Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300 Junoniyat (Episode 25)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 25)
Junoniyat By Mehar Rania
تم کیا کر رہی ہو اندھیرے میں ۔۔۔
احد روم میں آتا حنین کو کھڑکی کے پاس کھڑے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
تم سے مطلب ڈرا دیا مجھے ۔۔۔
حنین اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے بولی تھی ۔۔۔
ہاں مطلب تو کوئ نہیں جاٶ سو جاٶ صبح نکاح ہے میرا میں نہیں چاہتا تمہاری یہ حقلے والی آنکھیں دیکھو جو رات جاگنے کی وجہ سے ہو گی ۔۔۔
احد حنین کے قریب آتا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاہاہاہا ۔۔۔۔
کیا دماغ ہے ویسے کیوں اتنی خوش فہمی پال رکھی ہے تم نے ۔۔۔
حنین اس کی آنکھوں میں دیکھتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہمممم جاٶ یہاں سے ۔۔۔
احد سے جب کوئ بات نہ بن سکی تبھی بیزار ہوتا بولا ۔۔۔۔
ہاہاہا پاگل ۔۔۔
حنین اسے چپ دیکھتی قہقہ لگاتی بیڈ کی طرف چلی گی تھی ۔۔۔۔۔
————————————————————
افففف میں تھک گی ہاے میری کمر ۔۔۔۔
عائشو گھر آتے ہی اپنی کمر پکڑتے بولی تھی ۔۔۔
جان غلام حاضر ہے ۔۔۔
ارسلان اسے گود میں اٹھاۓ مسکراتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاے توبہ میرا لنہگا میں خود چلی جاتی ۔۔۔۔
عائشو گھبراتے اس کے شولڈر پکڑتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا بیوی ہو میری اور محبت بھی ۔۔۔
ارسلان عائشو کو بیڈ روم لاتا پیار سے بولا تھا ۔۔۔۔
چلے اب اتار دے میں چیج کر لو ۔۔۔۔
ارسلان کو ویسے ہی خود کو گود میں اٹھاۓ دیکھ عائشو شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
کیوں چیج کرنا میں نے ابھی بتایا ہی نہیں تم کیسی لگ رہی تھی آج ۔۔۔
ارسلان یہ کہتے ہی عائشو کو بیڈ پر گراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
م۔مج۔مجھے پتہ۔میں کیسی لگ رہی تھی آپ رہنے دے ۔۔۔۔
بیڈ پر گری عائشو ارسلان کی نظروں کا مطلب سمجھتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
ارے تم پوچھ رہی تھی سب کے سامنے تب جگہ مناسب نہیں تھی پر یہ روم مناسب ہے مجھے بتانے دو ۔۔۔۔
عائشو جو جان بچاتے اٹھ رہی تھی جب ارسلان اس کے اوپر جھکتے ہوۓ بہکے انداز سے بولا ۔۔۔۔
عائشو کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔۔۔
کپڑے۔ک۔و۔چیج۔۔۔۔
کپڑے چیج کرنے یہ تو چھوٹی سی بات ہے لو میں کرواتا ہو ۔۔۔۔
عائشو جو بہانہ بنا کر جان بچانے کی کوشش میں تھی تبھی ارسلان اس کی بات کاٹتا لنہگے کا ڈوپٹہ اس سے الگ کرتا بولا ۔۔۔۔
جو ساتھ پن اپ کیا گیا تھا ۔۔۔۔
د۔دور۔رہے میں کر لیتی چیج۔۔۔۔
عائشو اپنے شولڈر پر ہاتھ رکھتی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
کرتی اس کی شولڈر لیس تھی ڈوپٹہ الگ کرتے ہی اس کے شولڈر اور گردن صاف نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔
تبھی ارسلان کو دیکھتے بولی جو مسلسل اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
تم بہت پیاری ہو عائشو میری محبت تم نہیں جانتی تمہیں پا کر میں کتنا خوش ہو ۔۔۔۔
مجھے تم سے محبت ہے بلکہ نہیں جنونیت والی محبت جو کم نہیں بلکہ دن با دن بڑھتی جاے گی ۔۔۔۔
ارسلان عائشو کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں پھساۓ اس کی گردن پر لب رکھتا ہوا بولا ۔۔۔۔
م۔می۔می۔میں بھی بہت خوش ہو آپ کی محبت پا کر ۔۔۔
عائشو اپنی تیز سانسوں کے درمیان بولی تھی ۔۔۔۔
مجھے معاف کر دو تمہیں تکلیف دی اتنی زیادہ میری وجہ سے وہ سب ہوا ۔۔۔۔
ارسلان عائشو کے چہرے کو دیوانہ ور چومتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
جو ہونا تھا ہو اب میں دوبارہ سے یہ سب نہیں سننا چاہتی ارسلان ۔۔۔
عائشو ارسلان کا چہرہ پکڑتے اس کی آنکھوں کو چومتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ہممم۔بات ٹھیک ہے بس اب ہم اپنے بچوں کے بارے میں سوچے گے ۔۔۔
ارسلان آنکھوں میں شرارت لاتا اس کی کان کی لو کو چومتا بولا تھا ۔۔۔۔
بچے ہمارے کیا لیکن ڈ۔ت۔
عائشو ایکدم سنجیدہ ہوتی اسے دیکھ کر بولی ۔۔۔
ہاں ہمارے ہو گے اللہٌ نے چاہا تو ضرور اگر نہ بھی ہوۓ کوئ بات نہیں ہم یتیم بچے کو گود لے گے اسے پالے گے وہ ہمارا بچہ ہو گا ۔۔۔۔۔
بہت سے لوگ ہے جو ایسا کرتے ہے ۔۔۔۔
شاہد ہماری وجہ سے اس یتیم بچے کو بھی ماں باپ کا پیار مل جاۓ گا ۔۔۔۔
ارسلان عائشو کی کرتی کے بٹن کھولتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
م۔جھ۔مجھے سونا ہے میں تھک گی ہو ۔۔۔۔
وہ جو ارسلان کی بات سنتی خوش ہو رہی تھی سانس تو تب تھمی جب اس کی اگلی حرکت دیکھی تبھی گھبراتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔
بلکل نہیں رات سونے کے لیے نہیں رومینس کے لے ہوتی ہے ۔۔۔۔
ارسلان یہ کہتے ہی اس کے لبوں پر لب رکھ چکا تھا ۔۔۔۔
عائشو بھی مزاحمت کیے بنا خود سپردگی دے چکی تھی ۔۔۔۔
جیسے جیسے رات گزر رہی تھی ارسلان ویسے ہی اپنی محبت کی شدت اس پر لٹا رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
ہاے میرے بال ۔۔۔۔
تافشین روم میں آیا تو اسے زری کی آواز سنائ دی ۔۔۔۔
کیا ہوا بالوں کو ۔۔۔۔
تافشین اس کے قریب آتا ہوا بولا ۔۔۔
جو جنجھلاتی ہوئ پیچھے کمر سے بال نکال رہی تھی جو ڈوری میں پھس چکے تھے ۔۔۔۔
کیوں دیکھائ نہیں دیتا تمہیں ۔۔۔
زری الٹا اسے ہی پھاڑ کھانے کو ڈوری ۔۔۔
ہاں مجھے تو دیکھ ہی نہیں رہا ۔۔۔۔
تافشین اسے گھورتے دانت پیستے کہتا وڈراب روم چلا گیا ۔۔۔۔
————————————————————
ہے ہی کوئ ان رومانٹک انسان ہاے میری مدد کر دیتا ۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے بال کاٹنے پڑے گے ۔۔۔۔
زری اب آنیئے کے سامنے کھڑی کوفت سے بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا جی میں ان رومانٹک ہو گیا ۔۔۔۔
زری جو اپنے آپ سے بات کر رہی تھی جب اسے تافشین کا ہاتھ اپنی کمر سے ہوتا پیٹ پر محسوس ہوا جبکہ اس کی گرم سانسوں کو اپنی گردن پر محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔۔
ن۔نہیں۔وہ یہ بال تافشیننننن۔۔۔
زری اسے اپنے قریب دیکھتی ہکلاتے ہوۓ بولی رہی تھی جب تافشین نے ایک ہی جٹھکے سے اس کی ڈوری توڑ دی ۔۔۔۔
تبھی زری اپنی شرٹ کو آگے سے پکڑتی چلائ تھی ۔۔۔۔
جو سرک کر نیچے ہو گی تھی ۔۔۔۔
اب کیا ہوا بال بچ گے تمہارے ۔۔۔
تافشین سکون سے اس کے شولڈر سے بال آگے کرتا گردن پر لب رکھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
زری کو جیسے کرنٹ لگا تھا اس کے چھونے سے ۔۔۔
م۔۔۔جاٶ یہاں سے ۔۔۔
زری کنٹرول کرتی بولی ۔۔۔
لیکن فکر کس تو تھی جس کو وہ کہہ رہی تھی وہ بہکے ہوۓ انداز سے اب اپنے لبوں سے اس کی کمر کو چوم رہا تھا ۔۔۔۔
تا۔ف۔ش۔ی۔ن۔کر۔۔۔۔
زری کو سمجھ نہ آیا وہ کیا بولے ۔۔۔
ارے میری جان گھبرا کیوں رہی بس یہی بتا رہا میں کتنا رومانٹک ہو ۔۔۔۔
تافشین زری کا رخ اپنی طرف کرتا اس کی گردن پر لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
م۔میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔۔۔
زری تھوڑا سا دور جاتے بولی تھی ۔۔۔۔
لیکن میں آج مذاق کے موڈ میں ہر گز نہیں ہو جان ۔۔۔
تافشین اسے کمر سے پکڑتا اپنے قریب لاتا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
مجھے آج افسوس ہوا بہت ۔۔۔۔
زری جو آنکھیں بند کیے تافشین کا لمس محسوس کر رہی تھی جو مکمل بہکتا ہوا اس کے چہرے کو چوم رہا تھا ۔۔۔۔
کس بات کا افسوس ۔۔۔
زری تافشین کی طرف دیکھتی نا سمجھی سے پوچھا ۔۔۔۔
کہ ہماری بھی مہندی ہوتی افففف آج تم کتنی پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
خاص کر یہ تمہارے مہندی لگے ہاتھ بہت پیارے لگ رہے آج ۔۔۔
تافشین اس کے مہندی سے رنگے ہاتھ چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
بس کر دے مجھے شرم آ رہی ہے ۔۔۔
زری اس کا یہ انداز دیکھتی خود سے دور کرتی شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں ابھی میں نے یہ بھی بتانا مجھے تم سے محبت ہے ۔۔۔
تافشین زری کا بازو اپنی طرف کیھچتا گود میں اٹھاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
زری شرماتے اس کے سینے پر منہ چھپا گی تھی ۔۔۔۔
بہت محبت کرنے لگ گیا ہو یا شاہد عشق جو کبھی کم نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔
اپنی ماما کے بعد میں نے جس عورت سے بے حد جنونیت والی محبت ہے وہ صرف تم ہو ذروا تافشین شاہ ۔۔۔۔
تافشین زری کو بیڈ پر لٹاتے اس کے اوپر جکھتے ہوۓ وہ بول رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن میں نے بہت منہ پھٹ اور بدتمیز لڑکی ہو ۔۔۔
تمہیں کیسے محبت ہو گی ۔۔۔
زری کے دل میں سکون بن کر یہ الفاظ اترے تھے جو تافشین نے آج اظہار کیے تھے ۔۔۔۔
نہیں تم بہت اچھی ہو معصوم سی اگر تم ایسی لڑکی بنی تو اس لیے کیونکہ تم اپنے آپ کو بہادر بنانا چاہتی تھی ۔۔۔
ویسے بھی میری شیرنی ہو تم ۔۔۔
تافشین زری کی ناک پر دانت گاڑتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔۔
اہہ۔۔۔جنگلی ۔۔۔
زری منصوعی اہہ بھرتے بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہا ۔۔۔۔
اب تمہارا ہی ہو میری شیرنی ۔۔۔
تافشین قہقہ لگاتا اب اپنے لب اس کی گردن پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔۔
تمہیں مجھے سے پیار ہے کیا ۔۔۔۔
تافشین جو اس کی گردن چہرے کو چوم رہا تھا ۔۔۔
جب سوالیہ نظروں سے زری کی طرف دیکھتا بولا ۔۔۔۔۔
اتنے ماہ سے بتا رہی مجھے محبت ہے اب کیا لکھ کر دو میں ۔۔۔
زری تافشین کے بالوں کو پکڑتی اپنے قریب لاتی بیزار ہوتی بولی ۔۔۔۔
ہاں ایک کام کر سکتی ہو پھر میں مان جاٶ گا تمہیں محبت ہے مجھ سے ۔۔۔۔
تافشین اپنے لب زری کے لبوں کے قریب لاتا بولا ۔۔۔۔
ک۔کی۔کیا کام ۔۔۔۔
تافشین کے اتنا قریب آنے سے زری ہکلاتے ہوۓ بولی ۔۔۔
اجازت دو مجھے کہ میں تمہیں بتا سکو میں کتنا عشق کرتا ہو ۔۔۔
اجازت دو مجھے میں تمہاری ان سانسوں میں بسنا چاہتا ہو ۔۔۔۔
تافشین زری کی بند کی آنکھوں پر پھونک مارتا ہوا بولا ۔۔۔
زری اپنی آنکھوں کو کھولتی دوبارہ بند کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
شکریہ میری جان تم نہیں جانتی میں آج کتنا خوش ہو ۔۔۔۔
زری کی اجازت ملتے ہی تافشین اس کے لبوں پر لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
تافشین
شدت بھرے عمل کو محسوس کرتے زری کو یقین ہو گیا تھا تافشین اس سے کتنی محبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
چاند کی روشنی میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش تھے ۔۔۔
————————————————————
سر اے ڈی تو شادی کروا رہا ہے ۔۔۔
اب ہم کیا کرے گے ۔۔۔
مضطفٰی کا آدمی اسے خبر دیتا بولا تھا ۔۔۔۔
کرنے دو شادی ویسے بھی کچھ دن بعد مر جانا اس نے بس میں ایک فون کال کے لیے بیٹھا ہو ۔۔۔
وہ جیسے ہی ہمیں بتاۓ گی اے ڈی اب آگے کیا کرنے والا ہے ۔۔۔
اسی دن ہمارا پلان شروع ہو گا ۔۔۔
مضطفٰی خباثت والی مسکراہٹ لاتا بولا تھا ۔۔۔
سر اگر اس نے ہمیں دھوکہ د۔۔۔۔
نہیں وہ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتی کیونکہ جانتی ہے اگر اے ڈی کے ہاتھوں سے بچ گی تو میرے ہاتھوں سے نہیں بچ ہاۓ گی ۔۔۔
آدمی جو ڈرتے ہوۓ بول رہا تھا ۔۔۔۔
مضطفٰی اچانک طش میں آتا اس کی بات کاٹتا بولا ۔۔۔۔
————————————————————
“”تو پیار کر اظہار کر ”
”ہے پیار کی غم کی دوا ““![]()
““سن لے زرا سن لے زرا“
“اے میرے دل سن لے زرا ””![]()
““ہو پیار تیرا محسوس کر تو”
”سینے میں تیرے اتارا ہو میں “![]()
![]()
“چھو کہ مجھے تو پہچان لینا ““
””لمحہ تیرا ہی گزا ہو میں ““![]()
![]()
””آنکھوں میں تیری یہ رات ہے جو ””
””اس رات کی ہے مجھ میں صبح ““
دیکھو چھوٹے تم چاہتے تھے ثمن کو دلہن بنے دیکھنا آج وہ دلہن بنے گی ۔۔۔۔۔
لیکن تم یہاں نہیں ہو گے پلیز اپنے بگ بی کے لیے واپس آ جاتے تم ۔۔۔۔
میں کتنا تنہا بکھرا ہوا رہ گیا ہو ۔۔۔۔
احد اپنے اسٹڈی روم میں درام کی تصویر لیے بیٹھا بول رہا تھا ۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے ۔۔۔
اووو سوری مسٹر احد شاہ میں نے ڈسٹرب کر دیا آپ کو شاہد ۔۔۔
صبح ہی صبح دانیال صاحب شاہ پلیس آے تھے احد سے ملنے پر جب اسٹڈی روم آتے احد کو روتا ہوا دیکھا تبھی معزرت کرتے بولے ۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں وہ آج نکاح ہے تبھی چھوٹا یاد آ رہا تھا ۔۔۔
آپ بتاۓ کس کام کے لیے آے ہے ۔۔۔
احد اچانک چہرے پر سرد پن لاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
کچھ نہیں دیکھنے آیا تھا تم کتنے بکھرے ٹوٹے ہوۓ ہو مجھے بہت افسوس ہو رہا ۔۔۔
دانیال صاحب چہرے پر دکھ لاتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔
واقعی مسٹر داینال مضطفٰی کمال صاحب بکھرا ضرور ہو پر اتنا بھی نہیں کہ کوئ مجھے روند کر چلا جاۓ ۔۔۔
احد دانت پیستا چہرے پر مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے وحشت پھوٹ رہی تھی ۔۔۔
م۔میر یہ۔۔۔
میرا یہ مکمل نام کیسے جانتے ہو تم ۔۔۔۔
اپنا پورا نام جانتے دانیال صاحب گھبراتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔
جبکہ اس کی آنکھوں میں وحشت دیکھ اس کے ماتھے پر پسینہ آیا تھا ۔۔۔
ارے دانیال جی بزنس ڈیل کی ہے ویسے بھی دوست ہو یا دشمن انفارمشین مکمل رکھنی چاہے ۔۔۔
پھر مزہ آتا ہے دوستی اور دشمنی نبھانے میں ۔۔۔
احد اس کے شولڈر پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتا کہتا اسٹڈی روم سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
م۔مجھے بات کرنی ہو گی اس سے وہ کیا کہتی ہے یہ نہ ہو اے ڈی میری ہی جان لے ۔۔۔
مضطفٰی ڈرتے ہوے سوچتا فون نکال کر نمبر ملاتا ہوا بولا ۔۔۔
———————————————————–
بلکل نہیں میں نے جو کہہ ہے ویسے ہی ہو گا ۔۔۔
خبردار اگر مجھ سے پوچھے بنا کوئ کام کیا ۔۔۔
فحال وہ کرو جو میں نے کہا ہے سمجھ آی ۔۔۔
حنین فون پر کسی پر غصہ کرتی بول رہی تھی ۔۔۔
ارے تم تیار نہیں ہوئ ۔۔۔
زری اور عائشو دونوں پنک ساڑھی پہنے تیار سی اس کے روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔
آج کام ہونا چاہے میں اس کے چہرے پر اذایت دیکھنا چاہتی ہو ۔۔۔
حنین ان دونوں کو روم میں آتا دیکھ فون پر بات کرتی فون بند کر چکی تھی ۔۔۔۔
ہاں آتی ہو تم لوگ جاٶ نکاح شروع ہونے والا میں زرا ایک خاص کام کر کے آی ۔۔۔
حنین کچھ سوچتی واش روم کی طرف جاتی بنا ان کی طرف دیکھتی کہتی جا چکی تھی ۔۔۔
اس کو کیا ہوا ہے ۔۔
عائشو پریشان ہوتی بولی ۔۔۔
پتہ نہیں یار ۔۔۔
زری اپنا سرخ چہرہ لیے بولی ۔۔۔
ویسے آج بڑی سرخ بنی ہوئ ہو اور یہ چہرے پر شرماہٹ بھی ہے کچھ تو گڑبڑ ہے ۔۔۔
عائشو زری کو تنگ کرتی بولی ۔۔۔
چل ہٹ یہاں سے ابھی بندر کو بلاتی ہو وہی تیری طیبعت سیٹ کرے گا ۔۔۔
پھر میں پوچھو گی تجھ سے ۔۔۔
زری اپنے اور تافشین کے کل رات گزرے لمحے سوچتی شرماتے ہوۓ عائشو کو ہی ڈانٹ گی تھی ۔۔۔
بس کر دے بہن کیوں چاہتی ہے میں یہ نکاح میں شامل نہ ہو سکو ۔۔۔
عائشو سیدھی لائن پر آتی گھبراتے منت کرتے بولی ورنہ وہ بھی جانتی تھی ارسلان اس کے ساتھ کیا کرے گا ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا ڈر گا میرا بچہ ۔۔۔
زری عائشو کا اب سرخ چہرہ دیکھتی قہقہ لگاتی بولی ۔۔۔
میں کیوں ڈرو گی ا۔۔۔۔
ارے بندر شکر تم آ گے یہ عائشو کہتی گھر چلے نکاح میں شامل نہیں ہونا چاہتی ۔۔۔
عائشو جو شرماتے ہوۓ بول رہی تھی جب زری اس کے پیچھے دیکھتی بولی ۔۔
نہیں میں ت۔۔۔۔
زری کی بچی رک ابھی تو ۔۔۔
عائشو جو جلدی سے ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی جب وہاں کوئ بھی نہ تھا تبھی زری جان بچاتی بھاگ گی تھی ۔۔۔۔
عائشو بھی چلاتے اس کے بچے بھاگی تھی ۔۔۔
————————————————————
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔
مولوی صاحب نے اپنے سامنے بیٹھی ثمن کو دیکھتے پوچھا تھا ۔۔۔۔
اسیٹج پر احد اور ثمن دونوں بیٹھے تھے ۔۔۔
ارسلان تافشین زری عائشو اشرف شاہ دانیال صاحب نتاشا بیگم سب ہی موجود تھے ۔۔۔
ریڈیش کلر کا فل لنہگا پہنے ڈراک میک اپ بالوں کا بن بناۓ ڈائمنڈ کا بھاری سیٹ پہنے چہرے پر گھبراہٹ لیے ثمن مکمل دلہن بنی بیٹھی تھی ۔۔۔۔
جب مولوی صاحب نے اس سے پوچھا ۔۔۔
قب۔۔۔۔۔
رک جاۓ یہ شادی نہیں ہو سکتی ۔۔۔
ثمن جو ہمت جمع کرتی بامشکل بول رہی تھی ۔۔جب ہال میں کسی کی رعب دار آواز گونجی ۔۔۔
احد تو شوک ہوتا کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔
باقی سب بھی شوک میں سامنے والے کو دیکھ کر پریشان ہو گے تھے ۔۔۔
جبکہ ثمن منہ کھولے آنکھوں میں لاتعداد آنسو لاۓ ہکابکا سامنے والے کو دیکھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔
