52.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

“منہ دھو رکھو۔ میں نہیں کروں گا باتھ روم صاف اب طلال کی باری ہے۔ تم لوگ ہر دفعہ بے ایمانی کر جاتے ہو میرے ساتھ۔ “
وہ تڑپ ہی تو اٹھا تھا بے چارہ جب کہ مینیجر منہ کھولے اپنے باس کی باتیں سن رہا تھا۔
“آپ یہاں سے تشریف لے جائیں میرا حسین مکھڑا کیا دیکھ رہے ہیں !!!”
فهام کی طنزیہ بات پر وہ ہڑبڑا کر آفس سے نکلا جب کہ فهام اپنے دماغ میں ان چیزوں کی لسٹ بنانے لگا جو اسے گھر واپسی پر لے کر جانی تھیں۔
“کوئی عزت ہی نہیں ہے فهام تیری۔ بندہ پوچھے اب دی ہینڈسم دی گریٹ فهام یہ چھوٹے چھوٹے کام کرتا اچھا لگے گا۔ قدر ہی نہیں میری کوئی۔ سہی کہا ہے کسی نے کہ اصلی ہیرے کی پیچان صرف جوہری کو ہی ہوتی ہے۔ کب آئے گا کوئی ایسا جوہری جسے مجھ جیسے ہیرے کی پہچان ہو گی۔”
وہ غمگین سا خود سے ہے مکالمہ بازی کر رہا تھا جب دروازہ ناک ہوا۔
“مے آئی کم ان سر ؟؟؟”
سریلی سی زنانہ آواز پر وہ جلدی سے سیدھا ہو کر بیٹھا پر اسے جانے کیوں یہ آواز جانی پہچانی سی لگ رہی تھی۔
“یس!!!”
اس کی اجازت ملتے ہی مقابل دروازہ کھول کر اندر آ گیا۔
“تم !!!!!”
اس دو نمبر لڑکی کو سامنے دیکھ کر فهام چیخ اٹھا۔
اس کے یوں ایک دم چیخنے پر عنایا گھبرا اٹھی۔
“تم میرا مطلب ہے آپ یہاں کیا کر رہی ہیں مس دو نمبر خاتون؟؟؟”
وہ ایک دم کرسی سے اٹھتے اس پر چڑھ دوڑا۔
“دو نمبر خاتون !!!”
وہ حیرت و بے یقینی سے اپنے لئے منتخب نام کو دہرا رہی تھی۔
“سچ سچ بتائیں کہیں آپ بچہ چور تو نہیں ؟؟؟ اسی لئے مجھے دیکھ کر پہچاننے سے انکاری ہو جاتی ہیں۔”
“کیا!!!!”
عنایا چیخ اٹھی۔ وہ شخص اسے کیسے کیسے القابات سے نواز رہا تھا۔
پہلے دو نمبر خاتون اور اب بچہ چور!!!
“اچھا!!!! اور کس کا بچہ چوری کیا ہے میں نے؟؟؟آپ کا ؟؟؟”
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھتی اس کے سامنے ٹک کر کھڑی ہو گئی۔
اس کی بات پر وہ مسکراتا اپنی ہلکی ہلکی داڑھی سہلانے لگا تو عنایا نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
“میرا کیسے ہو سکتا ہے۔ میں تو پیور سنگل ہوں ابھی یو نو چھڑا چھانٹ !!!”
وہ پورے کمرے میں نظریں دوڑاتا شرمانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
عنایا بے یقینی سے اس پیور چھڑے چھانٹ کو دیکھ رہی تھی جس کی سستی ایکٹنگ اس کی سمجھ سے باہر تھی۔
“آپ شاید بھول رہے ہیں مسٹر فهام میں عالم سر کی سیکرٹری ہوں!!!”
اس کے یاد دلانے پر فهام نے “اوہ” کہتے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔
“لیکن میرا سوال اب بھی وہی ہے مس بچہ چور کہ آپ نے مجھے سر عام پہچاننے سے انکار کیوں کر دیا؟؟؟”
وہ ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھتے آگے کو جھک کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگا تو وہ نظریں چرا گئی۔
“میں آپ کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی!!!!”
اس کے جواب پر فهام نے ستائشی انداز میں ابرو اچکائے۔
“پر آپ کو جواب دینا پڑے گا مس بچہ چور کیوں کہ اس وقت میں آپ کا باس ہوں اور ہر امپلوئی باس کو جواب ده ہوتا ہے۔”
اس کی بات پر عنایا لب بھینچ کر رہ گئی۔
“سب سے پہلے تو پلیز مجھے ان عجیب و غریب ناموں سے پکارنا بند کریں۔ عنایا نام ہے میرا۔ اور دوسری بات میں نہیں چاہتی تھی کوئی مجھے آپ کے ساتھ دیکھ کر غلط مطلب لے۔”
اس کی بات پر فهام سر ہلانے لگا۔
“ٹھیک ہے مان لیا۔ پر حمین کو ہسپتال بھی تو میں ہی لے کر گیا تھا نا آپ کے ساتھ۔ تب کوئی غلط مطلب نہیں لے سکتا تھا کیا؟؟؟”
اس کے سوال پر عنایا کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے۔
“تب میری مجبوری تھی سر۔ مجھے اس دنیا میں اپنے بیٹے سے زیادہ عزیز کچھ بھی نہیں۔ اس کی جان کی خاطر میں ہر خطرہ مول لے سکتی ہوں!!!”
اس کی بات پر فهام نے متاثر کن نظروں سے اپنے سامنے موجود چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا۔
“بس ایک آخری سوال!!!”۔
اس کی بات پر عنایا آنکھیں گھما کر رہ گئی۔
“پوچھئے!!!”
وہ جانتی تھی اس کے منع کرنے پر کون سا اس نے منع ہو جانا ہے۔
“حمین آپ کا سگا بیٹا ہے کیا؟؟؟”
اس کے سوال پر عنایا کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے۔
“جی سر میرا سگا بیٹا ہے!!! اب پلیز ہم کام کی بات کر سکتے ہیں ؟؟؟”
وہ تنگ آ کر بولی تو بالآخر فهام کو اس پر ترس آ گیا اور سر ہلا کر کام کی طرف متوجہ ہو گیا۔
@@@@@
الفاظ تھے یا خنجر جو نہال کے کانوں کے ساتھ اس کا سینہ چھلنی کر رہے تھے۔
پر اس کے لئے سب سے زیادہ صدمے والی بات یہ تھی کہ اس کی ماں اسے اس ظالم دنیا میں اکیلے چھوڑ کر جا چکی تھی۔
“امی !!!!”
وہ چیخ کر اپنی ماں کو پکارتی ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی چلی گئی۔
اسے جب سے ہوش آیا تھا وہ ساکت بیٹھی تھی۔ اس کی ماں کو دفنایا جا چکا تھا۔
وہ محلے والے جو بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے کوئی بھی تدفین کے وقت آگے نہ بڑھا تھا۔ سارا انتظام طالم نے اکیلے ہی کیا تھا
نہال کی ماں کو دفنانے کے بعد وہ جب نہال کے گھر واپس آیا تو اندر سے اونچا اونچا بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ تیزی سے دروازہ پار کرتا اندر کی طرف بڑھا۔
“ہم ایسی آوارہ لڑکی کو اپنے محلے میں بلکل بھی نہیں برداشت کر سکتے۔ جو ماں کے ہوتے ہوئے اپنی کرتوتوں سے باز نہ آئی وہ اب اکیلے رہتے ہوئے کیا کچھ نہ کرے گی!!!!”
ایک عورت کی چنگھاڑتی آواز پر طالم نے لب بھینچ لئے۔
“سہی کہا بہن!!! ہم شریف لوگ ہیں ایسا گند نہیں برداشت کر سکتے آخر ہماری بھی جوان بیٹیاں ہیں۔”
یہ ایک دوسری خاتون تھی۔
“بس کر دیں آپ لوگ۔ شرم نہیں آتی آپ لوگوں کو ایک شریف اور معصوم پر الزام لگاتے ہوئے۔”
طالم کا ضبط جواب دے گیا تو وہ چیخ اٹھا۔
“تمھیں شرم آئی کیا اس کے ساتھ منہ کالا کرنے کے بعد یوں دیدہ دليری سے ہمارے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوتے۔”۔
وہ عورت اب ہاتھ نچا نچا کر چیخ رہی تھی۔
“مم۔۔۔میں کہاں جاؤں گی میرا تو اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ پلیز رحم کھائیں مجھ پر!!!”
نہال لرزتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی آگے بڑھی اور ان لوگوں کے ترلے کرنے لگی۔
“تم پاگل ہو گئی ہو؟ اپنے ہی گھر میں رہنے کے لئے ان جیسی گھٹیا سوچ کے لوگوں کے سامنے جھک رہی ہو۔ یہ تمہارا گھر ہے۔ یہاں سے تمہیں کوئی نہیں نکال سکتا۔”
وہ اس پر سخت نظر ڈالتا ہوا بولا جو مرنے والی حالت کو پہنچی ہوئی تھی۔
“کیسے رہے گی یہاں؟؟ ہم بھی دیکھتے ہیں کیسے رہتی ہے یہ یہاں!!!”۔
اس عورت کی بات پر نہال اونچی آواز میں رونے لگی تو طالم نے لب بھینچ کر جیب سے موبائل نکالا اور عالم کو کال ملائی۔
“بھیا ایک پرابلم بن گئی ہے میں ایڈریس بھیج رہا ہوں پلیز اسی وقت آ جائیں باقی ساری بات آپ کو یہاں آ کر پتا چل جاۓ گی۔”
عالم نے “اوکے” کہتے کال کاٹ دی۔ طالم جانتا تھا اگلے پانچ منٹ میں عالم یہاں ہو گا اور واقعی ٹھیک پانچ منٹ بعد عالم اور فهام وہاں موجود تھے۔
“یہاں کیا کر رہے ہو طالم اور یہ مجمع کیوں لگا ہوا ہے؟؟؟”
اس سے پہلے کہ طالم عالم کے سوال کا جواب دیتا ایک عورت چیخ اٹھی۔
“ارے اس سامنے کھڑی گھنی میسنی لڑکی کے ساتھ منہ کالا کرتا رہا ہے تمہارا بھائی جس کا پتا اس کی ماں کو چل گیا اور وہ بیچاری صدمہ لے کر اس دنیا سے ہی رخصت ہو گئی۔”
اس کی غلط بيانی پر نہال روتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی جب کہ طالم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کچھ کر ڈالے۔
“یہ جھوٹ بول رہی ہیں بھیا ایسا کچھ نہیں ہے!!!”
وہ بے بسی سے بری طرح روتی ہوئی نہال کو دیکھ کر عالم سے بولا۔
“مجھے اپنی تربیت پر پورا بھروسہ ہے۔ میں جانتا ہوں میرے بچے کوئی گری ہوئی حرکت نہیں کر سکتے۔ تم مجھے پوری بات بتاؤ طالم!!!”
وہ طالم کے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھتا بولا تو اس نے سر ہلاتے پوری بات بتانی شروع کی۔
“آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی ایک معصوم کے ساتھ یوں کرتے ہوئے؟؟؟ اللّه سے خوف محسوس نہیں ہوتا کسی بے گناہ پر بہتان باندھتے ہوئے؟؟؟”
وہ ان سب لوگوں کو غصّے سے کہتا روتی ہوئی نہال کے پاس گیا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ گیا۔
“چپ کرو بیٹا!! میں آپ کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونے دوں گا۔”
وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا تو محلے والوں کو ایک اور موقع مل گیا۔
“ہاں ہاں تم بھی تو اسی لڑکے کے بھائی ہو نا۔ اکیلی لاوارث لڑکی مفت میں مل رہی ہے تو کیوں ہاتھ سے جانے دو گے۔”
اس عورت کی بکواس پر ان تینوں بھائیوں کا دل کیا اس کا منہ توڑ دیں۔
“ارے مفت میں کیوں لے کر جائیں گے ہم۔ باقاعدہ مولوی صاحب کے سامنے تین مرتبہ قبول ہے قبول ہے قبول ہے کہلوائیں گے پھر ہی لے کر جائیں گے۔”
فهام تڑخ کر بولا تو عالم نے چونک کر اسے دیکھا۔
“بیٹا میں آپ کا بڑا بھائی بن کر فیصلہ کر رہا ہوں۔ اکیلی لڑکی کا اس معاشرے میں جینا عذاب ہے اور بغیر کسی رشتے کے ہم آپ کو ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ میرا بھائی زبان کا ذرا تیز ہے اس کی زبان جہاں مرضی پھسل جاتی ہے ورنہ لڑکا اچھا ہے۔ کیا میرے بھائی سے نکاح کریں گی آپ؟؟؟”
عالم کی بات پر نہال نے ایک بے بس نگاہ اپنے ارد گرد ڈالی جہاں کوئی بھی اس کو پل کے لئے بھی برداشت کرنے کو تیار نہ تھا۔ واقعی اکیلی لڑکی کا کیا مقام تھا اس معاشرے میں۔ جگہ جگہ بھیڑیے نگلنے کو تیار کھڑے تھے۔
وہ نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلا گئی تو عالم مسکرا دیا۔
“کیا تم تیار ہو فهام؟؟؟”
عالم کے سوال پر فهام اور طالم دونوں نے پھٹی پھٹی نظروں سے پہلے عالم کو دیکھا پھر ایک دوسرے کو!!!!