Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300 Junoniyat (Episode 1)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 1)
Junoniyat By Mehar Rania
جلدی جلدی زری تم کر سکتی ہو ۔۔
دیکھو ہم ہار نہیں سکتے ۔۔۔
عائشہ چلاتے ہوے زور و شور سے کہہ رہی تھی ۔۔
جبکہ زری بھاگنے میں مصروف تھی ۔۔
ہاہاہاہہاہاہا بچیاں خواب دیکھتی ہے ۔۔
ان دونوں کا مذاق ایک لڑکے نے اڑاتے ہوے کہا ۔۔
رک زرا اب بچی بتاۓ گی کیا چیز ہے ہم ۔۔۔
زری بھاگتی ہوئ بول رہی تھی ۔۔۔
عائشہ اور ذروا نے کان میں بیلو توتھ لگایا تھا تبھی وہ ایک دوسرے کی باتیں سن رہی تھی ۔۔
یونی میں دو گروپس کے درمیان دوڑنے کی ریس تھی جو گروپ جیتے گا ہارنے والا اس ورنر کو پیزا پارٹی دے گا ۔۔
تبھی زری اور عائشہ اس ریس میں کھیل رہی تھی ۔۔
اففففف عائشو کی بچی میں تھک گی کیسے ہارا پاٶ گی میں ۔۔
اچانک زری بھاگتے ہوے رک کر دانت پیستی ہوئ بولی ۔۔
دیکھ زری کچھ بھی کر مجھے پیزا کھانا ہے ۔۔
عائشو منہ میں پانی لاتی بولی ۔۔
مر جا تھوڑا سا بغیرت انسان زرا جو میرا احساس ہو تمہیں ۔۔
زری اسے بولتی دوبارہ بھاگنے لگی تھی ۔۔
ہاے جان کیسے ہو ۔۔۔
ریس میں صرف دو لوگ رہ گے تھے ایک زری اور دوسرا لڑکا ۔۔
زری دماغ میں پلان بناتی بھاگتے ہوے اس کے پاس جاتی پیار سے بولی ۔۔
سب جانتے تھے وہ لڑکا زری کو پسند کرتا تھا ۔۔
ہاے زری میں ٹھیک ۔۔
وہ خوش ہوتا روکتے بولا ۔۔
ہاہاہااہاہا ٹھیک ہی رہنا تم ۔۔۔
زری اسے روکتا دیکھ جلدی سے بھاگتے ہوے بولی تھی ۔۔
وہ ون کر چکی تھی ۔۔جبکہ وہ لڑکا ہکا بکا زری کو ناچتے ہوے دیکھ رہا تھا ۔۔
———————————————————–
ہاےےے یاہوووووو ہم جیت گی ہاےےے زری تم نے میرا نام روشن کیا ۔۔
عائشو خوش ہوتی اس کے گلے لگتی بولی ۔۔
دفعہ ہو جا تمہاری وجہ سے ہار جاتی ہاے میرا کتنا ذہین دماغ تھا ۔۔
زری اپنے ہائ لائٹ ریڈ بالوں کو شولڈر سے پیچھے کرتی اترا کر بولی ۔۔
ناشکری عورت دفعہ ہو جا میں تو پیزا کھانے چلی ۔۔
عائشو منہ بناتے مکا مارتی کیٹین کی طرف جاتی بولی ۔۔
ہاےےے میرا بچہ ناراض ہو گیا رک ظالم مجھے بھی آنے دے ۔۔۔
زری بھی اس کے پیچھے ڈور لگاتی ہوئ بولی ۔۔
————————————————————
کیا تم لوگ ایک لڑکی سے ہار گے اب میں اسے پیزا پارٹی دو بلکل نہیں ۔۔
تافشین حیران ہوتا بولا ۔۔
دیکھ یار ہماری عزت کا خیال کر لے ۔۔
علی نے منت کرتے کہا ۔۔
اور تو عورتوں کی طرح تعریف سن کر بے ہوش ہو گیا ۔۔
لنعت ہے تجھ پر ۔۔
تافیشن غصہ کرتا بولا ۔۔
————————————————————
کھا لو پیزا کیا پتہ کبھی نہ کھایا ہو ۔۔
تافیشن طنز کرتا دونوں کو بولا جو کھانے میں مصروف تھی ۔۔
او ہلیو مسڑ۔۔۔
مسڑ تافشین شاہ ۔۔
وہ اس کی بات کاٹتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
تم کیا سمجھتے ہو ہمارے پاس پیسے نہیں کیا جو تمہارے پیزے کے لیے مر رہی تھی ۔۔
زری غصہ میں کھڑی ہوتی بولی ۔۔۔
جبکہ عائشو کھانے میں بے حد مصروف تھی ۔۔
جیسے اس سے بڑا کوئ کام نہ ہو ۔۔
جی ایسا ہی ہے جیسے تمہاری دوست کھا رہی ہے مجھے لگ رہا اس نے ایک ہفتے سے کھانا نہیں کھایا ۔۔
تافشین طنز کرتا عائشو کی طرف دیکھتا بولا ۔۔
جو منہ پیزے سے بھرے فل جلدی جلدی کھا رہی تھی ۔۔
جبکہ اس کی کالی آنکھیں چمک رہی تھی ۔۔۔
یہ بھوکی عورت فقیرنی ہر جگہ کھانے بیٹھ جاتی ہے ۔۔
اندھی عورت دیکھ نہیں رہا میری انسلٹ ہو رہی ہے تجھے کھانے کی پڑی ہے ۔۔۔
زری اپنا غصہ عائشو کے سر پر کھڑی اتار رہی تھی ۔۔۔
بش ایک اور عائشو اپنے بھرے منہ سے مشکل سے بولی ۔۔
ہاہاہاہاہاا بیٹا آپ کو اور چاہے تو میں لے آتا ہو ۔۔
تافشین زری کا سرخ انگارہ چہرہ دیکھتا عائشو سے پوچھا ۔۔
جو کرسی پر بیٹھی ایک معصوم بچی لگ رہی تھی ۔۔۔
ہ۔۔۔
یہ لو تم اپنا پیزار زری ادھار نہیں رکھتی شکریہ پیزے کے لیے مسڑ تافشیننننننننن۔۔
عائشو سے پہلے زری وہی پیزا اٹھا کر تافشین کے منہ پر مارتی دانت پیستے ہوے بولی ۔۔
اور عائشو کا ہاتھ پکڑتی لے کر چلی گی ۔۔
اس کی تو میں
ہمت کیسے ہوئ اس جاہل لڑکی کی میرے منہ پر ہی یہ سب کر گی ۔۔
سزا تو ملے گی تمہیں زری میڈیم تافشین بھی ادھار نہیں رکھتا سود سمیت واپس کرتا ہے ۔۔
بس ویٹ کرو تم ۔۔
تافیشن اپنا چہرہ صاف کرتا غصہ سے بولا ۔۔
پوری یونی جانتی تھی وہ غصہ کا کتنا تیز تھا ۔۔۔
————————————————————
رک جاٶ وہی دونوں کیا حرکت تھی وہ ۔۔۔
وہ دونوں کو گھر کے اندر آتی دیکھتے غصہ سے بولی ۔۔
آپپپپپپپپپپ سچی میرا قصور نہیں یہ زری کی بچی کا قصور تھا ۔۔
ہاے میرا پیزا بھی رہ گیا ۔۔۔
عائشو جلدی سے صفائ دیتے بولی ۔۔
اور تمہارا کیا شکوہ ہے مس زری ۔۔
وہ عائشو کو اگنور کرتی زری سے بولی ۔۔
جو کھڑی مسکرا رہی
تھی ۔۔
پکڑو اپنی یہ بھوکی بہن جہاں کھانا دیکھتی ہے وہاں پاگل ہو جاتی ہے ۔۔
زرا جو اسے احساس ہو میری انسلٹ ہوئ ہے بجاۓ یہ مجھے ہمت دیتی پورے راستے پیزے کا افسوس کر رہی ہے ۔۔۔
زری عائشو کو زور سے لات مارتی کوفت سے بولی ۔۔۔
ارے بغیرت انسان فری کا پیزا تھا کیا تکلیف ہوئ تھی جو اسی کے چہرے پر مار دیا ۔۔
عائشو ایک دفعہ پھر شروع ہوتی بولی ۔۔۔۔
لڑو مرو دونوں میں جاتی ہو پھر ۔۔
وہ زری اور عائشو کو مارتی غصہ کرتی بولی تھی ۔۔۔
جو اسے اگنور کیے دونوں آپس میں لڑ رہی تھی ۔۔۔
اچھا اچھا جان بتا کیا کہہ رہی تھی تم ۔۔
دونوں جلدی سے اسے ہگ کرتی بولی ۔۔
تینوں کی ایک دوسرے میں جان بستی تھی ۔۔
تبھی وہ ایک دوسرے کے بنا نہیں رہتی تھی ۔۔۔
پیزا کیوں مارا اس کے چہرے پر پتہ ابھی وہ پرنسپل کی کال آی تھی مجھے جانتی نہیں کیا جس یونی میں پڑھتی ہو وہ یونی اس کے باپ کی ہے ل۔۔۔
میں ایسا نہیں کرنا چاہتی تھ۔۔۔
زری اس کی بات کاٹتی جلدی سے بولی ۔۔
پیزا منہ پر نہ مارتی کرسی اٹھا کر مارتی اس کے سر سے خون نکلتا تماشہ ہوتا پھر مزہ آتا لیکن تم لوگ افسوس میری ناک کٹوا دی ۔۔
وہ اس کی بات کاٹتی مسکراتے ہوے بولی ۔۔۔
اہہہہ میرا پیزا میں نے کھانا ہے ابھی ۔۔
عائشو پھر اپنا رونا روتی بولی ۔۔
چل اس عورت کو کھانے کو کچھ دو میں چلتی ہو اب ۔۔
زری اس سے کہتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔
رک جاٶ تینوں ساتھ کھاتے ہے ۔۔
وہ زری کو روکتی ہوئ بولی ۔۔
یار چڑیل تو کتنی اچھی ہے ۔۔
ہاے مجھے بھوک لگی ہے ۔۔
زری حنین کے گلے لگی مسکراتے ہوے بولی ۔۔۔
چلو آو میرا بچہ تمہیں بھوک لگی ہے ۔۔
حنین عائشو کو اپنے ساتھ لگاتی مسکراتے ہوے بولی ۔۔
تھوڑا کھایا کر بھوکی کسی دن پھٹ جاے گی ۔۔۔
زری عائشو پر طنز کرتی بولی ۔۔
جو حنین کے ہاتھوں سے کھانا کھا رہی تھی ۔۔۔
آپپپپپپپپییییی سمجھا دے اسے میں قتل کر دو گی ۔۔
عائشو بھرے منہ سے چیختی ہوی حنین کی طرف دیکھتی بولی ۔۔۔
اچھا بس کر نہیں بولتی مر مت جانا اور آرام سے کھا لو تمہارا ہی کھانا ہے ۔۔
زری باز نہ آتی پھر بولی ۔۔
ذروا عائشہ حنین تینوں آپس میں اچھی دوستیں تھی ۔۔۔
سیم ایک جیسی حرکیتں ڈریسنگ لک ہر چیز ایک جیسی سب کا جینا حرام کرنا تینوں کا فیورٹ کام تھا ۔۔
ابھی بھی سیم ریڈ ٹی شرٹ پہنے ساتھ بیلو جیز بالوں کو پونی ٹیل بناۓ مصروف تھی کھانا کھا رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
ہاے پتہ نہیں کب یہ اے ڈی سے ملاقات ہو گی میری خواہش ہے جلدی پوری ہو جاۓ ۔۔
وہ اپنے روم میں لیٹا مسکراتا ہوا سوچ رہا تھا ۔۔
خوبصورت روم جس کو لائٹ پرپل کلر سے سجایا گیا تھا ۔۔۔
ڈبل بیڈ ڈراسنگ روم کے ساتھ بنا واش روم سنڑل میں بڑے سائز کا صوفہ بڑی بڑی کھڑکیوں پر لگے واہٹ پرپل پردے مدھم روشنی میں وہ اپنے بیڈ پر لیٹا تھا ۔۔۔
او سلانٹی خواب سے باہر آ جاٶ نیچے آو بڑے پاپا بلا رہے ہے ۔۔۔
حنین روم میں انٹر ہوتی اسے دیکھ کر بولی ۔۔
کتنی دفعہ کہہ چکا ہو میرا نا۔۔۔
ہاں مجھے پتہ تمہارا نام ارسلان دانیال ہے اب خوش چلو مرو نیچے پھر ۔۔۔
حنین اس کی بات کاٹتی بیزار ہوتے کہتی واپس جانے لگی تھی ۔۔۔
جب ارسلان نے اسے کلائ سے پکڑتے اپنی طرف کیا ۔۔۔
تم جو مرضی مجھے کہو میں مانیڈ نہیں کرتا کیونکہ تم جانتی ہو کہ ۔۔
کہ یہ تمہارے پاس دماغ ہو گا تو ہی مانیڈ کرو گے مسڑ سلانٹی ۔۔۔
حنین اس کی بات کاٹتی اسے دور کرتی بولتی بھاگ چکی تھی ۔۔۔
ہاےے ایک یہ اے ڈی اور دوسری یہ حنین دونوں جان سے پیارے مجھے ۔۔۔
ارسلان دور جاتی حنین کو دیکھتے مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
————————————————————
آہہہہہ آہہہہہہ کیا ہے نانی کیوں مار رہی ہے ۔۔۔
زری زور سے چلاتی بولی جہاں اس کی نانی ہاتھ میں سیٹک پکڑے اسے مارتی بول رہی تھی ۔۔
یہ کیا ہے ۔۔
نانی نے غصہ سے اس کی جینز آگے کرتے پوچھا ۔۔
جو فیشن کے حساب سے جگہ جگہ پھٹی ہوئ تھی ۔۔
ارے نانی فیشن ہے آپ کو اتنا بھی نہیں پتہ ۔۔
زری وہ جینز لیتی سکون سے بولی ۔۔
آگ لگے اس موہے جینز اور تمہیں رک ابھی بتاتی میں ۔۔
نانی یہ سنتے کہتی دوبارہ سٹک اٹھاتے بولی ۔۔۔
ارے ارے جان اتنا غصہ بھول گی میں کون ہو ۔۔
زری معصوم سی شکل بناتے ہوۓ بولی ۔۔۔
تو تم کیوں ایسا کرتی ہو بیٹا لڑکی ہو اور کام تمہارے لڑکوں جیسے ہے ۔۔۔
نانی سکون سے بیٹھتی بولی ۔۔
ارے نانی یہاں یہ سب چلتا ہے سکون میں رہے ۔۔۔
زری نانی کا پریشان چہرہ دیکھتی بولی ۔۔
دونوں کی کل دنیا ایک دوسرے کا ساتھ تھی ۔۔
وہ لڑتی مرتی دونوں کے لیے تھی ۔۔
زری کو اپنی نانی سے بے حد پیار تھا ۔۔۔
————————————————————
تافشین بیٹا ادھر آو زرا ۔۔۔
اشرف شاہ نے اسے اپنے پاس بلایا ۔۔۔
جی چاچو
کیسے ہے آپ اور درام کدھر ہے نظر نہیں آ رہا ۔۔۔
تافشین آس پاس دیکھتا بولا ۔۔
ہاں وہی بتانے کے لیے تمہیں یہاں بلایا ہے ۔۔
اشرف صاحب مسکراتے ہوے بولے ۔۔
جی بتاۓ ۔۔
تافشین نے فورًا حامی بھرتے کہا ۔۔
آج ہم اسے آفس لے کر جاۓ گے تم اسے تیار کر دو بیٹا وہ صرف تمہاری بات سنتا ہے ۔۔۔
اشرف صاحب نے منت کرتے کہا ۔۔
لیکن چاچو اس کا غصہ مجھ سے بھی تیز ہے میں۔۔۔اچھا میں تیار کر دیتا ہو انہیں آپ آفس جاے ۔۔
تافشین جو کہہ رہا تھا ان کی طرف دیکھتا بات کی حامی بھر گیا تھا ۔۔۔
خوش رہو میرا بیٹا ایک تم ہی ہو جس کی وہ سنتا ہے ۔۔۔
وہ خوش ہوتے بولے ۔۔۔
ہاے اللہٌمجھے بچا لینا اب اس انسان سے جس کے روم میں جانے والا ہو ۔۔
تافشین اپنا گلا تر کرتا درام کے روم کی طرف جاتا دل میں بولا ۔۔۔
————————————————————
ہاے کیسی ہو سویٹی ۔۔
ارسلان نیچے آتا عائشو کے گال کیھچتا ہوا بولا ۔۔۔
م۔ی۔ٹھیک ۔۔۔
عائشو بلش کرتی شرماتے ہوے بولی تھی ۔۔۔
ہاے کیسے ٹماٹر کی طرح بلش کر رہی ہو ویسے سویٹی میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔
ہاہاہااہااہاہاہاہاہ ۔۔۔
ارسلان ہنستا ہوا عائشو پر طنز کرتا بولا ۔۔۔
برخودار اگر یہ مستی ہو گی ہو تو میری بات بھی زرا سن لو تم ۔۔۔
دانیال صاحب دانت پیستے ہوے بولے ۔۔
جی پاپا بولے میں آپ کی ہی سننے آیا ہو ۔۔
ارسلان سنجیدہ ہوتا بولا ۔۔
بس کر دو عائشو وہ صرف مذاق کرتا ہے تم واقعی سنجیدہ ہو جاتی ہو ۔۔
میری جان ایس۔۔
آپپپپپپی کیا کہا رہی ہے میں کچھ بھی ایسا ویسا نہیں سوچتی پریشان مت ہوا کرے ۔۔۔
عائشو حنین کی بات کاٹتی جلدی سے بولتی روم میں بھاگ چکی تھی ۔۔۔
کل تمہاری میٹنگ ہے درام شاہ ہے جانتے ہو وہ کون ہے ۔۔
دانیال صاحب سیدھی مدعے پر آتے بولے ۔۔
پاپا میں نہیں کر رہا میں نے سنا وہ غصہ میں اگلے بندے کا سر پھاڑ دیتا ہے ۔۔
اور میں کم عمر میں بیوہ نہیں ہونا چاہتا میری ابھی شادی بھی نہیں ہوئ ۔۔
ارسلان پریشان ہوتا جو منہ میں آیا بول گیا ۔۔
کیا بکواس ہے یہ شادی کہاں سے آ گی تمہاری ۔۔۔
دانیال صاحب بات سنتے غصہ سے غراتے ہوے بولے ۔۔
پاپا عمر ہو رہی شادی تو بنتی ہے نہ کب سے کنوارہ رہو گا ۔۔
بس می۔۔۔
جو کہا وہ کرو ابھی وہ ڈیل مجھے چاہے ہر حال میں سمجھے پھر شادی میں کر دو گا بس وہ ڈیل مجھے ملنی چاہے ۔۔۔
دانیال صاحب اس کی بات کاٹتے ضبط کرتے بولے ۔۔۔
اچھا غصہ کیوں کر رہے ہے میں لو گا وہ ڈیل پھر اپنی بات پر پکا رہے میری شادی کروا دے گے ۔۔۔
ارسلان حامی بھرتا حنین کی طرف دیکھتا ہوا مسکراتا بولا ۔۔
جبکہ حنین اسے آنکھیں نکال رہی تھی ۔۔
ہاں ہاں کر دو گا بس ڈیل ہونی چاہے ۔۔
یاہوووووو بس پھر میں تیاری کرتا ہو ۔۔
یہ ڈیل نہیں آسان اتنا سمجھ لیجے ایک درام شاہ کے جلال کا دریا ہے اسے پار کرنا ہے ۔۔
ارسلان خوشی سے چلاتا اپنا شعر پڑھتا اوپر بھاگ چکا تھا ۔۔۔
ابے اوے یہ شعر غلط سے پاگل انسان ۔۔۔
حنین مسکراتی ہوی اسے بولی جو اوپر جا رہا تھا ۔۔۔
بےبی میرا شعر میری مرضی منہ بند رکھو ۔۔
ارسلان آنکھ ونک کرتا شرارتی انداز سے کہتا اوپر چلا گیا ۔۔۔
توبہ توبہ زرا جو شرم ہو اس انسان کو ۔۔
حنین ہکابکا ہوتی بولی ۔۔۔
سنو حنین کل تم جانا اس کے ساتھ یہ پاگل انسان کچھ غلط نہ کر دے ۔۔۔
دانیال صاحب اس کے سر پر ہاتھ رکھتے مسکراتے ہوے بولے ۔۔
جی بڑے پاپا ۔۔
اس نے حامی بھری ۔۔۔
————————————————————
اوے پاگل انسان دیکھ کر نہیں چل سکتے پتہ بھی ہے ایک لڑکی آ رہی ہے لیکن نہیں تم لڑکوں کو بس ٹھرک سوجتا ہے ۔۔۔
زری اس انسان پر غصہ کرتی بولی ۔۔
جس کے ہاتھ میں خون سے بھرا خجر تھا جبکہ منہ پورا ماسک سے کور کیے وہ اپنی ڈارک براٶن آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔
رزی کا دھیان اس کے خجر کی طرف نہیں گیا تھا ۔۔۔
وہ حنین کے گھر کی طرف کچھ چیزیں لیتی جا رہی تھی جب اچانک اےڈی سے ٹکرا گی ۔۔۔
جس کے ساتھ چیزیں نیچے گر چکی تھی ۔۔
وہ پولیس سے جان بچاتا بھاگ رہا تھا ۔۔۔
اب یہ پٹر پٹر چلتی زبان کی لڑکی کو سن رہا تھا ۔۔۔
بول نہیں رہے دیکھو میری یہ چیزیں ات۔۔
یہ لو اور دفعہ ہو جاٶ یہاں سے ۔۔
زری جو اپنی ٹوٹی چیزوں کا افسو س کر رہی تھی تب اے ڈی نے بیزار ہوتے لاتعداد نوٹوں کی گڈیاں نکال کر اس کے منہ پر مارتے کہتا وہاں سے بھاگ چکا تھا ۔۔
اہہہہہہ اس کی ہمت روکو زرا میں تمہیں بتاٶ کس کے منہ پر یہ پیسے مار کر گے ۔۔۔
زری ہوش میں آتی بولی ۔۔
————————————————————
روکو روکو میری بات سنو میں تمہاری بیوی ہو ۔۔
وہ اسے روکتی ہوی بولی ۔۔
سوری میم میں نہیں جانتا میری ایک عدد بیوی بھی ہے ۔۔
وہ سرد لہجے میں طنز کرتا اسے نظر انداز کرتا جاتا ہوا بولا ۔۔۔
کیوں بیوی نہیں ہو م
ں تم بھول گے میں کون ہمارا وہ ٹائم جو ہم نے ایک ساتھ گزارا تھا ۔۔۔
تمہاری وہ محبت وہ جنونیت کیا سب بھول گے۔۔
وہ اس کا گربیان پکڑتی چلاتے ہوے بولی ۔۔
آواز نیچے کرو سمجھی میں اگر شرافت سے بات سن رہا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں تم بولتی جاٶ ۔۔
کہہ تو رہا نہیں جانتا میں اب راستہ دو مجھے پتہ نہیں کہاں سے لوگ آ جاتے ہے فضول بولنے
جہاں پیسہ دیکھا وہاں آ جاٶ بس ۔۔
وہ اسے دور کرتا بیزار ہوتا بولا ۔۔۔۔
جبکہ اس کی حالت ایسی ہو گی تھی جیسے کوئ قمیتی چیز کھو چکی ہو وہ ۔۔
تم میرے ہو سمجھے رشتے ایسے نہیں بنتے جب دل چاہا نبھا لیا جب دل چاہا توڑ دیا ۔۔
وہ زمین پر گرتی چلاتے ہوے بولی رہی تھی ۔۔
جبکہ وہ لاپرواہ سا چلتا جا رہا تھا ۔۔
