Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300 Junoniyat (Episode 2)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 2)
Junoniyat By Mehar Rania
دیکھ زری مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔
عائشو یونی انٹر ہوتی ڈرتے ہوۓ بولی ۔۔۔
ورنہ ڈر کو کبھی زری اور عائشو نے خود پر حاوی نہ ہونے دیا تھا ۔۔۔
جب سے انہیں پتہ چلا تھا یونی کا صیح مالک تافشین شاہ ہے تب سے وہ ڈر رہی تھی ۔۔۔
چلو موت کا فرشتہ نہیں ہے جو ہم ڈرے اس سے بھول گی پوری یونی ہم سے ڈرتی ہے اب مرو کلاس میں اب ۔۔
زری اسے بولتی خود کو حوصلہ دیتی بولی ۔۔۔
جب کہ وہ بھی جانتی تھی یونی میں پڑھنا کتنا مشکل تھا اس کے لیے صرف نانی کی محنت کی وجہ سے وہ یہاں یونی تک پہنچی تھی ۔۔۔
اب وہ نہیں چاہتی تھی کوئ بات ایسی ہو جس کی وجہ سے یونی والے نکال دے ۔۔۔
شکر ہے نہیں ہے وہ چلو کلاس میں جلدی آج اسائمینٹس بھی جمع کروانی ہے ۔۔۔
زری کلاس میں انٹر ہوتی بولی ۔۔
جبکہ اپنے ڈپاٹمنٹ میں آتے ہوے دیکھا تھا اسے ۔۔۔
آہہہہہ آہہہہہہہہ ۔۔
کیا ہوا کیا وہ ٹافی آ گیا دیکھو عائشو میرا قصور بلکل نہیں ہے ۔۔
زری جو اپنے آس پاس دیکھتی مختاط ہوتی کرسی پر بیٹھ رہی تھی جب اچانک عائشو کی چیخ سنتی جلدی جلدی بولی ۔۔۔
بغیرت وہ دیکھ چپکلی ہے ۔۔
عائشو سامنے دیوار پر چپکی چپکلی دیکھتے بولی ۔۔۔
آہہہہہہ آہہیہہہہ پہلے بتانا تھا ہاےےے بچاٶ کوئ ۔۔۔
زری سامنے دیکھتی اس سے بھی زیادہ چیختی بولی تھی ۔۔
پوری کلاس دونوں کا تماشہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کیا مصیبت ہے اگر اتنا شوق ہے تو پلیز دفع ہو جاٶ ۔۔۔
تافشین کلاس میں انٹر بیزار ہوتا بولا ۔۔
کی۔کیا مسئلہ ہے تمہارا جہاں دیکھو آ جاتے ہو ۔۔
زری ہکلاتے ہوے بولی تھی ۔۔۔
کلاس میری بھی ہے سنا تم نے تمہارا نوکر نہیں ہو عجیب پاگل لڑکی ۔۔۔
تافشین منہ بناتا بولا ۔۔
تم پاگل تمہارا خاندان پاگل ت۔۔۔۔
کون پاگل پھر بتانا مجھے ۔۔۔
زری جو غصہ میں آتی بول رہی تھی اب تافشین کے ہاتھ میں وہی چپکلی پکڑے دیکھ رک گی جب وہ بات کاٹتا ہوا بولا ۔۔۔
نہیں وہ میں کہہ رہی تھی یہ پاگل عورت اس کا خاندان پاگل تم تو اچھے ہو ٹافی ۔۔
زری عائشو کو آگے کرتی بولی جو خود اسے دھکے مارتی آگے کر رہی تھی ۔۔۔
نہیں نہیں میں کیوں پیزے والے بھای یہ زری کی بچی پاگل ہے پتہ یہ پاگل خانے سے بھاگ کر آی ہے ۔۔
عائشو جلدی سے صفائ دیتی بولی ۔جبکہ اس کی نظر اس کے ہاتھوں ہر تھی ۔۔
واٹ پیزا والا بھائ کون ۔۔
تافشین شوک ہوتا پوچھا ۔۔
اچھے خاصے انسان کو اس نے پیزے والا بھای بنا دیا تھا ۔۔۔
واہٹ شرٹ بیلو جینز پہنے گہرے کالے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے سفید رنگ کالی آنکیھں تھوڑی پر پڑتا ڈمپل ہلکی شیو چھ فٹ لمبا قد کسرتی جسم بھرپور وجاہیت کے مالک انسان کو وہ یہ القاب دے رہی تھی ۔۔۔
کیوں تو اس پاگل خانے کی باس ہے جیسے بتا رہی ہو ۔۔
شکل دیکھو اپنی جا کر پوری فقیرنی لگتی ہو پتہ نہیں کیا غرور ہے تم میں ۔۔
زری سب کچھ بھولتی عائشو کو باتیں سناتی بولی ۔۔۔
ہاں تمہاری شکل تو بہت اچھی ہے ہر سال جیسے مس انڈیا کا ایورڈ تمہیں ملتا ہے ۔۔
آی بڑی حسن کی دیوی ۔۔۔
عائشو بھی اسے کھری کھری سناتی بولی ۔۔۔۔
ہاں کبھی غرور نہی۔۔۔۔
کتنا بور لڑتی ہو دونوں چلو ڈانس کرو ۔۔۔
تافشین اس کی بات کاٹتا بیزار ہوتا زری کے اوپر نقکلی چپکلی پھکتا ہوا بولا ۔۔۔
کوئ نہیں جانتا تھا اس کے ہاتھ میں چپکلی اصلی نہیں ہے ۔۔۔
آہہہہہہ آہہہہہہہہ دیکھ لو گی تمہیں میں ٹافی کے بچے ۔۔۔
زری چیختی ہوئ کلاس سے بارہر بھاگتی بولی ۔۔
ہاہاہا ابھی دیکھ لو تم مجھے ۔۔۔
تافشین قہقہ لگاتا ہوا بولا ۔۔۔
و۔و۔وہ پیزے والے بھائ آپ کی شرٹ کے اندر چلی گی چپکلی ۔۔۔
عائشو روکتے ہوے بتاتی کلاس سے بھاگ چکی تھی ۔۔۔
آہہہہہہ آہہہہہہہہ ۔۔
جبکہ اب پوری کلاس تافشین کا ڈانس دیکھ رہی تھی جو بھاگتا ہوا چیخ چلا رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
نروس تو نہیں ہو رہے تم سلانٹی ۔۔۔
حنین مسکراتے ہوے پوچھ رہی تھی ۔۔
جو اس کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔
تم میرے ساتھ رہو گی ہمیشہ کبھی نہیں نروس ہو گا۔۔۔
ارسلان اس کا ہاتھ لبوں تک لے کر جاتا بولا ۔۔۔۔
ارسلان یہ غلط ہے پلیز میں نہیں چاہتی کوئ میرے بارے میں کچھ غلط کہے سو پلیز آئندہ خیال رکھنا ۔۔۔
حنین زرا سخت لہجے سے کہتی اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئ بولی ۔۔۔
اچھا ب۔۔۔
سر درام آ گے سر آ گے پیلز میم آپ ان کے آفس چلے جاۓ ۔۔۔
ارسلان کچھ کہتا جب ایک کولیگ بھاگتی ہوئ گھبراتے ہوے بولی ۔۔۔
پورے آفس میں ہلچل مچ گی تھی درام شاہ کا نام سن کر ہر کوئ اپنا کام کرنے کے لیے بھاگ رہا تھا ۔۔۔
دیکھ اگر میں پانچ منٹ بعد زندہ واپس نہ آیا تم سمجھنا میں مر چکا ۔۔۔
ارسلان اپنا پیسنہ صاف کرتا حنین سے بولا ۔۔۔
بکواس کم کیا کرو سلانٹی میں تمہارے ساتھ ہو حوصلہ رکھو ۔۔۔
حنین
ہمت دیتی بولی ۔۔
————————————————————
سر تو آپ کو ہماری ڈیل کیسی لگی ۔۔
ارسلان سنجیدہ ہوتا مسڑ اشرف شاہ سے پوچھ رہا تھا ۔۔
جو کہ ایک بہت بڑے پولیٹیشن بھی تھے ۔۔
میٹنگ ہو چکی تھی لیکن درام ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔۔
ہمیں منظور ہے بس اب اونر نے سائن کرنے ہے آتا ہو گا وہ ۔۔
اشرف صاحب مسکراتے ہوے بولے جبکہ نظر دروازے کی طرف تھی ۔۔۔
کیا ان کا بیٹا امریکہ سے آ رہا ہے ۔۔
کب سے سن رہا وہ شاہ صاحب آ رہے ہے ۔۔۔
ارسلان منہ بناتا بولا ۔۔۔
چپ بھی کر جایا کرو کبھی سلانٹی پتہ بھی ہے یہ ڈیل کتنی ضروری ہے بڑے پاپا کے لیے ۔۔۔
حنین دانت پیستی ہوی بولی ۔۔۔
اور بڑے پاپا کے بیٹے کو تمہاری ضرورت ہے کیا وہ نہیں دیکھتا تمہیں ۔۔
ارسلان اپنی بات کہتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔۔
نہیں اب چپ رہو آ گیا وہ ۔۔۔
حنین نے جلدی سے سامنے دیکھتے جواب دیا جہاں اشرف صاحب اپنے بیٹے کے لیے کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔
————————————————————
ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔
سیریسلی میرا پیٹ پھٹ جاۓ گا وہ سب سوچ کر ۔۔
ارسلان ہال صوفے پر بیٹھا ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتا بولا۔۔۔
جبکہ عائشو اور حنین منہ بناۓ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ارے واہ یہ سلانٹی کا بچہ بڑا ہنس رہا ہے ۔۔
کیا انکل نے سر پر جوتے زیادہ مار دے ۔۔۔
زری ہال میں انٹر ہوتی بولی ۔۔۔
آو تم بھی زردہ چاول میں بتاٶ کیا ہوا ۔۔۔
ارسلان اپنی ہنسی روکتا ہوا بولا ۔۔۔
(پپپ پپپ پیپپپ راستہ دو درام شاہ کی گاڑی آ رہی ہے ۔۔۔
ٹی پنک کلر کی ٹی شرٹ پہنے جس میں اس کے سفید کسرتی بازو نظر آ رہے تھے ساتھ واہٹ پینٹ واہٹ ہی جوگرز پہنے ۔۔
گہرے براٶن بال کالی گہری آنکیھں جن میں ایک اداسی تھی ۔۔۔
سفید رنگ ہلکی شیو گال پر پڑتے ڈمپل لے وہ خوبصورت مرد زمین پر بیٹھا اپنی چھوٹی سی گاڑی چلاتا آ رہا تھا ۔۔۔
حنین اور ارسلان پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے اس کمپنی کا اونر ایک چھوٹے بچے کی طرح ری ایکٹ کیوں کر رہا تھا ۔۔
آہہہہہ۔۔۔
دھیان سے سر ۔
ارسلان ہوش میں آتا اس کی طرف بھاگا جو اچانک ٹکر لگنے سے گرنے والا تھا ۔۔۔
ہیرو میرے چلو آو شیٹوم شیٹوم کر کے تم سب کو مار دینا ٹھیک آج سے تم ہیرو ۔۔۔
درام مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
جس سے اس کے ڈمپل دیکھ رہے تھے ۔۔۔
ارسلان شوک میں صرف حامی بھر سکا ۔۔۔
جبکہ اب گھر آتا ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہا تھا ۔۔)…
وہ تو یہ حساب ہوا پھٹا پوسٹر نکلا ہیرو ۔۔
نہیں نہیں غلط ۔یہ ٹھیک ہے ۔۔
کھودا پہاڑ نکلا چوہا ۔۔۔
ہاہاہاہاہا ۔۔۔
ارسلان سب بتاتا ہنستا ہوا بولا ۔۔۔
غلط بات سلانٹی کے بچے وہ بھی انسان ہے تم کیسے مذاق بنا رہے اس کا ۔۔
تمیں ہیرو مانتا ہے وہ ۔۔۔
عائشو جو کب سے خاموش بیٹھی تھی اب زرا سختی سے بولی ۔۔۔
تم بڑی آی دادی ماں چپ کرو ۔۔۔
زری عائشو کو تنگ کرتی بولی ۔۔۔
دادی سے یاد آیا زردہ چاول پھر مار پھری نانی سے کہ نہیں ۔۔۔
عائشو دانت پیستی ہوی بولی ۔۔۔
ارے وہی سے جان بچا کر یہاں آی ہو ایک تو نانی کا پتہ نہیں کیوں شوق ہے میری شادی کا ۔۔۔
زری منہ بناتے بولی ۔۔۔
شوق نہیں وہ جان چھڑوانا چاہتی ہے اتنی بڑی افلاطوں ہو تم اور تمہارے شوہر کا اللہٌ حافظ ہو گا میں پہلے بتا رہا ہو ۔۔۔
ارسلان زری کو تنگ کرتا بولا ۔۔۔
اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے سلانٹی کے بچے ۔۔
زری دانت پیستی ہوئ بولی ۔۔
ہاے بڑے نیک خیال ہے میرا تو بس پاپا مان جاۓ ۔۔
ارسلان مسکراتا ہوا بولا ۔۔
اور إن شاءالله تمہارا یہ خیال کبھی پورا نہیں ہو گا سلانٹی ۔۔
عائشو منہ بناتی بولی ۔۔
جیسا اس نے منہ بنایا تھا سب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو چکے تھے ۔۔۔
ہاے سویٹی یہ کیا بددعا دے دی تم نے چلو ایسا کرتا ہو تم دلہن بن جاٶ کیا خیال ہے ۔۔
ارسلان اسے تنگ کرتا ہوا بولا ۔۔
کوئ بہت ہی بے ہودہ خیال ہے آپ کا میں بڑے پاپا کو بتاتی ہو ۔۔
عائشو وہاں سے اٹھ کر بھاگتی ہوی بولی ۔۔۔
ہاے بچی شرما گی ۔۔
ارسلان ہنستا ہوا بولا ۔۔۔
جاہل انسان بچی شرمائ نہیں بکواس کر کے گی ہے ۔۔۔
زری بیزار ہوتی بولی ۔۔
ہاں تو تم شرما لو زرا ویسے میں سوچ رہا تھا اس پاگل کی شادی تمہارے ساتھ کر دے ۔۔۔
ارسلان تنگ کرتا بولا ۔۔
بڑی اچھی بات ہے تم شادی کرو اس کے ساتھ اور مر بھی جانا تھوڑا سا اگر غیرت ہوئ تو ۔۔
جیسے تمہارے حالات ہے مجھے لگتا تم کنوارے ہی مرو گے ۔۔۔
زری جلتی ہوئ بولی ۔۔۔۔
ہاہاہاہہاہاااہاہاہاہاہاہا سچی جیسے تم لوگ لڑتے ہو مجھے لگتا شادی ہو جاۓ گی دونوں کی ۔۔۔
حنین دونوں کی لڑائ دیکھتی ہوئ بولی ۔۔۔
توبہ اللہٌکا نام لو اس سلانٹی سے شادی کر لو میں پہلے زہر نہ کھا لو ۔۔
پھر کب زہر کھا رہی ہو مجھے بتانا میں تمہارے قل پر ایک اچھا سا ڈریس پہنو گا ۔۔۔
ارسلان اس کی بات کاٹتا دانت نکال کر بولا ۔۔۔
زہر کی کیا ضرورت ہے میں مارتی ہو نہ تمہیں جاہل۔۔۔
زری اسے مارنے کو دوڑتی ہوئ بولی ۔۔
ارے نانی جان آپ یہاں یہ زردہ چاول یہی ہمارے گھر ہے ۔۔۔
اس سے پہلے وہ اسے مارتی جب ارسلان پیچھے دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
سچی نانی میں۔۔۔
کدھر ہے نانی ذلیل انسان جاہل مر جاٶ تم ۔۔۔
زری جلدی سے ڈرتے ہوے پیچھے دیکھتی بولی جب کوئ بھی نہیں تھا ۔۔۔
دوسری طرف ارسلان بھاگ گیا تھا جب زری نے اسے القابات سے نوازا ۔۔۔
————————————————————
ی۔یہ شرٹ پہنا دو مجھے ۔۔
وہ روکتے ہوۓ بولا ۔۔
اففف میں نہیں پہنا رہی جاٶ یہاں سے پاگل ۔۔
وہ بیزار ہوتی بولی ۔۔۔
ت۔تم۔دوست ہو میری اور محبت بھی کرتی تم ایسا کرو گی میرے ساتھ ۔۔
وہ اپنی آنکھوں میں آنسو لاتا ہوا بولا ۔۔
میرے دو میٹھے لفظ سن کر تم محبت کہہ رہے ہو کہاں پھس گی میں ۔۔
وہ کوفت سے چلاتے ہوے بولی ۔۔
گندی ہو تم نہیں رہنا تمہارے ساتھ ۔۔
کوئ نہیں دوست بنتا میرا ۔۔
وہ مسلسل روتا ہوا چلا رہا تھا ۔۔۔
میں کیا اتنی سخت دل ہو نہیں میں کیوں اس بچارے کو بول رہی جیسے خود نہیں پتہ قیسمت نے ہم دونوں کے ساتھ کیا کیا ہے اور میں کیا کر رہی ہو ۔۔۔
وہ اس کی حالت دیکھتی دل میں سوچا ۔۔۔
اچھا دوست سوری کرتی ہے یہاں آو میں شرٹ پہنا دو ۔۔
وہ چہرے پر مسکراہٹ لاتی بولی ۔۔۔
سچی دوست کتنی اچھی ہو وعدہ اب میں تنگ نہیں کرو گا اچھے بچوں کی طرح رہو گا ٹھیک ۔۔۔
وہ جلدی سے قریب آتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ اب وہ سوچ رہی تھی اسے شرٹ کیسے پہناۓ جو اتنا قریب کھڑا تھا اس کے منہ کی گرم سانسوں کی تپش اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
تافی تم مجھے لے جاٶ وہاں جہاں جاتے ہو ۔۔۔
وہ تافشین کے پاس آتا بولا ۔۔
جو یونی جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا ۔۔۔
نہیں ہم وہاں نہیں پارک جا۔۔۔
نہیں نہیں تم لے کر جاٶ گے ورنہ درام شاہ نہیں بولے گا ۔۔۔
وہ معصوم بچوں کی طرح منہ بناتے دمکھی دیتا بولا ۔۔۔
اچھا ٹھیک تافی لے جاۓ گا وعدہ کرو وہاں ڈرنا نہیں کیسی سے اچھا ۔۔۔
وہ بڑے بھاہیو کی طرح اسے سمجھا رہا تھا ۔۔۔
پکے والا وعدہ میں کچھ نہیں کرو گا ۔۔۔
درام اپنے منہ میں لولی پوپ رکھتا ہوا بولا ۔۔
————————————————————
چاچو مان جاۓ نہ میں خیال رکھو گا اس کا اسے باہر جانے دے ۔۔
تافشین اشرف صاحب کو مناتے ہوا بولا ۔۔
نہیں بیٹا وہ نقصان پہنچاۓ گا تم جانتے ہو انسانوں کو دیکھ کر ڈر جاتا اور وہاں تو پھر اتنے لوگ ہو گے تم کیسے ہنیڈل کرو گے ۔۔۔
انہوں نے تفصیل سے کہا ۔۔۔
پاپا م۔یں میں تافی کو تنگ بلکل نہیں کرو گا میرا سپر مین ہے ۔۔۔
درام خود آتا بولا ۔۔۔
اچھا میرا بیٹا آرام سے جانا بھای کو تنگ بلکل مت کرنا اور اس کو سبھنالنے والا میل بواۓ لے کر جاو ۔۔
نہیں نہیں وہ گندہ ہے مارتا مجھے ۔۔
اچانک درام چلاتا ہوا بولا ۔۔
ریلکس ہم دونوں جاۓ گے اچھا ۔۔۔
تافشین اسے پر سکون کرتا بولا ۔۔۔
————————————————————
چھوڑو مجھے بچاٶ بچاٶ ۔۔
تافی بھائ بھائ ۔۔۔
درام اپنے آس پاس اتنے لڑکے اور لڑکیاں دیکھتا چیختا ہوا بولا ۔۔۔
تافشین اسے یونی چھوڑتا گاڑی پارک کرنے گیا تھا ۔۔۔
جب وہاں ایک آوارہ گروپ درام کے پاس آتا تنگ کر رہا تھا ۔۔۔
ہاے بچہ ڈر گیا ویسے تم ہو خوبصورت چاہے پاگل ہی صیح ہو تو مرد نہ تم ۔۔۔
ایک لڑکا خبابث سے ہنستا درام کو ٹچ کرتا بولا ۔۔
گندہ گندہ چھوڑو میرا سپر مین آے گا چھو۔۔۔
درام سب کو دور کرتا چلاتا ہوا بولا ۔۔۔
جبکہ غصہ کرنے سے اس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا ۔۔۔
پاگل پاگل پاگل ایسے الفاظ درام شاہ کے آس پاس گھومتے لڑکے اور لڑکیاں مذاق کرتے اُونچا اُونچا بول رہے تھے ۔۔۔
بچاٶ بچاٶ مجھے جانا ہے یہاں سے ۔۔
درام اب زمین پر بیٹھا روتا چلا رہا تھا ۔۔۔
وہاں کیا ہو رہا ہے زری ۔۔۔
عائشو نے سامنے ہجوم دیکھتے پوچھا ۔۔۔
یونی میرے باپ کی ہے جو پتہ ہو گا پوچھ تو ایسے رہی ہو ۔۔
چلو مرو دیکھتے ہے ۔۔۔
زری بیزار ہوتی بولی ۔۔۔
دور ہٹو سب کیا دیکھ نہیں رہا کیسے مذاق بنا رہے ہو جاہل انسان کیا دل نہیں تم سب میں ۔۔۔
زری درام کو کھڑا کرتی سب پر چلاتی بولی ۔۔۔
جبکہ عائشو درام کو پانی پینے کو دے رہی تھی ۔۔۔۔
تم کیوں آی ہو کیا خود بھی اسے دیکھ نیت خراب کر لی ویسے آپس کی بات ہے یہ لڑکا کافی ہاٹ ہے ۔۔۔
ایک لڑکی کمنگی سے درام کو دیکھتی زری سے بولی ۔۔۔
چٹاخ ۔۔
لڑکی ہو تبھی ایک تپھڑ لگایا ہے ورنہ ابھی جوتے مارتی میں سمجھتی کیا ہو ۔۔۔۔
خود ایسی ہو سب ایسی ہو گی ۔۔۔
چلو دفع ہو جاٶ یہاں سے ورنہ جوتا اتار کر مارو گی ۔۔۔
زری اپنا جوگر اتارتی دیکھاتی ہوئ بولی ۔۔۔
جبکہ سب اب وہاں سے جان بچاتے بھاگے تھے ۔۔۔
سب جانتے تھے عائشو اور زری جب مارنے پر آتی تھی تو کسی کی نہیں سنتی تھی ۔۔۔
———————————————————–
ارے واہ یہ تو شیرنی ہے مزہ آ گیا ۔۔۔
تافیشن جو گاڑی پارک کرتا آ رہا تھا جب سامنے ہجوم کو دیکھتا بھاگتا ہوا آیا ۔۔۔
لیکن وہاں زری کو ایکشن میں دیکھتا مسکرا پڑا جو سب کو کھری کھری سنا رہی تھی ۔۔۔
واہٹ شرٹ بلیک پینٹ پہنے اپنے ہائ لائٹ کیے ریڈ بال جو ٹیل پونی بناۓ ہوۓ تھی جب بھی زری اپنا خوبصورت چہرہ ہلاتی بولتی تب پونی جھولتی تھی ۔۔۔
سفید رنگ کالی گہری آنکھیں بنا میک اپ کے خوبصورت چہرہ منہ میں ببل ڈالے وہ مسلسل بول رہی تھی ۔۔۔
عائشو کی ڈارسنگ بھی سیم تھی پر اس کا قد زری اور حنین سے چھوٹا تھا تبھی سب کو ایک بچی لگتی ۔۔۔
تم کیا آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی ہو اسے چلو یہاں سے ۔۔
زری عائشو کا ہاتھ پکڑتی غصہ کرتی بولی جو مسلسل درام کا خوبصورت چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ہاے یہ کتنا پیارا ہے بلکل ایک بچے جیسا ۔۔
ہاے میرا کرش ۔۔۔
عائشو دل پر ہاتھ رکھتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔
او بہن کب سے تو ٹھرکی بن گی ۔۔
زری شوک ہوتے پوچھا ۔۔۔
جب سے تو نہیں بنی جاہل عورت ہٹ اب ۔۔
عائشو اسے بولتی درام کے پاس چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
دور رہو ٹچ مت کرنا گندی لڑکی ۔۔۔
وہ اپنے پاس آتی عائشو کو دیکھتا روتا ہوا بولا ۔۔۔
نہیں میں اچھی ہو تمہاری دوست ہو ۔۔
عائشو اسے پر سکون کرتی مسکراتے ہوے بولی ۔۔۔
دوست تم میری ۔۔۔
وہ اپنی چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا ۔۔۔
ہاں اب سے ہم دوست میں تمہارے ساتھ رہو گی ۔۔
عائشو خوش ہوتی بولی ۔۔۔
تافی بھائ تافی بھائ یہ دوست میری ۔۔۔
درام تافشین کے پاس جاتا خوش ہو کر بولا ۔۔۔
اوووو تو یہ تحفہ تمہارا ہے ٹافی اگر ہنیڈل نہیں ہوتا تو ہر گز مت لے کر آیا کرو ایسے اس کا مذاق بنتا ہے زرا جو خیال تم رکھ لو اس کا ۔۔۔
زری یہ جانتے درام تافشین کا کزن سے تبھی غصہ سے بولی ۔۔
شکریہ یار اگر تم نہ ہوتی تو درام کو کون بچاتا درام مجھے بہت عزیز ہے تبھی اسے اپنے ساتھ لایا تھا میں ۔۔۔
کیا ہم دوست بن سکتے ہے ۔۔
تافشین مسکراتا ہوا سنتا اپنا ہاتھ آگے کرتا بولا ۔۔۔
ہم دشمن کب تھے جو دوست بنتے خیر اپنے کزن کاخیال رکھنا ۔۔۔
زری اترا کر کہتی عائشو کا ہاتھ پکڑتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔۔
تافی دوست بھی چلی گی میں کیا کرو ۔۔۔
درام اداس ہوتا بولا ۔۔۔
آ جاۓ گی دوست آو ہم گھر چلے ۔۔۔
تافشین اسے گلے لگاۓ جاتا ہوا بولا ۔۔۔
———————————————————–
آپی ایک بات بتاۓ ۔۔
رات کو عائشو حنین کے ساتھ ہگ کیے لیٹی ہوی بولی ۔۔۔
جی میری جان بولو ۔۔
حنین اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی ۔۔۔
صفدر اور دانیال دو ہی بھائ تھے ۔۔۔
ماں باپ ایک حادثے میں فوت ہو چکے تھے ۔۔
تب سے دانیال نے محبت سے پالا تھا اپنے چھوٹے بھای کو ۔۔
دانیال نے اپنی کزن سے شادی کی تھی ۔۔۔
جو کہ بہت اچھی اور محبت کرنے والی عورت تھی ۔۔۔
رخسانہ بیگم ۔۔۔
صفدر اور کلثوم دونوں نے لو میرج کی تھی ۔۔۔
صفدر کے ماں باپ تو زندہ نہیں تھے پر دانیال صاحب بڑے بھای ان کے انھوں نے باپ بن کر پالا تھا ۔۔۔
یہی وجہ ہے انہیں کوئ اعتراض نہیں تھا ان کی شادی سے ۔۔۔
شادی کے بعد دانیال کو اللہٌنے خوبصورت بیٹے سے نوازا تھا ۔۔۔
جس کا نام ارسلان رکھا گیا تھا ۔۔۔
صفدر کو اللہٌنے دو بیٹاں دی تھی ۔۔
بڑی بیٹی حنین چھوٹی بیٹی عائشہ ۔۔
دونوں بہنیں ایک جیسی تھی ۔۔۔
فرق صرف قد اور آنکھوں کے کلر کا تھا ۔۔۔
حنین کی آنکھیں براٶن جبکہ عائشو کی کالی تھی ۔۔
عائشو قد سے بھی چھوٹی بچی لگتی تھی ۔۔۔
صفدر اور کلثوم ایک پارٹی سے واپس آ رہے تھے ۔۔
جب ایک ٹرک کے حادثے میں دونوں انتقال کر چکے تھے ۔۔۔
بچپن میں اپنے ماں باپ کے سایے سے محروم ہو چکی تھی ۔۔۔
جنہں رخسانہ نے ارسلان کے ساتھ ان دونوں کو ماں کی محبت دیتے سبھنالا تھا ۔۔۔
لیکن حنین عائشو کا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتی یہی وجہ تھی دنیا میں سب سے زیادہ محبت اسے عائشہ سے تھی ۔۔۔
کوئ ایسی بات نہ تھی جو حنین نہ ماتی ہو ۔۔۔
آپی اگر میں آپ کی کوئ عزیز چیز لے لو پھر آپ کیا مجھے بولے گی ۔۔
عائشو اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی ۔۔۔
دنیا میں مجھے بس تم عزیز ہو اور کوئ نہیں ۔۔
حنین مسکراتی ہوئ بولی ۔۔
کیا سلانٹی بھی نہیں مطلب آپ دونوں کی شادی ۔۔۔
عائشو پریشان ہوتی ادھوری بات چھوڑتی بولی ۔۔۔
نہیں اگر ہماری شادی بھی ہوئ تو بھی مجھے تم عزیز ہو سلانٹی کی بس میں عزت کرتی ہو ۔۔
حنین نے پرسکون ہوتے جواب دیا ۔۔
اگر کبھی میں آپ کا یقین توڑ دو تب ۔
عائشو نے عجیب سا سوال کیا ۔۔
ایسا ہو ہی نہیں سکتا میری عائشو بہت اچھی ہے ۔۔
حنین پھر مسکراتے ہوے بولی ۔۔۔
———————————————————–
کیوں رو رہی ہو تم ۔۔
وہ روم میں آتا اسے دیکھتے بولا ۔۔
جو بیڈ پر لیٹی مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔
اچھا رونا بند کرو میں چیج کر دیتا ہو تمہارے کپڑے ۔۔۔
وہ خودی اس کے کپڑے دیکھتا بولا جو خراب ہو چکے تھے ۔۔۔
جاٶ یہاں سے کیوں آتے ہو میرے سامنے تمہیں دیکھ کر مجھے اپنا گناہ یاد آ جاتا ہے ۔۔
مذاق بنانے آتے ہو تم جانتے جو ہو میں محتاج ہو چکی ہو ۔۔
وہ بیڈ پر ہی لیٹی چیختے ہوے بول رہی تھی ۔۔
اچھا بتاٶ کون سا ڈریس پہنو گی یہ ریڈ شرٹ ٹھیک ہے اس میں کیوٹ بچہ لگتی ہو ۔۔۔
وہ اس ان سنی کرتا خود بولتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔
دفعہ ہو جاٶ میرے حال پر چھوڑ دو میری نرس کو بلا دو وہ چیج کرے گی ۔۔۔
وہ پھر چلاتے ہوے بولی ۔۔۔
نرس کیوں شوہر ہو میں اور فکر مت کرو کھا نہیں جاٶ گا تمہیں ۔۔
وہ اس کے قریب بیٹھتا پیار سے بولا ۔۔
تم۔شو۔۔۔
اففف بہت بولتی ہو تم کبھی منہ بند کر لیا کرو ۔۔
وہ اس کا منہ ڈوپٹہ سے بند کرتا بولا ۔۔
چھو ڑ ۔و۔مذاق ۔بن۔ت۔ہو۔
وہ دبا دبا چلا رہی تھی ۔۔
جبکہ اب وہ لائٹس آف کرتا سکون سے اس کے کپڑے چیج کروا رہا تھا ۔۔۔
