Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300 Junoniyat (Episode 8)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 8)
Junoniyat By Mehar Rania
عائشو یہ کیا دیکھ رہی ہو ۔۔
پندرہ سالہ حنین نے اپنی چودہ سالہ عائشو کو دیکھتے غصہ سے بولا جو موبائل پر ایک کلیپ دیکھ رہی تھی ۔۔
و۔ہ۔آپ۔آپی فرینڈ نے سینڈ کیا بس دیکھ رہی تھی میں ۔۔
عائشو نے گھبراہٹ پر قابو پاتے جلدی سے موبائل حنین کو دیتے ہوۓ کہا ۔۔
شرم کرو کچھ عائشو میں نے تمہاری یہ تربیت کی ہے تم ایسی نہ تھی کیا جواب دو گی میں ماما پاپا کے سامنے مرنے کے بعد کہ میں اپنی بیٹی جیسی بہن کی تربیت اچھی نہ کر سکی ۔۔
حنین موبائل اس کے ہاتھوں سے لیتی چلاتے ہوۓ بولی ۔۔
س۔سوری آپی سچی میں نے ابھی دیکھی نہیں وہ بس اچھا معاف کر دے آپی غلطی ہو گی ۔۔
عائشو اچانک روتے ہوۓ اس کے گلے لگی ہوئ بولی ۔۔۔
ایسی دوست مت بناٶ عائشو جو تمہیں گمراہی کے راستے پر ڈال دے وعدہ کرو کچھ بھی ہو جاۓ تم کبھی ایسا کام مت کرنا کہ مجھے اپنی تربیت پر شرمندگی ہو ۔۔
حنین اس کا ماتھا چومتی ہوئ روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
لیکن آپی آپ تو اتنی پیاری ہے میں وعدہ کرو کبھی ایسا نہیں ہو گا اور آپ کیوں شرمندہ ہوگی ہو میں منہ توڑ دو گی سب کا ۔۔
عائشو منہ بناتے غصہ کرتے بولی ۔۔
ہاہااہااہاہاہا لوگ بات کرتے ہے عائشو وہ سمجھتے ہے ہم دونوں بن ماں باپ کے بچیاں ہے شاہد غلط راستے پر چل پڑے ۔۔۔
لیکن کوئ نہیں جاتا میں نے کتنی مشکل سے تمہاری تربیت کی ہے کیسے پالا ہے ۔۔۔
بس کبھی جو ایسا غلط خیال ذہین میں آے تو اپنی آپی کی محبت یاد کر لینا جس نے ماں بن کر دی ہے ۔۔۔
تم میری سب سے پیاری بیٹی ہو عائشو تمہارے علاوہ مجھے کوئ عزیز نہیں ۔۔
بس مجھے شرمندہ مت کرنا مجھے امید ہے میری بیٹی بہت پیاری ہے معصوم سی ۔۔
حنین عائشو کو گلے لگاۓ روتے ہوۓ بولی ۔۔۔
پکا میں بیٹی آپ کی تو آپ کی بیٹی کبھی بھی آپ کو شرمندہ ہرگز نہیں کرے گی چاہے کچھ بھی ہو جاۓ ۔۔۔
عائشو خوش ہوتی بولی ۔۔
اس سے پہلے عائشو کچھ غلط کرتی ارسلان کے ساتھ جب اس کے کانوں میں یہ آواز گونجی ۔۔
نہیں نہیں کیا میں کتنا گر گی کہ ہوش ہی نہ رہا میں ایسا نہیں کر سکتی ارسلان چاہے محبت ہی سہی پر یہ سب گناہ ہے ۔۔
عائشو ارسلان سے دور ہوتے ہوۓ بولی ۔۔
جبکہ ندامت سے آنکھوں میں آنسو آ رہے تھے ۔۔۔
لیکن میں نے آپی کے ساتھ بھی غلط کیا ہے ۔۔
عائشو کے اندر سے آواز آی ۔۔
نہیں وہ غلط نہیں تھا محبت کرتی ہو ارسلان سے کچھ بھی کر سکتی ہو ۔۔
عائشو چلاتے ہوۓ بولی ۔۔
تو یہ کام بھی کر لو جیسے پہلے کیا ۔۔
عائشو کے دماغ نے دالائل دیتے کہا ۔۔
و۔وہ۔غلط نہیں تھا پر یہ گناہ ہے اور میں ایسا کوئ کام نہیں کر سکتی جس سے آپی کی تربیت پر کوئ حرف آے ۔۔۔
نہیں چاہے مجھے ایسی محبت جس میں گناہ شامل ہو ۔۔
محبت اپنی جگہ لیکن میں اپنی ماں جیسی بہن کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی ۔۔۔
عائشو کاپتے جسم کے ساتھ خود کے اندر لگی جنگ سے لڑ رہی تھی ۔۔
ارسلان ارسلان ہوش کرو ۔۔
عائشو سوۓ ہوۓ ارسلان کے پاس جاتی اسے ہوش میں لاتی ہوئ بولی ۔۔
ہاے یہ ہوش میں نہیں آ رہا ہاں لیموں پانی بنا دیتی ہو ۔۔
عائشو خود سے بات کرتی روم سے چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
اوے موٹی اٹھ جا میرے اوپر سے رات آدھی گزر گی ہے کہاں پھس گیا میں ۔۔
تافشین بیزار ہوتا زری کو خود سے دور کرتے بولا ۔۔
زری کو کوئ ہوش نہ تھا ۔۔۔
کیا اس لڑکی نے مجھے بیڈ سمجھ لیا ہے کیسے سو رہی ہے ۔۔
تافشین زری کا چہرہ دیکھتا ایک دفعہ پھر بولا ۔۔
آئیڈیا میں اس کو شارو دیتا ہو شاہد نشہ اتر جاے ۔۔۔
اور میری جان چھوٹ جاۓ ۔۔
تافشین خودی سوچتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاے میں کتنا ذہین ہو نا بس غرور نہیں کیا ۔۔۔
تافشین اپنے آپ کو فخر سے بولا ۔۔۔
ہاے اس کو اٹھانا پڑے گا ۔۔۔
تافششین کروٹ لیتا ہوا بولا اب یہ حالت تھی زری نیچے اور تافشین اس کے اوپر آیا تھا ۔۔۔
————————————————————
شکر ہے چھوڑ دیا مجھے ایسا کرتا ہو لیموں پانی دو اس کو ہاں یہ ٹھیک ہے ۔۔
تافشین زری کے اوپر سے اٹھتے ہوۓ بولا ۔۔
کیونکہ زری بیڈ پر لیٹتی ہوئ اسے چھوڑ چکی تھی ۔۔۔
زری زری ہوش کرو یہ پیو ۔۔
تافشین کچن سے لیموں پانی بناتا ہوا روم میں آتا زری کو دیتا ہوا بولا۔۔۔
یییی یہ کیا کر رہی ہو بچی ہو کیا پاگل ۔۔
تافشین جو اسے آہستہ آہستہ لیموں پیلا رہا تھا جب زری نے نیند میں ہاتھ مارتے سارا گرا چکی تھی ۔۔۔
اففف یہ لڑکی کہاں پھس گیا میں اچھا بلا گھر جا رہا تھا میں ۔۔
تافشین زری کو پکڑتا ہوا واش روم کی طرف لے کر جاتا ہوا بڑبڑایا ۔۔۔
آہہہی آہہہہہ سیلاب آ گیا بچاٶ نانی نانی ۔۔
تافشین زری کو شارو کے نیچے کھڑا کرتا شارو کھول چکا تھا جب غنودگی میں جاتی زری پر یخ ٹھنڈا پانیپڑتے وہ چلا اٹھی تھی ۔۔۔
کوئ سیلاب نہیں آیا موٹی شکر ہے ہوش آی تمہیں ۔۔
تافشین شکر کرتا ہوا منہ بناتا بولا ۔۔
تمممممم۔یہاں کیسے اور یہ سب ہاےےےے میرا سر پھٹ جانا ۔۔۔
زری حیرت سے تافشین کو کھڑا دیکھ چلائ جب اچانک اپنا سر پکڑ کر بولی ۔۔
ہاں میں پھس گیا تھا چلو اب میں چلتا ہو ۔۔
تافشین سکون سے جواب دیتا ہوا واپس باہر جا رہا تھا ۔۔
ت۔تم ۔نے میرے ساتھ کیا کیا ٹافی ۔۔
زری کو مکمل ہوش آتے اپنے کپڑوں کو دیکھتے ہوۓ بولی جو گیلے ہو چکے تھے ۔۔۔
سب کچھ کیا تمہارے ساتھ اور یار کم کھایا کرو اتنی موٹی ہو جان نکل گی میری ۔۔۔
تافشین ریلکس ہوتا ہوا بولا ۔۔۔
واٹ مطلب تم نے میری عزت آہہہہہہ مطلب فائدہ آٹھایا ۔۔
زری تافشین کا گریبان پکڑتی غصہ کرتے بولی ۔۔۔
واٹ م۔۔۔ہاں میں نے کیا سب کچھ کیا کرو گی زیادہ اپنے دماغ پر زور مت دو آرام کرو تم ۔۔۔
تافشین کا دماغ بھک سے اُڑا تھا زری کی بات سنتے تبھی اس کے ہاتھ اپنے گربیان سے جکٹھتے ہوۓ غصہ سے بولا ۔۔۔
میں چھوڑو گی نہیں تمہیں ٹافی بولو یہ مذاق ہے ۔۔۔
تافیشن جو اسے دور کرتا واش ورم سے باہر آ چکا تھا ۔۔
جب عائشو اس کے پیچھے باہر آتی بولی ۔۔۔
اوووو سیرسیلی اچھا پکڑو مجھے پھر چاہے چھوڑنا مت ۔۔
تافشین زری کی حالت دیکھتا طنز کرتا بولا ۔۔
جس سے کھڑا بھی نہیں جا رہا تھا ۔۔۔
ہاں پکڑو گی تم سب ایسے ہوتے ہو مار دو گی میں ۔۔۔
زری اسے مارنے کے لیے آگے بڑھی اس سے پہلے وہ گرتی جب تافشین نے اپنے مضبوط باہوں میں اسے لیتے بچایا ۔۔۔
چلا تم سے جا نہیں رہا آرام کرو اور اس دماغ کو ٹھنڈا کرو ۔۔
تافشین اسے ہنیڈل کرتا طنز کرتے بولا ۔
ت۔۔۔
زریییییی ۔۔
اس سے پہلے زری کچھ کہتی جب روم کے داوزے پر کھڑی نانی دکھ سے چلائ ان دونوں کو اتنا قریب دیکھ کر ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہوا عائشو تم رو رہی تھی کیا ۔۔۔
عائشو روم میں آتی جیسے تیسے ارسلان کو لیموں پانی پلا چکی تھی
اب ارسلان ہوش میں آتا عائشو کو دیکھتا بولا تھا جو اپنی کالی سرخ آنکیھں لے پاس بیٹھی تھی ۔۔
کچ۔کچھ نہیں وہ تمہارا سر درد کر رہا تھا اس لیے ٹیشن لی میں تو بس ۔۔۔
عائشو نظریں چڑاتے ہوۓ بولی ۔۔
اچھا ہاں یار سر ابھی بھی درد کر رہا ہے ۔۔
ارسلان اپنا سر پکڑتا ہوا بولا ۔۔۔
اب جاٶ یہاں سے رات کافی ہو گی ایسے اچھا نہیں لگتا تم میرے روم میں رہو ۔۔
ارسلان عائشو کو دیکھتا ہوا بولا ۔۔
ہاں میں بس جانے والی تھی تم سو جاٶ ۔۔
عائشو روم سے جاتے ہوۓ بولی ۔۔
کتنی اچھی ہے عائشو میرا اتنا خیال رکھتی ہے یہ سارا دن ۔۔
ارسلان عائشو کے بارے میں سوچتا مسکراتا ہوا دوبارہ لیٹ چکا تھا ۔۔۔
————————————————————
نانی وہ می۔
ادھر آے میں بتاتی ہو سب کچھ ۔۔
زری گھبراتے ہوۓ اپنی نانی کے پاس جاتی بولی ۔۔۔
جبکہ نانی بس گہری نظروں سے تافشین کو گھور رہی تھی ۔۔۔
جاٶ کپڑے بدلوں زری میں نے اس لڑکے سے بات کرنی ہے کوئ ۔۔۔
نانی سختی سے غراتے ہوے بولی ۔۔
ل۔۔
جا رہی ہو تم کہ نہیں ۔۔
نانی اپنے دل پر ہاتھ رکھتی چلاتے ہوۓ بولی ۔۔
نانی نہیں میں جاتی ہو بس آپ سکون میں رہے ط۔۔
جاو زری میں کہہ رہی ۔۔
زری جو روتے ہوے نانی کے پاس آتی بول رہی تھی جب نانی ایک دفعہ پھر بولی ۔۔۔
یہاں آو لڑکے ۔۔
نانی زری کے جانے کے بعد تافشین کو گھورتی پاس بلاتی ہوئ بولی ۔۔
ج۔جی نانی ۔۔
تافیشن بھی گھبراتا ہوا پاس جاتا بولا ۔۔
کیا ہوا تھا زری کو اور یہ سب ۔۔
نانی تافشین کے چہرے کو دیکھتی سخت لہجے سے بولی ۔۔۔
تافشین نانی کو سب کچھ بتا چکا تھا کیسے عائشو کے نشے والے جوس سے یہ سب ہوا ۔۔
ہممممم میری بات مانو گے تم ۔۔
نانی سب سنتی کچھ سوچتی ہوئ تافشین کی طرف دیکھتی بولی ۔۔۔
ج۔جی آپ حکم کرے ۔۔
تافشین نے ڈرتے ہوۓ حامی بھری ۔۔۔
لیکن۔ایسے کیسے نانی آپ میر۔۔۔
جاٶ ارسلان کو بلا کر لاٶ ابھی اور اسی وقت ۔۔
تافشین نانی کی پوری بات سنتا گھبراتے ہوے بولا چہرے پر پیسنہ چھوٹ گیا تھا ۔
پہلی دفعہ اس کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔۔۔
ل۔ز۔
جاٶ بیٹا اگر میری عزت کرتے ہو تو جاٶ ارسلان کو لے کر آو ۔۔۔
نانی ہمت جمع کرتی بولی جبکہ ان کے دل میں درد جاری تھا ۔۔
————————————————————
سر آپ کو کوئ مسٹر تافشین شاہ ملنے آیا ہے ۔۔۔
اس سے پہلے ارسلان سوتا جب روم میں ایک ملازم آتا ہوا بولا ۔۔۔
یہ کیوں آیا ہے درام ٹھیک ہو حنین کی وجہ سے اس معصوم کو بھی بھول گیا میں ۔۔
ارسلان بات سنتا روم سے پریشان ہوتا باہر جاتا ہوا بولا ۔۔۔
کیسے ہو تافشین اور درام کیسا ہے ۔۔
ارسلان ہال میں آتا اس سے ملتا ہوا بولا ۔۔۔
کچھ ٹھیک نہیں یار تو چل میرے ساتھ ابھی زری کی نانی کی بات سن
انہیں کہہ تم یہ کام نہیں کر سکتے ۔۔
تافشین گھبرایا سا اپنی کہہ گیا جبکہ ارسلان کو کچھ سمجھ نہیں آیا ۔۔۔
ہوا کی۔۔۔
تم چلو میرے ساتھ میں راستے میں بتاتا ہو ۔۔
تافشین اس کی بات کاٹتا ہوا اسے زبردستی اپنے ساتھ لے کر جاتے ہوۓ بولا ۔۔
————————————————————
کییییییاا نانی پر آپ زری کی بات سن لے ۔۔۔
ارسلان ان کی بات سنتا حیران ہوتا چلایا ۔۔۔
میں جو کہہ رہی وہی ہو گا عائشو جاٶ زری کو کہو تیار رہے نکاح کے لیے ۔۔
نانی سخت لہجے سے اپنا حکم دیتی بولی ۔۔۔
عائشو ارسلان کے ساتھ ہی آ گی تھی ۔۔
نانی پلیز یہ نہ کرے میرا کوئ قصور نہیں آپ یقین کرے ہم دونوں ن۔۔۔
زری اپنی نانی کی بات مان لو مرنے سے پہلے میں تمہیں کسی اچھے انسان کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہ۔آہہہہہہ آہہہہہ ۔۔۔
نانی جو درد پر قابو پاتی بول رہی تھی جب درد سے چلائ ۔۔
نانی نہیں ایسے مت کہے میں بات مانتی ہو بس
یقین کرے مجھ پر ۔۔
زری روتے ہوۓ بولی ۔۔۔
نانی آپ چیک اپ کر۔۔۔
ارسلان تم نکاح کرواٶ دونوں کا میں دیکھنا چاہتی ہو ۔۔۔
نانی ارسلان کی بات کاٹتی ہوئ بولی ۔۔
زری ت۔۔۔
بھائ پلیز آپ تو یقین کرے میرا میں ایسی لڑکی نہیں سچی چاہے جیسی بھی رہی میں لیکن مجھے اچھے سے پتہ لڑکی کی عزت کتنی ضروری ہوتی ہے ۔۔
ارسلان زری کے پاس بولا جب زری اس کی بات کاٹتی روتے ہوۓ بولی ۔۔
ارے پاگل لڑکی اتنی چھوٹی سی تھی جب سے تم ہمارے ساتھ رہی ہو بھائ ہو تمہارا مجھے پورا یقین ہے تم پر چھوٹی بہنوں جیسی ہو میری بس یہ نکاح کر لو تمہارا یہ بھائ تمہیں کہتا ہے تافشین بہت اچھا لڑکا ہے ۔۔۔
ارسلان زری کے سر پر ہاتھ رکھتے مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
جبکہ آنکھوں میں نمی تھی اس کے ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد زری مسز تافشین شاہ بن چکی تھی ۔۔۔
اس سارے واقعے میں اگر کوئ نہیں بولا تھا وہ تافشین اور عائشو تھے ۔۔۔
———————————————————–
یار میری بہن کا خیال رکھنا مانتا ہو پاگل ہے پر ہے بہت پیاری ۔۔۔
ہاں اسے پاگل پن کے دورے پڑتے ہے تم فکر مت کرنا یہ زردہ چاول ہے ایسی ۔۔
ارسلان نے خود دونوں کا نکاح کروایا تھا ۔۔۔
تبھی اب اسے رخصت کرتے ارسلان ماحول کو ٹھیک کرنے کے لیے بولا تھا ۔۔۔
ہاں اب ساری زندگی میرے سر پڑ گی ہے یہ پاگل ہنیڈل کر لو گا تافشین شاہ میرا نام ہے ۔۔۔
تافشین بھی مذاق کرتا ہوا بولا ۔۔
جبکہ زری آنسو بہاتی نانی کے گلے لگی بیٹھی تھی ۔۔۔
نکاح کے بعد ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا جب ڈاکٹر نے بتایا تھا فکر کرنے والی کوئ بات نہیں نانی کو گیس کی وجہ سے ہارٹ پین ہوا تھا اب کافی بہتر ہے ۔۔
تب سے زری اس کے گلے لگی بیٹھی تھی ۔۔
میں نہیں جا رہی اس بندر کے ساتھ نانی آپ ٹھیک ہ۔۔۔
نہیں بیٹا تم جاٶ گی مجھے پورا یقین تھا دونوں پر یہ نکاح بھی تبھی کروایا میں نے ۔۔
تم اب جاٶ اپنے گھر ۔۔
نانی اس کا ماتھا چومتی ہوئ شفقت سے بولی ۔۔
اچھا نہیں کیا تو نے بندر میرے ساتھ دل کر رہا ہے منہ توڑ دو ۔۔۔
رخصتی کے وقت زری روتی ہوئ ارسلان کے گلے لگی منہ بناتی ہوئ بولی ۔۔
کیا یار اچھی بھلی شکل ہے میری تم مجھے بندر کہ رہی ہو ۔۔
کیوں اچھا نہیں کیا میں نے بلکل ٹھیک کیا بس تم خوش رہنا ۔۔
ارسلان مسکراتا ہوا بولا ۔۔
ایسے ہی زری روتی ہنستی تافشین کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی ۔۔
————————————————————
اے ڈی پکا تم ایسا کرو گے مطلب وہ شخص جانتے ہو نا وہ کون ہے اور۔۔۔
ثمن اے ڈی کے سینے پر سر رکھتی ہوئ ادھوری بات کرتی بولی ۔۔۔
ہممم جانتا ہو میں اچھے سے اسی کی وجہ سے میں آج وہ بنا ہو جو کبھی تھا ہی نہیں سب اسی انسان کی وجہ سے ہوا اب اسے اے ڈی موت دے گا ۔۔۔
اندھیرے میں بھی اے ڈی کی سرخ براٶن آنکھیں چمک رہی تھی ۔۔۔
ہممم۔پ۔۔
سو جاٶ ثمن ورنہ میرے اندر کا جانور جاگ جاۓ گا ۔۔۔
اے ڈی ثمن کو کمر سے پکڑتے ہوۓ سخت لہجے سے بولا ۔۔۔
تم ہو جانور اے ڈی اور مجھے یہ اپنا جانور بہت پسند ہے ۔۔۔
ثمن مسکراتی ہوئ اندھیرے میں اے ڈی کے چہرے کو چھوتی ہوئ بولی جو اب بنا ماسک لگاۓ وہ سکون سے لیٹا ہوا تھا ۔۔۔
———————————————————–
یہ لو پانی پی لو زری فکر مت کرنا میں تمہیں صبح گھر لے جاٶ گا ۔۔۔
تافشین زری کو اپنے ساتھ اپنے پرسنل فارم ہاوس لے کر آیا تھا ۔۔۔
اب بیڈ روم میں بیٹھی زری کو پانی کا گلاس دیتے سکون سے کہا ۔۔۔
ت۔م۔تم
سب تمہاری وجہ سے ہوا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرو گی ۔۔۔
کیا سمجھ کر تم نے ایسا کیا کتنا اچھا انسان سمجھتی تھی میں تم کو تافیشین شاہ اور تم کتنے گھٹیا انسان نکلے ۔۔
زری تافشین کا گربیان پکڑتے زور سے چلاتی ہوئ بولی ۔۔
دیکھو تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے ت۔۔۔
مجھے نہیں کرنا ریسٹ اتنا سب کچھ کر کے
تم کتنے سکون میں ہو اور میری زندگی برباد کر دی تم نے ۔۔۔
زری غصہ سے اس کی بات کاٹتی ہوئ بولی ۔۔
(تافشین بیٹا میری یہ درخواست سمجھ لو یا حکم میں جانتی ہو تم دونوں کے درمیان کچھ نہیں ہوا مجھے یقین ہے ۔۔۔
دیکھو مجھے غلط مت سمجھنا بیٹا پر تمہاری بات سن کر اور عائشو کی حرکت جان کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔۔
نانی دکھ بھرے انداز سے بولی ۔۔۔
تو نانی آپ فکر مت کرے اب سب ٹھیک ہے زری بھی بلکل ٹھیک اب کیوں پریشان ہو رہی ۔۔۔
تافشین ان کی بات سنتا سکون میں آتا ہوا بولا کہ شکر نانی کو دونوں پر یقین تھا ۔۔۔
لیکن وہ نانی کے چہرے پر ابھی بھی پریشانی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
بیٹا وہ تم نکاح کر لو میری بیٹی ہے دیکھو ذروا بہت اچھی بیٹی ہے میری تم ہمیشہ خوش رہو گے میری بات کا یقین کرو ۔۔
نانی آس بھرے لہجے سے تافشین کے ہاتھ پکڑتی التجا کرتی بولی ۔۔
لیکن نانی نکاح کیوں جبکہ آپ ج۔۔۔۔
نہیں بیٹا یہ تم تھے جس نے نشے کی حالت میں زری کا فائدہ نہیں اٹھایا ورنہ تمہاری جگہ اور کوئ ہوتا تو اب تک زری کے ساتھ کتنا برا ہوتا ۔۔۔
ویسے بھی عائشو کی حرکت سے میں ڈر گی ہو آج یہ کیا اس نے کل وہ میری بچی کے ساتھ کیا کرے گی ۔۔
بس میری بات مان لو تم مجھ پر بڑا احسان ہو گا ۔۔
نانی روتے ہوے تافشین کی منت کرتی بولی ۔۔۔
وہ سب ٹھیک ہے نانی پر میں ایسے کیسے کر لو مطلب۔۔۔
تافشین ناسمجھی سے بات ادھوری چھوڑتا ہوا بولا ۔۔۔
دیکھو مجھے اپنی ماں سمجھ لو یا تمہیں تمہاری ماں کی قسم مان جاو بیٹا میں بوڑھی مرنے سے پہلے اپنی بیٹی کو اچھے انسان کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہو ورنہ مجھے سکون نہیں آے گا ۔۔۔
نانی مسلسل روتے ہوۓ بولی ۔۔)
تافشین کو ساری باتیں یاد آ رہی تھی کیسے نانی نے اس سے یہ سب کہا اور اس کی نواسی کیسے غلط مطلب لے رہی تھی بات کا ۔۔
نکاح کے وقت بھی تم نہ بولے مجھے یقین تھا تم منع کر دو گے لیکن نہیں تم منع کیوں کرتے عیاشی کے لیے ایک عدد بیوی جو مل رہی تھی تمہیں ۔۔۔
میری بے ہوشی کا فائدہ اٹھا کر تمہیں سکون نہیں ملا تو سوچا ہو گا شادی کر لو جب دل بھرے گا چھوڑ دو گا ۔۔۔
ایسا ہی سب کچھ تم نے سوچ کر شادی کی ہے میرے ساتھ ۔۔
زری تافشین کو جنجھوڑتی ہوئ جو منہ میں آیا بول رہی تھی ۔۔۔
اووو ہلیو میں نے کچھ نہیں کیا یہ انڈیا کی ہیروہین کی طرح ٹسوے نہ بہاٶ جو ہونا تھا ہو گیا ۔۔۔۔
تافشین بھی غصہ سے جو منہ میں آیا بولتا ہوا اس کے ہاتھ پکڑتا بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔
میری عزت کے لٹرے تم۔۔۔
زبان سبھنال کر بات کرو سمجھی اپنے بارے میں کیا خیال تھا خود میرے قریب آ رہی تھی ۔۔
اب نیک پروین بن گی ہو انہہ ۔۔۔
سب سمجھتا میں یہ سب پیسوں کے لیے کرتی ہو ۔۔
خیر تمہارا مقصد پورا ہوا ۔۔
تافشین اس کی بات کاٹتا کوفت سے بولا ۔۔
میری دعا ہے مر جاٶ تم ۔۔
زری ہکابکا ہوتی بے بسی سے بد دعا دیتی بولی ۔۔
نہیں مرنا کیا کرو گی۔
تم ہاں بتاٶ اب تو کوئ نہیں ہے تمہارے پاس ۔۔۔
کہاں گی تمہاری وہ اکڑ جو لے کر چلتی تھی ۔۔
آہہہہہ یہ وہی زری ہے نہ جس نے میرے منہ پر پیزا مارا تھا ۔۔
ہاہاہہاہاہاہہاہا لاسٹ وارننگ بیوی ہو بیوی بن کر رہو سمجھی سر پر چڑنے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے ۔۔
مجھے بھی شوق نہیں تھا شادی کرنے کا تمہاری نانی کی وجہ سے شادی کی ۔۔
پتہ نہیں کون کا برا وقت تھا جو تمہاری ہلپ کی غذاب بن کر آ گی ہو میری زندگی میں ۔۔
تافشین غصہ سے زری کو بالوں سے پکڑتا ہوا بولا تھا ۔۔
سو جاٶ آرام سے کچھ نہیں کرنے والا میں نہ ہی شوق ہے تمہارے منہ لگنے کا ۔۔۔
تافشین اسے بیڈ پر دھکا دیتے کہتا روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
زری روتے ہوۓ سوچ رہی تھی وہ تافشین کے گھر والوں اور اپنی سب سے اچھی دوست حنین کو کیسے جواب دے گی کہ ان سب میں اس کا کوئ قصور نہیں ۔۔
———————————————————–
ہاے دوست جاگ جاٶ صبح ہو گی ہے ۔۔
درام اپنے سفید خوبصورت ہاتھ حنین کے چہرے پر رکھتے اسے اٹھاتے ہوے بول رہا تھا ۔۔۔
جو کہ گہری نیند میں سو رہی تھی ۔۔
کیا ہے درام سونے دو مجھے تم جاٶ یہاں سے ۔۔
حنین درام کو خود سے دور کرتی نیند میں بولی ۔۔۔
لیکن تم جاگ جاٶ دوست میں نے واش روم جا کر برش کرنا ا۔۔۔
کیا ہے سمجھ نہیں آتی بار بار کہو بچے ہو تم خود کرو سب اور اپنے میل بواۓ کو کہو وہ کرء نوکر نہیں ہو میں ۔۔
تھوڑا سا پیار سے بات کر لو سر چڑ جاتے ہو میرے ۔۔۔
حنین نیند میں ہی غصہ سے چلاتی کروٹ بدل کر سو گی تھی ۔۔یہ جانے بنا درام شاہ ڈرا سہما سا اسے گھور رہا تھا ۔۔۔
دوست ناراض ہو گی مجھ سے میں اب بلکل بات نہیں کرو گا ۔۔۔
درام آنکھوں میں آنسو لاتا منہ بناتا روٹھے پن سے کہتا بیڈ سے اتر کر روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ارے کیا ہوا میرے بیٹے کو ۔۔۔
روم سے باباہر آتے درام کو دیکھ حسن شاہ دیکھتے مسکراتے ہوۓ بولے ۔۔۔
ب۔ر۔بڑے پاپا وہ دوست سو رہی میں پاپا کے پاس جا رہا تیار ہونے ۔۔
درام ان کے قریب آتا روٹھے پن سے بولا جیسے سب سے ناراض ہو ۔۔
اچھا آٶ آج بڑے پاپا تیار کرے گے اپنے بیٹے کو ۔۔
حسن شاہ اسے اپنے ساتھ روم میں لے کر جاتے ہوۓ بولے۔۔۔
چلو جی میرا بیٹا تیار ہو گیا ۔۔۔
حسن شاہ درام کو تیار کرتے بولے جو بلیک شلوار کرتے میں بے حد خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔
سچی کیا میں پھر جاٶ دوست کے پاس ۔۔۔
درام جلدی سے خوش ہوتا بولا ۔۔۔
ہاں چلے جانا پہلے ان پیپزر پر سائن کر دو ۔۔۔
حسن شاہ الماری سے کچھ پیپرز باہر نکال کر لاتے ہوے بولے ۔۔۔
یہ تافی بھائ دیکھ لے پھر سائن کرو گا بڑے پاپا ۔۔
درام ان پیپرز کو دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
نہیں یہ چاکلیٹ لینی ہے تمہاری اس لیے سائن چاہے تھے تم رہنے دو پھر ۔۔۔
حسن شاہ گھبراتے اور جان بوجھ کر لالچ دیتے ہوے بولے ۔۔۔
نہیں آپ لے آنا میں سائن کرتا ہو ۔۔۔
درام جلدی سے سائن کرتا ہوا بولا ۔۔۔
گڈ بیٹا میں ابھی لے کر آتا ہو ۔۔
حسن شاہ جلدی سے کہتے روم سے باہر چلے گے ۔۔۔
ارے بڑے پاپا یہ شلوار ٹھیک کر دے دوست بھی سو رہی مجھ سے چلا نہیں جا رہا ۔۔۔
درام ان کے پیچھے روم سے باہر آتے ہوۓ بولا ۔۔۔
جبکہ حسن شاہ اس سے بے خبر جلدی سے سیڑھیاں اترتے باہر چلے گے تھے ۔۔۔
بڑ ے پ۔۔۔
آہہہہہ آہہہہہہ ۔۔۔
درام جو خود جلدی سے بھاگتا ہوا سیڑھیاں اترتا آ رہا تھا اچانک پاٶں پھسلتے ہوۓ وہ سیڑھیوں سے گر چکا تھا ۔۔۔
دوسری طرف حنین نیند میں گہری گھوم بھول چکی تھی درام شاہ سیڑھیوں سے نیچے گرا ہوا تھا جس کے سر سے خون آنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔
————————————————————
اپنے روم میں سوۓ ہوۓ اس شخص کو اپنے اردگرد ہجوم سا محسوس ہونے لگا تھا اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئ اسے اپنی طرف گھسیٹ رہ ہو۔۔
جب اس شخص کی آنکھ کھلی تو صرف سیاہ اندھیرا دیکھ رہ تھا اور کافی سرگوشیوں سنائ دے رہی تھی۔۔
خوش آمدید خوش آمدید اےڈی کئ جہنم میں خوش آمدید۔۔
ثمن نے اسکو ہوش میں آتے ہوۓ دیکھ کر بولا ۔۔۔
ثمن نے جب دیکھا وہ ہوش میں آگیا ہے تو آدمیئوں کو اشارہ کیا جنہوں نے دوسرے بندھے ہوۓ شخص کو پانی پھینک کر ہوش میں لے کے آے۔۔
اب سب الرٹ ہو چکے تھے کیونکہ اے ڈی کے آنے کا وقت ہو چکا تھا۔۔
وہاں موجود سب لوگوں کی دھڑکنیں تیز ہو چکی تھی۔۔
[ ہر کوئ اے ڈی کی دہشت کو جانتا تھا وہ بہت ہی خوفناک موت دیتا تھا مگر پہلی دفعہ کسی غدار کو سزا دینی یہ وہی دو آدمی تھے جنہوں نے اے ڈی کے خلاف بغاوت کی تھی ۔۔
ان دونوں آدمیوں کو کرسیوں پر
بندھا گیا تھا دونوں کی آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھی گئ تھی۔۔
بلیک ہڈی بلیک ہی ماسک لگاۓ ہاتھوں پر بھی بلیک دستانے پہنے بلیک لونگ شوز پہنے اپنی روعب دار قدموں سے وہ چلتا ہوا آ رہا تھا ۔۔۔
ہاے میرا گینگسٹر آ گیا ۔۔
ثمن خوش ہوتی اس کے پاس جاتی ہوئ بولی ۔۔
بلیک ہی جینز پہنے بالوں کا جوڑا بناۓ براٶن شرٹ پہنے منہ میں ببل ڈالے بنا میک اپ کے وہ اے ڈی کے پاس جاتی کھڑی ہوئ ۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو جاٶ واپس یہاں سے تم ٹھیک نہیں ۔۔
اے ڈی ثمن کو بالوں سے پکڑتا غصہ سے غراتے ہوۓ بولا ۔۔۔
کیا ہوا تھا مجھے کچھ نہیں رات ختم بات ختم وہ کام کرو جو ہم نے کرنا ہے اے ڈی ۔۔
ثمن اس کی سرخ آنکھوں میں دیکھتی اس کا مقصد یاد دلاتے ہوے کہا ۔۔
کھولو ان کی پٹی وہ بھی دیکھنے کس کے سامنے آے ہے ۔۔۔
اے ڈی نے ثمن کو حکم دیتے کہا ۔۔
: اب وہ دونوں اے ڈی کے سامنے تھے اور اپنی بھیانک موت کو سوچ کر اندر تک کانپ گۓ تھے۔۔
ہمممم اے ڈی کے اشارے پہ انکی آنکھوں کی پٹی اتار دی گی۔۔۔
میں صرف ایک دفعہ پوچھو گا
اے ڈی اپنی سرخ براٶن آنکھوں کو اپنے سامنے بندھے ہوۓ آدمیوں کی آنکھوں میں گاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
اگر جواب دیا تو ٹھیک نہیں تو موت تمہارا انتظار کر رہی ہے۔۔
جو اب اپنی بےبسی پر رونا چاہتے تھے ۔۔
کیوں دونوں نے اے ڈی کے ساتھ غداری کی تھی ۔۔۔
کون ہے مسٹر شاہ اور اسے مجھ تک رسائ کیسے حاصل ہوئ۔۔۔
اے ڈی اپنا سفید خوبصورت ہاتھ دونوں کی گردنوں پر رکھتے سکون سے بولا ۔۔
جبکہ دونوں کی گردنوں سے خون آہستہ آہستہ نکل رہا تھا ۔۔۔۔
