No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
“کیا تم تیار ہو فهام؟؟؟”
عالم کے سوال پر فهام اور طالم دونوں نے پھٹی پھٹی نظروں سے پہلے عالم کو دیکھا پھر ایک دوسرے کو!!!!
“بب۔۔۔بھیا آپ تو جانتے ہیں نہ زبان میں ہڈی نہیں۔ نہیں ہوتی۔ گوشت کا لوتھڑا ہوتی ہے اس لئے جب مرضی جہاں مرضی پھسل جاتی ہے۔ میری بھی یوں ہی پھسل گئی۔ میں تو بکواس کرتا رہتا ہوں آپ میری کسی بات کو سیریس مت لیا کریں۔”
وہ بیچارہ تو گھگھیا گیا تھا۔
“فهام!!!!!”۔
عالم کی تنبیہ پر اس کی پھر سے پھسلتی ہوئی زبان کو بریک لگی۔
“جج۔۔۔جی بھیا!!!!”
وہ مری مری آواز میں بولتا بے بسی سے طالم کی جانب دیکھنے لگا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“میں نے پوچھا کیا تم تیار ہو فهام؟؟؟”
عالم نے اپنا سوال دہرایا تو فهام دانت پر دانت جماتا سر ہلا گیا۔
“تو پھر جاؤ اور قریبی مسجد سے مولوی صاحب کو لے کر آؤ۔ جلدی!!!!”
عالم کے حکم پر وہ ایک بے بس نگاہ طالم پر ڈالتا وہاں سے چل دیا۔
کچھ دیر بعد وہ مولوی صاحب کو لے کر واپس آیا تو طلال اور آبroرو بھی وہاں موجود تھے اس نے ایک نگاہ طالم کے چہرے پر ڈالی جو ضبط سے سرخ ہو رہا تھا ۔ فهام سارا معاملہ سمجھ چکا تھا۔
وہ کسی طرح عالم کی غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا پر اس کی ہمت ہے نہیں پڑ رہی تھی۔
عالم مولوی صاحب کو لے کر اندر کمرے میں چلا گیا جہاں نہال موجود تھی۔آبرو بھی نہال کے پاس تھی۔
طالم سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا۔ فهام تھوک نگلتا اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
“سن طالم!!!”
اس کے پکارنے پر طالم نے خونخوار نظروں سے اس کی جانب دیکھا تو اس کے یوں دیکھنے پر فهام نے تھوک نگلا۔
“تو چپ رہ بس مجھے تیری کوئی بات نہیں سننی کیوں کہ تیری زبان پھسل گئی تو میرا ہاتھ نہیں رکے گا۔ تیری اس دو فٹ لمبی زبان نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا!!!!”۔
وہ تیش سے کہتا آخر میں سر ہاتھوں میں گرا گیا تو فهام نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔
“دیکھ یار میری بات تو۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ اپنی بات پوری کرتا طالم اسے تیز نظروں سے دیکھتا بات کاٹ گیا۔
“میں نے کہا نا۔ تو چپ رہ فلحال بس۔”
اس کی بات پر فهام نے لب بھینچے۔ اسے خود پر بے تحاشا غصّہ آ رہا تھا۔کیا ضرورت تھی بکواس کرنے کی پر اب کیا کیا جا سکتا تھا۔ اب تو تیر كمان سے نکل چکا تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھا طالم کی بے بس شکل دیکھنے لگا۔
تھوڑی دیر بعد مولوی صاحب کے ہمراہ عالم اور طلال باہر آتے دکھائی دیے تو طالم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
وہ کس طرح اپنی محبت کو اپنے ہی بھائی سے منسوب ہوتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ ہاں یہ سچ تھا کہ وہ لڑکی بہت کم دنوں میں اس کے دل تک رسائی پا چکی تھی۔ پر قسمت کے کھیلوں سے کون واقف تھا۔
وہ وہاں سے نکلنے لگا تو عالم نے آگے بڑھ کر اس کا بازو تھام لیا۔
“چپ چاپ بیٹھو دونوں!!!”
عالم نے ان دونوں بھائیوں کو دیکھتے تنبیہ کی تو وہ لب بھینچ کر ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔
“مولوی صاحب نکاح شروع کریں !!!!”
عالم کے کہنے پر مولوی صاحب نے نکاح کے کلمات ادا کرنے شروع کیے۔
“طالم کریم ولد کریم احمد آپ کو نہال عبّاس بنت عبّاس علی سے نکاح قبول ہے؟؟؟”۔
مولوی صاحب کے پوچھنے پر طالم نے ایک جھٹکے سے عالم کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔ ساتھ بیٹھے فهام نے بے ساختہ سکوں بھری سانس خارج کی۔
عالم نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
“قبول ہے قبول ہے قبول ہے !!!”
وہ خوشی اور بے یقینی کی کیفیت میں تینوں قبول ہے ایک ساتھ ہی بول گیا تھا۔ مولوی صاحب نے آنکھیں پھاڑ کر اس کی بے چینی ملاحضہ کی۔
“بیٹا مجھے کلمات تو دہرانے دو۔ نہ ہم کہیں بھاگے جا رہے ہیں اور نہ ہی تم!!!”۔
مولوی صاحب کے طنز پر وہ داڑھی كهجا کر رہ گیا۔
قبول و ایجاب کے مراحل کے بعد وہ عالم کے سینے سے لگا تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ عالم صرف ان کا بڑا بھائی ہی نہیں ان کا باپ بھی تھا اور ماں بھی۔ وہ ان کا سب کچھ تھا۔
“تھنکس بھیا!!!!”
وہ نم آنکھوں آنکھوں سے بولا تو عالم نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اس کی پیشانی چومی۔
“میرے بچے ہو تم لوگ۔ تم سب کے دل کے حال سے کس طرح نا واقف رہ سکتا ہوں میں۔”
عالم کی بات پر وہ نم آنکھوں سے مسکرا دیا۔
“مجھے ہارٹ اٹیک دینا ضروری تھا کیا؟؟؟ معصوم بچے پر ذرا سا ترس نہیں آیا آپ کو ؟؟؟”
فهام کی نروٹھی آواز پر وہ دونوں اس کی طرف متوجه ہوئے۔
“ہارٹ اٹیک کیوں؟؟ میں نے صرف اتنا ہی پوچھا تھا کہ کیا تم تیار ہو فهام ؟؟ یہ تو نہیں کہا تھا کہ نکاح کے لئے۔ میں تو تم سے تمھارے بھائی کے نکاح کا پوچھنا چاہ رہا تھا کہ کیا تم اپنے بھائی کے نکاح کے لئے تیار ہو؟؟ تم نے اپنے الٹے دماغ سے خود سے الٹا سوچ لیا تو اس میں میرا کیا قصور؟؟؟”
عالم کی بات پر فهام صدمے سے اسے دیکھنے لگا۔
“تیری واقعی کوئی عزت نہیں فهام یہاں !!!!”
وہ خود سے کہتا خودی ہنس دیا۔
@@@@@
وہ نہال کو طالم کے کمرے میں چھوڑ کر اپنے کمرے میں واپس آئی تو عالم آڑا ترچھا بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔
وہ اپنے پیچھے دروازہ بند کرتی اپنے قدم بیڈ کی طرف بڑھا گئی۔
وہ اس کے قریب بیڈ پر بیٹھی تو اس کی موجودگی محسوس کر کے عالم اپنا سر اس کی گود میں رکھ گیا۔
آبرو دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔
“تھک گئے ہیں کیا؟؟؟”
اس کی میٹھی آواز عالم کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔
“ہم تھوڑا سا ۔ پر آپ کو اپنے سامنے دیکھ کر میری ساری تهكاوٹ دور ہو گئی۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لبوں سے لگاتا ہوا بولا تو آبرو لاج سے مسکرا دی۔
“شکریہ آبرو!!!”۔
اس کی بات پر آبرو نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“کس لئے؟؟؟”
وہ سوال کرتا اس کی پیشانی پر بکھرے بال سمیٹنے لگی۔
“میری زندگی میں آ کر اسے مزید خوب صورت بنانے کے لئے۔ میرے بھائی میری اولاد کی طرح ہیں آبرو۔ میں نے ماں اور باپ دونوں بن کر ان کی پرورش کی ہے۔ بہت پیار ہے ان تینوں سے مجھے۔ اپنی زندگی سے بھی زیادہ عزیز ہیں مجھے وہ۔اور جس طرح آپ میرا اس سب میں ساتھ دے رہی ہیں میں بہت خوش اور مطمئن ہوں آبرو۔ میری دعا ہے کہ اللّه پاک ہمیں ہمیشہ یوں ہی خوش رکھے اور ایک ساتھ رکھے۔”
آبرو مطمئن سی مسکرا دی۔
“آمین!!!”
وہ پھر سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی جس پر وہ سکون سے آنکھیں موند گیا۔
@@@@@
وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ گھٹنوں میں سر دیے رونے میں مشغول تھی۔
اسے دیکھتے طالم کو حقیقی معنوں میں اس پر ترس آیا۔
وہ مضبوط قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا۔
“نہال!!!!”
اس کی گھمبیر آواز پر نہال نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس کی نم آنکھوں میں طالم کا دل ڈولنے لگا۔
“ہاتھ دو !!!”
طالم نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتی اس کے مضبوط ہاتھ میں اپنا نازک کانپتا ہوا ہاتھ تهما گئی۔
وہ اس کا لرزتا ہوا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لے کر اسے اپنے مقابل کھڑا کر گیا۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی وہ اسے دھیرے سے اپنے سینے سے لگا گیا۔ نہال کا دل دھک سے رہ گیا اس کی حرکت پر۔
“تمہاری والدہ کی وفات کا بہت افسوس ہوا۔ ان کا عمر اتنی ہی لکھی تھی۔ اللّه پاک ان کے درجات بلند فرماۓ آمین!!!”
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اس کے سب سے بڑے غم کی تعزیت کر رہا تھا۔
سہارا ملنے کی دیر تھی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“انہوں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا میرا تو ان کا سوا کوئی نہیں اس دنیا میں۔ میں کس طرح ان کے بغیر رہوں گی!!!”۔
طالم سے اسے سمبھالنا مشکل ہونے لگا۔
“ادھر آؤ یہاں بیٹھو!!!”
وہ اسے ساتھ لئے بیڈ کے قریب آیا اور اسے بیڈ پر بیٹھا کر خود پیروں کے بل اس کے پاس بیٹھتا اس ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں قید کر گیا۔
“ہر انسان جو اس دنیا میں آیا ہے اس کا جانا بھی مقرر ہے۔موت اٹل ہے۔ میں یا تم کوئی اسے نہیں ٹال سکتا۔ تم اکیلی کہاں ہو۔ تمہارا شوہر یعنی میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔ تمھارے اچھے برے وقت اور دکھ سکھ کا ساتھی۔ رو کر ان کی روح کو تکلیف مت دو بلکہ ان کی بخشش کی دعا کرو۔سمجھ رہی ہو نا!!!!”
طالم کی بات پر وہ سر ہلا گی تو وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔
“نماز کا وقت ہو گیا ہے اٹھ کر نماز پڑھو اور ان کے لئے دعا کرو اور خبردار میں اب ان حسین آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں!!!!”
وہ اس کے آنسو صاف کرتا بولا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
@@@@@
