Junoniyat By Mehar Rania Readelle50300 Junoniyat (Episode 5)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 5)
Junoniyat By Mehar Rania
کتابوں میں پڑھا تھا یہ خدا کو پیار ہے پیارا![]()
![]()
کیا جو پیار ہم نے تو ہوا دشمن جہاں سارا ![]()
ٹکرا دیا میں نے یہ جہاں لے آج تجھ کو چنا![]()
تیرا عشق ہے میری سلطنیت![]()
تو ہے ضد میری تو ہے جنونیت ![]()
میں ہو دل جلا مجھے تیری لت![]()
تو ہے ضد میری تو ہے جنونیت![]()
وہ اپنا خنجر حنین کی شہ رگ پر رکھتا گنگنا رہا تھا جبکہ آنکھوں میں ایک چمک تھی اس کے ۔۔
چلو گاٶ میرے ساتھ میری فیورٹ لائیز ہے یہ ۔۔
اے ڈی حنین کے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
جبکہ وہ آنکھیں بند سانس رکے برداشت کر رہی تھی ۔۔۔
چ۔چھ۔و۔چھوڑو مجھے پلیز۔۔۔
حنین نے ہمت جمع کرتے کہا ۔۔۔
ہاں چھوڑ دو گا بس باہر جا کر تم یہ نہیں کہو گی تم نے یہاں مجھے دیکھا ہے ۔۔
اے ڈی نے اپنا خنجر اس سے دور کرتے کہا ۔۔
نہ۔نہیں بتاٶ گی پکا ۔۔
حنین نے جلدی سے حامی بھری ۔۔
جاٶ یہاں سے ورنہ اے ڈی کے ہاتھ لڑکی آی ہو اور وہ زندہ بچ جاۓ ہو نہیں سکتا
اے ڈی نے حنین کی شہہ رگ پر خنجر کا ہلکا سا دباو ڈالتے ہوے کہا
خنجر کو اپنی شہہ رگ پر محسوس کرتے ہی حنین کی چینخ نکل آی لیکن اے ڈی نے فورا اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی چینخ کو وہی دبا دیا
تم پاگل ہو کیا
ابھی تمہارے شور سے سب کو پتہ چل جاتا کہ اے ڈی یہاں موجود ہے
اے ڈی نے حنین کی ڈارک براون آنکھوں میں دیکھتے ہوے غصے سے کہا
ک۔کیا ت۔تم
ا۔اے ڈی ہو ۔۔۔
حنین نے ہکلاتے ہوے پوچھا ۔۔۔
لو اتنی دیر سے کیا میں بکواس کر رہا ہو
چلو دیکھو میرا روپ
تمہیں پتہ مجھے خون چیخے رونا سننا
بہت پسند ہے ۔۔۔
تو تم بھی دیکھ لو اے ڈی ڈرتا نہیں کسی سے ۔۔۔
اے ڈی نے حنین کے منہ سے ہاتھ پیچے کرے ہوے کہا
ہاں تبھی کہہ رہے میں بتاٶ نہ کسی کو ۔۔
حنین بات کاٹتی ہوئ بولی ۔۔
۔ اتنی دیر سے وہ اپنی خاموشی برداشت نہیں کرسکتی تھی
لگتا ہے تمہیں جانا نہیں مرنا ہے چلو ایسا ہی سہی ۔۔۔
اے ڈی نے غصہ سے اس کے بالوں کو پکڑتا ہوا بولا ۔۔۔
چھوڑو مجھے ۔۔۔
آہہہہہہ آہہہہہہ ۔۔۔
حنین چلاتے ہوے اے ڈی کی گردن کو اپنے ناخنوں سے دبوچتی ہوئ بولی ۔۔۔
جب اے ڈی درد سے چلایا ۔۔۔
روکو ابھی میں تمہیں بتاتا ہو لڑکی ۔۔
۔اے نے حنین کے منہ کو دبوچتے ہوے کہا
بلیک مکمل ہڈی پہنے ماسک سے چہرے کو کور کیے چھ فٹ لمبا قد کسرتی جسم جو ہڈی سے واضح ہو رہا تھا ۔۔۔
سر لے کر پاٶں تک وہ بلیک کلر میں ملبوس تھا ۔۔۔
بلیک ہڈی بلیک پینٹ بلیک ماسک ہڈی پر اے ڈی لکھا ہوا تھا ۔۔
بلیک ہی لونگ شوز پہنے وہ اپنی گہری براٶن آنکھوں میں وحشت لاتا ہوا بولا ۔۔۔
جبکہ گردن سے خون کی بوند نکل رہی تھی ۔۔۔
جنین نے اپنا آپ چھروانے کےلے اے ڈی کے پیٹ میں زور کا مکا مارا
اے ڈی جو حنین کی آنکھوں میں دیکھنے میں مصروف تھا اس کے مکے سے بیلنس برقرار نہ رکھ سکا اور حنین اس کے ہاتھوں سے نکل گی
حنین نے جلدی سے روم کی لائٹ آن کرتے اے ڈی کا روپ دیکھا لیکن اسے کچھ خاص سمجھ نہیں آی اس لے باہر کو بھاگ گی۔۔۔
کچھ نہیں کر پاٶ گے تم روم سے نکل ہی نہیں سکتے ۔۔۔
حنین جلدی سے باہر نکل کر روم کو بند کرتی اُونچی آواز سے بولی ۔۔۔
ہاہاہاہا پاگل لڑکی باہر جا بھی کون رہا ہے ۔۔۔
اے ڈی ہو کب گیا کب آیا آج تک کوئ جان نہ سکا
جس اے ڈی کو آنکھ اٹھا کر کوی نہیں دیکھتا اس پر ہاتھ اٹھا گی تم
انرسٹینگ
اتنی ہمت کہ اے ڈی کا مقابلہ کیا اگلی بار یہ مقابلہ مہنگا پر جاے گا بہتر ہوگا تم دوبارہ مجھے نظر نہ آو
اے ڈی نے اونچی آواز سے حنین کو سنایا
اپنی شکل دیکھی ہے کھبی وحشی لگتے ہو گے ضرور اور مجھے شوق نہیں کسی وحشی سے مقابلہ کرکے اپنا وقت ضائع کرنے کا
حنین نے غصے سے کہا اے ڈی کی باتوں کو وہ ہوا میں اڑا گی تھی
یہ تو وقت بتاے گا کہ مجھ وحشی کا تم مقابلہ کسے کرتی ہو بس دعا کرنا یہ وقت تم پر نہ آے ۔۔۔
اے ڈی طنزیہ ہنسی سے کہتا روم کے بیک ڈور سے باہر چلا گیا تھا جہاں سے وہ آیا تھا ۔۔۔
حنین اس کی بات سنے بغیر ہی چلی گی تھی
————————————————————
ارے تافشین بیٹا گردن پر کیا ہوا ہے ۔۔۔
حسن شاہ نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
و۔وہ۔بابا کچھ نہیں پتہ نہیں کیا ہوا شاہد کوئ کیڑا کاٹ گیا ۔۔۔
تافشین ہکلاتے ہوے اپنی گردن پر ہاتھ رکھتا بولا ۔۔۔
جہاں زخم کا نشان تھا ۔۔۔
وہ یونی سے واپس آتا ہوا حسن شاہ کو اسٹڈی میں بیٹھا یونی کے معلومات دے رہا تھا ۔۔۔
بیٹا خیال رکھا کرو جانتے ہو نہ کہ میری پوری دنیا تم ہو بیٹا ۔۔۔
حسن شاہ مسکراتے ہوے بولے ۔۔۔
جی بابا خیال رکھتا ہو ۔۔۔
تافشین اچانک سنجیدہ ہوتا بولا ۔۔۔
ہاں شادی کرو اب بڑے ہو گے ہو میں نے اپنے بیٹے کے بچوں سے کھیلنا ہے ۔۔۔
حسن شاہ مسکراتے ہوے بولے ۔۔۔
بابا میری پڑھائ۔۔۔
اتنے بھی بچے نہ بنو میں کیا جانتا نہیں تم یونی کیوں جاتے ہو یہ پڑھائ کا بہانہ نہ بناٶ اچھے سے پتہ تم اپنی اسٹڈی کمپلٹ کر چکے ہو ۔۔۔
سو شادی کا سوچو تم ۔۔۔
حسن شاہ بات کاٹتے زرا غصہ سے بولے تھے ۔۔۔
جی۔۔۔
تافشین سر نیچے کرتا بس اتنا کہہ سکا ۔۔۔
————————————————————
شکر ہے درام تم مل گے پلیز مجھے یہاں سے جانا ہے ۔۔۔
حنین جو یونی سے نکل کر بدحواس ہوتی بھاگ رہی تھی۔۔۔
جب اسے سامنے سے آتی گاڑی دیکھی جس میں درام شاہ بیٹھا تھا ۔۔۔
بچوں جیسے کپڑے پہنے ہاتھ میں لولی پوپ تھا ۔۔۔
جب سامنے حنین کو دیکھتا گاڑی سے باہر آیا ۔۔۔
ت۔تم ٹھیک ہو۔۔۔
درام نے حنین کا پریشان چہرہ دیکھتے پوچھا ۔۔۔
می۔میں ٹھیک ہو چلو یہاں سے تمہیں بھی خطرہ ہو سکتا ہے ۔۔۔
حنین اس کا ہاتھ پکڑتی گاڑی کی طرف لے کر جاتی ہوئ بولی ۔۔
جبکہ وہ پیچھے موڑ کر بار بار دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ہاں چلو ۔
ڈراہیور انکل دوست کو گھر چھوڑ دے ۔۔۔
درام نے خوش ہوتے ڈراہیور سے کہا ۔۔۔
تم کہاں سے آے ہو ۔۔۔
حنین تھوڑی سنبھالتے ہوے پوچھا ۔۔
درام شاہ کی گاڑی کے پیچھے وہ تین گاڈرز کی گاڑیاں دیکھتی ہوئ بولی ۔۔۔
و۔ہ۔پاپا نے بلایا تھا اب میں کام کیا کرو گا نہ بڑا ہو رہا میں ۔۔۔
درام مسلسل اسی کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
گڈ پر اکیلے مت جایا کرو ۔۔۔
حنین نے اپنی شرٹ کا کالر ٹھیک کرتے کہا ۔۔۔
جو بھاگنے سے خراب ہو چکا تھا ۔۔۔
خ۔و۔ن۔خون خون ۔۔۔
دور رہو تم مار دو گی مجھے ۔۔۔
سب مار دے گے مجھے سارے جیسے وہ مر گی تھی میں بھی مر جاٶ گا ۔۔۔۔
اچانک درام اس کی گردن پر خون دیکھتا پاگلوں کی طرح چلاتا ہوا بولا ۔۔۔
جو اب خشک ہو چکا تھا ۔۔۔
کی۔کیا ہوا تمہیں میں۔کی۔۔۔
حنین اس کا انداز دیکھتے ہوئ شوک میں بولی ۔۔۔
جبکہ وہ مسلسل اسے دور کر رہا تھا ۔۔۔
سنو میری بات ریلکس رہو میں نہیں مارو گی تمہیں دوست ہو نہ میں تمہاری دیکھو میری طرف ۔۔۔
حنین اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتی اسے پر سکون کرتی بولی رہی تھی ۔۔۔
ت۔م۔تم نہیں مارو گی کیا ۔۔۔
جیسے انہوں نے مارا تھا ۔۔
درام اس کی بات سنتا سکون میں آتا بولا حنین کے چھونے سے وہ خوش ہوگیا تھا ۔۔۔
اسے سکون ملا تھا یہ سن کر حنین دوست ہے اس کی ۔۔۔
ہاں تمہیں پتہ میری شادی ہے تم آو گے میری شادی پر ۔۔۔
حنین اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بات بدلتی ہوئ بولی ۔۔۔
جس میں کامیاب بھی ہوئ ۔۔۔
شادی وہ کیا ہوتی ہے ۔۔۔
درام نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
شادی ہممممم سوچنا پڑے گا
جس سے ہم محبت کرتے ہے جو آپ کا سب سے اچھا دوست ہو ہم اس سے شادی کرتے ہے ۔۔۔
حنین کے منہ میں جو آیا وہی بول گی ۔۔
تو۔تم مجھ سے شادی کر لو دیکھو میں کتنا کیوٹ ہو اور تم میری دوست بھی تو ہو۔۔۔
درام اس کے ہاتھوں کو زور سے پکڑتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاہاہاہا ایسا نہیں ہو سکتا
تمہارا جو ہیرو ہے اس کے ساتھ شادی ہونی میری تمہارے لیے میں اچھی لڑکی دیکھو گی ۔۔۔
حنین نے بات کو ہلکا لیتے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
ن۔ہ۔نہیں وہ تم کہتی ہو محبت کرتی مجھ سے اس دن کہا تھا ۔ تم نے ۔۔
درام کوئ بات یاد کرتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاں پیار تو میں اب کرتی ہو تم سے اتنے کیوٹ جو ہو چلو میں جا رہی اب آنا شادی پر ضرور میں ویٹ کرو گی ۔۔۔
حنین کو سب کچھ بھول گیا تھا اس کا دھیان بس اس بات پر تھا درام کو سکون میں کیسے رکھنا ہے اس نے درام کی کسی بات پر دھیان نہ دیا
تبھی کسی بات پر غور کیے بنا بول گی ۔۔۔
اب گھر سے دور گاڑی روکتی وہ وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
جھوٹ جھوٹ میں پاگل ہو نہ تبھی کوئ مجھے سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔
درام شاہ اپنے گھر آتے زور و شور چلاتا ہوا بولا ۔۔۔
کی۔کیا ہوا چھوٹے بتا مجھے ۔۔۔
تافشین جلدی سے اس کے پاس آتا بولا ۔۔۔
جو غصے سے ہال کی ساری چیزیں توڑ رہا تھا ۔۔
ہر طرف اب شیشہ ہی شیشہ تھا ۔۔۔
و ۔ہ۔شادی کر رہی ہے سپر ہیرو کتنی غلط بات ہے ۔۔۔
مجھے وہ چاہے سپر ہیرو میری ہے وہ ۔۔
درام زمین پر گرتا روتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اچھا ہم بات کرتے ہے تم اپنی۔۔۔
نہیں چاہے مجھے سپر ہیرو وہ میری دوست ہے وہ کہتی محبت کرتی مجھ سے بس میں شادی اس سے کرو گا ۔۔۔
درام تافشین کی بات کاٹتا منہ سے جھاگ نکلتا ہوا بولا ۔۔۔
سکون میں رہو ایسے پینک ۔۔۔
چھوٹے چھوٹے ۔۔۔
تافشین اسے سمجھا رہا تھا جب درام بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔۔
————————————————————
عائشو میری جان کیا ہوا ۔۔۔
حنین جو گھر انٹر ہوتی سیڑھیاں چڑھتی ہوئ اوپر آی تو اسے سامنے سے روتی ہوئ عائشو دیکھی جو ارسلان کے روم سے باہر آ رہی تھی ۔۔۔
ک۔کچھ نہیں آپی آپ کتنا لیٹ کیوں آی ۔۔۔
عائشو سامنے حنین کو دیکھتی ہکلاتے ہوے بولی ۔۔۔
مجھے چھوڑ طعیبت ٹھیک ہے تیری اور یہ آنسو ۔۔۔
حنین اس کے آنسو صاف کرتی بولی ۔۔۔
ہاں وہ ارسلان کو کہا تھا آئسکریم کا اس نے منع کر دیا ۔۔۔
عائشو نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔
تو اس میں رونے والی کیا بات ہوئ دیکھو کیسے آنسو آ رہے ہے روکو میں اس سلانٹی سے پوچھتی ہو وہ کون ہوتا منع کرنے والا ۔۔۔
حنین غصہ کرتی بولی ۔۔۔
ارے آپی چھوڑے اسے یہ بتاے یہ خون کہاں سے آیا ۔۔۔
عائشو بات بدلتی ہوئ بولی جس میں کامیاب ہوئ ۔۔۔
اب حنین اسے ساری باتیں بتا رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
یار درام یہ ہوم ورک تو کر لو ۔۔۔۔
تافشین بیزار ہوتا بولا ۔۔۔
میں نہیں کر رہا بگ بی کرے گے ہوم ورک میرا ۔۔
درام معصوم سا چہرہ بناتے ہوے بولا ۔۔
کیوں وہ نہیں کرے گا تم کام کرو کیا ساری زندگی اپنے بگ بی سے کام کرواٶ گے۔۔۔
تافشین احد کی طرف دیکھتا ہوا بولا جو خود اپنا ہوم ورک کر رہا تھا ۔۔۔
ہاں کیونکہ میں جانتا ہو بگ بی اور آپ کبھی اپنے چھوٹے کے کام کرنے سے انکار نہیں کرے گے ۔۔۔
درام تافشین کی گردن میں بازو ڈالتا ہوا بولا ۔۔۔
بس کر جا میں ہرگز کام نہیں کرو گا پہلے ہی مجھے اور احد کو ٹیسٹ ملا ہے ہم وہاں بزی ہے ۔۔۔
تافشین بیزار ہوتا بولا ۔۔
کیونکہ درام کا کام تھا وہ ہمیشہ تافشین اور احد کو اپنی محبت کا بتا کر ہر کام کروا لیا کرتا تھا ۔۔۔
ہاے میرے ہاتھوں میں درد ہے ۔۔۔
درام نے جب دیکھا دونوں میں سے کوئ کام نہیں کر رہا اس کا تبھی مایوس ہوتا اپنا ہاتھ پکڑتے ہوے بولا ۔۔۔
ککی۔کیا ہوا چھوٹے کتنی دفعہ کہہ ہے میں کام کر دو گا کیوں خود کو تکلیف دیتے ہو ۔۔
احد جلدی سے اپنا کام چھوڑتا درام کے پاس آتا بولا ۔۔۔
لیکن میرا کام ۔۔
میں کر دو گا میری جان بگ بی ہو نہ میں تو پریشان نہیں ہونا بس آرام کرو ۔۔
درام کی بات کاٹتے احد فکرمندی سے بولا ۔۔۔
تم رہنے دو چھوٹے کام کرو پہلے ہی آرام نہیں کرتے میں دانی کا کام کر دو گا ۔۔۔
تافشین نے فکر مند ہوتے احد کی طرف دیکھتے کہا ۔۔۔
نہیں بھاہیٶ میں کر لو گا چھوٹے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہو میں ۔۔
احد نے درام کا ماتھا چومتے ہوے پیار سے کہا ۔۔
ل۔۔۔
کیا تافی بھای زیادہ مسئلہ ہے تو میری ٹانگ دبا دے درد ہو رہا ۔۔
درام نے جلدی سے اپنی ٹانگ تافشین کے آگے کرتے معصوم شکل بناتے کہا ۔۔
————————————————————
کیا ہوا چھوٹے درد زیادہ ہو رہا کیا ۔۔۔
بھاہیٶ چھوڑے میں دبا دیتا ہو اس کی ٹانگ ۔۔۔
احد جو بے حد مصروف درام کا ہوم ورک کر رہا تھا جب اچانک اس نے اپنا چہرہ اٹھا کر درام کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں آنسو آ رہے تھے ۔۔۔
درام کب سے احد کو کام کرتا دیکھ رہا تھا جو مسلسل اپنی سرخ کالی گہری آنکھوں سے ہوم ورک کر رہا تھا ۔۔۔
جبکہ تافشین اس کی ٹانگ دباتا وہی سو رہا تھا ۔۔۔
اپنے ہاتھوں میں اس کی ٹانگ پکڑے ۔۔
درام بس دونوں کو تنگ کر رہا تھا جبکہ اب دونوں کی اپنے لیے فکر دیکھتا اداس ہو چکا تھا ۔۔۔
ہاں تم دبا لو میں کہتا ہو ڈاک۔۔۔
شکریہ تافی بھای بگ بی آپ دونوں بہت اچھے ہے اتنے پیارے بھائ ہے میرے سوری میں مذاق کر رہا تھا ۔۔۔
اگر کبھی مجھے کچھ ہو گیا تو آپ دونوں کا کیا ہو گا ۔۔۔
درام دونوں کو گلے لگاتا روتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ارے ارے میرا چھوٹا روتا بھی ہے چلو سو جاٶ بگ بی ہے نہ تمہارا کبھی میرے چھوٹے کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔
احد اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا ۔۔۔
اور بس کر میں بھی ایویں ٹانگ دبا رہا تھا اور تو اداس ہو گیا چل ایسا کرنا میرا کام تم کل کرو گے اب ٹھیک چل تھوڑا سا ہنس لے ۔۔
جانتے بھی ہو اس شاہ حویلی کی رونق تمہاری انہی شرارتوں سے ہے ورنہ ہم دونوں تو کھڑوس ہے کیوں سڑیل شکل والے ۔۔
تافشین نے احد کی طرف دیکھتے کہا ۔۔
ہممم ۔۔
احد بس اتنا بول سکا ۔۔۔
تینوں ایک دوسرے کے گلے لگے رو رہے تھے ۔۔۔
پر وہ بے خبر تھے اس بات سے وقت ان کے ساتھ کیا کرنے والا تھا ۔۔۔
جہاں نہ تو تافی بھای ہو گا نہ ہی بگ بی یا چھوٹا ۔۔
————————————————————
جلدی سے ٹھیک ہو جاٶ دانی اگر آج تمہارا وہ بگ بی ہوتا تو مجھے سے بھی زیادہ تمہارا خیال رکھتا ۔۔۔
تافشین اپنا بچپن سوچتا ہوا درام کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
جو اس کی گود میں سر رکھے سو رہا تھا ۔۔
ڈاکٹر نے اسے ریسٹ کا کہا تھا ۔۔۔
کیسا بھاہیٶ ہوا میں اس انسان کو بچا نہ سکا جو تمہارا بگ بی تھا ۔۔
دانی جلدی ٹھیک ہو جاٶ مجھ سے تمہاری یہ حالت نہیں دیکھی جاتی ۔۔۔
تافشین درام کی گردن پر بنے زخم پر لب رکھتے روتے ہوے بولا ۔۔
آج اپنا ماضی سوچتے وہ رو پڑا تھا ۔۔
یہ جان کر جس حویلی کی رونق تھا کوئ وہ تو کب کا ان سب کو چھوڑ کر جا چکا تھا ۔۔
———————————————————–
ارے ارسلان اس وقت روم میں آے ۔۔۔
حنین جو نماز پڑھتی سونے کے لیے جا رہی تھی تب اس نے روم میں انٹر ہوتے ارسلان کو دیکھتے پوچھا ۔۔۔
ہاں وہ ۔بس ایک بات کرنی تھی ۔۔
ارسلان نے سنجیدہ شکل بناۓ بات کی ۔۔
ہاں پوچھو اتنے پریشان کیوں ہو ۔۔۔
کوئ بات ہوئ کیا یا بڑے پاپا نے کچھ کہہ دیا ۔۔
حنین بھی سنجیدہ ہوتی اس کے پاس آتی بولی ۔۔۔
نہیں وہ میں کہہ رہا تھا تم اس رشتے پر خوش مطلب میں کوئ زبردستی تو نہیں کر رہا نہ ۔۔
ارسلان نے اپنے سر کو کھجاتے ہوے پوچھا ۔۔۔
نہی۔۔۔
محبت کرتی ہو مجھ سے کہ نہیں حنین ۔۔
ارسلان اس کی بات کاٹتا ہوا بولا ۔۔
جبکہ چہرے پر صاف پریشانی واضح تھی ۔۔
میں محبت نہیں کرتی تم سے
ہاں عزت تمہاری کرتی ہو بہت جہاں عزت ہو وہاں محبت ہو ہی جاتی ہے
مجھے محبت بھی ہوجاے گی تم سےپاک رشتے میں آنے کے بعد ارسلان بس تمہارا یقین مجھے چاہے عزت چاہے اور کچھ بھی نہیں ۔۔
حنین نے صاف دل سے بات کہی ۔۔۔
مطلب واقعی محبت نہیں تمہیں میں زبردستی کر رہا ہو تمہارے ساتھ ۔۔۔
ارسلان نے کھوۓ ہوۓ انداز سے کہا ۔۔
جبکہ کسی کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی ۔۔
(میں بہت محبت کرتی ہو تم سے میرا یقین کرو ۔۔۔وہ نہیں کرتی محبت تم سے میں جانتی ہو ۔۔ہمیشہ نہ وہ خوش رہے گی نہ ہی تم ۔۔۔
دیکھو مجھے اپنا لو میری محبت کافی ہے تمہارے لیے ارسلان میری بات کو سجھو ۔۔۔)
جب تمہاری محبت میرے ساتھ ہو گی تب ہو جاۓ گی اور تم کب سے اتنا سنجیدہ ہو گے ارسلان ۔۔۔
حنین نے اس کے چہرے ک طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا جہاں صاف پریشانی دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ آفس جوائن کرنا تو بس اس لیےٹیشن میں تھا چلو سو جاٶ تم پھر بات ہوتی ہے ۔۔
ارسلان بات ٹالتا ہوا بولا ۔۔
رکو یہ زخم کیسا ہے گردن پر ارسلان ۔۔
حنین نے واپس جاتے ہوۓ ارسلان کو روکتے ہوے پوچھا جہاں گردن پر زخم کا نشان تھا ۔۔
وہ۔۔۔
تم اے ڈی ہو ۔۔۔
اس سے پہلے ارسلان کچھ بولتا جب حنین آی برو آٹھاتے ہوے پوچھا ۔۔۔
ارے میں وہ نہیں وہ پاگل لڑکی یہ نشان پتہ نہیں کیسے آ گیا اچھا میں چلتا ہو اب ۔۔
ارسلان کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا تبھی بات کو ہلکا لیتے وہ بولا ۔۔۔
ل۔۔۔
گڈ نائٹ ۔۔
اس کی بات کاٹتا وہ روم سے باہر نکل کر کہتا جا چکا تھا ۔۔۔
میں بھی پاگل ہو واقعی نیند سر پر چڑ گی میرے یہ سلانٹی اے ڈی کیسے ہو سکتا ہے ۔۔
اتنا ڈرپوک انسان ہے یہ ۔۔
حنین اپنے سر پر ہاتھ مارتی افسوس کرتے بولی ۔۔۔
———————————————————–
””ایک ماہ بعد ۔۔۔۔۔
کیا ارسلان یہ کیا بات ہوئ مہندی والے دن نکاح رکھ لیا ۔۔
کس بات کی جلدی سے کل ویسے بھی ہماری شادی ہو جاتی ۔۔۔
حنین اکتاۓ ہوۓ انداز سے بولی ۔۔
آج مہندی تھی پر ارسلان نے یہ کہہ دیا تھا سب کو نکاح کے بعد مہندی اور بارات ہو گی ۔۔
نکاح کا ڈریس حنین کے روم میں بھیج دیا گیا تھا ۔۔۔
سنو میری بات میں نکاح پہلے کرنا چاہتا ہو حنین میں چاہتا ہو بعد میں کچھ گڑبڑ نہ ہو ۔۔
ارسلان نے پریشان ہوتے کہا ۔۔۔
کہاں کی گڑبڑ ارسلان چند گھنٹے پہلے نکاح ۔۔۔
حنین نے غصہ کرتے پوچھا ۔۔۔
وہ۔۔
اففف یہ کوئ میرا بریسلٹ بند کر دے ۔۔
اس سے پہلے ارسلان کچھ کہتا جب عائشو تیار سی روم میں انٹر ہوتی بولی ۔۔۔
یلو اور گرین کلر کے کرتی لہنگے پہنے لائٹ سے میک اپ بالوں کو کرل کیے جو مشکل سے شولڈر تک آ رہے تھے مہندی ہاتھوں کو لگائ پھولوں کا ممکل سیٹ پہنے وہ ایک اور ہی عائشو لگ رہی تھی ۔۔۔
بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
چلے آپ باندھ دے میرا بریسلٹ ارسلان ۔۔
عائشو مسکراتی ہوئ ارسلان کے پاس آتی بولی ۔۔
دور رہو کتنی دفعہ کہو میں بچی ہو تم بڑی بنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں ۔۔
ارسلان حنین کی طرف دیکھ کر دانت پیستا سرگوشی کرتا بولا ۔۔۔
ارے دیکھے آپی یہ بند نہیں کر رہے آپ ہی کہہ دے ۔۔۔
عائشو بات اگنور کرتی حنین کی منت کرتے بولی ۔۔۔
بند کر دو یار ارسلان میں بھی چینج کرنے جا رہی ۔۔
حنین بیزار ہوتی کہتی واش روم چلی گی تھی ۔۔۔
ویسے میں پہلے ہی کہہ رہی ہو یہ شادی نہیں ہو گی بہت بڑی غلطی کر رہے ہو آپ ۔۔
عائشو ارسلان کے کالر کو پکڑتی مسکراتے ہوے بولی ۔۔۔
جیسٹ شٹ اپ عائشہ میں چپ ہو اس کا مطلب یہ نہیں کچھ کر نہیں سکتا ۔۔۔
لیمٹ میں رہو اپنے بہن ہو میری تم ۔۔
ارسلان اچانک غصہ کرتا بولتا ہوا اسے دور کرتا روم سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔
ہاہاہہاہااہاہااہا۔۔۔۔
ارے میرا بریسلٹ ۔۔۔
عائشو ہنستی ہوئ اُونچی آواز سے بولی ۔۔۔
————————————————————
میرے خیال سے شام کو منہدی حنین کی ہے تمہاری نہیں جیسے تیار ہوئ ہو ۔۔
زری عائشو کو اتنا تیار دیکھتے منہ بناتی ہوئ بولی ۔۔
یلو کلر کا لہنگا پہنے پنک کرتی اپنے ہائ لائٹ ریڈ بالوں کو کھولا چھوڑے ہلکے میک اپ میں تیار زری بیزار لگ رہی تھی کیونکہ اسے یہ لہنگا بھاری لگ رہا تھا ۔۔۔
سب سے بے نیاز زری خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔۔۔
کبھی تو میری منہدی ہو گی تم انجواۓ کرو آج ویسے ہی مزہ آنے والا ہے ۔۔
عائشو ریلکس ہوتی اسے آنکھ ونک کرتی بولی ۔۔۔
مانتی ہو حنین کی جدائ میں اداس ہو جاٶ گی لیکن یہ پاگل پن آج دیکھ رہی میں سچ بتاٶ عائشو کچھ کرنے والی ہو کیا ۔۔
ویسے بھی ایک ماہ سے دیکھ رہی تم بدلی بدلی لگ رہی ہو مجھے ۔۔
زری نے پریشان ہوتے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوے پوچھا ۔۔۔
افففف زری بس کرو کچھ نہیں ہوا جاٶ انجواۓ کرو اور مجھے بھی کرنے دو ۔۔۔
عائشو منہ بناتی ہوئ بولی ۔۔۔
————————————————————
سلور کلر کے فل بھاری لہنگے میں ڈارک میک اپ بالوں کو کرل کیے خوبصورت سے ریڈ سیٹ پہنے حنین بلکل ایک پری لگ رہی تھی ۔۔۔
براٶن آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھی ۔۔۔
یہ جانے بنا کہ وہ کسی کا دل دھڑکا رہی تھی اپنی اس خوبصورتی سے ۔۔۔۔
سکین کلر کی فل شراونی پہنے اپنے کالے گہرے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ڈارک براٶن آنکھوں میں محبت کی چمک لیے ارسلان بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔
وہ مسلسل اپنے سامنے پردے کے اس پار بیٹھی حنین کو دیکھ رہا تھا جو زری سے بات کر رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
دیکھ حنین ارسلان تمہیں دیکھ رہا ہے بول دے یار قبول ہے ۔۔
زری پریشان ہوتی بولی ۔۔
نکاح کے وقت مولوی نے جب حنین سے پوچھا اسے نکاح قبول ہے تب حنین خاموش ہو گی تھی ۔۔۔
جبکہ اسے خاموش ہوتے دیکھ ارسلان پریشانی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
میں نہیں بول رہی ویٹ کرنے دو تھوڑا سا تنگ کر لو اسے میں ۔۔۔
حنین مسکراہٹ دباتی ہوئ بولی ۔۔
(مطلب واقعی میں زبردستی کر رہا حنین سے مجھے پوچھنا چاہے تھا یہ خاموش ہو گی ہے ۔۔
حنین پلیز بول دو ۔)..
ارسلان پریشانی سے سوچتا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
بس کرو حنین یہ مذاق نہیں ہے بولو جلدی اس کی طرف دیکھو ایسے ہو گیا ہے جیسے موت دیکھ لی ہو ۔۔
زری زرا غصہ کرتے بولی ۔۔۔
کیونکہ سیٹج پر ریڈ نیٹ کے پردے کو دونوں کے درمیان کیا گیا تھا ۔۔۔ایک طرف حنین تھی اور عورتیں اور دوسری طرف ارسلان اور مرد ۔۔
تبھی زری دیکھتی بولی ۔۔
اچھا میں بولتی ہو بہت ہو گیا ۔۔
حنین احسان کرتے بولی ۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔
مولوی نے پھر سے اپنی بات دہرائ ۔۔
جی۔ق۔۔۔۔
روکو یہ شادی نہیں ہو سکتی ۔۔۔
اس سے پہلے حنین قبول کہتی جب ہال میں کسی کی رعب دار آواز گونجی ۔۔
———————————————————–
کیا بکواس ہے یہ ۔۔
ارسلان غصہ کرتا سیٹچ سے نیچے آتا بولا ۔۔
جبکہ سامنے تافشین درام اور اشرف شاہ کھڑے تھے ۔۔
بکواس نہیں یہ اپنی کزن سے پوچھ لو زرا
وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔
تافشین سرد نظروں سے حنین کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔
جبکہ درام مسلسل حنین کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
یہ کیا بات کہہ رہے ہو میں ایسا کیوں چاہو گی ۔۔۔
حنین بھی حیریت سے سیٹچ سے نیچے آتی بولی ۔۔۔
اوووو سیرسیلی آپ نہیں جانتی کچھ بھی ۔۔
تافشین طنز کرتا بولا ۔۔
ہاں میں نے ایسا کب کہا ۔۔۔
تم جھوٹ بول رہے ہو ۔۔
حنین نے گلا تر کرتے کہا ۔۔۔
میں جھوٹ نہیں بول رہا
تم نے میرے کزن سے کہا تم اس ارسلان سے شادی نہیں کرنا چاہتی بلکہ تمہیں درام شاہ سے شادی کرنی ہے ۔۔۔
تافشین نے غصے سے کہا
میں نے کب کہا ایسا یہ سب جھوٹ ہے حنین نے غصے سے چلاتے ہوے کہا
بس کرو دوست تم نے ہی کہا تھا تم مجھ سے محبت کرتی ہو اس سپر ہیرو سے شادی نہیں کرنا چاہتی درام نے روتے ہوے کہا
ارسلان درام کی باتیں سن کر حنین کو غور سے دیکھ رہا تھا اسے اپنا شک صیح ثابت ہوتا نظر آرہا تھا
ارسلان یہ جھوٹ ہے یقین کرو حنین نے روتے ہوے کہا اسے تو یہ سب سمجھ نہیں آرہا تھا زری بھی سب دیکھ کر حیران تھی جب کہ عاشو کے چہرے پر مسکراہٹ تھی
اچھا اگر یہ سب جھوٹ ہے تو یہ سب میسج کس نے کیے تافشین نے موبائل ارسلان کو دیکھاتے ہوے تحمل سے پوچھا اس موبائل میں میسج دیکھ کر ارسلان کا سر گھوم گیا اسے ایسے محسوس ہوا جیسے سانس بند ہوگیا یہ ہی حال حنین کا تھا جسے ان میسج کے بارے کچھ علم نہ تھا
یہ سب جھوٹ ہے ارسلان میں نے کوی مسیج نہیں کیا حنین نے روتے ہوے کہا
یہ مسیج آپ نے ہی کیے ے درام کی بجاے جواب میں دیتا تھا مجھے سب پتہ ہے کیسے آپ اظہار محبت کرتی رہی اپ کو شرم نہیں آئی درام کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوے ٹائم پاس کرنے کے لیے میرا معصوم بھای ملا تھا آپ کو تافشین نے افسوس سے کہا
میں کہہ رہی میں نے کچھ نہیں کیا تو کیوں یہ بکواس کرتے جارہے ہو حنین نے غصے سے کہا
بسسسسسسسسسسسسسسسس
ارسلان نے چلاتے ہوے کہا
بہت ہوگیا ڈرامہ دیکھ لیا سب میں مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی میری محبت میں کہا کمی رہ گی تھی
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی میری محبت میں کمی کہا رہ گی تھی جو اس پاگل کو چن لیا تم نے خود تو تم نے مجھ سے محبت کی نہیں ہم دونوں کے ساتھ ڈرامہ کیا تمیں شرم نہیں آی ارسلان نے غصے سے کہا
نہیں ارسلان ایسا نہیں ہے عائشہ تم کیوں چپ ہو بتاو انھیں میرے پاس تو میرا موبائل ہوتا نہیں تھا تمہارے پاس ہوتا تھا حنین نے روتے ہوے عائشہ سے کہا
آپی اپ سب الزام مجھ پے نہ لگاے میں نے کچھ نہیں کیا اپ کے موبائل کو تو میں نے کبھی پکڑا بھی نہیں عائشہ نے صاف جھوٹ بولا اس کے چہرے پر کوی شرمندگی نہیں تھی عائشہ کی بات پر حنین کو زور کا جھٹکا لگا جس بہن کو ماں بن کر پالا سب خوایش پوری کی اس کی اپنے بارے کبھی نہ سوچا ہمیشہ پہلے بہن کا سوچا آج وہ سب کے سامنے اپنی ماں جیسی بہن کو جھوٹا کہہ گی
حنین کے لیے یہ صدمہ کم نہ تھا اس نے ارسلان سے کبھی محبت نہیں کی وہ صرف اس کی عزت کرتی تھی جب ارسلان نے اس سے دل کی بات کی تھی حنین نے تب بھی صاف کہا تھا کہ وہ محبت نہیں کرتی اس کی بات کو ارسلان نے تب سیریس نیں لیا
ارسلان کی بے یقینی عائشہ کا بدلتا رویہ حنین سب سمجھ گی تھی اسے بہت دکھ ہو رہا تھا
تم ہو ہی نہیں اس لائق کہ تم سے محبت کی جاے لالچی نکلی تم بھی درام کی اتنی دولت دیکھ کر اس کے پیچھے پر گی تمہں معصوم سمجھا اور تم کیا نکلی اگر آج تمہارے ماں باپ زندہ ہوتے تمہاری کرتوت دیکھ کر مرجاتے شکر ہے شکر ہے پہلے ہی چلے گے وہ ارسلان نے نہایت غصے سے کہا
مولوی صاحب نکاح شروع کرے زری نے حنین کو سنبھالتے ہوے کہا زری حنین کی آنکھوں میں دیکھ چکی تھی سب
حنین بھی چپ چاپ بیٹھ گی تم بے فکر رہو حنین زری تمہارے ساتھ ہے مجھے پتہ ہے تم نے یہ سب نہیں کیا بہت جلد سچ سامنے آجاے گا زری نے حوصلہ دیا
اب سچ جھوٹ سے کیا فرق پڑتا میری تو زندگی برباد ہوگی حنین نے روتے ہوے کہا
درام اور حنین کا نکاح ہوگیا جاتے وقت وہ سواے زری کے کسی سے نہیں ملی عائشہ بہت خوش تھی اسے زرہ دکھ شرمندگی نہیں تھی کہ اپنی بہن کے ساتھ وہ کیا کرچکی ہے سچ کہتے ہے محبت اندھی ہوتی ہے جس میں محبوب کے علاوہ کسی اچھے برے کی پرواہ نہیں ہوتی
