220K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 4)

Junoniyat By Mehar Rania

جگہ ہے تو عجیب لیکن چل یہاں سے ۔۔۔

زری اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئ بولی ۔۔

رک تمہیں آواز آی جیسے کوئ چیخ رہا ہو ۔۔۔

حنین نے ایک مکان کی طرف دیکھ کر پوچھا جو بلکل ایک ویران لگ رہا تھا ۔۔۔

کیوں یار ڈرا رہی ہے چل یہاں سے میں نے کچھ نہیں سنا ۔۔

زری بیزار ہوتی بولی ۔۔۔

ہممم چل شاہد میرا وہم ہو ۔۔۔

حنین بھی پریشان ہوتی چلی گی ۔۔۔

————————————————————

ہاں پتہ چلا کون تھے وہ لڑکے ۔۔۔

اے ڈی اپنی سربراہی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ غصہ سے بولا ۔۔۔

نہ۔نہیں سر وہ چلے گے جب تک ہم پکڑتے انہیں ۔۔

آدمی نے سر جکھاتے ڈرتے ہوے کہا ۔۔

اے ڈی ایک آدمی کو موت کے گھاڈ اتار رہا تھا ۔۔۔

جب اسے محسوس ہوا باہر کوئ کھڑا سن رہا ہے ۔۔

تبھی اپنے آدمی کو دیکھنے بیجھا تھا ۔۔۔

وہ حنین اور زری کی پشت اور ڈریس دیکھ کر سمجھا تھا لڑکے ہے لیکن نہیں جانتا تھا وہ لڑکیاں تھی ۔۔۔

ہمممممم کوئ جاسوس ہو گا پتہ کرواٶ کون اے ڈی کے علاقے میں آیا تھا جیسے اپنی جان کی پرواہ تک نہ ہوئ ۔۔۔

اے ڈی سگریٹ پیتا ہوا بولا ۔۔۔

———————————————————–

سپر ہیرو کہاں ہو ۔۔

درام تافشین کے روم میں آتا خوش ہو کر بولا ۔۔۔

ارے آو یار کیسے آنا ہوا ورنہ تم تو اپنے روم سے باہر ہی نہیں آتے ۔۔۔

تافشین جو بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا جب درام کو آتا دیکھ خوش ہوتے بولا ۔۔۔

ہ۔ا۔ہاں وہ یہ دیکھانا تھا ۔۔۔

درام اس کے پاس بیٹھتا موبائل دیکھاتا ہوا بولا ۔۔

یہ تو تمہاری دوست کا مسج ہے بلکل بات مت کرنا مجھے پتہ یہ تمہارے جذبات سے کھیلے گی ۔۔۔

تافشین موبائل پر مسج دیکھتا غصہ سے بولا ۔۔۔

نہ۔نہیں دوست اچھی میں بات کرو گا ۔۔۔

کرو بات اس سے ۔۔

اچانک درام غصہ کرتا ہوا بولا ۔۔۔

اچھا ریلکس میں بات کرتا ہو جہاں مجھے لگے گا وہ غلط ہے پھر ہم بات نہیں کرے گے ٹھیک ۔۔۔

تافشین سمجھاتے ہوے بولا ۔۔

ٹھیک ۔۔۔

درام خوش ہوتا اسی کی گود میں سر رکھتا حامی بھر گیا ۔۔۔

جبکہ اب تافشین دوست سے بات کرتا اسے بتا رہا تھا وہ کیا کہہ رہی ہے ۔۔۔

جبکہ درام خوشی سے پاگل ہو رہا تھا اس کی باتیں سنتا ۔۔۔۔

————————————————————

تم اور آج یونی خیرت ۔۔۔

زری اپنے سامنے حنین کو کھڑی دیکھ شوک ہوتے پوچھا ۔۔۔۔

کیوں میں نہیں آ سکتی کیا ۔۔۔

حنین منہ بناتی ہوئ بولی ۔۔۔

نہیں وہ شادی تمہاری تو ۔۔۔

زری نے بات ادھوری چھوڑتے کہا ۔۔۔

ہاں تو آپی کی شادی ایک ماہ بعد ہے تب تک ہم نے پیپرز سے فری ہو جانا ہے ۔۔۔

عائشو نے خوش ہوتے کہا ۔۔

ہممم یہ بھی ہے چلو کلاس لے ۔۔۔

زری اندر انٹر ہوتی بولی ۔۔۔

————————————————————

شکر ہے یار کلاس ختم ہوئی

ورنہ لگتا تھا آج سر نے بچا ہوا دماغ بھی کھا جانا ہے

زری کلاس سے باہر آتی کہہ ۔۔۔

زری کوئی شرم کر لیا کر سر کو تو چھوڑ دے

عائشو نے بیزار ہوتے کہا ۔۔

ہیں بہن یہ شرم کیا ہے ہٹ بڑی ای

زری منہ بناتی بولی ۔

اوو چپ کرو دونوں حنین دونوں کی بک بک سننے کے موڈ میں نہی تھی ایک تو سر نے ویسے ہی extra class لے کر دماغ گھوما دیا اور اوپر سے یہ دونوں ۔

زری ایک بات بتا عائشو نے پوچھا ۔

ہاں بہن بکواس کرو ۔

زری نے احسان کرتے کہا ۔۔

تجھے ڈر کس سے لگتا ہے۔

مطلب ؟؟

عائشو نے سوچتے ہوۓ پوچھا ۔

مطلب صاف ہر انسان کو ڈر لگتا ہی کسی نہ کسی زندگی میں تو بتا ۔

ہاں یار لگتا تو ہے مگر کیوں بتاؤ تم لوگ ڈرتے رہو گے ماشوم زری کو ۔

زری نے معصوم منہ بناتے کہا ۔۔

عائشو کا دل کیا منہ توڑے زری کا بس شکل سے معصوم ہے ورنہ کام ایسے اففففف مگر ابھی عائشو کا دل نہی لڑائی کا ۔

اچھا نہ زری بتا نہ عاشو نے کہا ۔۔

یار مجھ نہ سانپ سے بہت . . . . . . ڈر لگتا ہے ۔۔

زری نے ڈرتے ہو ۓ جواب دیا ۔۔۔

درخت کے پیچھے سے تافشین کسی کام سے جا رہا تھا مگر اپنی دشمن کی باتیں سننے کے لیا روک گیا ۔۔

اچھا تو زری میڈم کو سانپ سے ڈر لگتا ہے ۔۔

ویسے اچھی انفارمیشن ملی ہے کام آ سکتی ہے ۔۔

تافشین خود مسکراتا ہوا سوچتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔

یار تم لوگوں کو نہی پتہ اگر میرے سامنے بھی سانپ آ جائے تو میری سانس روک جاتی ہے

وہ ایسے بتا رہی تھی کہ جیسے سچ میں سانپ سامنے ہو ۔۔

کیونکہ بتاتے ہوۓ زری کا سانس اُکھڑ رہا تھا ۔۔۔

عائشو کو اب افسوس ہو رہا تھا کہ کیوں پوچھا ۔۔

چل زری اٹھ چلتے ہیں

عائشو اس کو زمین پر بیٹھی کو اٹھاتے ہوے بولی جو بات کرتے نیچے بیٹھ چکی تھی ۔۔۔

کیا ہوا آپی ایسے کیا دیکھ رہی ۔۔۔

عائشو خود کو گھورتی حنین کو دیکھتی پوچھا ۔۔

تم نے بالوں کٹوا لیے کیا ۔۔۔

حنین نے زرا سختی سے کہا ۔۔۔

حنین اب عائشو کی وجہ سے ہنسی مذاق کر لیتی ورنہ وہ عائشو کے لیے کافی سنجیدہ تھی ۔۔۔

نہ۔نہیں آپی وہ۔۔۔۔

عائشو اپنا حجاب ٹھیک کرتی بولی ۔۔

آج اس نے حجاب لیا تھا ۔۔۔

اچھا دیکھاٶ تو ۔۔۔

حنین آئ برو آٹھاتے تعجیب سے کہا ۔۔۔

کیوں کیا ایسا جانتی ہو مجھے تمہارے بال کتنے پسند تھے ۔۔۔

حنین اس کے بال دیکھتی بولی جو مشکل سے شولڈر تک آ رہے تھے ۔۔۔

گہرے کالے بال عائشو کی کمر تک آتے تھے اور اب وہ کٹ کیے شولڈر تک مشکل سے آ رہے تھے ۔۔۔

وہ۔آپی کیری۔۔

اسلانٹی کی وجہ سے کیا اس نے میں جانتی ہو اچھے سے ۔۔۔

عائشو سے پہلے زری بول اٹھی تھی ۔۔۔

شیٹ اپ زری کتنی دفعہ کہہ ایسا کچھ نہیں ارسلان کی چھوٹی بہن ہے یہ سمجھی ۔۔۔

بار بار ایک بات کہہ دیتی ہو ۔۔۔

بچی ہے عائشو اثر پڑے گا ذہین پر ۔۔۔

حنین سختی سے اسے ڈاٹتے ہوۓ بولی ۔۔۔

و۔۔۔

بس گھر چلو اب ۔۔۔

حنین عائشو کی بات سننے بنا جاتی ہوئ بولی ۔۔۔

سوری یار وہ آپی میرے لیے کتنی سنجیدہ ہے تو بس ۔۔۔

عائشو نے شرمندہ ہوتے کہا ۔۔۔

نہیں یار مجھے بھی پتہ وہ کیسی ہے تم سوری نہ کرو ۔۔۔

زری زبردستی مسکراہٹ لاتی بولی ۔۔۔۔

جبکہ سچ یہی تھا ارسلان نے باتوں باتوں میں کہہ تھا اسے لڑکیوں کے لمبے بال نہیں پسند اور عائشو نے تبھی اپنے خوبصورت بال کٹوا لیے تھے ۔۔۔

————————————————————

یہ کیا کر دیا چھوٹے جانتے ہو ہمیں کتنا منافع ہو جاتا ان پیسوں کا ۔۔۔

حسن شاہ نے اپنے چھوٹے بھائ اشرف کے پاس آتے کہا ۔۔۔

کچھ غلط نہیں کیا میں نے بس غریب لوگوں کو بچایا ہے ۔۔

اور اللہٌکا دیا اتنا کچھ ہے شکر ہے وہی میرے لیے بہت ان چند پیسوں کے لیے غریب لوگوں کی روزی روٹی چھین لو ایسا کبھی نہیں ہو گا ۔۔

اشرف نے اٹل انداز سے کہا ۔۔۔

لیکن ت۔۔۔۔

بس بھائ صاحب میری زمین تھی میں ہرگز نہیں دو گا بات ختم ۔۔۔

اشرف نے ہاتھ اٹھا کر بات ختم کرتے کہا ۔۔۔

حسن اپنا سا منہ لے کر واپس چلے گے ۔۔۔

————————————————————

کدھر جا رہی ہو تم ۔۔۔

تافشین زری کا راستہ روکتا ہوا بولا ۔۔

جو پیپرز پکڑے جا رہی تھی ۔۔۔

تمہیں کیا مسئلہ ہے جانتی ہو یونی تمہاری ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہر جگہ منہ اٹھا کر آ جاٶ ۔۔

زری نے منہ بناتے ہوے کہا ۔۔

دو یہ پیپرز اور خبردار اگر تم یا تمہاری دوستیں اس سر کے آس پاس بھی بھٹکی دور رہو اس سے وہ اچھا انسان نہیں ہے ۔۔

تافشین پییرز اس کے ہاتھوں سے لیتا غصہ کرتا بولا۔۔۔

مسئلہ کیا ہے یہ بتا دو وہ سر اتنے اچھے ہے میں جاٶ گی ان کے پاس ۔۔

زری ضد کرتی بولی ۔۔

یونی کلاس میں فزکس کے سر نے زری کو کچھ پیپرز لانے کے لیے ایک الگ روم میں بلایا تھا ۔۔

جیسے اب وہ اسی روم میں جا رہی تھی ۔۔۔

میں کہہ رہا ہو نہ کیوں چاہتی ہو میں غصہ کرو ۔۔

تافشین اپنی سرخ انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ت۔۔۔۔

چھوڑو مجھے جاہل میں سب کو بلا لو گی چھوڑو مجھے ۔۔۔

اس سے پہلے زری کچھ بولتی جب تافشین اس کا ہاتھ پکڑتا گھیسٹ کر لے جا رہا تھا ۔۔۔

بنا اس کی چیخ و پکار کی پرواہ کیے وہ سکون سے چل رہا تھا ۔۔۔

————————————————————

ارے واہ عائشو کتنے پیارے گلاب ہے ۔۔۔

حنین عائشو کے ہاتھوں میں سرخ گلاب دیکھتی ہوئ بولی ۔۔۔

وہ آپی یہ دوست کے لیے لیں ہے ۔۔۔

عائشو نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔

عائشو میری جان کیا واقعی تمہیں وہ درام شاہ پسند ہے ۔۔۔

حنین نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔

پتہ نہیں لیکن آپی کتنا خوبصورت ہے وہ اور چہرے پر معصومیت بھی کتنی ہے اس کے مجھے لگتا میرا کرش ہے وہ ۔۔۔

عائشو مسکراتے ہوے بولی ۔۔۔

اچھا یہ گلاب آپ تافشین کو دے اور کہے دوست نے دے ہے ۔۔۔

عائشو گلاب اس کے آگے کرتی حنین سے بولی ۔۔۔

جو خاموش کھڑی تھی ۔۔۔

ل۔لیکن کیوں ۔۔۔

اس نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔

وہ آپ بڑی ہے تو مجھے شرم آتی ہے ۔۔۔

عائشو نے کچھ سوچتے ہوے جلدی جواب دیا ۔۔۔

ت۔۔۔

آہہہہہ آہہہہ چھوڑو ہاتھ میرا ۔۔۔

اگر کسی ایک کا قتل کرنا مجھے معاف ہوتا تو پکا ٹافی تمہارا قتل کرتی میں ۔۔۔

اس سے پہلے حنین کچھ کہتی جب اچانک تافشین زری کو ان کے پاس لاتے ہوۓ چھوڑا ۔۔۔

جب زری غصہ سے بولی ۔۔۔

اور میں تمہارے دو قتل کرتا چاہے مجھے معاف ہوتے یا نہیں ۔۔۔

اب جو سمجھایا ہے وہی کرو ۔۔۔

تافشین اس کو وارننگ دیتا ہوا بولا ۔۔۔۔

ہوا کیا ہے ۔۔۔

حنین نے خودی پوچھ لیا تھا ۔۔۔

اپنی پاگل دوست کو دماغ دو عقل سے پیدل ہے یہ ۔۔۔

یہ لڑکوں والا لک بنا کر یہ مت سمجھو کہ لڑکا ہو ۔۔۔

ہو تم لڑکی ہی سو اپنی عزت کا خیال کر لو کچھ ۔۔۔

تافشین دانت پیستا زری کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔

ت۔۔۔اچھا بات ختم یہ روز درام کو دینا ۔۔۔

حنین دونوں کی لڑائ ختم ککرنے کے لیے درمیان بولی ۔۔۔

یہ روز لو اور درام کو دینا ۔۔۔

یہ کیا ہے میرے کزن کے ساتھ یہ سب کر رہی ہو ۔۔۔ سوچ لو اس کا انجام کیسا ہو گا ۔۔۔

تافشین اب اپنا غصہ حنین پر کرتا بولا ۔۔۔

یہ دینا بس اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔

حنین کو سمجھ بلکل نہیں آی تھی تبھی بات اگنور کرتی بولی ۔۔۔

———————————————————–

بگ بی یہ غلط ہے آپ کی جانم آ جاتی ہے تو مجھے بھول ہی جاتے آپ ۔۔

درام اپنے بڑے بھائ کے پاس آتا بولا ۔۔۔

جو اپنے گاٶں کی ایک لڑکی جانم سے کھیل رہا تھا ۔۔۔

ارے چھوٹے یہ رو رہی تھی تبھی کھیلا میں ۔۔

احد نے جلدی سے صفائ دیتے کہا ۔۔

جبکہ جانم اپنی براٶن آنکھوں میں شرارت لیتی درام کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

تم میرے بگ بی سے دور رہو لڑکی ۔۔

اچانک درام غصہ کرتا جانم کو دھکا دیتا بولا ۔۔۔

لوت لو ٹم آپنے بھائت تو میں ما لو دی۔(رک لو اپنے بھائ کو میں مارو گی )۔۔

سات سالہ جانم غصہ کرتے تیرہ سالہ احد کی طرف دیکھتی اپنی توتلی زبان میں بولی ۔۔۔

ہممم تم جاٶ میں بات کرتا چھوٹے سے ۔۔

احد سنجیدہ ہوتا جانم کے بال ٹھیک کرتا بولا ۔۔

جو گرنے سے خراب ہو چکے تھے ۔۔۔

جبکہ اب جانم جاتے ہوے درام کو مارتی خودی بھاگ چکی تھی ۔۔۔

———————————————————–

بھاں بھاں بھاں ۔۔۔

بس کر دو یار چھوٹے میں تنگ آ گیا ہو ۔۔۔

درام کو چپ کرواتے احد بیزار ہوتا بولا ۔۔۔

وہ کب سے اسے چپ کروا رہا تھا ۔۔۔

نہیں آپ میرے بگ بی ہے وہ لڑکی جب آپ سے کھیلتی ہے مجھے غصہ آتا ہے ۔۔

آپ بھی تیز ہے میرے ساتھ نہیں بولتے ۔۔

صرف اس کے سامنے زبان کھولتی آپ کی ۔۔۔

درام روٹھے پن سے بولا ۔۔۔

اچھا معاف کر دو اپنے بگ بی کو چلو میں گول گپے کھلاٶ تمہیں ۔۔

احد درام کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ہوے بولا ۔۔۔

————————————————————

درام اور احد دونوں جڑاوں بھائ تھے ۔۔

وہ بلکل ایک جیسے تھے کوئ بھی پہچان نہیں پاتا تھا درام شاہ اور احد شاہ کون ہے ۔۔

دونوں میں صرف یہ فرق تھا درام بہت شرارتی تھا اتنا شرارتی احد کے حصے کی بھی شرارت وہی کرتا ۔۔۔

احد بلکل سنجیدہ انسان جو زرا نہیں بولتا تھا ۔۔۔

اسے صرف دو لوگوں سے محبت تھی اپنے پاپا اشرف شاہ اور اپنا چھوٹا بھای درام شاہ ۔۔۔

کچھ دن پہلے ان کی حویلی میں ایک انجان لڑکی کھیلنے آتی تھی شرارتی سی اس کی اور درام کی کبھی نہ بننی تھی کیونکہ دونوں کو احد پسند تھا ۔۔۔

جبکہ احد کو بھی اس سے کھیلنا پسند تھا تبھی درام شاہ کو جانم اچھی نہیں لگتی تھی ۔۔۔

———————————————————–

تم نہیں کھا رہے گول گپے احد ۔۔۔

تافشین گول گپے کھاتا ہوا بولا ۔۔۔

مجھے نہیں پسند ۔۔

احد نے دو ٹوک جواب دیا ۔۔

ارے بڑا میں ہو گھر میں مجال ہے میں اتنا کھڑوس ہو جو تم ہو بولتے ہوۓ بھی سوچتے ہو تم ۔۔

تافشین نے اس کی نقل اتارتے ہوے کہا ۔۔۔

بگ بی یہ کھاۓ پلیز ۔۔۔

درام اپنا منہ گول گپوں سے بھرتے احد کی منت کرتا بولا ۔۔۔

نہیں ۔۔

صاف جواب آیا ۔۔۔

کھا لے زہر ہے اس میں ۔۔

تافشین زبردستی اس کے منہ میں گول گپا ڈالتا ہوا بولا ۔۔

زہر بھی کم ہے میرے لیے ۔۔

احد نے سرد لہجے سے کہا ۔۔

اگلی دفعہ تیزاب ڈالو گا آیا بڑا زہر کم ہے تیرے لیے اتنا سا ہے مجھ سے اور باتیں ایسی کرتے ہو جیسے کوئ گینگسٹر ہو ۔۔

تافشین پھر اس کی نقل اتارتا ہوا بولا ۔۔۔

شیٹ اپ ۔۔

احد یہ کہتا حویلی کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔

بگ بی ناراض ہو گے تافی ۔۔

درام اچانک اداس ہوتا بولا ۔۔

کوئ ناراض نہیں ہوا پتہ نہیں کون سی بد روح ہے اس میں ہر وقت سڑا ہوا رہتا ہے عمر دیکھو اس کی ۔۔۔

تافشین منہ بناتا ہوا بولا ۔۔۔

————————————————————

یہ کیا کر رہے ہو چھوٹے اس گھر کا بڑا بیٹا تافشین شاہ ہے اور تم وہ اربوں کی جگہ اپنے بیٹے احد کے نام کر رہے ہو ۔۔۔

حسن شاہ نے غصہ کرتے اشرف کی طرف دیکھتے کہا ۔۔

سوری بھای جان پر یہ جگہ بابا نے میرے نام کی تھی اب میری مرضی جس کے مرضی نام کرو ۔۔۔

آپ کو اپنی زمین مل چکی تھی ۔۔

اشرف صاحب دو ٹوک بولے ۔۔۔

تو بابا صاحب نے بھی غلطی کی تھی گھر کا بڑا میں تھا پر وہ زمین تمہیں ملی ۔۔۔

حسن شاہ مشکل سے کھڑے ہوتے بولے ۔۔۔

کیونکہ بابا جان کو پتہ تھا آپ کی حرکتوں کا جوا نشہ قتل غارت کرنا آپ کا کام ہے بس ۔۔

واقعی بڑے تھے گھر کے سب سبنھال لیتے پر نہیں آپ نے اپنی ساری جاہیداد نشہ جوۓ میں اڑا دی ۔۔۔

جاۓ روم میں ابھی بھی نشہ کیا آپ نے ۔۔۔

صرف بھابھی ماں اور تافشین کی وجہ سے آپ اس حویلی میں رہ رہے ہے بھائ صاحب ۔۔۔

اشرف شاہ نے دکھ بھرے لہجے سے کہا ۔۔۔

ہاں ہاں جا رہا ہو زیادہ بڑے بنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔

وہ مشکل سے اسٹڈی روم سے با

ہر جاتے بولے ۔۔۔

سوری بھای جان میرا مقصد یہ تھا کہ آپ اپنی فمیلی کا خیال رکھے ۔۔

اشرف شاہ نے دور جاتے حسن شاہ کو دیکھتے دل میں سوچا ۔۔۔

————————————————————

بہت بڑی غلطی کر دی اشرف شاہ اپنے بیٹے کے نام وہ زمین لگا دی ۔۔

چلو اب گیم کھیلتے ہے مزہ آے گا ۔۔۔

اب وہ زمین کے ساتھ ساتھ تیرا بیٹا بھی جاۓ گا اوپر ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہ۔۔۔

مصطفٰی کمال نے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔

اسے جب سے پتہ چلا تھا اشرف ڈرنے کی بجاے اپنی زمین بیٹے کے نام کر دی تب سے وہ غصہ میں گھوم رہا تھا ۔۔۔

کام کرو میں نے سننا اشرف کی بیوی بڑی خوبصورت ہے تو کیوں نہ تم لوگ بتاٶ اس کی بیوی کو وہ کتنی خوبصورت ہے اس کے بعد۔۔۔۔

مصطفٰی اپنے بندوں کو سارا پلان سمجھاتا ہوا بولا ۔۔۔

جبکہ آنکھوں میں حیوانیت اور خباثت تھی ۔۔۔

اب مزہ آے گا جب اشرف پل پل اپنے سامنے اپنوں کی جان جاتی دیکھے گا ۔۔۔

ہاہاہااہاااہاہاہ۔۔۔

مصطفٰی کمنگی ہنسی ہنس کر بولا ۔۔۔

————————————————————

بڑے خاموش بیٹھے ہو ورنہ درام شاہ سکون سے بیٹھ جاے ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔

آسیہ بیگم اپنی گود میں لیٹے درام کو دیکھتی بولی تھی جو خاموش لیٹا تھا ۔۔۔

حسن شاہ کی بیوی اتنی محبت کرنے والی اور اللہٌکی عبادت کرنے والی تافشین کے ساتھ انہوں نے احد اور درام تینوں کی پرورش کی تھی ۔۔۔

آسیہ بیگم کو صرف آج تک حویلی کے لوگ دیکھ سکے تھے وہ ہمیشہ پردہ کیا کرتی تھی ۔۔۔

اشرف شاہ تو انہیں اپنی ماں سمجھتے تھے ۔۔۔

تبھی وہ حسن شاہ کو بھی اپنی بھابھی ماں کی وجہ سے برداشت کرتے تھے ۔۔۔

درام سب کو تنگ کیا کرتا تھا یہاں تک آسیہ بیگم کو بھی تافشین اور احد دونوں ہی سنجیدہ طیبعت کے مالک تھے ۔۔۔

گھر کی رونق درام شاہ کی شرارتوں سے تھی ۔۔۔

اکثر ایسا ہوتا تھا شرارت درام کرتا اور ڈانٹ احد کو پڑ جاتی ۔۔۔

احد اپنے چھوٹے کی محبت میں ڈانٹ بھی سن لیا کرتا تھا ۔۔۔

آج تک کسی کو پتہ نہ چل سکا درام اور احد کون سے والے ہے جیسے آسیہ بیگم اب کنفیوژ ہو رہی تھی ۔۔۔

بڑی ماما آپ سوئ نہیں درام نے مسکراتے ہوے پوچھا ۔۔۔

ہاں بیٹا سو جاٶ گی پہلے تم سو جاٶ تافشین بھی سو گیا ۔۔

آسیہ بیگم درام کو لٹاتے ہوے بولی ۔۔۔

نہیں میں ابھی آیا واش روم سے ۔۔۔

درام یہ کہتا واش روم بھاگ گیا تھا ۔۔۔

ہاہاہہاہا لگتا ہے احد کی وجہ سے اداس ہو گیا ۔۔

تبھی اتنا سنجیدہ ہو گیا ۔۔۔

اشرف کو فون کرتی ہو واپس آ جاۓ گاٶں احد کو لے کر ۔۔

آسیہ بیگم مسکراتی ہوئ فون کرتے ہوۓ بولی ۔۔۔

————————————————————

ہیلو اشرف حویلی آ جاٶ تمہارے بھای صاحب روم میں چلے گے درام بھی اداس ہو گیا ہے ۔۔۔

آسیہ بیگم ہنستے ہوے فون پر بولی ۔۔

جی بھابھی ماں ہم بس آ رہے ہے مجھے لگتا ہے احد میں درام کی روح آی تھی بہت تنگ کیا آج ہمیں پارٹی میں ۔۔

اشرف صاحب ہنستے ہوے بولے ۔۔۔

جبکہ احد پاس بیٹھا فون میں گیم کھیل رہا تھا ۔۔۔

ا۔۔۔

اچھا پھر بات ہو گی فون آ رہا بھابھی ماں ۔۔

آسیہ بیگم کے بولنے سے پہلے اشرف شاہ جلدی سے بولتے فون بند کر چکے تھے ۔۔۔

———————————————————–

بڑا شوق ہے تمہیں میری ہر بات کا انکار کرنے کی چلو جاٶ حویلی ایک تحفہ ہے تمہارے لیے امید ہے پسند آے گا ۔۔۔

اشرف کے بولنے سے پہلے مصطفٰی خودی فون پر بول اٹھا ۔۔۔

کیا بکواس ہ۔۔۔

نہ نہ یہ بکواس نہیں نفرت کی جنگ ہے اشرف شاہ کتنے پیار سے مانگی تھی جگہ لیکن تمہیں اپنے غریب لوگوں سے پیار تھا تو یہ پیار کی قیمت کو لگے گی نہ چلو جاٶ حویلی دیکھو اپنی بیوی کی عزت جاتے ہوے اور اس بیٹے کی موت جس کے نام زمین تھی ۔۔۔

چچچچچچچ کہاں کہ مرد ہو بچا نہ سکو گے کسی کو بھی مرد تو وہ ہوۓ جو یہ سارا کام کرے گے ۔۔۔

ہاہاہہاہہاہااا۔۔۔

مصطفٰی اپنے دل کی بھڑاس نکال کر سب کچھ بتاتا فون بند کر چکا تھا ۔۔۔

جلدی چلو حویلی گو فاسٹ ۔۔۔

اشرف شاہ اچانک ڈرائیو پر چلاتے ہوے بولے ۔۔

ان کی دھاڑ سن کر احد بھی سہم گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

زری نے بھی کہاں پھسا دیا مجھے عائشو گھر چلی گی ہے اور میں ابھی یہی ہو ۔۔۔

ارسلان کو پتہ چلا غصہ کرے گا ۔۔۔

حنین وہ پیپرز لیتی سر کے روم میں جاتے سوچا ۔۔۔

زری اور عائشو گھر چلی گی تھی جبکہ اب حنین کو زری نے کہا تھا وہ یہ پیپرز دے جا کر تبھی شام ہونے سے پہلے وہ یونی روم گی تھی ۔۔۔

س۔۔ر۔سر یہ پیپرز سر کہاں ہے ۔۔

حنین روم میں انٹر ہوتے ڈرتے ہوے بولی کیونکہ روم فل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔

سر کیا روم کی صفائ نہیں کرواتے کیسے خون کی بدبو آ رہی ہے ۔۔

حنین تھوڑا سا آگے جاتی ناک پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی ۔۔۔

جبکہ وہ انجان تھی روم کوئ اور بھی تھا جو حنین کو چلاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔

آہہہہہہ آہہہہہہ ک۔و۔ن۔کون۔ہو ۔۔۔

اچانک چلتے ہوۓ حنین کسی کے اوپر گری تھی ۔۔۔

تبھی چیختے ہوے بولی ۔۔۔

روم کی کھڑکی سے سورج کی روشنی میں دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔

کمرے میں اندھیرہ خون کی مدھم بدبو ۔۔

اس شخص کی وحشت بھری براٶن آنکھیں ہاتھوں میں پکڑا خون سے بھرا خنجر حنین کی براٶن آنکھوں میں ڈر و خوف ماحول کو عیجب بنا رہے تھے ۔۔۔

ہاہاہااا تیری موت ۔۔۔

وہ پرسرار سا ہنستا ہوا سرگوشی کرتا بولا ۔۔۔

جبکہ اپنا خنجر والا ہاتھ وہ اس کے چہرے کی طرف لا رہا تھا ۔۔۔

حنین یہ لفظ سنتے رونگھٹے کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔

💕کتابوں میں پڑھا تھا یہ خدا کو پیار ہے پیارا💕💕

💕کیا جو پیار ہم نے تو ہوا دوشمن جہاں سارا 💕

💕ٹکرا دیا میں نے یہ جہاں لے آج تجھ کو چونا💕

💕تیرا عشق ہے میری سلنطیت💕

تو ہے ضدی میری تو ہے جنونیت 💕

💕میں ہو دل جلا مجھے تیری لت💕

💕تو ہے ضدی میری تو ہے جنونیت💕

وہ اپنا خنجر حنین کی شہ رگ پر رکھتا گنگنا رہا تھا جبکہ آنکھوں میں ایک چمک تھی اس کے ۔۔