220K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 3)

Junoniyat By Mehar Rania

آہہہہہہہہ آہہہہہہہ ہاے بچاٶ سیلاب آ گیا ۔۔

ہاے میری شادی بھی نہیں ہوئ ۔۔۔

تممممممم ظالم عورت روکو میں ابھی تمہیں بتاتا ہو ۔۔۔

ارسلان نیند سے جاگتا ہوا حنین کو دیکھتے بولا ۔۔۔

ارسلان کو وہ کب سے جاگا رہی تھی نیچے آ جاے لیکن وہ نیند میں ایسا بے ہوش تھا جیسے کوما میں چلا گیا ہو ۔۔۔

تبھی اسے اس کے اوپر پانی کا جگ گرایا تھا ۔۔۔

کیا دیکھ رہے تھے خواب میں سلانٹی ۔۔

حنین دانت پیستی بولی ۔۔

وہی جو روز آتا ہے ۔۔۔

اے ڈی ۔۔۔ارسلان مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

کیا ہے اس میں سیریل کلر ہے دیکھنا تمہارا قتل نہ کر دے وہ ۔۔۔

حنین منہ بناتی بولی ۔۔۔

ہاں سب سے پہلے کہو گا تمہارا قتل کرے ظالم عورت ۔۔

ارسلان تنگ کرتا بولا ۔۔۔

مر جاٶ تم دفع ہو ۔۔۔

حنین غصہ سے اسے لات مارتی بولی ۔۔۔

ہاہاہا کدھر مرنا ہے مجھے بتانا میں مر جاٶ ۔۔۔۔

ارسلان قہقہ لگاتا بولا ۔۔۔۔

جہنم میں مرو جا کر بغیرت انسان ۔۔۔

حنین روم سے باہر جاتی جل کر بولی ۔۔۔

اگر تم جہنم میں ہوئ ساتھ تو ہی مرو گا ۔۔۔

ارسلان نے جلدی سے پوچھا ۔۔۔۔

———————————————————–

دیکھ عائشو میری عزت رکھ لینا نہیں تو خودی جان نکل دو گی تیری ۔۔

زری دانت پیستی بولی ۔۔

صبح نانی نے اسے کہا تھا ایک لڑکا اسے دیکھنے آے گا تو زری شرافت سے اس سے مل لے ۔۔۔

تبھی زری اور عائشو نے پلان بنایا تھا عائشو لڑکا بن کر آے گا اور شو یہ کرواۓ گا زری اس سے محبت کرتی ہے ۔۔۔

بالوں کو اچھے سے کور کیے اس کے اوپر پی کیپ لی ۔۔۔

براٶن شرٹ اور براٶن ہی پینٹ پہنے عائشو لڑکوں والے لک میں تیار کھڑی تھی ۔۔۔

جب زری پاس آتی بولی ۔۔

چپ کر جا ایک تیرا کام کرو دوسرا تم ایسا کرتی ہو ۔۔

عائشو برا مانتی ہوی بولی ۔۔۔

اچھا اچھا میری ماں معاف کر دے چل ہو جا شروع ۔۔۔

زری منت کرتی بولی ۔۔۔

————————————————————

آپ کچھ کہنا چاہتی ہے ۔۔

لڑکا شرماتے ہوے بولا ۔۔

زری اور وہ کیفے آے تھے ۔۔

ہاں اگر تم تھوڑا شرما لو تو آسانی ہو گی ۔۔

لڑکی میں ہو شرما تم رہے ہو ۔۔۔

زری بیزار ہوتی بولی ۔۔۔

وہ کب سے دیکھ رہی تھے لڑکا بات کر کے زری کو شرماتے ہوے دیکھ رہا تھا بار بار ۔۔

کہاں مر گی ہو عائشو کی بچی آ جا ۔۔۔

زری دانت پستی دل میں سوچا ۔۔۔

ہاے زری بے بی کیسی ہو ۔۔۔

ہاے اس کی آواز کو کیا ہوا خیر مجھے کیا شکر آ تو گی ۔۔۔

ہاں آہہہہہہ آہہہہہہہ تم ۔۔

زری اس کی آواز سنتی بولتی جب پیچے موڑ کر دیکھا تو چیخ پڑی ۔۔۔

تافشین جو کیفے اپنے دوستوں کے ساتھ کافی پینے آیا تھا ۔۔

جب سامنے والے ٹیبل پر زری کو کیسی لڑکے ساتھ بیٹھا دیکھا تو اسی طرف چلا گیا تاکہ تنگ کر سکے ۔۔۔

کیا ہوا جان ڈر گی اچھا بتاٶ یہ کون ہے ۔۔

تافشین طنزیہ مسکراہٹ لاتا ہوا بولا ۔۔

ہاں ہاں تم آو ۔۔

زری دانت پیستی ہوئ بولی ۔۔۔

اچھا پہلے ہگ تو کرو کتنے دن بعد مل رہے ہم ۔۔۔

تافشین جان بوجھ کر اس کا ہاتھ پکڑتا اپنے ساتھ کھڑا کرتا بولا ۔۔۔

ہگ نہیں جوتا کھاٶ گے تم وہ اچھے سے مارتی ہو میں ۔۔۔

زری دانت پیستے بولی ۔۔۔

جبکہ سامنے والا لڑکا بیٹھا یہ سمجھا تھا دونوں کوئ ضروری بات کر رہے ہے ۔۔۔

ارے جان کھانا بھی کھا لو گا ۔۔۔پہلے تمہیں تو دیکھ لو ۔۔

تافشین طنز کرتا اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا زور سے دبوچتا ہوا بولا ۔۔۔

کیا جنگلی انسان چھوڑو مجھے ۔۔

زری زور لگاتی بولی ۔۔۔

کیا کرنے یہاں آی تھی پتہ نہیں کیا لڑکی ہو تم ایسے منہ اٹھا کر آ گی ۔۔۔

تافشین اب غصہ کرتا بولا ۔۔۔

دونوں بھول چکے تھے وہ کہاں ہے ۔۔۔

ایکسوزمی آگر آپ دونوں کی بات ہو گی ہو میری بھی سن لے ۔۔۔

لڑکے نے گلا تر کرتے کہا ۔۔۔

ہاں ضرور میری جان ناراض ہو چکی تھی سو بس وہی مانا رہا تھا ۔۔

تافشین کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا ۔۔۔۔

اچھا آپ دونوں دوست ہے کیا ۔۔

ارے یہ پاگل ہے کیا ہم دونوں کو دوست مان رہا ہے جبکہ میری باتوں سے صاف لگ رہا ہم دونوں میں چکر چل رہا ۔۔۔

کہاں سے یہ منٹیل پیس اٹھا کر لائ ہو ۔۔۔

تافشین زری کے کان میں سرگوشی کرتا بولا ۔۔۔

پتہ نہیں کون ہے یہ سب جان چھڑوا دو میری تم جو کہو گے میں وہی کرو گی بس یہ رشتے سے منع کر دے ۔۔۔

زری منت کرتے بولی ۔۔۔

ہاے اب دیکھنا ابھی بھاگتا یہ۔۔

تافشین مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

اچھا پھر واقعی آپ دونوں شادی کرنے والے ۔۔۔

کافی دیر سے تافشین اپنے اور زری کی لو سٹوری سنا رہا تھا ۔۔۔

جب لڑکا حیران ہوتا پوچھا ۔۔۔

ہاں میں تو مان ہی نہیں رہا تھا پھر اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تو ترس کھاتے میں مان ۔۔۔۔آہہہہہہہ آہہہہہہہ ۔۔۔

کون مان گیا تھا جان ۔۔۔

زری دانت پیستی بولی ۔۔

وہ کب سے تافشین

کی باتیں سنتی بور ہو تھی اب آخری والی بات سنتے اس کے پاٶں پر پاٶں مارتی بولی جو درد سے چیخ رہا تھا ۔۔۔

ہاں ہاں یہ پاگل عورت مان گی تھی خودکشی میں نے کی تھی پیار جو اتنا ہے ۔۔۔

سو پلیز آپ جاۓ ۔۔۔

تافشین زری کی کمر پر ہاتھ رکھتا سکون سے بولا ۔۔

تو پھر آپ لوگ شادی کب۔۔۔

رک زرا کب سے کہہ رہے ہم دونوں شادی کرنے والے تمہیں سمجھ نہیں آ رہا جاٶ یہاں سے کیا اب ہمارے بچوں کے نام رکھ کر جاٶ گے جاہل انسان ۔۔۔

زری کا پارہ ہائ ہوتا وہ اپنا جوتا لڑکے کو دیکھاتی غصہ سے بولی ۔۔۔

سوری سوری جبکہ لڑکا اب معافی مانگتا بھاگ گیا تھا ۔۔۔

———————————————————–

ویسے اگر تم چاہو تو بچے کے نام ہم رکھ سکتے ہے ۔۔۔

وہ مسکراہٹ دباتے ہوے بولا ۔۔

زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے ٹافی اب جاٶ یہاں سے اور۔۔۔

ہاۓ نہیں باے زری ۔۔

اس سے پہلے زری کچھ کہتی جب عائشو اپنی انٹری دیتی بولی۔۔۔

ارے یہ کیوٹ سا بچہ رہ گیا کسی کا کوئ ہے ۔۔

تافشین عائشو کے پاس آتا بولا ۔۔

جو واقعی بچہ لگ رہی تھی ۔۔

شیٹ اپ ۔۔۔

عائشو منہ بناتی بولی ۔۔

ارے ارے میلا بےبی ناراج ہو گیا کیا ۔۔

تافشن عائشو کے گال کیھچتا طنز کرتا بولا ۔۔۔

ہاتھ توڑ دینے میں نے تمہارے ٹافی عائشو ہے یہ ۔۔۔

زری تافشین کے ہاتھ پیچے کرتی بولی ۔۔

ہےےےےے یہ عائشو ہے ۔۔۔

وہ حیران ہوتا بولا ۔۔۔

جی پیزے والے بھای ۔۔

عائشو دانت نکالتی ہوئ بولی ۔۔۔۔

چلو شکر ہے کوئ عقل مند لڑکی آی آو ہم کافی پیے اس پاگل عورت نے دماغ ہلا دیا ۔۔۔

تافشین عائشو کو ساتھ لے کر جاتا بولا ۔۔۔

تم میری دوست ہو یہی روکو ورنہ جان ۔۔

اووو مس یہ میری ہے تم جاٶ یہاں سے کیوں عائشو ۔۔۔

وہ زری کی بات کاٹتا عائشو کی طرف دیکھتا بولا ۔۔۔

جو کھڑی ہاں میں سر ہلا رہی تھی ۔۔۔

جاٶ مرو دونوں اللہٌکرے کافی میں چوہا گر جاۓ ۔۔۔

زری عائشو کی کمر پر مکا مارتی غصہ سے بولی ۔۔

ہاں اگر وہ کافی ہوئ تمہیں ضرور دو گا پی لینا ۔۔۔

تافشین طنز کرتا آنکھ ونک کرتا بولا ۔۔۔

بے شرم بغیرت انسان مجھے نفرت ہے تم سے ۔۔۔

دور جاتے تافشین کو دیکھتے زری چلای ۔۔۔

شکریہ پر مجھے کون سے عشق ہے تم سے میں بھی نفرت کرتا ہو ۔۔۔

تافشین دور جاتا اُونچی آواز سے بولا ۔۔۔

———————————————————–

سلانٹی تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گے ۔۔۔

میں ایسا ہی کرو گا اتنے دن ہو گے ڈیل ہوۓ کو اب میری شادی ہونی چاہے ۔۔۔

ارسلان اور حنین دونوں سیڑھیوں سے اترتے بات کر رہے تھے ۔۔۔

تم اچھا نہیں کر رہے سلانٹی ورنہ میں جو کرو گی تو دیکھنا ۔۔۔

حنین وارننگ دیتی بولی ۔۔

کیا کرو گی تم ہاں بس قبول کہنا ہے تم نے ۔۔۔

ارسلان جو خوشی سے کہتا ہال میں انٹر ہوتا بول رہا تھا ۔۔۔۔

آہہہہ آہہہ اچھا ہوا اب مرو یہی پر ۔۔۔

حنین اس کی ٹانگ پکڑے زمین پر گرایا ۔۔۔

کہاں جا رہی ہو میرے ساتھ ہی مرو گی ۔۔

حنین جو اسے گراے جا رہی تھی جب ارسلان نے اسے پکڑے بھی گراتے ہوے کہا ۔۔

شرم کر لو اپنے ہونے والے شوہر کو گرا کر جا رہی تھی ۔۔۔

ارسلان اس کا پاٶں پکڑتا ہوا بولا ۔۔

شوہر بننے تو نہیں چلو ہٹو یہاں سے ۔۔

حنین دوبارہ اٹھتی بولی جس میں ناکام ہوئ ۔۔۔

وہ پھر زمین بوس ہوئ تھی ۔۔۔

ارسلان چھوڑو میرا پاٶں بڑے پاپا کو آواز دو گی میں ۔۔

حنین اپنا پاٶں چھڑواتی بولی ۔۔۔

بلکل نہیں اگر میں نہیں اٹھ پا رہا تو تم بھی ایسی رہو گی ۔۔۔

ارسلان سکون سے زمین پر لیٹا ہوا بولا تھا ۔۔۔

آہہہہہہ آہہہہہہہ کیا ہے یہاں کیوں سو رہے سلانٹی ۔۔۔

عائشو جو نیند میں چلتی آ رہی تھی ٹکر لگتے ارسلان پر گری ۔۔۔۔

تو تم یہاں کیا کرنے آی ہو ایک ہنیڈل مشکل سے ہو رہی اب تم آ گی ۔۔۔

ارسلان منہ بناتا ہوا بولا ۔۔

جبکہ عائشو سکون سے اس کے اوپر گری اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ارے یہ کون ہے پلیز میرا ہاتھ پکڑ کے اٹھاٶ ۔۔۔

حنین جو دونوں کو دیکھ رہی جب اسے اپنے سامنے سیفد جوگر دیکھے تبھی بنا دیکھے ہاتھ اوپر کرتے بولی ۔۔۔

درام شاہ جو بڑی مشکل سے اجازت لیتا عائشو کے گھر ملنے آیا تھا اب ہاتھوں میں گلاب لیے وہ نیچے گری حنین کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

پرپل شرٹ براون پینٹ پہنے ٹیل پونی بناے جو شولڈر سے نیچے تک آتی تھی ۔۔۔

گہری براٶن آنکھیں جو ہر وقت شرارت سے چمکتی تھی ۔۔۔

وہ مسکراتی ہوئ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

ت۔تم۔ٹھیک ہو ۔۔

درام اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا ۔۔۔

ہاٶ سویٹ میں بلکل ٹھیک ہو سر ۔۔۔

حنین مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

س۔سر کون ۔۔

درام شرماتا ہوا بولا ۔۔۔

ارے تم سر ہو ہمارے تو ۔۔۔

ارسلان بھی ہوش میں آتا جلدی سے بولا ۔۔۔

نہی۔نہیں ہم دوست ہے ۔۔۔

درام جلدی سے گلاب حنین کو دیتا ہوا بولا ۔۔

ہاں ہم دوست آو یہاں ۔۔۔

حنین اس کی حالت اس کی حالت سمجھتی ہوئ بولی ۔۔۔

تمہیں میری آپی کیسی لگی ۔۔۔

عائشو درام کی طرف دیکھتی بولی ۔۔

جو مسلسل حنین کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔

ب۔بہت پیاری ہے ۔۔۔

درام مسکراتا ہوا بولا ۔۔

جس سے اس کے ڈمپل شو ہوۓ ۔۔۔

اچھا چلو پھر آپی کے پاس چلتے ہے ۔۔

عائشو خوش ہوتی اسے حنین کے پاس لے کر گی ۔۔۔

———————————————————–

پاپا پاپا کدھر ہے ۔۔۔

درام گھر آتا زور و شور سے بول رہا تھا ۔۔۔

کیا تکلیف ہو گی ہے تمہیں جو گلا پھاڑے بول رہے ۔۔

پاگل زندگی حرام کر دی میری تم نے ۔۔

نتاشا بیگم اپنی نائٹی پہنے سیڑھیوں سے اترتے ہوے بولی ۔۔۔

مام۔۔۔

ماں نہیں ہو میں تمہاری سمجھی پاگل انسان ۔۔

نتاشا بیگم اسے دھکا دیتی حقارت سے بولی ۔۔۔

نتاشاااااا۔۔۔

کیوں بھول جاتی ہو اپنے بیٹے کی وجہ سے میں تمہیں برادشت کرتا ہو ورنہ کب کا طلاق دے چکا ہوتا تمہیں ۔۔۔

اچانک اشرف صاحب انٹر ہوتے گرتے درام کو پکڑتے ہوے دھاڑے ۔۔۔۔

اننہہ پہلے اس پاگل کو ہنیڈل کر لو ۔۔

نتاشا بیگم حقارت سے بولی ۔۔

پ

ما ما گندی ۔۔

درام مسلسل روتا ہوا بولا ۔۔۔

نہیں بیٹا ایسا کچھ نہیں چلو آو میرا بیٹا آج کتنا خوش ہے ۔۔

اشرف صاحب اس کا ذہین بدلتے ہوے بولے جس میں کامیاب ہوۓ ۔۔۔

پوری رات درام صرف حنین کی تعریف کرتے تھکا نہیں تھا ۔۔۔

وہ ساری بات بتا رہا تھا کیسے سارا دن اس کا گزارا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

دیکھو اشرف ہم تمہیں منافع ہی دے رہے ہے ۔۔

وہ زمین ہمیں چاہے ۔۔۔

مضطفٰی کمال لالچ دیتے بولا ۔۔۔

نہیں بلکل نہیں اس زمین پر لاکھوں کے حساب سے غریب لوگ کام کرتے ہے میں وہ نہیں دے سکتا چاہے تم زیادہ پیسے دو بھی تو ہرگز نہیں ۔۔

اشرف صاف اٹل جواب دیتے بولے ۔۔

کیا چاہتے ہو دشمنی پڑے ہمارے درمیان میں چاہو تو ایک منٹ میں وہ زمین آڑا سکتا ہو ۔۔

کمال اچانک کھڑا ہوتا بولا ۔۔

تم چاہے جو مرضی کرو مجھے پرواہ نہیں ۔۔

اشرف بے نیاز ہوتا بولا ۔۔۔

سوچو جو تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے ہے ان کو اگر کچھ ہو گیا پھر ۔۔۔

کمال بات ادھوری چھوڑتا بولا ۔۔

میرا اللہٌ میرے ساتھ ہے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے میں ہرگز غریب بچوں کی قربانی نہیں دو گا ۔۔۔

اشرف غصہ سے کہتا ہال روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

پاپا پاپا دیکھے یہ چھوٹا کتنا تنگ کرتا ہے ۔۔۔

اشرف صاحب جب گھر آے تو ان کا دس سال کا بیٹا قریب آتا ہوا بولا ۔۔

درام بیٹے بڑے بھائ کو تنگ نہیں کرتے ۔۔

اشرف اپنے چھوٹے بیٹے کو سمجھاتے ہوے بولے جو بے حد شرارتی تھا ۔۔۔

لیکن پاپا بگ بی کو تنگ کرنے میں مزہ آتا ہے ۔۔

درام اپنی گہری کالی آنکھوں میں چمک لاتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

بیٹا بھائ ہے آپ کا چھوٹا ویسے تنگ کرتا ہے ۔۔۔

اپنی اسٹڈی میں بیٹھے اشرف صاحب اپنا ماضی سوچ رہے تھے ۔۔۔

کتنا کچھ بدل گیا اگر آیا نہیں تو وہ شخص جو گھر کی رونق تھا ۔۔۔

اشرف افسوس سے سوچتا ہوا بولا ۔۔۔

———————————————————-

شکر ہے حنین آج ہم دونوں کو ٹائم ملا ۔۔

زری سکون سے بیٹھتی ہوئ بولی ۔۔۔

ہاں یار بس کام ہی اتنے ہوتے کہ ٹائم نہیں ملتا تو سنا پھر رشتہ ہوا کہ نہیں ۔۔

حنین کولڈ ڈرنک پیتے ہوے بولی ۔۔

آج دونوں شاپنگ کرنے آی تھی ۔۔۔

جب شاپنگ سے تھک کر وہ فوڈ کورٹ میں جا کر بیٹھی تھی ۔۔۔

سچی یہ سب ہوا ہاہاہاہا ویسے مجھے لگتا وہ لڑکا پکا تمہارے بچوں کا نام رکھ کے جاتا ۔۔

حنین پوری بات سنتی اسے لات مارتی بولی ۔۔۔

اے موٹی اندھی مار کیوں رہی ہے ۔۔۔

زری چڑتے ہوے بولی ۔۔۔

کیونکہ پاگل تجھ پر پیار آ رہا ہے ۔۔۔

حنین آنکھ ونک کرتی بولی ۔۔

چل ہٹ یہاں سے ٹھرکی عورت جہاں میرے جیسے معصوم لڑکی دیکھی نہیں وہاں اپنا ٹھرک شروع کر لیا کر ۔۔۔

زری جوابی لات مارتی ہوئ بولی ۔۔۔

دونوں اتنا مصروف تھی لڑنے میں یہ تک بھول گی وہ گھر نہیں باہر مال بیٹھی ہے ۔۔۔

رک زرا ابھی بتاتی میں کتنی زور سے مارا تو نے ۔۔

حنین غصہ میں آتی اپنا جوتا اترتی دمھکی دیتے بولی ۔۔۔

اچھا اب نہیں کرتی دیکھ کتنے لوگ ہے ہماری عزت کا سوال ہے ۔۔۔

زری آس پاس دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔

چل معاف کیا کھا لو پہلے ۔۔

حنین احسان کرتی بولی جبکہ نظر سامنے پڑے برگرز بریانی شوارما ان سب چیزوں پر تھی ۔۔۔

————————————————————

اے موٹی کیا یہ سارا سامان اپنے قل کے لیے مانگوا لیا ہے ۔۔۔

زری سب کچھ دیکھتی شوک میں بولی ۔۔۔

نہیں تیرے قل کے ہے کھانا ہے تو کھا لے ورنہ دفع ہو ۔۔۔

حنین برگر کھاتی بیزار ہو کر بولی ۔۔۔

نہ بہن میرے قل پر چنے بانٹ دینا یہ سب تیرے قل کا ہے اور میں ضرور کھاٶ گی ۔۔۔

زری بھی بریانی کھاتی بولی ۔۔۔

کم کھاٶ زری ہم گھر نہیں باہر آی ہے ۔۔

حنین دانت پیستی زری کو دیکھتے بولی جو پورا منہ بریانی سے بھرے مسلسل کھا رہی تھی ۔۔۔

تم کم کھا لو میں ہرگز نہیں کھاٶ گی ہاے میری تو جان ہے بریانی اب چپ کر جا ۔۔

زری بڑی مشکل سے بولی ۔۔

ہاے زری کھانا ہو گیا شاپنگ ہو گی اب کچھ اور کرے ۔۔

حنین منہ بناتی ہوئ بولی ۔۔

ہاں چلو کچھ کرتے ہے اپنا موبائل دو مجھے زرا کسی کو تنگ کرتے ہے ۔۔

زری اپنا پلان بنتی ہوئ بولی ۔۔

فون عائشو کے پاس ہے میں لے کر نہیں آی ۔۔

حنین برگر کھاتی بولی ۔۔

اس کے پاس موبائل کیوں ہوتا ہے دیکھنا کوئ دھماکہ نہ کر دے ۔۔

زری بریانی سے منہ بھرتے مشکل سے بولی ۔۔

اسے چھوڑ تو اپنا منہ دیکھ پھٹ نہ جاۓ ۔۔۔

حنین یہ کہتے وہاں سے بھاگ چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

آہہہہ آہہہہہہہہ۔۔۔

کی۔کیا ہو زری ۔۔

حنین جو اپنا سامان لیتی گاڑی کی طرف جا رہی تھی ۔۔

جب زری کو بھاگتے ہوۓ آتے دیکھ پوچھا ۔۔۔

ک۔کت۔کتا آ رہا بھاگ یہاں سے ۔۔۔

زری پھولے سانس سے مشکل سے بولتی اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئ بولی ۔۔

لیکن۔گاڑی۔۔۔

نہیں وہ گاڑی میں بھی آ جاے گا تو بھاگ ۔۔

زری بھاگتے اس کی بات کاٹتی ہوئ بولی ۔۔

اب یہ حالت تھی وہ دونوں آگے اور ان کے پیچے تین کتے بھاگ رہے تھے ۔۔۔

تم نے کیا کیا تھا جو اتنے کتے آے ۔۔

حنین غصہ کرتی بولی وہ مسلسل بھاگ کر تھک گی تھی ۔۔۔

یار ہال سے باہر آ کر دیکھا یہ سب بھوکے ہو گے میں نے بریانی ڈالتی بھاگ آی اب پتہ نہیں کیوں آ رہے پیچے اب یہ اپنے رشتے دار بھی لے آیا ہے ۔۔۔

زری پیچے دیکھتی مسلسل بھاگتی ہوئ بولی ۔۔

حنین کا دل کیا زری کو جوتے مارے جب بریانی ڈالی تھی تو بھاگنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔

یہ ہیمں مارننگ واک کر وا رہا ہے یار میں تھک گی ۔۔

زری زمین پر بیٹھتی ہوئ بولی ۔۔۔

آہہہہ آہہہہہ میں مر گی کتے نے کاٹ لیا ۔۔۔

زری جب اٹھنے لگی تب کسی نے اس کا پاٶں پکڑ لیا تھا تبھی چیختی بولی ۔۔۔

کیا مئسلہ ہے تمہارے ساتھ دیکھو اپنا پاٶں اٹک گیا ہے کسی چیز میں ۔۔۔

حنین غصہ سے اس کے سر پر مارتی ہوئ بولی ۔۔۔

ہاے مطلب ہم بچ گی شکر ہے ۔۔۔

زری خوش ہوتی بولی ۔۔۔

بچ تو گی لیکن یہ سمجھ نہیں آ رہا ہم آے کہاں ہے ۔۔

حنین آس پاس جگہ دیکھتی بولی جو بلکل سنسنان تھی ۔۔