No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
“غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے!!!!”
فهام کی بات پر طلال نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
“آپ کو کون سا غم لگ گیا بھیا !!!!”
اس کے سوال پر فهام سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“ہائے چھوٹے!!! تم نہیں سمجھو گے ایک كنوارے کا دکھ!!!!”
دکھی لہجے میں کہتے اپنے نہ نظر آنے والے آنسو بھی صاف کر ڈالے۔
“توبہ بھیا آپ تو ایسے بیہیو کر رہے ہیں جیسے عمر گزر گئی آپ کی۔”
اس کے شودے پن پر طلال نے افسوس کرتے اسے دیکھا۔
“ارے تم بچے کیا جانو جوان كنوارے کا دکھ!!!! چل فهام دو پیگ مار اور بھول جا!!!!”۔
خود سے کہتے فهام نے سامنے رکھے جگ سے جام شیریں گلاس میں انڈیلا اور گلاس نزاکت سے لبوں سے لگا لیا .
طلال نے حیرت سے اسے دیکھا جو جام شیریں کا چوتھا گلاس پی رہا تھا۔
طلال نے اسے دیکھتے نفی میں سر ہلایا جیسے کہہ رہا ہو کہ “آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا!!!”
@@@@@
کریم مینشن میں اس وقت سحری کا دور چل رہا تھا۔چار مردوں کے ساتھ دو عورتوں کا بھی اضافہ ہو چکا تھا۔
“بھابھی ماں ابھی تو آپ کے ان پیارے پیارے ہاتھوں سے مہندی بھی نہیں اتری اور آپ کچن میں کھڑی ہو گئی ہیں۔ میرے ہوتے ہوئے اتنا بڑا ظلم۔ میں عالم بھیا کو کیا منہ دکھاؤں گا!!!!”
آبرو جو چلہے کے آگے کھڑی شامی کباب فرائی کر رہی تھی فهام کی نوٹنکی پر بے ساختہ ہنس دی۔
“اپنی یہی لعنت زدہ شکل دکھانا اور کون سی دکھاۓ گا!!!!”
فریج سے پانی کی بوتل نکالتے طالم نے لقمه دیا تو فهام اسے گھور کر رہ گیا۔
“طالم میاں تمہاری نئی نویلی دلہن بھی یہاں موجود ہے۔ اگر چاہتے ہو کہ پہلے ہی دن اس بیچاری کے سامنے تمہاری عزت نیلام نہ ہو تو چپ کر کے یہاں سے كهسك جاؤ شاباش!!!”
طالم نے فهام کو بھر پور گھوری سے نوازا جس کی نان اسٹاپ زبان پوری سپیڈ سے چل رہی تھی۔ وہ جانتا تھا یہ واقعی اس کی عزت کا کباڑا کر دے گا اس لئے چپ ہے رہا۔
اس کے یوں خاموش رہنے پر آبرو کو پھر سے ہنسی آنے لگی۔
“چلو فهام یہ برتن ٹیبل پر رکھو جا کر۔”
وہ پراٹھا توے پر ڈالتی اسے برتن رکھنے کا کہنے لگی۔
“جو حکم بھابھی ماں!!!!”
وہ سینے پر ہاتھ رکھتے جھک کر بولا تو اس کی حرکت اور طرز تخاطب پر وہ جھینپ اٹھی۔
وہ سب سحری کے لئے ٹیبل پر بیٹھے تھے۔ آج ان میں ایک اور وجود کا اضافہ ہو چکا تھا۔
وہ گھبرائی سی طالم کے پہلو میں بیٹھی تھی۔
“واہ بھابھی واہ !!! آپ کے ہاتھوں میں تو جادو ہے!!!! اتنے لذیز پراٹھے میں نے آج تک نہیں کھائے۔ ہمیں تو اس موٹے فهام کے ہاتھوں کے بد مزہ پڑاٹھے کھانے کو ملتے تھے جو دیکھنے میں آسٹریلیا کا نقشہ لگتے تھے اور کھاتے ہوئے ذائقہ کچے آٹے اور گھی کا آتا تھا۔”
طالم کی بات پر فهام کو تو صدمہ ہی لگ گیا۔
“کتنا طوطا چشم انسان ہے تو طالم !!!!! وہ تو ہی تھا جو میرے ترلے کر کر کے مجھ سے پراٹھے بنواتا تھا اور تین تین کھا جاتا تھا مزے مزے میں اور تو یہ بھی کہتا تھا کہ فهام تم جیسا پراٹھا کوئی بنا ہی نہیں سکتا!!!! اب کس طرح اپنی زبان سے پھر گیا ہے تو!!!!”
اس بیچارے کا صدمہ تو ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔
“ہاں تو میں نے سچ ہی تو کہا تھا۔تم جیسا پراٹھا کوئی نہیں بنا سکتا۔ ارے بھائی کوئی اس قدر بد ذائقہ پراٹھا بنا بھی کس طرح سکتا ہے تمھارے علاوہ!!!”
وہ مزے سے کہتا اپنے سامنے رکھے پراٹھے سے لطف اندوز ہو رہا تھا جب کہ فهام تو بولنے کے لائق ہی نہ رہا تھا۔
“دوست دوست نہ رہا، پیار پیار نہ رہا
زندگی پہ ہمیں اعتبار نہ رہا “
فهام دکھ سے کہتا اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔ اس کی حالت دیکھتے سب ہنسی روکنے کی کوشش میں محال ہو رہے تھے۔ عالم کے لبوں پر بھی مسکراہٹ جھلک گئی۔ وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔
@@@@@
“فهام !!!”
وہ عالم کے آفس سے نکلنے لگا جب اس نے پیچھے سے اسے آواز دے ڈالی۔
“جی بھیا!!!”
وہ فورا عالم کی طرف پلٹا۔
“مس عنایا کا نمبر بند جا رہا ہے تین دن سے آفس بھی نہیں آ رہی۔ نیازی صاحب والے پروجیکٹ کی فائل ان کے پاس ہے۔ کیا تم ان کے گھر جا کر مجھے وہ فائل لا دو گے پلیز؟؟”
فهام کو عالم کی بات سن کر یاد آیا کہ واقعی عنایا آفس نہیں آ رہی تھی۔
“پلیز بول کر شرمندہ کیوں کر رہے ہیں بھیا!!!! آپ مجھے ان کا ایڈریس سینڈ کر دیں میں جا کر لے آتا ہوں!!!”
وہ مسکرا کر بولا تو عالم کو اطمینان ہوا۔
عالم نے اسے ایڈریس سینڈ کیا تو وہ آفس سے نکل آیا۔
مطلوبہ گھر کے سامنے پہنچ کر اس نے گاڑی روکی اور باہر نکل کر ایک نظر گھر پر ڈالی۔ وہ کوئی زیادہ بڑا گھر نہیں تھا نارمل سا تین منزله گھر تھا۔
فهام نے اپنے قدم دروازے کے طرف بڑھا دیے۔
جیسے ہی اس نے دروازہ ناک کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا دروازہ خود بخود کھلتا چلا گیا۔
وہ منہ اٹھا کر ایسے ہی اندر نہیں جا سکتا تھا اس لئے وہیں دروازے پر رک گیا۔
اندر سے کسی بچے کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ وہ چونک اٹھا۔ یہ آواز حمین کی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ سوچتا اسے کسی لڑکی کی گھٹی گھٹی چیخوں کی آواز سنائی دی۔
فهام بغیر کچھ سوچے سمجھے گھر میں داخل ہو گیا۔گیرآج سے گزر کر وہ لاؤنج میں داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے پهيل گئیں۔
کوئی عورت زمین پر پڑی عنایا کو بری طرح پیٹ رہی تھی جب کہ حمین پاس کھڑا ماما ماما کہہ کر روتا جا رہا تھا۔
“میرے بیٹے کے مرنے کے بعد تجھے تو پوری آزادی مل گئی نا بے حیائی کی۔ غیر مردوں کے ساتھ گل چھڑے اڑاتی ہے ہماری عزت نیلام کرتی ہے۔ تجھے تو میں اس لائق ہی نہیں چھوڑوں گی۔”
فهام ہوش میں آتے تیزی سے آگے بڑھا اور اس عورت کو دھکا دے کر پیچھے کیا۔
“کیا کر رہی ہیں پاگل ہو گئی ہیں آپ!!! اس بیچاری کی جان لیں گی کیا ؟؟؟”
وہ چیخ کر بولتا نیچے بیٹھ کر عنایا کو سیدھا کرنے لگا جو اپنے حواس کھو رہی تھی۔ چہرہ جا بجا نیلوں اور تھپڑوں کے نشانات سے لال تھا۔ ہونٹ کا کنارہ پھٹا ہوا تھا جس میں سے خون بہہ رہا تھا۔
“اے کون ہے تو اور میرے گھر میں کیا کر رہا ہے؟؟؟ اوہ سمجھ گئی تو بھی میری اس بیوہ بہو کا کوئی عاشق ہو گا جو اس کے عشق میں پاگل ہوتا اس کے پیچھے یہاں گھر تک چلا آیا!!!”
جہاں اس کی پہلی بات سن کر فهام کو جھٹکا لگا تھا وہیں اس کی فضول بات پر اس کا دل کیا اس کا منہ تھپڑوں سے لال کر دے پر اس کی تربیت اسے اس چیز کی اجازت نہیں دیتی تھی۔
وہ اس کی کوئی بات کا جواب دیے بغیر روتے ہوئے حمین کو اٹھا کر باہر لے گیا اور گاڑی میں بٹھا آیا۔
واپس آ کر عنایا کو اٹھانے لگا۔
“اے میرا پوتا کہاں ہے اور اسے کہاں لے کر جا رہا ہے۔ چھوڑ اسے ورنہ چیخ چیخ کر پورا محلہ اکٹھا کر لوں گی !!!!”۔
اسے عنایا کو اٹھا کر لے جاتا دیکھ کر وہ چنگھاڑنے لگی۔
“خاموش !!! ایک دم خاموش !!! ابھی پولیس کو کال کروں تو یہاں بلوا سکتا ہوں کہ دیکھو ہمارے آفس کی ایک شریف لڑکی کا کیا حال کیا اس ظالم عورت نے اور جانتی بھی ہو کیا سزا ہو گی تمہیں ؟؟ تمھارے عورت ہونے کا لحاظ کر رہا ہوں تو مجھے مجبور مت کرو کسی قسم کی بد تمیزی پر۔ ابھی اسے ہوسپٹل لے کر جا رہا ہوں۔ تمہارا بندوبست بعد میں کرتا ہوں !!!!”
وہ ترش لہجے میں کہتا عنایا کو لیے گھر سے نکل آیا۔
اسے آرام سے بیک سیٹ پر لٹانے کے بعد خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا۔
“ماما ؟”
حمین کی خوفزدہ آواز پر وہ گاڑی چلاتے ہوئے اس کی طرف متوجا ہوا۔
“ماما کو چوٹ لگی ہے ہم ماما کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر ماما کو انجکشن لگائے گا اور ماما بلکل ٹھیک ہو جائیں گی۔”
وہ اسے پیار سے پچکارتا گاڑی ہوسپٹل کی طرف موڑ گیا۔
@@@@@
وہ عنایا کو ہسپتال سے سیدھا گھر لے آیا تھا۔ وہ جب سے گھر آئی تھی حمین کو اپنے ساتھ لگائے بس روتی ہی چلی جا رہی تھی۔
وہ چاروں بھائی لاؤنج میں بیٹھے تھے جب کہ آبرو اور نہال کو عالم نے اندر عنایا کے پاس بھیجا تھا۔
“کچھ بتایا عنایا نے ؟؟؟”
آبرو کمرے سے باہر آ کر عالم کے سامنے صوفے پر بیٹھی تو عالم نے پوچھا۔ فهام نے بے چینی سے اس کی جانب دیکھا۔
“اس کے بیٹے کی پیدائش سے کچھ ماہ پہلے ہی اس کے ہسبنڈ کی وفات ہو گئی تھی۔ والدین حیات نہیں ہیں اور سسرال والے کافی ظالم ہیں۔ اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پالنے کے لئے جاب کرتی تھی پر ساس بری نظروں سے دیکھتی تھی۔ کل اس کے لئے ایک رشتہ آیا جس پر اس کی ساس کا کہنا تھا کہ وہ کام کے بہانے باہر مردوں سے مل کر انھیں اپنے جال میں پهنساتی ہے اور ان کے مرے ہوئے بیٹے کی عزت نیلام کر رہی ہے۔ اتنی سی بات پر بیچاری کا یہ حال کر دیا۔”
آبرو کے بتانے پر وہ سب افسوس کرنے لگے جب کہ فهام کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
“بھیا آپ ان سے پوچھیں کہ وہ مجھ سے شادی کریں گی کیا ؟؟؟”
فهام کے سوال پر تینوں بھائیوں نے جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا۔
“یہ ممکن نہیں فهام!!!!”
عالم کے دو ٹوک انکار پر فهام نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا۔
