Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300 Junoniyat (Episode 13)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 13)
Junoniyat By Mehar Rania
ت۔تم زندہ ہو میں جانتا تھا تم کبھی نہیں مر سکتے میرے بھائ ۔۔
اے ڈی اپنے سامنے درام کو دیکھتا دیوانہ وار اس کا چہرے چومتا ہوا بولا ۔۔
چ۔ھ۔و۔ڑ۔دور۔۔
چھوڑو مجھے گندے آدمی ۔۔۔
درام طش میں آتا اے ڈی کو خود سے دور کرتا بولا ۔۔۔
اے ڈی پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے اپنے بھائ کی ایسی حالت دیکھ کر جو بچوں کی طرح ایسا ری ایکٹ کر رہا تھا ۔۔۔
ت۔کیسے۔ہ۔۔
تم کیوں ایسے ہو بھائ اور کیا ہوا ہے میری جان کو ۔۔
اے ڈی دوبارہ درام کے قریب آتا ہوا بولا ۔۔۔
آہہہہہہ آہہہہہ گھر جانا ہے گندے آدمی دوست کو نہیں پتہ میں یہاں آیا ہو ۔۔۔
اچانک درام زور و شور سے روتے ہوے بولا ۔۔۔
درام حنین کو بتاۓ بنا شاہ پلیس کی بیک سائیڈ پر بنے جنگل کی طرف واک کرنے آ گیا تھا ۔۔۔
جب اس نے اے ڈی کو دیکھا ۔۔۔
اے ڈی کی لک دیکھتا درام ڈر گیا تھا تبھی وہاں سے بھاگ گیا تھا اے ڈی نے اسے پکڑ لیا ۔۔۔
اچھا اچھا دوست کے گھر جاتے ہے تم پہلے میرے گھر آو گے ۔۔۔
اے ڈی خود پر ضبط کرتا بولا اتنے سال جس کا انتظار کیا وہ شخص ویسا تو تھا ہی نہیں جو پہلے ہوا کرتا تھا یہ تو کوئ معصوم بچہ لگا اے ڈی کو رونے میں مصروف تھا ۔۔۔
ت۔م۔مج۔لے جاٶ گے وہاں میرا گھر ہے ۔۔
درام اچانک خوش ہوتا ایک اس جگہ اشارہ کرتا بولا جہاں شاہ پلیس اپنی شان سے کھڑا تھا ۔۔۔
پہلے یہ بتاٶ اس رات کیا ہوا تھا ۔۔۔
اے ڈی درام کو کندھوں سے پکڑتا ہوا بولا ۔۔۔
کیونکہ جانتا وہ بھی نہیں تھا اس کے بعد ہوا کیا تھا ۔۔۔
و۔ہ۔مر۔گی۔تھ۔خو۔ن۔آگ۔آہہہہہہ آہہہہہہہ مجھے بھی مار دے گے وہ تم بچا لو مجھے نہیں تم سپر ہیرو تافی کو بلاٶ وہ مارے گے سب کو ۔۔۔
درام کچھ یار کرتا ڈرتا ہوا بول رہا تھا جب اچانک کچھ یاد آتے چلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
چپ چپ میرے بھائ ہم لے گے اپنا بدلہ اس انسان سے بلکہ تم لو گے اس انسان کی وجہ سے بڑی ماما ہمارے پاس نہیں رہی ۔۔
اے ڈی درام کی حالت دیکھتا اسی کے قدموں میں بیھٹتا روتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اس کے لیے یہی خوشی کی بات تھی سب زندہ ہے اس کے اپنے ہے اس کے ساتھ ۔۔۔
ت۔م۔کی۔تم کیوں رو رہے بیٹ مین ۔۔
درام اے ڈی کے پاس بیٹھتا اپنے ہاتھوں سے آنسو صاف کرتا ہوا بولا ۔۔۔
بیٹ مین ۔۔
اے ڈی اس کی کالی گہری آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا ۔۔
ہاں۔ت۔م۔نے یہ ماسک لگایا ہے سپر ہیرو اور ہیرو نے نہیں لگایا ہوتا یہ ۔۔
درام نے اپنی طرف سے سمجھداری والی بات کی ۔۔۔
ہاہاہاہااہا واقعی میں بیٹ مین یار تمہاری جدائ نے مجھے ایسے بنا دیا اب تم بنو گے اے ڈی ۔۔۔
اے ڈی درام کو گلے لگاتا ہوا بولا ۔۔۔
اے ڈی بن کر کیا میں ڈیشوم ڈیشوم کر کے مار سکتا ہو ۔۔۔
درام خوش ہوتا پوچھ رہا تھا ۔۔۔
ہاں میری جان اب سے خودی ہر کام کرے گا میری جان چھوٹ جاۓ گی یہ سب کرتے ۔۔
اے ڈی سکون میں آتا ہوا بولا ۔۔۔
————————————————————
یہ۔ہم دونوں ہے کیا واہ ہ ہ سیم سیم ۔۔۔
درام اے ڈی کے ساتھ بلیک ہاوس آ چکا تھا جب اسے کے روم میں اپنی اور اے ڈی کی پک دیکھتا ہوا بولا جہاں دو بھائ آپس میں کھڑے تھے ۔۔۔
ہاں یہ ہم دونوں ہے ۔۔۔
اے ڈی درام کے گال کیھچتا ہوا بولا ۔۔۔۔
اچھا پھر تم ہمارے ساتھ کیوں نہیں پتہ پاپا کو ۔میں بتاٶ گا تم میرے جیسے ہو ۔۔
درام اے ڈی کا ہاتھ پکڑتا خوش ہوتا بولا ۔۔۔
بہت جلد میں بھی پاپا کو ملو گا بھائ پر ابھی نہیں اچھا چھوڑو آسکریم کھاٶ تمہیں پسند ہے ۔۔۔
اے ڈی درام کو آسکریم دیتا ہوا بولا ۔۔۔
ت۔تم۔تافی بھائ کو فون کرو کہو درام تمہارے ساتھ ہے اور سپر گرل کو کہنا درام آج نہیں کھیلے گا ۔۔۔
درام اے ڈی کا فون پکڑے اسے دیتے ہوۓ بولا ۔۔۔
لیکن نمبر تو مجھے نہیں آتا ۔۔۔
اے ڈی معصوم سی شکل بناۓ بولا ۔۔۔
لو پاگل یہ فون پر تم سپر ہیرو لکھو نمبر آ جاۓ گا ۔۔۔
درام نے پھر سمجھدرای سے جواب دیا ۔۔۔
آہہہہ آہہہہہ میرا کیوٹ سا بے بی ۔۔۔
اے ڈی درام کے گال چومتا پیار سے بولا جو بچوں کی طرح باتیں کر رہا تھا۔۔۔
اے ڈی کے چومنے پر درام شرما گیا تھا ۔۔۔
اچھا وہ تمہاری دوست ٹھیک ہے مطلب مارتی تو نہیں ا۔۔۔
محبت کرتی ہے مجھ سے وہ پتہ ہم نے پکی والی دوستی کر لی اب نہیں چھوڑے گی مجھے ۔۔۔
درام اے ڈی کی بات کاٹتا مسکراتا ہوا بولا ۔
اے ڈی جان گیا تھا اس کے سرخ چہرے پر خوشی کے رنگ دیکھ کر وہ کتنا خوش تھا اپنی دوست کے ساتھ ۔۔۔
گڈ اور تو کوئ تمہیں تنگ نہیں کرتا مجھے بتاٶ میں پوچھتا ہو ۔۔۔
اے ڈی درام کے ساتھ وہی زمین پر بیٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اے ڈی کے سارے آدمی حیران پریشان کھڑے تھے یہ سب دیکھ کر جہاں دو چھبیس سال کے باڈی بلیڈر لڑکے زمین پر بیھٹے بچوں کی طرح کھیل رہے تھے ۔۔۔
درام کی حفاظت کے لیے اےاے ڈی نے اپنے روم کے اندر کافی آدمیوں کو کھڑا کیا تھا ۔۔۔
و۔ہ۔گندی ماما ۔۔
وہ کہتی مر جاٶ م۔میں تم بتاٶ کیسے مرتے ہے ۔۔۔
اگر میں مر گیا تو پاپا اکیلے رہ جاۓ گے ۔۔
درام نتاشا بیگم کو یاد کرتا اچانک روتا ہوا بولا ۔۔۔
بس تم کیوں مرو گے مرے گے وہ سب جہنوں نے ہم سب کو الگ کر دیا تم رو مت میری جان ہو ۔۔
اے ڈی خود اپنی آنکھوں میں آنسو لاتا ہوا بولا ۔۔۔
———————————————————–
ارے واہ ہ میں کوئ خواب تو نہیں دیکھ رہی مطلب آج گینگسٹر کے روم کی لائٹس آن ہے ۔۔۔
ثمن اے ڈی کے روم میں آتی ہوئ بولی ۔۔
جہاں ہر چیز بلیک کلر کی تھی ۔۔۔
ثمن ثمن ثمن میری جان ہاے میں کتنا خوش ہو تمہیں بتا نہیں سکتا ۔۔۔
اے ڈی ثمن کے پاس جاتا اسے کمر سے پکڑتا اس کے گال چومتا ہوا بولا ۔۔۔
اے ڈی کے سب آدمیوں نے یہ منظر دیکھتے مسکراتے ہوۓ سر جکھا گے تھے ۔۔
اگر تم نے ایسا ری ایکٹ کرنا تھا گینگسٹر تو میں کب کی روم میں آ چکی ہوتی ۔۔
ثمن خوش ہوتی اے ڈی کی گردن میں باہیں ڈالے بولی ۔۔۔
ہاں یار میں بہت خوش ہو تمہیں پتہ چلے گا تو تم بھی خوش ہو گی ۔۔
اے ڈی دوبارہ اپنے لب اس کے گال پر رکھتا ہوا بولا ۔۔۔
بس کرو اے ڈی اب تم بے شرم ہو رہے ہو ۔۔
ثمن شرماتی ہوئ بولی ۔۔۔
ا۔۔۔۔۔مجھے بھی کس چاہے بیٹ مین ۔۔
جیسے سپر ہیرو تافی کرتا ہے ۔۔۔
اس سے پہلے اے ڈی کچھ کہتا جب درام وہی یہ سب دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاں ضرور میری جان بھائ کرے گا کس بتاٶ کتنی چاہے ۔۔
اے ڈی ثمن کو چھوڑتا درام کے پاس زمین پر بیٹھتا ہوا بولا ۔۔۔
یہاں بھی یہاں بھی اور یہاں بھی ۔۔۔
درام اپنا چہرہ بازو اور سر آگے کرتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاں ضرور ۔۔۔
یہ کہتے ہی اے ڈی درام کو پکڑتا دیوانہ وار چوم رہا تھا جبکہ آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے ۔۔۔
کافی عرصے بعد اس نے اپنے بھائ کا لمس محسوس کیا تھا ۔۔۔۔
م۔۔۔
آہہہہہہ آہہہہہہہ کتنا پیارا ہے یہ اور خوبصورت بھی ہاۓےےےے ۔۔۔
اس سے پہلے درام کچھ کہتا جب یہ منظر دیکھتی ثمن چیختی ہوئ آتی درام کے چہرے کو چھوتی ہوئ بولی ۔۔
د۔و۔ر رہو تم۔۔۔
درام ڈرتا ہوا ثمن کو دور کرتا ہوا بولا ۔۔
ریلکس درام یہ میری دوست ہے ثمن شاہ ۔۔
اے ڈی اسے سکون سے جواب دیتا ہوا بولا ۔۔۔
اچھا تم بیٹ گرل ہو جیسے یہ بیٹ مین ہے ۔۔
درام ثمن کی طرف دیکھتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاں وہی کیا میں تمہارا چہرہ چھو سکتی ہو ۔۔
ثمن مسکراتی اس کے چہرے پر ڈمپل دیکھتی ہوئ بولی ۔۔۔
ہممممم۔۔پر کس مت کرنا دوست کرتی ہے ۔۔
درام مانتا ہوا بولا ۔۔۔
————————————————————
ہاے کتنا خوبصورت ہے یہ گینگسٹر کہاں سے ملا یہ اور بچوں جیسا کیوں مطلب ایج اس کی۔۔۔
میرا بھائ ہے یہ وہی جیسے تم کہتی تھی مر چکا ہے ۔۔۔
اے ڈی ثمن کی بات کاٹتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
کہیییییییااااا مطلب یہ اے ڈی ہے گینگسٹر ۔۔۔
ثمن حیران ہوتی درام کی شکل دیکھتی ہوئ بولی جو اے ڈی کی گود میں سر رکھے گیمز کھیل رہا تھا ۔۔۔
ہاں وہی یہ اصلی اے ڈی ہے ثمن میرا بھائ جو اپنا بدلہ لے گا ۔۔۔
اے ڈی درام کا ماتھا چومتا ہوا بولا ۔۔۔
لیکن یہ کیسے گینگسٹر یہ تو بچہ لگتا ہے اور میں ہر گز نہیں مانتی یہ وہی اے ڈی ہے جس کا ذکر تم کر چکے ہو ۔۔۔
ثمن ابھی بھی شوک ہوتی بولی ۔۔۔
میں بناٶ گا اسے اے ڈی کیونکہ میں اے ڈی نہیں ہو ثمن تم بھی جانتی ہو بس اس کا روپ لے کر وحشت پھیلائ تھی ۔۔
پر اب یہ اپنے روپ میں آے گا بس میں ٹھیک کرو گا اپنے بھائ کو میں تھک گیا ہو اے ڈی بن بن کر اب بس جس کا حق ہے وہی یہ کام کرے گا ۔۔۔۔
اے ڈی ثمن کی طرف دیکھتا تحمل سے بولا ۔۔۔
————————————————————
لیکن اے ڈی تم ہو ۔۔۔
ثمن کنفیوژ ہوتی بولی ۔۔۔۔
میں اے ڈی بنا جس کا مطلب احد درام ہے دو بھائ جو اپنا بدلہ لے گے پر یہ اے ڈی اصلی والا ہے جس کا مطلب تم جانتی ہو ۔۔۔
مطلب یہ درام ن۔۔۔۔۔
ہم دونوں کون ہے یہ بس ہم جانتے ہے درام ٹھیک ہو جاۓ ہم خودی بتا دے گے درام اور احد ہے کون ۔۔۔
بس اب ہم اسے ٹھیک کرے گے تافی بھاہیٶ کے ساتھ مل کر ۔۔۔
اے ڈی ثمن کی بات کاٹتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔
جو دونوں کی طرف دیکھتی کنفیوژ ہو رہی تھی ۔۔۔
اففففف گینگسٹر میں پاگل ہو جاٶ گی چھوڑو سب باتوں کو ابھی تو مجھے انجواۓ کرنے دو ۔۔۔
۔ثمن درام کی طرف دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔
————————————————————
گینگسٹر تم اس جیسے ہو کیا خوبصورت جیسے یہ ہے ۔۔۔
ثمن درام کے گال پر ہاتھ رکھتی ہوئ بولی ۔۔۔
ہاں اس سے کم شاہد ۔۔۔
اے ڈی ٹھنڈی آہ بھرتے ہوے بولا ۔۔۔
ہاۓ جیٹھ جی میں ثمن شاہ گینگسٹر کی بیوی ۔۔۔
ثمن درام کندھے پر ہاتھ رکھتی مستی میں بولی ۔۔۔۔
ک۔و۔کون تم بیٹ گرل ۔۔
درام ثمن کی بات سنتا نا سمجھی سے بولا ۔۔۔
ہاہاہاہا ۔۔
کیا یار اتنے بھاری بھرکم لفظ یوز کر رہی ہو اسے سمجھ نہیں آنا ۔۔۔
اے ڈی قہقہ لگاتا ہوا بولا ۔۔۔
گینگسٹر مجھے انجواۓ کرنے دو پھر یہ اے ڈی بن جاۓ گے تو مجھ سے تب بولا بھی نہیں جانا ۔۔۔
ثمن اے ڈی کی طرف روٹھے پن سے دیکھتی ہوئ بولی ۔۔۔
مطلب یہ جیٹھ جی ہم نے شادی کر لی ۔۔۔
ثمن درام کی طرف دیکھتی شرماتے ہوے بولی ۔۔۔
اچھ۔اچھا مطلب دوست ہے بیٹ مین تمہارا ۔۔۔
درام خوش ہوتا بولا ۔۔۔
ہاں دوست ہے تمہاری دوست ہے ۔۔۔
ثمن درام کے گال کیھچتی ہوئ بولی ۔۔۔
ہاں دوست بھی اور سپر گرل بھی ۔۔۔
افففف دونوں پاگل ہے اللہٌ مجھے بچا لے ۔۔۔
اے ڈی دونوں کی طرف دیکھتا اوپر منہ اٹھاتا ہوا بولا ۔۔۔
جہاں دونوں اسے اگنور کیے ایک دوسرے کا انٹرویو لے رہے تھے ۔۔۔
———————————————————–
توبہ ہے ثمن جیتنا تم بول چکی ہو درام کے ساتھ جب یہ ٹھیک ہو گا سب سے پہلے تمہاری یہ لمبی زبان کاٹے گا ۔۔۔
اے ڈی جلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ ثمن اسے مسلسل اگنور کر رہی تھی ۔۔۔
کیوں ڈرا رہے ہو مجھے سیدھے طریقے سے کہو تم جلیس ہو رہے ہو گینگسٹر ۔۔۔
ثمن اے ڈی کی طرف آتی اس کی آنکھوں کو چومتی ہوئ بولی ۔۔۔
توبہ بے شرم لڑکی میرا بھائ سامنے بیٹھا ہے کچھ لحاظ کر لو ۔۔۔
اے ڈی درام کی طرف دیکھتا دانت پیستا ہوا بولا جو بڑے مگن ہوتے اے ڈی اور ثمن کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
پھر جیٹھ جی آنکھیں بند کر لے ۔۔
ویسے بھی ثمن اپنے گینگسٹر کو چھوڑ نہیں سکتی ہمیشہ عشق کرتی رہے گی ۔۔۔
ثمن نے دوبارہ وہی حرکت کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
ب۔ی۔بیٹ مین تمہیں ہر کام آتا ہے کیا ۔۔۔
درام اے ڈی کا ہاتھ پکڑتا کچھ سوچتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاں بلکل بتاٶ کون سے کام سکھنا تم نے ۔۔۔
اے ڈی محبت سے اس کے ہاتھ چومتا ہوا بولا ۔۔۔
و۔وہ۔تم مجھے سکھاٶ کس کیسے کرتے ہے ۔۔۔
درام ڈرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بس اتنی سی بات ایسے کرتے ہے ۔۔
اے ڈی اس کی بات سنتا اس کے ہاتھ ہر کس کرتا بولا ۔۔۔
ارے یہ والی نہیں یہاں جو کس جاتی ہے وہ والی بتاٶ ۔۔۔
درام اپنے سر پر ہاتھ مارتا پھر اپنے لبوں پر انگلی رکھتا ہوا بولا ۔۔۔
اے ڈی اور ثمن دونوں گڑبڑا گے تھے اس کا اشارہ سمجھ کر ۔۔۔
گینگسٹر تمہارا بھائ واقعی بہت خطرناک ہے میری توبہ اگر اب کچھ کہا یا کیا اس کے سامنے ۔۔۔۔
ثمن گھبراتی ہوئ اے ڈی کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔
ہممم یار اس سے پہلے بھائ کچھ اور کرے مجھے لگتا ہے گھر چھوڑ دے ۔۔
اے ڈی بھی گھبراتا ہوا بولا ۔۔۔
بتاٶ مجھے بیٹ مین تم سب کام کر لیتے ہو ۔۔
درام دونوں کی طرف دیکھتا بے چین ہوتا بولا ۔۔۔
وہ بھائ مجھے یہ کام نہیں کرنا آتا تم ایسا کرو گھر جاٶ تافی بھاہیٶ یہ پوچھنا وہ بڑے ہے ہم سے انہیں سب کام کرنے آتے ہے ۔۔۔
اے ڈی نے معصوم سی شکل بناۓ کہہ جبکہ آنکھوں میں شرارت تھی ۔۔۔
پکا وہ بتا دے گے ۔۔۔
درام پریشان ہوتا بولا ۔۔۔
ہاں پکا اور یہ پرچی بھاہیٶ کو دینا پھر میرے پاس تم دونوں آنا ۔۔۔
اے ڈی سکون میں آتا ہوا بولا ۔۔۔۔
اوکے پھر میں جاٶ گھر ۔۔۔
درام زمین سے کھڑا ہوتے اپنی ہڈی صیح کرتے خوش ہو کر بولا ۔۔۔۔۔
ہاں جاٶ میری جان خیال رکھنا ۔۔۔
اے ڈی درام کا ماتھا چومتے اپنے آدمیوں کے حوالے کرتا ہوا بولا ۔۔۔۔
باۓ بیٹ مین باۓ بیٹ گرل ۔۔۔
درام روم سے باہر جاتا ہوا اپنا ہاتھ ہلاتا ہوا کہتا جا چکا تھا ۔۔۔
خوش ہو گینگسٹر ۔۔۔
ثمن اے ڈی کے گلے لگتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔
بہہہہتتتت جان میں بتا نہیں سکتا ۔۔۔
اے ڈی اپنی گرفت اس پر مضبوط کرتا روم کی لائٹس آف کرتا ہوا بولا ۔۔۔۔
———————————————————–
حنین درام کہاں ہے جنگل کی لوکیشن آ رہی ہے کہا بھی تھا اس کے پاس رہا کرو ۔۔
تافشین حنین اور زری کے پاس آتا پریشان ہوتا بولا ۔۔۔
ارے بھائ وہ واک پر گیا ہو گا ۔۔۔
آپ پریشان مت ہو آے ناشتہ کرے ۔۔
حنین ٹیبل پر ناشتہ لگاتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
لی۔۔۔
اگر ہم درام کو ٹھیک کرنا چاہتے ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے بھائ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔
حنین تافشین کے کچھ کہنے سے پہلے بول پڑی ۔۔۔
ہممم بات تو ٹھیک ہے پھر بھی بچہ ذہین ہے اس کا کچھ ہو نہ جاۓ تم دونوں یہی رہو میں دیکھ کر آتا ہو۔۔۔
تافشین باہر کی طرف جاتا ہوا بولا ۔۔۔
بلکل نہیں ناشتہ کرے وہ خودی آ جاۓ گا میں زرا بابا کو ناشتہ دے آٶ ۔۔۔
حنین تافشین کو روکتی ہاتھوں میں ٹرے لیتی کہتی چلی گی تھی ۔۔۔۔
ہممممم تاشو کیا کھاۓ گے آپ ۔۔۔
زری تافشین کی کرسی کے قریب آتی بولی جو کرسی پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
دماغ ٹھیک تو ہے ہل تو نہیں گیا ۔۔۔
تافشین شوک ہوتا ہوا بولا ۔۔۔
کیوں دماغ تو ٹھیک میرا ۔۔۔
زری پریشان سی اپنے سر کو ہاتھ لگاتی ہوئ بولی ۔۔۔
نہیں مطلب ٹافی سے تاشو کب بن گیا میں یہ بات ہضم نہیں ہوئ ۔۔۔
تافشین زری کا ہاتھ پکڑتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
جاٶ دفع ہو ٹافی کے بچے میں عزت دے رہی تھی تمہیں راس نہیں آی ۔۔
زری روٹھے پن سے بولی ۔۔۔
نہ۔۔۔
تافی سپر ہیرو تافی سپر ہیرو تافی سپر ہیرو ۔۔۔
اس سے پہلے تافشین کچھ کہتا جب درام ہال میں انٹر ہوتا خوش ہوتا چلاتا تافشین کے قریب آیا ۔۔۔
ارے ارے میرا بچہ کیا ہوا آرام سے میں آدھر ہی ہو ۔۔۔
تافشین کھڑا ہوتا درام کو گلے لگاتا ہوا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جو گہرے گہرے سانس لیتا اس کے گلے لگا تھا ۔۔۔
وہ سپر ہیرو میں بہت خوش ہو نہیں میں اتنا خوش ہو تافی سپر ہیرو ۔۔۔
درام اس سے الگ ہوتا اپنی باہیں کھولے خوش ہوتا بتا رہا تھا ۔۔۔
یہ تو بڑی اچھی بات ہے میرا دانی خوش ہے چلو پہلے ناشتہ کرے پھر تم مجھے بتانا کیوں خوش ہو ۔۔
تافشین اس کا ماتھا چومتا کرسی پر بیھٹتا ہوا بولا ۔۔۔
————————————————————
اچھا پھر بیٹ مین سے ملے تو کیا کہتا وہ ۔۔
تافشین زری درام تینوں ناشتہ کر رہے تھے جب درام خوش ہوتا بتا رہا تھا ۔۔
ہاں بیٹ گرل بھی تھی سپر گرل میں نے بتایا میرے پاس بھی ہے سپر گرل ۔۔
درام زری کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
پھر کب ملے گے ہم تمہارے یہ بیٹ مین اور گرل سے ۔۔
زری درام کے گال کیھچتی ہوئ بولی ۔۔
جس کے چہرے پر معصومیت تھی ۔۔
ہاں یہ پرچی دی بیٹ مین نے اور یہ کام کرنا آپ نے ۔۔۔
درام ہڈی سے ایک پرچی نکالتا ہوا تافشین کو دیتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاں ضرور بتاٶ تم ۔۔۔
تافشین وہ پرچی کھولتا ایک نظر دیکھتا اپنی جیب میں رکھتا ہوا بولا ۔۔۔
اے ڈی کا پیغام اسے مل چکا تھا ۔۔۔
اب جلد ہی وہ ملنا چاہتا تھا اے ڈی سے ۔۔۔
وہ بیٹ مین نے کہا آپ مجھے بتاۓ گے یہ والی کس کیسے ہوتی ہے ۔۔۔
درام تافشین کی طرف دیکھتا اپنے لبوں کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا ۔۔۔
کیییاااا۔۔۔
زری اس کی بات کا مطلب سمجھتی شوک میں بولی ۔۔۔
جبکہ تافشین سکتے میں چلا گیا تھا ۔۔۔
و۔ہ۔وہ۔مجھے نہیں پتہ تم ایسا کرو حنین کے پاس جاٶ وہ پریشان ہو رہی ہے ۔۔۔
تافشین ہوش میں آتا ہکلاتے ہوۓ بولا ۔۔
ت۔ت۔۔تم بتا دو سپر گ۔۔۔
درام یار مجھے یاد آیا میں نے تاشو کے کپڑے استری کرنے ہے ۔۔۔
زری نے جب دیکھا درام اس کی طرف دیکھتا ہوا بول رہا تھا جب زری بہانہ بناتی گھبراتی ہوئ بھاگ گی تھی ۔۔۔۔
اب تم کہاں جا رہے تافی سپر ہیرو ۔۔
درام کرسی سے اٹھ کر جاتے تافشین کو دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
تمہارے بیٹ مین کے پاس بچپن میں بھی میرا جینا حرام کرتا تھا یہ اور اب بھی پہلے اچھے سے اس کی طیبعت صاف کر کے آو جو تمہارے معصوم سے ذہین میں یہ بات ڈالی ہے ۔۔۔
تافشین دانت پیستا ہوا کہتا باہر چلا گیا تھا ۔۔
اے ڈی کے بچے اب بچ مجھ سے زرا جو خیال کرو میرا میں بڑا ہو تم سب سے لیکن نہیں عزت زرا نہیں کرنی تم لوگوں نے ۔۔
تافشین دانت پیستا خود سے بات کرتا باہر آتا گاڑی میں بیٹھ رہا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
یہ نشہ کچھ زیادہ چڑ گیا ہے مجھے آنکھیں ہی نہیں کھول رہی ۔۔۔
حسن شاہ رات کو نشہ کرتا اپنے روم میں بیڈ پر لیٹے ہوۓ بولے جو بامشکل اپنی آنکھوں کو کھول پا رہے تھے ۔۔۔
جبکہ اندھیرے میں صوفے پر بیٹھا اے ڈی سکون سے یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
آہہہہ آہہہہ آہہہہہہ۔۔۔
حسن شاہ کے منہ سے خون کی الٹی آی تھی جب وہ درد سے چلاۓ تھے ۔۔۔
ت۔ف۔تافشین۔بی۔۔
تافشین بیٹا ۔۔۔
حسن شاہ درد سے تڑپتے بامشکل بول پاۓ تھے کیونکہ زبان بلکل مفلوج ہو رہی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا یہ تڑپ یہی تڑپ چاہے تھی مجھے اور آواز لگاٶ افسوس کوئ سننے والا نہیں ۔۔۔
اے ڈی اندھیرے میں اس کے پاس آتا ہوا بولا تھا ۔۔
ک۔کو۔ن۔آہہہہہہہ ۔۔
حسن شاہ ڈرتے اندھیرے میں اے ڈی کا سایہ دیکھتے بولے تھے جب ناک سے بھی خون کا فوارہ پھوٹ پڑا ۔۔۔۔۔۔
تیری موت حسن شاہ ۔۔۔
اے ڈی حسن شاہ کے اوپر جھکتے پر سرار لہجے سے بولا ۔۔۔
حسن شاہ کے رویگھنٹے کھڑے ہو چکے تھے یہ الفاظ سن کر ۔۔۔
