Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300 Junoniyat (Episode 7)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 7)
Junoniyat By Mehar Rania
اوو سوری آپ کو لگی تو نہیں ۔۔
شاہ نے فکر مندی سے اس شخص سے پوچھا جو اس کے اوپر آ کر گرا تھا ۔۔
شاہ کیفے بیٹھا مسلسل سامنے بیٹھی زری اور حنین کو گھور رہا تھا ۔۔
جب کوئ اچانک اس کے اوپر آ کر گرا تھا ۔۔
شاہ اپنے دھیان میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔
نہیں ۔۔
وہ شخص جلدی سے اس کے اوپر سے اٹھتا ہوا بولا ۔۔
کیا کر رہی ہے یہ اسے گھر ہونا چاہے تھا کیسے دانت نکال رہی ہے یہ ۔۔
شاہ نے بلکل دھیان نے دیا تھا وہ شخص کون تھا کیسے گرا اسے اگر یاد تھا تو بس اتنا زری حنین سامنے بیٹھی باتیں کر رہی تھی ۔۔
کیا ہو گیا ہے مسٹر شاہ کدھر دھیان ہے آپ کا اےڈی ہمارے ہاتھ سے نکل کر بھاگ چکا ہے ۔۔
باس نے بیلو توتھ سے چلاتے ہوے کہا جیسے شاہ اپنے کانوں میں لگاۓ بیٹھا تھا ۔۔۔
ایس۔ایسے کیسے سر میں نے تو دیکھا نہیں ۔۔
شاہ ہوش میں آتا ہکلاتے ہوے بولا جبکہ اب نظر پورے کیفے میں گھوم رہی تھی ۔۔
اے ڈی ہے وہ سامنے سے اپنا کام کر کے چلا جاتا ہے اتنے ہونہار ہو تم اور ایسی غفلت افسوس صد افسوس ہوا مجھے مسٹر شاہ ۔۔
باس نے افسوس سے کہتے ہوے فون کاٹ دیا ۔۔
سر سر م۔۔
شیٹ کیسے ہو سکتا ہے یہ صرف ایک منٹ میرا دھیان گیا اور وہ آ کے چلا بھی گیا ۔۔
شاہ ٹیبل پر زور سے مکا مارتے ہوے خود سے بولا ۔۔۔
یہ کیا ہے ۔۔
شاہ نے اپنی ہڈی کی جیب میں ایک چیٹ دیکھتے سوچا جو نکل کر باہر آ گری تھی ۔۔
چچچچ افسوس مسٹر شاہ کیا بولو میں جس انسان کو بچانے آے تھے وہ بچارہ ابھی تمہاری آنکھوں کے سامنے دنیا کوچ کرے گا ۔۔
بہت افسوس ہوا کیسے شاہ ہو مجھے پکڑ نہ سکے خیر امید ہے پھر ملاقات ہو گی ویسے پہلی دفعہ کوئ اے ڈی کے ٹکر کا آیا ہے مزہ آے گا ۔۔
ویسے آنکھیں پیاری ہے میں کہتا ہو گلاسز لگاٶ کیونکہ تمہیں قریب سے بھی کوئ چیز نظر نہیں آتی ۔۔۔
ہاہاہہاہااہاہاا جن لڑکیوں کو گھور رہے تھے بس وہی کام کرو کیونکہ اے ڈی کو پکڑنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔۔۔
مبارک ہو پہلی ہار ۔
مسڑ شاہ ۔۔
تمہارا دشمن اے ڈی ۔۔
آہہہہہہہہ ۔۔
نہیں ہو سکتا یہ مطلب وہ شخص اے ڈی او ۔۔۔
چٹاکککککککک۔۔۔
اس سے پہلے شاہ غصہ میں کچھ سوچتا جب اس نے اپنے سامنے ایک ویٹر کو گرتے ہوے دیکھا جس کے منہ سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔
اے ڈی میں تمہیں چھوڑو گا نہیں ۔۔
شاہ غصہ سے چلاتا ہوا کیفے سے نکل گیا تھا ۔۔
————————————————————
کیا ہوا حنین کب سے بات کر رہی میں بول کیوں نہیں رہی ۔۔۔
زری حنین کی طرف دیکھتی بولی جو کیفے کے ڈور کو مسلسل گھور رہی تھی ۔۔۔
زری یار مجھے ایسے لگا جیسے ابھی درام گیا ہو یہاں سے بلیک ہڈی میں اور اب ایک اور شخص ہڈی میں گیا دونوں کی لک سیم تھی یار بس فیس کو کور کیا تھا باقی باڈی ایک جیسی تھی ۔۔
حنین حیران پریشان ہوتی بولی ۔۔
پہلے اس نے اے ڈی کو باہر جاتے دیکھا ابھی وہی دیکھ رہی تھی جب پھر اس نے سیم اسی کی طرح شاہ کو جاتے ہوے دیکھا ۔۔
تیرا خیال ہو گا یار خودی بتایا تو نے درام گھر پر ہے وہ ٹھیک نہیں پھر کیسے ہو سکتا ہے لگتا نیند پوری نہیں ہوئ تمہاری ۔۔
زری اس کو پرسکون کرتی بولی ۔۔
ہاں یار ہو سکتا ہے ہاےےےے درام اسے بھوک لگی ہو گی اور میں یہاں چل میں چلتی ہو ۔۔
حنین یہ کہتے اچانک کھڑی ہوتی سر پر ہاتھ مارتی ہوئ بولی ۔۔
سوری یار پتہ نہیں چلا اور تم لیٹ ہو گی چلو جاٶ وہ بھوکا ہو گا ۔۔
میں زرا عائشو کی طرف جا کر یہ دے آو ۔۔
زری بھی شرمندہ ہوتی کھڑی ہو کر بولی ۔۔
نہیں ابھی مت جانا رات کافی ہو رہی ہے صبح۔۔
نہیں یار نانی کی طعبیت نہیں ٹھیک یہ بس تمہارے لیے آی تھی صبح نہیں جا پاٶ گی ابھی دے دو گی ۔۔
دونوں کیفے سے باہر نکلتی باتیں کر رہی تھی ۔۔۔
میں چھوڑ۔۔
ارے کیوں یہ بائیک ہے میری میں چلی جاٶ گی تم فکر مت کرو ۔۔
زری اپنی بائیک پر ہاتھ رکھتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔
————————————————————
دیکھو دانی تھوڑا سا کھا لو میں پھر تمہیں ایک اچھی سی سٹوری سناٶ گا ۔۔
تافشین درام کی منت کرتا بولا ۔۔
ابھی وہ گھر آیا تھا جب ملازمہ نے کہا تھا درام نے کھانا نہیں کھایا تبھی وہ پریشان ہوتا روم میں آتا بول رہا تھا ۔۔۔
بلکل نہیں دوست آے گی پھر کھاٶ گا ورنہ وہ ناراض ہو جاے گی ۔۔
درام بیڈ پر بیٹھا منہ بناتا ہوا بولا ۔۔۔۔
دیکھو دوست آے گی تو ہم پیزہ کھاۓ گے وعدہ اب تھوڑا سا کھا لو ۔۔
تافشین پاس بیٹھتا ہوا بولا ۔۔۔
نہ۔۔۔
اس سے پہلے درام کچھ کہتا جب تافشین نے اس کی گردن کی مخصوص نس دبا کر بے ہوش کر دیا تھا ۔۔۔
سوری دانی یار یہ کرنا ضروری تھا ورنہ تمہاری طبعیت خراب ہو جاتی ۔۔۔
تافشین درام کو بیڈ پر سیدھا لٹاتے ہوے بولا ۔۔۔———————————————————–
دیکھو درام میں تمہارے لیے چوکلیٹ لے کر آی ہو ہم یہ کھاۓ گے اور سوری میں لیٹ ہو گی ۔۔
حنین روم میں آتی خودی بول رہی تھی افسوس اسے بھی تھا درام اس کی وجہ سے بھوکا ہو گا تبھی چوکلیٹ بھی لے آئ تھی ۔۔
شکر ہے آ گی ہو میں سمجھا تھا آج اپنے دکھ بتا کر ہی آو گی تم ۔۔
تافشین جو درام کے پاس بیٹھا تھا حنین کو اندر آتے دیکھ طنز کرتا بولا ۔۔
مطلب ۔۔
حنین نے منہ بناتے ہوے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔
مطلب جو بھی ہو میرے بھائ کو سبنھالو شادی کی ہے تم نے شوق ہے تو اپنی ذمہ داری نبھاو ۔۔
بھوکا ہے وہ کب سے کھا بھی نہیں رہا کچھ وہ ناسمجھ ہے نہیں جانتا شادی کیا ہوتی ہے لیکن تم عقل والی ہو شوہر کا خیال رکھو تم ۔۔
اب بار بار میں نہیں ہو سکتا اس کے پاس سمجھی تم ۔۔
تافشین اس کے پاس آتا زرا سختی سے بولا ۔۔
جبکہ ضبط کرنے سے اس کی براٶن آنکھیں سرخ ہو چکی تھی ۔۔
غصہ کیوں کر رہے ہو تم میں سبنھال ہی رہی ہو بار بار یہ کہنا شادی کی میں نے اپنی مرضی سے نہیں کی جو اس پاگل سے کرتی میں ۔۔
ایک بچہ سمجھ کر ہنیڈل کر رہی ہو میں اس کو بھوکا تھا تو کھا لیتا کچھ پہلے کیا میں دیتی تھی اسے کھانا نوک۔۔۔
شیٹ اپ جیسٹ شیٹ اپ اگر ایک لفظ اور بولی تو بھول جاٶ گا دانی کی بیوی ہو ۔۔۔
حنین کو برا لگا تھا تافشین کا ایسا بولنا تبھی غصے میں جو منہ میں آیا بولتی گی ۔۔
تبھی تافشین ضبط کرتا جو سن کر رہا تھا اب اسے دیوار کے ساتھ پن کرتے چلاتے ہوۓ بولا ۔۔۔
سوچ سمجھ کر بولا کرو اگر اچھا نہیں بول سکتی تو چپ رہا کرو ورنہ یہ جو لمبی زبان ہے نکال کر ہاتھ میں رکھ دو گا ۔۔
جانتا ہو تمہاری بہن نے یہ سب کیا اسے سزا دو میرے دانی کو دینے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے ۔۔
محبت اس نے کی خود غرض وہ بنی دانی نہیں میرے بھائ کی معصومیت کا فائدہ اٹھایا اس نے ۔۔
تافشین دانت پیستا ہوا بولا رہا تھا ۔۔
جبکہ حنین آنکھیں پھاڑے اس کو دیکھ رہی تھی ایسا روپ تافشین کا ۔۔
مجھے ایسے لگتا جیسے تمہں غصہ اور بات کا ہے اور اتار کوئ اور غصہ رہے ہو ۔۔
حنین سکون سے اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھتی بولی ۔۔۔
میں جو کہہ رہا ہو وہ کرو سمجھی میرے بھائ کا دل مت توڑنا کچھ بھی کرو اسے ٹھیک کرو تم ۔۔
جانتی ہو دانی کو تکلیف دے رہی تم میں نے پھر بھی برداشت کر لیا اگر یہاں وہ شخص ہوتا جس کا لاڈلا ہے دانی تو تم دیکھتی تمہیں شوٹ کر دیتا وہ ۔۔
تافشین غصہ سے غراتے ہوے بولا ۔۔۔
ہاں تو اسی شخص کو کہو وہ سبنھال لے اس پاگل کو میری جان چھوٹ جاۓ اس سے بلاٶ اسے میں خود کہتی ہو ۔۔
حنین بھی غصہ سے چلاتی ہوئ بولی ۔۔۔
ہاہاہہاہہاہاہااہا ۔۔
پاگل لڑکی شکر کرو وہ یہاں نہیں ہے ورنہ جینا تم بول چکی ہو اگر اس کے سامنے بولتی تو اب تک اس دنیا سے کوچ کر چکی ہوتی ۔۔
پر افسوس وہ یہاں ہے نہیں نہ اسے پتہ اس کا چھوٹا کتنی تکلیف میں ہے ۔۔
اچانک تافشین دکھ بھرے انداز سے ہنستا ہوا بولا ۔۔۔
انہہہ حنین نہیں ڈرتی اس بلا ہے ۔۔
حنین نڈر ہوتی بولی ۔۔
تم ڈرو گی اس کا روپ دیکھ کر تب تک بس درام کا خیال رکھو ۔
میری دعا ہے تم کبھی بھی اس انسان سے نہ ملو جس کی جان درام شاہ ہے ۔۔
تافشین طنزیہ مسکراہٹ لاتا ہوا بولا ۔۔۔
لیکن میں چاہتی ہو مجھے ملے وہ تاکہ دیکھ سکو کیا کرے گا وہ انسان ۔۔
حنین منہ بناتی ہوئ بولی ۔۔
درام کا خیال رکھنا اب اگر کچھ کہا تو اس سے پہلے میں شوٹ کرو گا تمہیں ۔۔
تافشین حنین کو وارن کرتا روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
پاگل خانہ ہے یہ ۔۔
حنین اسے باہر جاتی طنز کرتی بولی ۔۔۔
————————————————————
تم پکا کہہ رہی ہو ایسا ہو جاۓ گا پھر وہ شادی کر لے گا ۔۔
عائشو کسی سے کال پر بات کرتی پوچھ رہی تھی ۔۔۔
ہاں یار تم ٹراۓ کرو وہ خودی کہے گا شادی کا ۔۔
لڑکی خباثت لے بولی ۔۔
یونی میں عائشو کی ایک لڑکی سے دوستی ہوئ تھی ویسے تو حنین نے کبھی اسے ایسی لڑکیوں سے دوستی نہیں کرنے دی تھی جو غلط ہو ۔۔۔
پر ایک ماہ پہلے اس نے ایک غلط لڑکی سے دوستی کی تھی اسی کے کہنے پر حنین کے ساتھ عائشو نے یہ حرکت کی تھی ۔۔
اس کے مطابق عائشو کو اپنی محبت حاصل کرنی چاہے یہی وجہ تھی وہ اتنی پاگل ہو چکی تھی اپنی محبت میں کہ کوئ صیح غلط اسے لگ ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔
ابھی بھی وہ عائشو کو نشے کی گولیاں دیتی بولی تھی کہ وہ ارسلان کی بے ہوشی کا فائدہ اٹھا کر اسے یہ یقین دلاۓ کہ ارسلان اس کے ساتھ کتنا غلط کر چکا ہے نشے کی حالت میں ۔۔۔
ہممم چلو دیکھتی ہو میں ۔۔
عائشو صرف حامی بھر سکی ۔۔۔
———————————————————-
ہاے عائشو کیسی ہو ۔۔
آہہہہہ تم ہاں میں ٹھیک ہو ۔۔۔
عائشو جو کچن میں کھڑی جوس کے گلاس میں نشے کی گولی ملا رہی تھی ۔۔
اچانک زری کی
آواز سنتی گھبراہٹ پر قابو پاتی بولی ۔۔
ہاں میں اتنا گھبرا کیوں رہی ہو ۔۔
زری حیران ہوتی بولی اس کے ایسے ری ایکٹ پر ۔۔
ہاں میں ڈر گی تھی وہ گھر اکیلی تھ۔۔
اچھا اچھا بس کرو بندہ پانی کا ہی پوچھ لیتا ہے ۔۔
زری بیزار ہوتی کہتی وہی جوس کا گلاس اٹھاتی ہوئ بولی ۔۔۔
میں تمہیں کولڈ ڈرنک دیتی ہو یہ جوس رہنے دو ۔۔
عائشو گھبراہٹ پر قابو پاتی اس کے پیچھے آتی بولی جو کچن سے باہر نکل کر ہال کے صوفے پر بیٹھ رہی تھی ۔۔۔
رہنے دو میں نے آنا نہیں تھا پر یہ درام شاہ نے گفٹ دیا ہے تمہارے لیے ۔۔
زری جوس کا سارا گلاس پتی ہوئ بولی ۔۔
اچھا شکریہ کہنا کرش کو ویسے خوش ہو گا محبت مل گی اسے ۔۔
عائشو گفٹ لیتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔
تمہیں زرا افسوس نہیں ہوا اپنی حرکت پر عائشو کیسے آرام سے پوچھ رہی ہو ۔۔
زری نے افسوس کرتے کہا ۔۔۔
میں نے جو کیا وہ بلکل ٹھیک کیا میں نہیں شرمندہ آپی کو درام شاہ جیسا ہی شوہر ملنا چاہے تھا تم دیکھنا آپی کتنا خوش رہے گی کرش کے ساتھ ۔۔۔
اب تم جاٶ رات کافی ہو گی ۔۔
عائشو بات کرتی زری کو زبردستی کھڑا کرتی بولی جو مکمل نشے میں جا رہی تھی ۔۔
ہاں جا رہی ہو تیرے گھر نہیں روکنے والی اور یہ سر پتہ نہیں کیوں چکرا رہا ہے۔۔
زری اپنا سر تھامتی بامشکل کھڑی ہوتی بولی ۔۔
اچھا تم گھر جا کر سو جانا شاہد نیند آ رہی ہو ۔۔
عائشو ساتھ چلتی گھبراہٹ پر قابو پاتی بولی ۔۔
————————————————————
کیا ہو گیا ہے تمہیں ثمن کیوں ہائپر ہو رہی ہو ۔۔۔
اے ڈی ثمن کو پکڑتا ہوا بولا ۔۔۔
دیکھو اسے گینگسٹر یہ لڑکی کتنی معصوم ہے کتنی بزدل ہے کتنی ہے اسے ڈر لگتا ہے ۔۔۔
اس کا پھر دنیا میں رہنے کا فائدہ تمہیں پتہ ہے نہ معصوم لوگ مجھے کتنے برے لگتے ہے ۔۔
میری معصومیت نے بھی میرا سب کچھ لے لیا گینگسٹر اور یہ لڑکی مجھے پسند نہیں آی اس لیے شوٹ کرنے لگی تھی ۔۔۔
ثمن اپنا آپ اس سے چھڑواتے ہوۓ غصہ سے بولی ۔۔۔
جاٶ یہاں سے تم لڑکی ۔۔۔
اے ڈی اس لڑکی کو وہاں سے بیھجا کیونکہ وہ جانتا تھا ۔۔۔
ثمن واقعی اسے شوٹ کر دیتی ۔۔۔
تم بھی برے ہو گینگسٹر بہت برے ہو نفرت ہے مجھے تم سے بھی ۔۔
ثمن اس لڑکی کو جاتا دیکھ اے ڈی کے مکے مارتی چلائ ۔۔۔
کہاں سے ملی تھی یہ لڑکی ۔۔۔
اے ڈی نے اپنے خاص آدمی سے پوچھا ۔۔۔
سر وہ میم کافی پینے گی تھی وہاں سے لڑکی کسی لڑکے کو رو کہ کہہ رہی تھی اسے وہ نہ چھوڑے میم لڑکی کو یہاں لے آی سمجھایا اسے کہ بہادر بنے ایسے ہر کسی کے سامنے رونے نہ لگ جاۓ لڑکی نے کہا وہ بہت بزدل ہے اس لیے میم کو غصہ آ گیا ۔۔۔
آدمی نے سر جکھاتے ہوے بتایا ۔۔۔
واٹ ثمن یہ کب سے کام شروع کر لیا تم نے جانتی نہیں ہو کیا یہاں آنا سب کو منع ہے پھر بھی ۔۔
اے ڈی طش میں آتا ثمن کو بالوں سے پکڑتا ہوا بولا ۔۔۔
مجھے نہیں پسند یہ معصوم اور بزدل لڑکیاں بس سمجھانے کے لیے لے کر آی پر مانی نہیں اس کا کوئ کام نہیں ہے دنیا میں رہنے کا ۔۔
ثمن پھر ایک دفعہ شروع ہوتی بولی ۔۔
ت۔۔۔
ہاں اب کہو گے میں روم میں جا رہی دفع ہو رہی ہو میں تم بھی ویسے ہو ۔۔
ثمن اے ڈی کے پیٹ میں لات مارتی غصہ کرتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
س۔سر۔و۔۔۔
کیا ہے اب تمہیں ۔۔
اے ڈی جو اپنے پیٹ میں درد محسوس کر رہا تھا اب بیزار ہوتا اپنے آدمی کو دیکھتا بولا ۔۔
وہ میم آپ کے روم میں چلی گی ہے ۔۔۔
آدمی نے ڈرتے ہوے بتایا ۔۔۔
ہمممم اسے وہی رہنے دو آج کی رات ۔۔
اے ڈی اپنے روم میں جاتا ہوا بولا ۔۔
————————————————————
سوری درام میں ٹائم پر آنا چاہے تھا ۔۔۔
حنین درام کو کھانا کھلاتی ہوئ بولی ۔۔
ک۔ک۔کوئ بات نہیں دوست پتہ مجھ۔مجھ ے
کوئ بات نہیں دوست پتہ مجھے ڈر نہیں لگا تھا ہاں بھوک بہت لگی تھی ۔۔۔
درام کھانا کھاتے ہوے بولا ۔۔۔
تو تم کھا لیتے پتہ وہ تمہارا سپر ہیرو مجھے بولا ۔۔۔
حنین اس کو اپنے ہاتھوں سے نوالہ کھلاتے ہوے بولی ۔۔۔
نہ۔نہیں وہ بولتے نہیں ہے بس پیار سے بات کرتے ہے اچھے والے بھائ ہے میرے ۔۔
درام مسکراتا ہوا بولا ۔۔
ہاں تمہیں پتہ نہیں وہ کیسے بولتا ہے پاگل انسان ۔۔۔
کیا کہہ رہی ہو ۔۔
درام حنین کی بڑبڑاہٹ سنتے ہوۓ بولا ۔۔۔
کچھ نہیں آو نیند آ رہی ہو گی تمہیں سو جاٶ ۔۔
حنین بات ٹالتی ہوئ بولی ۔۔
ہاں چلو سو جاتے ہے پھر تم مجھے سٹوری سناٶ گی ۔۔
درام جلدی سے بیڈ کے اوپر کھڑے ہوتے بولا ۔۔
————————————————————
نیند نہیں آ رہی کیا ۔۔۔
حنین درام کے ساتھ بیڈ پر لیٹتی ہوئ اسے دیکھتی ہوئ بولی ۔۔۔
و۔ہ۔وہ۔نیند نہیں آتی مجھے اکیلے سونے میں ڈر لگتا ہے ۔۔
درام ڈرتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
اچھا چلو تھوڑا سا پاس آ جاو پھر تمہیں نیند آ جاۓ گی ۔۔
حنین اسے اپنے قریب کرتے بولی ۔۔۔
اب کیوں نہیں سو رہے تم ۔۔
کافی دیر بعد حنین دوبارہ اپنی آنکھیں کھولتی اسے دیکھتی ہوئ بولی ۔۔
و۔وہ۔ڈر لگتا ہے مجھے تم میرے پاس نہیں ہو ۔۔
درام ایک دفعہ پھر بولا ۔۔۔
افففف کہاں پھس گی میں ۔۔۔
حنین بیزار ہوتے دل میں سوچا ۔۔۔
س۔سوری دوست میں نہیں سوتا تم سو جاٶ صبح سے جاگ رہی ہو ۔۔
درام جلدی سے اس کا چہرہ دیکھتا بولا ۔۔۔
جہاں صاف بیزاریت تھی ۔۔
اچھا یہاں آو اب بتاٶ ڈر لگے گا یا نہیں ۔۔
حنین اسے اپنے بے حد قریب کرتی بولی جہاں دونوں کے چہروں میں ایک انچ برابر فاصلہ تھا ۔۔۔
دوست تم مجھے چھوڑ کر مت جانا جیسا کہو گی میں ویسا کرو گا تم کہو گی میں کھانا نہیں کھاٶ گا تم کہو گی میں بلکل سوٶ گا نہیں بس مجھے چھوڑنا نہیں ۔۔
درام حنین کے سینے پر سر رکھتا روتا ہوا بولا ۔۔۔
ارے ارے چپ رو کیوں رہے ہو اچھا ایسے روتے رہے تو میں ابھی جا رہی ہو ۔۔
حنین اس کا رونا دیکھ پریشان ہوتی بولی اسے ترس آیا تھا خوبصورت درام شاہ جو اربوں کی جاہیداد کا اکلوتا مالک کیسے بچوں کی طرح رو رہا تھا ۔۔۔
تم چھو۔۔
تم مجھے سے پہلے کیسے رہتے تھے روم میں درام ۔۔
حنین اس کا ذہین بدلتے ہوے بولی ۔۔
میں رات کو سوتا ہی نہیں تھا مجھے ڈر لگتا تھا پھر صبح سپر ہیرو کے روم میں جا کر سارا دن سوتا تھا میں ۔۔
درام خوش ہوتا بولا ۔۔
کییییییاااا مطلب پھر ساری رات کیا کرتے تھے ۔۔
حنین حیریت سے چیختی ہوئ بولی ۔۔
وہ جگہ دیکھ رہی ہو میں وہاں ہوتا تھا ساری رات
اپنے اللہٌسے باتیں کرتا تھا ۔۔
درام اپنی جگہ سے اٹھتے ہوۓ حنین کو روم کے کونے میں ایک چھوٹی سی جگہ دیکھاتے ہوے بولا ۔۔
جہاں ایک چھوٹا سا جاۓ نماز پڑا ہوا تھا ۔۔۔
و۔وہاں کیوں مطلب نماز پڑھ کے بھی وہاں تم اپنے میل بواۓ کے پاس نہیں جاتے تھے جو خیال رکھتا ہے تمہارا ۔۔
حنین وہ جگہ دیکھتی حیران ہوتی بولی ۔۔
نہی۔نہیں و۔وہ گندہ انسان ہے دوست مجھے اچھا نہیں لگتا یہاں ٹھیک میں سپر ہیرو کہتا ہے جب آپ کی کوئ نہ سنے تو ہمارا اللہٌ سنتا ہے میں اپنے اللہٌ سے پیاری پیاری باتیں کرتا ہو ۔۔
مجھے وہاں سکون آتا ہے یہ سب لوگ گندے ہے ۔۔
درام منہ بناتا ہوا بولا ۔۔۔
بات تو ٹھیک ہے تمہاری واقعی ہمیں صرف وہی سنتا ہے کوئ نہیں سننے والا ہوتا ۔۔۔
حنین مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
لیکن حیران بھی کہ کیا وجہ ہوئ جو درام شاہ ایک ایسا انسان بن گیا جیسے سب لوگ پاگل کہتے ہے ۔۔۔
ہاں دوست میں نے مانگا تھا میری دوست ہو میرے اللہٌ نے تمہیں بنا دیا میرا دوست ۔۔۔
درام اچانک خوش ہوتا حنین کو گلے لگا گیا ۔۔۔
ہممم۔۔۔
جبکہ وہ گہری سوچ میں ڈوب چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
”ادھر چلی میں اُدھر چلی جانے کہاں میں کدھر چلی ”
زری نشے کی حالت میں سڑک پر جھولتی ہوئ گانا گا رہی تھی ۔۔۔
ارے یہ تو کتا ہے پوچھتی ہو بریانی کھائ اس نے کہ نہیں ۔۔
زری سڑک پر سوۓ ہوۓ کتے ہو دیکھتی ہوئ بولی ۔۔۔
آہہہہہ آہہہ چھوڑو میں لڑکی ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم میرا فائدہ اٹھاٶ ۔۔
زری جو آہستہ آہستہ چلتی ہوئ کتے کے پاس جا رہی تھی تب کسی نے اس کا ہاتھ پکڑتے روکا زری چلاتے بنا دیکھے بول رہی تھی ۔۔۔
شکل دیکھی ہے تم نے اپنی فائدہ اٹھانے والی اور یہاں کیا کر رہی ہو تم ۔۔۔
تافشین زری کو اپنے ساتھ لے کر جاتا ہوا بولا ۔۔۔
ارے ٹافی تم یہاں کیا کر رہے تھے ۔۔
زری اسے دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔
ڈانس کر رہا تھا تم یہاں کیا کر رہی ہو اور کیا کھایا ہے ہوش میں نہیں لگتی تم ۔۔
تافشین اسے گاڑی میں بیھٹاتا ہوا بولا ۔۔۔
وہ اپنے گھر جا رہا تھا جب اسے سڑک پر چلتی زری نظر آی ۔۔۔
ہاے ڈانس مجھے بھی ایک سیٹپ سکھا دو ۔۔
زری اپنی ٹانگ آگے کرتی بولی ۔۔۔
اچھا پہلے گھر چلو ۔۔
تافشین گاڑی سٹارٹ کرتا بولا ۔۔۔
جبکہ زری اب نیند میں جا رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
کیا کھایا تھا ویسے ۔۔۔
تافشین نیند میں زری سے دوبارہ پوچھا ۔۔۔
ہاں عائشو نے جوس دیا تھا زرا مزے کا نہیں تھا اس پھوہڑ لڑکی کو کچھ نہیں بنانا آتا ۔۔
زری تافشین کے کندھے پر سر رکھتی بولی ۔۔۔
شاہد اس نے تمہیں نشہ دیا ہے گھر جا کر لیموں پانی پینا ۔۔
تافشین کچھ سوچتا ہوا بولا ۔۔۔
دماغ خراب ہے تمہارا وہ ایسا کیوں کرے گی بچی ہے وہ یہ سر درد کر رہا میرا نانی کی ٹیشن لی ہے تبھی ۔۔۔
زری اپنا پیٹ پکڑتی افسوس کرتی بولی ۔۔۔
یہ سر ہے تمہارا ۔۔
تافشین زری کے پیٹ پر اس کے ہاتھ رکھتے حیرت سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
ہاں یہ سر میں اب نکلو باہر میرا گھر آ گیا ۔۔۔
زری منہ بناتی کہتی گاڑی سے باہر نکل گی ۔۔۔
ہاہاہاہا واٹ یہ سر تھا ۔۔۔
تافشین زری کے لوجک پر ہنستے ہوے بولا ۔۔۔
———————————————————–
پاگل ہو نانی سو رہی تم یہ
چابی سے کھولو دروازہ ۔۔
زری تافشین کو ڈاٹتی ہوئ بولی ۔۔۔
اچھا تم جاٶ اب آرام کرو ۔۔۔
تافشین اسے اندر گھر تک کرتے ہوۓ بولا ۔۔۔
بلکل نہیں تم لے کر جاٶ میرے پاٶں درد کر رہے اب ۔
زری معصوم سی شکل بناتے اپنا سر پکڑتے ہوے بولی ۔۔۔
ہاہاہا سچی یار مجھے نہیں تھا پتہ یہ پاوں ہوتے ہے ۔۔
تافشین زری کو پکڑتا روم میں لے جاتے ہوۓ بولا ۔۔۔
بس دیکھ لو کتنی ذہین ہو میں چلو اب بیڈ تک چھوڑ دو ۔۔۔
زری اسے روم تک لاتی اپنی باہیں اس کے سامنے پھیلاتی ہوی بولی ۔۔۔
افففف لڑکی کیوں میرا ضبط آزما رہی ہو ۔۔۔
تافشین دل میں سوچتا ہوا بولا ۔۔۔
نہی۔۔۔
زری زری کیا کر رہی ہو چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔
اس سے پہلے تافشین کچھ بولتا جب زری اس کا ہاتھ پکڑتی زبردستی بیڈ کی طرف لے آی ۔۔۔
چلو سوتے ہے تم یہاں سو جاٶ باہر رات ہو گی پھر نانی سے بھی مل لینا ۔۔
زری اسے بیڈ پر گراتی ہوئ بولی ۔۔۔
ل۔۔۔۔آہہہہہہہ آہہہہہہہ کہاں پھس گیا ہو میں اللہٌمیری عزت کی حفاظت کرنا ۔۔۔
اس سے پہلے تافشین کچھ کہتا جب زری مکمل نیند میں مدہوش ہوئ اس کے اوپر آ گری ۔۔۔
زری یار اٹھ جاو میں نے گھر بھی جانا ہے زری ہوش کرو ۔۔۔
تافشین زری کے چہرے کو ہاتھ لگاۓ پریشان ہوتا بولا ۔۔۔۔
جبکہ وہ گہری نیند میں چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
ثمن بیٹا نہ کرو یہ جاب بیٹا میں محنت مزدوری کر کے تمہارا اور تمہاری ماں کا پیٹ پال رہا ہو نہ ۔۔۔
ریاض صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
لیکن ابو میں کر لو گی یہ بھی سوچے میرا میٹرک ہے پھر بھی وہ اچھی جاب دے رہے ہے پلیز مجھے اجازت دے ۔۔
ثمن نے اپنے باپ کے ہاتھ پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔
بیٹا تو بہت معصوم ہے یہ دنیا بہت سفاک ہے بڑی مشکل سے ہم نے اللہٌ کی منتیں کر کے تمہیں لیا ہے اگر کچھ ہو گیا تمہیں تو ہم ویسے ہی مر جاۓ گے اپنے ابو کی بات مان لے ۔۔۔
رضیہ بیگم نے اپنی بیٹی کا گال چومتے سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔۔
یہ آج میری شیرنی بلی کیسے بن گی ہے ۔۔۔
اس سے پہلے ثمن اپنا ماضی اور سوچتی جب اے ڈی اسے کمر سے پکڑتا اپنے قریب کرتا بولا ۔۔۔۔
شیرنی بھی تمہاری وجہ سے بنی ہو گینگسٹر ورنہ میں کون تھی کیسی تھی یہ تم اچھے سے جانتے ہو ۔۔۔
ثمن اپنا رخ اس کی طرف کرتی افسوس سے بولی ۔۔۔
بھول جاٶ سب یار جو ہونا تھا ہو گیا اور یہ ثمن کوئ اور ہے ورنہ جو ثمن میں نے بنائ تھی وہ بہت بہادر تھی کسی چیز سے نہ ڈرنے والی ۔
اے ڈی ثمن کا گال سہلاتے ہوے بولا ۔۔۔
پتہ نہیں گینگسٹر تم نہ ہوتے تو میں کہاں ہوتی اس وقت شاہد اس د۔۔۔۔
ثمنننننننننننن خبردار ایک لفظ بھی بولا یہ زبان باہر نکال دو گا ۔۔۔
ثمن کی بات کاٹتے اے ڈی اسے بالوں سے پکڑتا چلایا ۔۔۔
جو سچ ہے وہ سچ ہے گینگسٹر مجھے یہ بزدل اور معصوم لڑکیاں نہیں پسند ہم معصوم لڑکیاں اپنی سب سے عزیز چیز کھو دیتے ہے جیسے میں نے کھوئ کیوں گینگسٹر کیوں ۔۔۔
اچانک ثمن اے ڈی کے گلے لگی روتے ہوے بولی ۔۔۔
ریلکس ثمن کتنے سالوں سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہر کام اکھٹے کیا تب تو تم حوصلے والی تھی اب کیا ہوا تمیں جانتی ہو نہ یہ حالت تمہاری تب تھی ج۔۔۔
جب وہ سب میرے ساتھ ہوا تھا جانتی ہو میں گینگسٹر ۔۔۔
ثمن اے ڈی کی بات کاٹتی ہوئ بولی ۔۔۔
ہممممم پھر تم بزدل ہو گی چلو مجھے ایک اور لڑکی ڈھونڈنی چاہے ۔۔۔
اےڈی اس کا ذہین بدلنے کے لیے بولا جس میں کامیاب بھی ہوا ۔۔۔
گینگسڑ جان لے لو گی ثمن بزدل نہیں ہے بتاٶ کیا کرنا ہے میں ابھی کرتی ہو ۔۔
ثمن غصہ میں چلاتی ہوئ بولی ۔۔۔
سوچ لو ت۔۔۔
تم بتاٶ میں ابھی کرتی ہو ۔۔۔
ثمن پھر اس کی بات کاٹتی بے تابی سے بولی ۔۔۔
کس می ۔۔
اے ڈی تحمل سے بولا ۔۔
واٹ م۔۔۔
آی سے کس می ۔۔
اے ڈی ثمن کی بات کاٹتا سکون سے بولا ۔۔۔
لیکن تم نے ماسک لگای۔۔۔
اہہہہہہہ ثمن بے بی ڈر گی چچچچچ افسوس ۔۔۔
اے ڈی پھر اسے چڑاتا ہوا بات کاٹتا بولا ۔۔۔
شیٹ اپ گینگسٹر میں کر سکتی ہو ایسے بھی ۔۔۔
ثمن منہ بناتی ہوئ بولی جبکہ دل میں ڈر بھی تھا چاہے ہمیشہ سے ساتھ رہی ہو اے ڈی کے پر کبھی وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب نہیں آے تھے ۔۔۔
می۔۔۔
اس سے پہلے اے ڈی پھر بولتا ثمن ہمت جمع کرتی اے ڈی کی گردن میں بازو حائل کرتی اس کے ماسک لگے لبوں پر لب رکھ چکی تھی ۔۔۔۔
اب ثمن کو اپنی کمر پر اے ڈی کی گرفت مضبوط ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا ارسلان ۔۔۔
عائشو ارسلان کے روم میں آتی ہوئ بولی جو کپڑے چیج کیے بنا اپنا سر پکڑتا بیڈ پر بیٹھا تھا ۔۔۔
پتہ نہیں یار کھانا کھایا پھر جوس پی لیا جو تم نے بنایا تھا اب نیند آ رہی ہے ۔۔
ارسلان اپنا ماتھا مسلتا ہوا بولا ۔۔۔۔
لگتا گولی کام کر گی ۔۔۔
عائشو اس کے قریب جاتی دل میں سوچتی مسکرائ ۔۔۔
زری کے بعد عائشو دوبارہ جوس کا گلاس بنا کر ارسلان کو پینے کے لیے دے چکی تھی ۔۔۔
ہاں شاہد تھکن ہو کام بھی اتنا کرتے ہو چلو سو جاٶ تم ۔۔۔
عائشو ارسلان کو بیڈ پر لٹاتے ہوے کہا ۔۔۔
یہ ہو سکتا ہے ۔۔۔
ارسلان اچھے بچوں کی طرح بیڈ پر لٹتا ہوا بولا ۔۔۔
چلو شکر ہے سو گیا اب مجھے ملے گی اپنی محبت وہ محبت جس کے لیے یہ سب کیا ۔۔۔
ہاہاہاہاہا ۔۔۔
عائشو ارسلان کے سونے کا ویٹ کرتی مسکراتے ہوۓ بولی ۔۔۔
میرے ہو صرف میرے ارسلان ۔۔
عائشو ارسلان کی شرٹ کے بٹن کھولتی اس کے اوپر جھکتی ہوئ بولی ۔۔۔
کیا تھا اگر تم مان جاتے مجھے یہ سب نہ کرنا پڑتا ارسلان خیر جو اب ہونے والا اس کے بعد تم میرے رہو گے ہمیشہ ۔۔۔
عائشو سوۓ ہوۓ ارسلان کے لبوں کے پاس اپنے لب لاتی طنز کرتی بولی ۔۔۔
ارسلان کو کوئ ہوش نہ تھا اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔۔۔
