Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300

Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300 Junoniyat (Episode 30) Last Episode

220K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 30) Last Episode

Junoniyat By Mehar Rania

ڈی ایمممممم۔۔۔۔

درام چیختا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہا ہاں میں ہی ۔۔۔۔

ڈی ایم قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کیسے ہے آپ ۔۔۔

تافشین ڈی ایم کے گلے لگے گرم جوشی سے بولا تھا ۔۔۔۔

میں ٹھیک آپ سب یہاں کیوں ۔۔۔

ڈی ایم سب کو دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

اے ڈی ہوش کر ڈی ایم ہی ہے ۔۔۔۔

خاموش سکتے میں کھڑے اےڈی کو دیکھتے ارسلان بولا تھا ۔۔۔۔

آپ نہیں جانتے میں کتنا خوش ہوا یہاں آپ کو دیکھتے ۔۔۔

اے ڈی بھی خوش ہوتا گلے لگے بولا تھا ۔۔۔۔

جہاں مسکراتے ڈی ایم کے ڈمپل شو ہوۓ تھے ۔۔۔۔

آپ تو کہنا چھوڑو اتنا بھی بوڑھا نہیں ہوا میں ۔۔۔

ڈی ایم اے ڈی کو زور سے ہگ کیے بولا تھا ۔۔۔

لیکن آرمی آفسر کمانڈو تو ہے ۔۔۔

اے ڈی مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہاں یہ تو ہے چلو آو کافی پیتے ہے ۔۔۔۔

ڈی ایم مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں ضرور چلو سب ۔۔۔

تافشین حامی بھرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

آپ کو کس سے ملنا ہے ۔۔۔

ڈی ایم کا آدمی اے ڈی تافشین درام کا راستہ روکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

ڈی ایم سر سے ملنا ہے ۔۔۔

اے ڈی سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

پر سر ابھی بزی ہے آپ ویٹ کر لے ۔۔۔۔۔

آدمی نے جلدی سے ڈرتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔۔

واہ ہ ہ یہ ڈی ایم کمال کا بندہ ہے یار ۔۔۔۔

درام فارم ہاوس پر آرمی ینفارم پہنے ڈی ایم کی تصویریں دیکھتا مرغوب ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

تبھی اس کے پاس آے ہے ہم ۔۔۔

تافشین بھی مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جاٶ کہو اے ڈی آیا ہے ۔۔۔

اے ڈی اب بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔۔

سر بز۔۔۔۔رکو رکو کہاں جا رہے ہو ۔۔۔۔

آدمی جو بول رہا تھا اچانک درام کو ڈی ایم کے روم کی طرف جاتے روکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

ارےےے میرا بیٹا دیکھو بابا آپ کا پمپر چیج کر رہے ماما گندی ہے نہ لیکن بابا تو بیسٹ ہے ۔۔۔۔

ڈی ایم بیڈ پر لیٹی دھڑکن کا پمپر چیج کرتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

میرا بیٹا بڑا ہو کر اپنے بابا جیسے بنے گا ۔۔۔۔

ڈی ایم دھڑکن کو اب شرٹ پہنتے خوش ہوتے بولا تھا ۔۔۔

ہ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہہا ہاےےے کتنے کیوٹ ہے آپ ڈی ایم سر ۔۔۔۔

درام جو ہکا بکا کھڑا اندر آتے دیکھ رہا تھا جب قہقہ لگاتے ڈی ایم کے پاس جاتے بولا تھا ۔۔۔۔۔

ہاں کیوٹ ہے میری بیٹی ہے دھڑکن ۔۔۔۔

ڈی ایم دھڑکن کو اب گود میں اٹھاتے ہوۓ مسکراتے ہوے بولا تھا ۔۔۔

جی دیکھ رہا آپ کی کاربن کاپی ہے ۔۔۔

درام دھڑکن کے گال چھوتے ہوے بولا تھا ۔۔۔

جب وہ ننھی سی جان منہ بناتے اپنے بابا کے سینے میں منہ چھپا گی ۔۔۔۔

ہاہاہاہا مسٹر شاہ کے کزن ہو ۔۔۔

ڈی ایم دھڑکن کی حرکت پر قہقہ لگاتا درام کی شکل دیکھتا بولا تھا جو اب روٹھے ہوۓ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

جی ہم باہر ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔۔

درام سیریس ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

کتنی دیر یہ ڈی ایم لگاۓ گا میں تو کہتا ہو چلتے ہے یہاں سے ۔۔۔

اےڈی منہ بناتے ہوے تافشین کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

یار ویٹ کر یہی ہماری مدد کر سکتا ہے ۔۔۔۔

ورنہ ہم کبھی مضطفٰی کو نہیں پکڑ سکتے ۔۔۔۔

تافشین اسے چپ کرواتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

افففف میں جا ر۔۔۔۔۔۔

اے ڈی بیزار ہوتا اٹھ کر جانے والا تھا جب اپنے سامنے آتے بارعب قدموں سے چلتا ہوا ڈی ایم کو دیکھتے منہ کھولے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔

بلیک کلر کے شلوار کرتے بالوں کو پونی میں قید کیے جو کندھے تک آتے تھے ۔۔۔۔

کشادہ صاف شفاف چہرے پر سنجیدگی لاۓ نیلی آنکھوں میں سرد پن لے آی برو کا گہرا بیلو کاٹ اسے جلاد ثابت کر رہا تھا ۔۔۔۔

سو۔سوری وہ بیٹی کو تیار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

تافشین اے ڈی کے قریب آتے وہ سنجیدہ شکل لے بولا تھا جبکہ دھڑکن اس کے شولڈر پر سر رکھے سب دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ڈ۔ڈی ایم ۔۔۔۔

اے ڈی ایک پل کو ہکلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہ یس ڈی ایم ۔۔۔

ڈی ایم اپنا بھاری ہاتھ اس کے شولڈر پر رکھتے قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔۔

تافشین نے ساری بات ڈی ایم کو بتا دی تھی مضطفٰی کو پکڑنا ہے ۔۔۔۔

جیسے وہ خاموش سے سن رہا تھا ۔۔۔۔

ہہممممم مسٹر شاہ آپ کا کام ہو جاۓ گا فکر مت کرنا ۔۔۔۔

ڈی ایم سنجیدہ شکل لے بولا تھا ۔۔۔۔

اے ڈی آپ کچھ کہنا چاہے گے ۔۔۔۔

اے ڈی جو گم اس کی شکل دیکھ رہا تھا تب ڈی ایم اسے ہوش میں لاتے بولا تھا ۔۔۔۔

آپ اتنے کھڑوس کیوں ہے ۔۔۔

اے ڈی مسکراہٹ سجاۓ بولا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہاہ میں کھڑوس میری ہیڈکواٹر سے پوچھنا میں کیا ہو ۔۔۔

ڈی ایم قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔

ہ۔۔۔۔ہاےےےے میں جلاد کا بیٹا ۔۔۔

اس سے پہلے اے ڈی کچھ کہتا جب وہاں اے اے انٹر مارتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

یہ آپ کا بیٹا یہ بیٹی اتنی چھوٹی آپ اتنے بوڑھے بھی نہیں لگ رہے بس ہم سے تین یا دو سال بڑے ہو گے ۔۔۔

درام اپنے سامنے اےاے کو دیکھتا حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔

جو اب دھڑکن سے بیٹھا لڑ رہا تھا ۔۔۔۔

ارے یہ پاگل ہے چھوڑو اسے آپ کا کام ہو جاۓ گا ۔۔۔

ڈی ایم اے اے کو لات مارتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کیا جلاد بیٹا نہیں میں ۔۔۔۔

اے اے ڈی ایم کے سینے پر سر رکھتا لاڈ سے بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں بیٹے ہو اب بیٹے کو ڈوز چاہے ۔۔۔

ڈی ایم دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جاٶ میں اپنی بیوی کے پاس جا رہا ۔۔۔

اے اے اس کا اشارہ سمجھتا اپنی جان بچاتا وہاں سے بھاگ گیا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

کییییییااااا یہ بندہ شادی شدہ ہے ۔۔۔۔

کیفے بیٹھے سب کافی پی رہے تھے جب ڈی ایم کی ساری بات سنتی وہ شوک سے چلائ تھی ۔۔۔۔

جو بتا رہا اے ڈی کی مدد کیسے کی تھی ۔۔۔۔

تم کیوں شوک ہوئ ۔۔۔

تافشین زری کے شولڈر پر ہاتھ رکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاے کتنا پیارا ہے میں سمجھی شادی شدہ نہیں ۔۔۔

زری نے اپنا دکھ سنایا ۔۔۔۔

۔۔

پکڑو اپنی جلاد بیٹی توبہ ہے زرا شاپنگ نہیں کرنے دی ۔۔۔۔

محمل ڈی ایم کی گود میں دھڑکن کو بیھٹاتی غصہ سے بولی تھی ۔۔۔

کیا ہو گیا یار بچی ہے اور شاپنگ کا اتنا رونا کیوں ابھی لندن سے کر کے آے نہیں ۔۔۔

ڈی ایم محمل کو اپنے پاس بیٹھاتا لاڈ سے بولا تھا ۔۔۔

سارا دن آپ اس کا اپنے ساتھ رکھتے ہے بس تھوڑی دیر کے لیے آتی ہے وہ بھی جان کھا جاتی ہے ۔۔۔

آپ کو پرواہ ہی نہیں ۔۔۔

محمل ڈی ایم کے سینے پر سر رکھتے بولی تھی ۔۔۔

وہ بھول چکی تھی اس کے آس پاس کوئ بیٹھا بھی ہے ۔۔۔۔

اہہممم آہممم سویٹ ہارٹ گھر جا کر بتاٶ گا پرواہ ہے یا نہیں لیکن ان سب سے ملو میرے دوست ہے ۔۔۔۔

ڈی ایم محمل کو ہوش میں لاتے بولا جو مگن ہوئ اس کے ڈمپل پر ہاتھ لگا رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ تافشین درام احد حنین ارسلان زری عائشو دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے ۔۔۔۔

———————————————————–

ہاےے ۔۔۔

محمل شرمندہ ہوتا دانت نکال کر بولی تھی ۔۔۔۔

ہاے اس کی بچی بھی ہے ۔۔۔

زری دھڑکن کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

تو کیا ہوا ہماری بھی بچی ہو گی دیکھنا ۔۔۔

تافشین زری کو آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہمیشہ غلط بات کرنا میں کہہ رہی تھی ان کی بیٹی بھی ہے ویسے دیکھ کر لگتا نہیں تھا ۔۔۔

زری شرماتے ہوے بولی تھی ۔۔۔

مجھے بس بیٹی سنا اب میرا کیا قصور ۔۔۔

تافشین اسے شرماتے دیکھ معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔۔

قصور ہی آپ کا سارا ۔۔۔

زری اس کے سینے میں منہ چھپاتے ہوے بولی تھی ۔۔۔

اس کی بات سنتے تافشین کے چہرے پر مسکراہٹ آی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

ہاے گینگسٹر کتنی کیوٹ بچی ہے ۔۔۔

ثمن دھڑکن کو دیکھتی بولی تھی جو صرف ڈی ایم کی گود میں بیٹھی اس کے بالوں سے کھیل رہی تھی ۔۔۔

ہاں پیاری ہے دیکھنا ہماری بیٹی بھی ایسی ہو گی ۔۔۔۔

درام ثمن کے ماتھے کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

پکا مجھے ایسے ہی بیٹی چاہے ۔۔۔۔

آپ دے گے مجھے درام ۔۔۔

اچانک ثمن آنکھوں میں آنسو لاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

کیا ہوا ثمن م۔۔۔۔

میں چاہتی ہو میری بھی ایک فمیلی ہو میرے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہو جس میں ماں بنو گی ۔۔۔۔

درام جو سنجیدہ ہوتا بول رہا تھا جب ثمن یہ کہتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔۔

ارے ارے سنو تو ۔۔۔۔۔

ثمن کا جانا سب دیکھ چکے تھے تبھی اے ڈی نے پریشان ہوتے درام کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

وہ بھی اس کے پیچھے بھاگ چکا تھا ۔۔۔۔

چلو ہم چلتے ہے اب ۔۔۔

ڈی ایم کھڑا ہوتے بولا تھا ۔۔۔۔۔

سب سے ملتے وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا تھا ۔۔۔۔

—————–

————————————————————

شکر ہے احد آپ آ گے زرا یہ میری ہلیپ کرنا ۔۔۔۔

حنین جو آہینے کے سامنے کھڑی اپنا لاکٹ بند کر رہی تھی تبھی اپنے پیچھے کھڑے احد کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

و۔ہ۔م۔میں۔ت۔خود کر لو نہ ۔۔۔

احد نے جلدی سے گھبراتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

کیوں آپ کو کیا ہوا جلدی سے بند کرے ۔۔۔۔

حنین اس کے ہاتھ پکڑتی اپنی گردن پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے اس کا لاکٹ بند کر دیا تھا ۔۔۔

ا۔۔۔۔ارے کہاں جا رہے ہے ۔۔۔۔

اس سے پہلے حنین کچھ کہتی جب وہ روم سے بھاگ گیا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

گینگسٹر یہ میری شرٹ کی زپ بند کرنا ۔۔۔

درام روم میں آیا تھا جب ثمن اس کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔۔

خودی کرو ۔۔۔

درام اسے بنا دیکھے بولا تھا ۔۔۔

کیوں تم میرے گینگسٹر ہو تو تم کرو گے یہ ۔۔۔

ثمن درام کے شولڈر پر باہیں ڈالتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

م۔م۔میں نہیں کر رہا ۔۔۔

درام یہ کہتا اسے بیڈ پر گراتا روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔

ہاہاہاااا لگتا گینگسٹر شرما گیا ۔۔۔

ثمن اس کی حرکت دیکھتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔

———————————————————–

شکر ہے بگ بی آپ آ گے کہاں تھے میں روم میں ملنے گیا تھا ۔۔۔

درام سامنے سے گھبراتے ہوے احد کو آتے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

جاٶ اپنی بیوی کے پاس اور ہاں اسے بتا دینا تم درام تھے وہ پاگل مجھے درام سمجھ رہی تھی ۔۔۔

بڑی مشکل سے جان بچا کر آیا ۔۔۔

احد ایک ہی سانس میں بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہ سچی کیا ۔۔۔

پھر آپ بھابھی ماں کو ہنیڈل کرے وہ مجھے احد سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔

ایسے تو کام غلط ہے ہماری بیویوں کو غلط فہمی ہو جایا کرے گی ۔۔۔۔۔

درام قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وہ احد سے ملنے روم میں گیا تھا اس سے پہلے درام کچھ کہتا حنین اسے احد سمجتی بولی تھی ۔۔۔

ایسی ہی حالت احد کے ساتھ ہوئ وہ بھی درام سے ملنے روم میں گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

سوری سوری اب ہمیں کیسے پتہ چلتا ۔۔۔۔

ثمن حنین دونوں کو اپنے سامنے دیکھتی شرمندہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

یہ کان دیکھ رہی ہو یہاں پر ہمارے نام کا فرسٹ ولڈ لکھا ہے جیسے میرے ڈی تو بگ بی کے اے ۔۔۔۔

درام دونوں کو کان کی بیک دیکھاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جہاں چھوٹا سا ڈی لکھا تھا ۔۔۔۔

پر ہم پہلے تم لوگوں کے کان چیک کیا کرے گی کہ دیکھاٶ کون ہو ۔۔۔۔

ثمن بیزار ہوتی بولی ۔۔۔

اس کا علاج یہ ہے جس ناموں سے تم دونوں ہم دونوں کو بلاتی ہو وہ کان میں کہہ دیا کرنا ۔۔۔۔

ہماری ری ایکشن دیکھ کر سمجھ جایا کرنا احد اور درام ہے کون ۔۔۔۔

احد سنجیدہ چہرہ بناۓ بولا تھا ۔۔۔۔

ہممم بات تو سہی تھی ۔۔۔۔

دونوں حامی بھرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

”””تو نہیں تو لگ رہے ہے رات جیسے دن“

”آنکھوں کے موسم آج جیسے نم “💞

““تو جدا تو رک گی ہے سینے میں سانس کہی ”

”““ہاتھوں سے بھچڑ لیکریں کہہ رہی بس یہی ””💞

””دل جو عبادت کرے عشق کی ““

””مر کے بھی زندہ رہے عشق یہی ”””💞💞💞

”””جنونیت ہے یہی جنونیت ہے یہی ””

““جنونیت ہے یہی جنونیت ہے یہی ““

ارسلان گہری نیند میں سو رہا تھا جب اسے اپنی آنکھوں پر نرم سا لمس محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

اگر یہاں بھی کس کرتی تو اچھا لگتا ویسے بھی میں زور ڈوز دیکھتا تھا ۔۔۔

ارسلان عائشہ کو کمر سے پکڑتے قریب لاتا بند آنکھوں سے بولا تھا ۔۔۔

ہرگز نہیں اٹھ جاۓ ہم نے اسے لینے بھی جانا ہے ۔۔۔

عائشو خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

پہلے کس ۔۔۔۔

ارسلان بنا کچھ سنتا ضد کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

میں بیمار تھی آپ اس لیے دیتے تھے ۔۔۔

عائشو ارسلان کے گلابی ہونٹ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

مطلب تم سے کس لینے کے لیے مجھے بیمار ہون۔۔۔۔

ارسلان عائشہ کو خود کے اور قریب لاتے بہکے ہوۓ لہجے سے بولا تھا ۔۔۔

جب عائشو اپنے لب رکھ چکی تھی ۔۔۔۔

آپ کا حق بنتا ہے لیکن یہ بیمار ہونے والی بات مت کرنا ورنہ جان لے لو گی ۔۔۔۔

عائشہ دور ہوتی منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہہا ایک ا۔۔۔۔

شرافت سے باہر آ جاۓ ورنہ میں چلی جاٶ گی ۔۔۔

ارسلان جو قہقہ لگاتے بولنے والا تھا جب عائشو روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

گینگسٹر نہ کرو ۔۔۔۔

ثمن نیند میں بڑبڑای تھی ۔۔۔۔

درام اپنے لب اس کی گردن پر رکھے لیٹا تھا ۔۔۔۔

کیا یار صبح ہو گی تم سونے آی ہو کیا ہم نے آج سمندر دیکھنے جانا ہے ۔۔۔

درام ثمن کو پکڑتا اٹھ کر بیٹھاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

میں نہیں دیکھ رہی مجھے سونا ہے ۔۔۔

ثمن دوبارہ ویسے ہی لیٹتے ہوے بولی تھی ۔۔۔

چلو اچھی بات ہے ہم دونوں اک

اکیلے ساتھ رہے گے کوئ ڈسٹرب نہیں کرے گا ۔۔۔

درام ثمن کے اوپر جھکتا بہکتے ہوے بولا تھا ۔۔۔

نہیں چلتے ہے نہ تم اٹھو اوپر سے ۔۔۔

ثمن گھبراتے ہوۓ جلدی سے بولی تھی ۔۔۔

پہلے کس پھر ۔۔۔

درام اس لبوں کے قریب لب لاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

میں و۔۔۔

ثمن جو ٹالنے والی تھی جب درام اپنے لب رکھ چکا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

بے شرم ہبی ۔۔۔

حنین گہری نیند سو رہے احد کے کان میں سر گوشی کرتے بولی تھی ۔۔۔

شاۓ ہبی تھا میں ۔۔

احد اپنی آنکھیں کھولتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

پہلے تھے لیکن اب بے شرم ہو ۔۔۔

حنین اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

کیا بے شرمی کی میں نے ۔۔

اس نے ائ برو اٹھاتے ہوے پوچھا ۔۔

میں کیوں بتاو خودی د۔۔۔۔۔

حنین جو بیڈ سے اٹھ کر جاتے ہوۓ بولی تبھی احد اسے پکڑتا خود پر گراتا اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

اور بتاٶ کتنی بے شرمی کی میں نے ۔۔۔

اسے نرمی سے چھوڑتے احد حنین کا سرخ چہرہ دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

باہر آ جاۓ ۔۔۔

حنین جلدی سے جان بچاتی باہر کی طرف بھاگتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

ہاے اب مزہ آنا مجھے ۔۔۔

تاشو اٹھ جاۓ ۔۔۔

زری تافشین سے دور ہوتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اٹھ جاتا ہو یار ابھی نہیں ۔۔۔

تافشین کروٹ چیج کیے بولا تھا ۔۔۔

اٹھ جاۓ بھوک لگی ہے اور کپڑے چیج کر لے ۔۔۔۔

زری اس کو شولڈر سے پکڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

بھوک زیادہ لگی تو جاٶ میں منہ دھو کر آتا ہو ۔۔۔

زری کی بات سنتے تافشین پریشان ہوتا اٹھ کر بیٹھتا ہوا بولا ۔۔۔

ارے منہ دھونے کی ضرورت نہیں میں آپ کا چہرہ صاف کر دیا تھا ۔۔۔

زری تافشین کو پکڑتی جلدی سے بولی ۔۔۔

اچھا دو شرٹ مجھے وہی چیج کر لو ۔۔۔

تافشین کچھ سوچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

یہ لو شرٹ اہہہہہ اہہہہہ۔۔۔۔

زری جو شرٹ لے کر آ رہی تھی جب آہینے کے سامنے کھڑے تافشین نے چہرہ دیکھتے چلایا تھا ۔۔۔۔

ریڈ لیپ سیٹک سے اس کا سارا چہرہ خراب کیا گیا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔

زری اس کی حالت دیکھتی قہقہ لگایا تھا ۔۔۔۔

تمہیں اب میں نہیں چھوڑو گا روکو ۔۔۔

تافشین دانت پیستا ہوا زری کو پکڑنے کے لیے بھاگا ۔۔۔۔

نہیں نہیں سچی تم سو رہے تھے تو میں نے یہ کام کر دیا مجھے مت گندہ کرنا ابھی تیار ہوئ میں ۔۔۔

زری اپنا بچاٶ کرتی دڑوتی ہوئ بولی ۔۔۔۔

اب تو ضرور گندہ کرو گا تمہیں ۔۔۔

تافشین زری کو پکڑتا بیڈ پر گراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔۔

نہیں پلیز۔۔۔۔

زری ڈر کے مارے آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔۔

سزا تمہاری یہ ہے میں بھی تمہارا ایسے ہی چہرہ خراب کرو ۔۔۔

تافشین اپنا گال زری کے گال کے ساتھ ٹچ کرتا بولا ۔۔۔

نہیں م۔۔۔۔

زری تڑپتے ہوے بول رہی تھی جب تافشین اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتا اس کی سانس بند کروا چکا تھا ۔۔۔۔۔

————————————————————

عائشو یہ بچہ کس کا ہے ۔۔۔

چاروں کپل سمندر دیکھنے آے تھے جب ایک چھوٹا سا بچہ ارسلان کی گود میں دیکھتے حنین نے پوچھا تھا ۔۔۔۔

آپی ہم نے بچہ یتیم خانے سے لیا ہے ہم مل کر پالۓ گے پھر کیا ہوا اگر ہماری اولاد نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔

عائشو بچہ کے گال چومتی محبت سے بولی تھی ۔۔۔۔

کیا سلانٹی تم مان گے ۔۔۔۔

زری بھی پاس آتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاں عائشو ایسا چاہتی تھی تبھی میں مان گیا ۔۔۔۔

میں خوش ہوئ عائشو کو خوش دیکھ کر ۔۔۔

ارسلان عائشو کو اپنے ساتھ لگاۓ مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

سب کو اپنی محبت مل چکی تھی ایسی محبت جو عشق سے آگے جنونیت والی تھی ۔۔۔۔

ہر درد تکلیف کو برداشت کرتے سب نے محبت پا لی تھی ۔۔۔

تبھی چاروں ننگے پاٶں گیلی ریت پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چل رہے تھے ۔۔۔۔

اپنی زندگی کے سفر کو اور زیادہ خوبصورت بنانے کے لیے وہ ایک خوبصورت راستے پر چل پڑے تھے ۔۔۔۔

””میرے دل کے یہ ٹکڑے ہیں

نگاہوں سے چنوں یارا

محبت کی کہانی ہے

محبت سے سنو یارا“““💝

””میں آیا ہوں تیرے در پہ

تو اب جانا نہیں ہو گا

جیوں گا یا مروں گا میں

جو ہونا ہے یہی ہوں گا““💝

””کہتا ہوں میں بے ساختہ

سن لے یہ میرا خدا

تیرا عشق ہے میری سلطنت

تو ہے ضد میری تو جنونیت

میں ہو دل جلا مجھے تیری لت

تو ہے ضد میری تو جنونیت””💝

ہو او او او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

““کتابوں میں پڑھا تھا یہ

خدا کو پیار ہے پیارا

کیا جو پیار ہم نے تو

ہوا دشمن جہان سارا“““💔💖

““ٹھکرا دیا میں نے یہ جہاں

لے آج تجھ کو چنا

تیرا عشق ہے میری سلطنت

تو ہے ضد میری تو جنونیت

میں ہو دل جلا مجھے تیری لت

تو ہے ضد میری تو جنونیت““💖💖

””بڑی خوش رنگ تھی وہ شامیں

بڑا روشن سویرا تھا

وہ کیوں کھویا جسے چاہا

وہ کیوں بچھڑا جو میرا تھا““💝💝

““جن آنکھوں میں، میں رہتا تھا

ان آنکھوں میں ہے پانی کیوں

نہیں بدلا کہیں کچھ بھی““

”””میں تیرا تھا میں تیرا ہوں

مڑ کے زرا تو دیکھ لے

اتنی سی ہے التجا””💖

““تیرا ہمسفر بن جاؤں میں

اک بار تو کہ دے ہاں““💏💏

ختم شد 😍💏