Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300

Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300 Last updated: 10 November 2025

220K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat By Mehar Rania

آ گی تم پھر سے آوارہ لڑکی نکلو باہر ابھی کہ ابھی ۔۔۔
روحا ابھی اپنے گھر آی ہی تھی جب دادی اسے دھکا دیتی چیخی تھی۔۔۔
چلی جاٶ گی دادی پہلے مجھے ناولز لینے دے ۔۔۔
روحا انہیں سائیڈ پر کرتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
تم آوارہ ب۔۔۔
ہاں ہو سب کچھ آوارہ بد چلن بلا بلا بلا ۔۔۔
یہ تھکتی نہیں اتنا بول کر ۔۔
اللہٌتوبہ کیا کرے کم از کم آپ کو سکون آۓ گا ۔۔۔
سارا دن اکیلی رہتی ہے کیا میرے بارے میں ہی سوچتی رہتی ہے حد ہے دادی میں تنگ آ گی آپ کی باتوں سے ۔۔۔۔
دادی ایک بار پھر سے بول رہی تھی جب روحا روم سے باہر آتی روتے ہوۓ چلائ تھی۔۔۔۔۔
میرا دل کرے تمہارا قتل کر دو تمہاری وجہ سے میرا بیٹا چلا گیا ا۔۔۔۔
آپ کا بیٹا گیا لیکن میرا تو عزت نفس چلا گیا میں برباد ہوئ آپ کو یہ احساس ہے کاش آپ کے ساتھ یہ سب ہوتا تو پتہ چلتا آپ کو دادی ۔۔۔۔۔
روحا ایک دفعہ پھر سے دھاڑی تھی ۔۔۔۔
ہوا تھا میرے ساتھ بھی میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی تمہارے دادا کی محبت میں پاگل ہوتی اپنا گھر بار چھوڑ کر اس بدکردار انسان کے ساتھ بھاگ گی میں۔۔۔
اس انسان نے نکاح کیا ایک ہفتہ اپنے نکاح میں رکھا عیاشی کی پھر مجھے طلاق دے دی۔۔۔
میں اجڑی حالت میں جب اپنے گھر واپس گی تو مجھے دھتکارا گیا یہ کہہ کر میں آوارہ بیٹی تھی ان کی ۔۔۔۔
پھر اکیلے معاشرے میں رہ گی پھر میری گود میں کامرن آیا ۔۔۔۔۔
اسی نے بھی تمہاری ماں کے ساتھ وہی کیا جو میرے ساتھ ہوا ۔۔
اب تمہارے ساتھ بھی وہی ہوا مطلب تم بھی آوارہ ہوئ پھر ۔۔
ہاہااہاہہاہاہااہاہا۔۔۔۔
دادی اپنا آپا کھوتی قہقہ لگاتی خودی بولتی اب روم میں چلی گی تھی ۔۔۔
انہہ پاگل ہو گی بوڑھی عورت۔۔
روحا بھی برا سا منہ بناۓ روم میں چلی گی تھی۔۔۔۔
--------------------------------------------------------