کیا۔”
طالم ان دونوں سے کہتا آگے بڑھا۔
“چلیں آپی باہر چلتے ہیں اب۔ کچھ نیبرز کو انوائٹ کیا تھا ہم نے وہ آ چکے ہیں۔ بھیا بھی تیار بیٹھے ہیں بس آپ کا انتظار ہے۔”
طا لم کی بات پر وہ سر ہلاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“آپی ہم آپ کے دیور نہیں بلکہ بھائی ہیں۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے گا۔ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے کوئی بھی مسلہ ہو آپ بس ایک دفعہ ہمیں پکار لیجئے گا ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔”
طالم کی بات پر وه نم آنکھوں سمیت مسکرا دی۔
“میں جانتی ہوں !!!”
وہ مسکراتی ہوئی پاس کھڑے طلال کے بال بکھیر گئی۔
“چلیں اب ؟؟”
فهام کے مستفسر کرنے پر وہ سر ہلاتی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ان کی پیروی میں کمرے سے باہر نکل گئی۔
جھولے پر بیٹھے عالم کی نظر جیسے ہی اپنے تینوں بھائیوں کے ہمراہ آتی اس حسینہ پر پڑی وہ بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوتا ٹکٹکی باندھے اسے دیکھنے لگا۔
“ابھی نکاح نہیں ہوا بھیا اس لئے ہماری بہن پر سے اپنی نظریں ہٹا لیجئے ورنہ ہماری برادرانہ غیرت جاگ جاۓ گی۔!!!”
فهام کی بات پر عالم نے اسے بھر پور گھوری سے نوازا۔
“آج کے دن بھی اپنی گردن میرے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہو ؟؟؟”
عالم کی سنجیدہ آواز میں کہی بات پر وہ كهسيا کر رہ گیا۔
“مذاق کر رہا تھا بھیا!!!”
وہ كهسيانی ہنسی ہنس دیا۔طلال کا ہاتھ پکڑے وہ دھیرے قدموں سے چلتی عالم کے پہلو میں جا کھڑی ہوئی۔
“السلام علیکم!!!!”
عالم کی سنجیدہ مگر پر اثر آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو اس کا دل دھڑک اٹھا۔
اس نے بولنے کی کوشش کی پر زبان انکاری ہو گئی۔ وہ محض سر ہلا کر رہ گئی۔
“بیٹھ جائیے !!!”
عالم کے کہنے پر وہ پھولوں سے سجے جھولے پر بیٹھی تو عالم بھی اس کے پہلو میں ٹک گیا۔
“چلیں بھیا سب سے پہلے آپ رسم کریں اور آپی کو ابٹن لگائیں!!! شروعات آپ کریں کیوں کہ آپ کا حق سب سے پہلا ہے!!!!”
طالم دانت نکوستا بولا تو عالم اسے گھور کر رہ گیا۔
“یہ لیں بھیا جلدی کریں اب پھر ہمیں بھی رسم کرنی ہے!!!”
طلال ابٹن والا باول عالم کے سامنے رکھتا پر جوش ہو کر بولا۔
عالم نے بول میں پڑی چھوٹی سی سٹک کو وہیں چھوڑتے اپنی دو انگلیوں کی پوروں پر ابٹن سمیٹی اور اپنا ہاتھ دھیرے سے آبرو کے گال کی طرف بڑھایا۔
اس کا مضبوط مردانہ ہاتھ آبرو کے گال سے ٹکرایا تو وہ لرز اٹھی۔ عارضوں پر شفق پھوٹ پڑی تھی۔
وہ اپنی انگلیاں دھیرے سے اس کے گالوں سے مس کرتا اس کے سرخ پڑتے گالوں اور لرزتی پلکوں کو دیکھنے لگا۔
“ہووو!!!!!!”
وہ تینوں بھائی انہیں دیکھ کر ہوٹنگ کرنے لگے تو آبرو اپنا جھکا ہوا سر مزید جھکا گئی۔
“چلیں آپی اب آپ کی باری!!!!”
فهام کی بات پر وہ بوکھلا گئی۔
“مم۔۔۔میں کیسے؟؟؟”
وہ بوکھلا کر انہیں دیکھنے لگی۔
“بلکل اسی طرح جس طرح بھیا نے آپ کو لگایا اور کیسے!!!!”
طالم شرارت بھری آواز میں بولا تو وہ بے چارگی سے انہیں دیکھنے لگی۔
“کم آن آپی !!!!”
طلال کے کہنے پر اس نے ہمت کرتے باول میں پڑی سٹک کو پکڑنا چاہا تو فهام پھرتی سے ہاتھ بڑھاتا وہ سٹک پکڑ گیا۔
“چیٹنگ نہیں کرنی آپی۔ بھیا نے اپنے ہاتھ کا استعمال کیا ہے تو آپ کو بھی اسی رول کو فالو کرنا پڑے گا۔”
فهام کی بات پر وہ بے چارگی سے طلال کی طرف دیکھنے لگی تو وہ کندھے اچکا گیا۔
آبرو نے ہونٹوں پر زبان پهير کر اپنے لب تر کرتے انگلی کی پور پر تھوڑی سی ابٹن لی اور اپنا ہاتھ عالم کی طرف بڑھا گئی۔ وہ اپنا ہاتھ اس کے گال کے پاس لے جانے کی بجائے اس کے ہاتھ کی طرح بڑھا گئی اور اپنی انگلی کی پور پر لگا ابٹن عالم کے مضبوط ہاتھ کی پشت پر لگا گئی۔
وہ اس کے ہاتھ کی كپكپاہٹ صاف محسوس کر سکتا تھا۔
“یہ چیٹنگ تھی!!!!”
فهام احتجاجاً چیخا تو آبرو اسے گھورنے لگی پر عالم کی موجودگی میں ٹھیک سے گھور بھی نہ سکی۔
ان دونوں کے رسم کر لینے کے بعد وہ تینوں بھائی باری باری دونوں کو ابٹن لگانے لگے۔
کچھ ہی دیر میں وہ ان دونوں کے ہاتھ اور منہ ابٹن سے پیلے کر چکے تھے۔
شرارتوں کے ساتھ ساتھ وہ تینوں بھائی ہاتھ میں موبائل پکڑے ہر لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں مصروف کرنے میں مصروف تھے۔
“فیملی فوٹو ٹائم !!!!”
طالم نے کہتے ہوئے سیلفی اسٹینڈ میں اپنا موبائل سیٹ کیا اور اس پر ٹائمر لگا کر تیزی سے ان سب کے پاس واپس آیا۔
فهام اور طلال آبرو اور عالم کے دائیں بائیں آ کر بیٹھے تو ان دونوں کے درمیان کم ہوتا فاصلہ آبرو کی دھڑكنیں بڑھا گیا۔طالم جھولے کے پیچھے کھڑا ہوتا آبرو اور عالم کے کندھے پر اپنے ہاتھ رکھ گیا۔
“سب بولو چیز !!!!!”
فهام کے کہنے پر وہ سب “چیز” بولے تو کیمرے کی آنکھ نے ان سب کے مسکراتے چہرے قید کر لئے۔
