220K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 15)

Junoniyat By Mehar Rania

““ایک ماہ بعد۔۔۔۔۔

سو۔ر

سوری بھاہیٶ لیکن میرا مقص۔۔۔

اے ڈی جو تافشین کے پاس بیٹھتا ہکلاتا ہوا بول رہا تھا جب تافشین نے ٹوکا اسے ۔۔۔

کیوں سوری چھوٹے بابا کی سزا تھی یہ جو ہونا تھا ہو گیا اب ہمیں اس مضطفٰی کمال کو ڈھونڈنا ہے تاکہ بدلہ لے سکے ۔۔

تافشین نے سرد لہجے سے کہا ۔۔۔

ایک ماہ ہو چکا تھا ۔۔۔

تافشین اس ایک ماہ میں بلکل خاموش ہو گیا تھا ۔۔۔

کسی سے بات نہیں کرتا تھا ایک روبوٹ بن چکا تھا ۔۔۔

صرف تب بولتا جب اے ڈی یا درام سے بات کرنی ہوتی اسے ورنہ سارا دن چپ رہتا ۔۔۔

یقین مانے بھاہیٶ میں ہرگز یہ کام نہ کرتا جب مجھے یہ پتہ نہ چلتا بڑے پاپا کیا کرنے والے تھے ۔۔۔

اے ڈی تافشین کے ہاتھ پکڑتا تڑپتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

اسے دکھ ہوا تھا کافی جہاں تافشین کی آنکھوں میں چمک رہتی تھی آج وہاں ویرانی اور وحشت تھی ۔۔۔

کیا کرنے والے تھے بابا ۔۔۔

تافشین نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔

وہ درام کا قتل کروانے والے تھے کیونکہ انہیں وہی زمین چاہے تھی جس کے لیے انھوں نے یہ سب کیا ۔۔۔

اے ڈی نے افسوس کرتے کہا ۔۔۔

ہہممممم۔۔۔۔

تمہیں پتہ اے ڈی تمہارے جانے کے بعد مجھے پتہ چلا اس رات جو کچھ بھی ہوا تھا بابا کی وجہ سے ہوا تھا میری ماما کی جان چلی گی درام کو اتنا شوک لگا وہ ابنارمل ہو گیا ۔۔۔

سب جانتا تھا میں لیکن افسوس میں بے بس بہت ہو گیا تھا یہ سوچ کر اگر میں نے اپنے بابا کو کچھ کہا یا کیا تو کہیں نافرمان اولاد نہ کہلاٶ میں بس خاموش تماشائ کی طرح سب کچھ دیکھتا رہا میں ۔۔۔

تافشین کہی کھوۓ ہوۓ انداز سے بولا ۔۔۔

م۔ط۔ل۔مطلب تم جانتے تھے اس رات کیا ہوا بڑی ماما کے ساتھ جو کچھ ہوا اور وہ ہزاروں غریب لوگوں کی موت وہ س۔۔۔۔

ہاں میں جانتا تھا جب مجھے پتہ چلا تب میں غصہ سے پاکستان چھوڑ کر چلا گیا تاکہ بابا کی شکل نہ دیکھو میں ۔۔۔

سی آی ڈی جوائن کی تاکہ اپنے بابا کون نہ سہی پر اس مضطفٰی کمال سے بدلہ لے سکو ۔۔۔

لیکن مجھے آنا پڑا درام کے لیے ۔۔۔

تافشین درام کی طرف دیکھتا ہوا بولا جو اس کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا ۔۔۔

————————————————————

تو واپس کیوں آے تھے تم ۔۔

اے ڈی تافشین کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔

درام کی وجہ سے کیونکہ اس کی طیبعت بلکل ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔

دوسرا جب بھی درام کو ایسی حالت اور چاچو کو تمہیں یاد کرتے روتے ہوۓ دیکھتا تب میں اپنے آپ کو گناہگار سمجھتا تھا ۔۔۔

تافشین دکھ بھرے انداز سے بولا ۔۔۔۔

ایسی بات نہیں بھاہیٶ آپ کا کیا قصور تھا بس قیسمت کا کھیل تھا ۔۔۔

اے ڈی بھی اسی کی گود میں لیٹتا ہوا بولا ۔۔۔

چ۔۔۔۔

بیٹ مین یہ غلط ہے تافی سپر ہیرو میرا ہے تمہارے پاس بیٹ گرل ہے ۔۔

اس کی گود میں جاٶ ۔۔

درام طش میں آتا تافشین کے بولنے سے پہلے خودی بولتا اسے دور کرتا بولا ۔۔۔

بیٹ گرل نہیں آنے دیتی مجھے اپنی گود میں مجھے یہاں آنے دو چلو ایک کام کرتا ہو تم یہاں پر لیٹو میں یہاں اب ٹھیک ۔۔۔

اے ڈی معصوم سی شکل بناۓ تافشین کی ایک ٹانگ پر اپنا سر رکھتا ہوا بولا ۔۔۔۔

ہاں اب ٹھیک ہے ۔۔۔

درام تافشین کی کمر کو زور سے پکڑتا ہوا بولا ۔۔۔

ہاہاہاہاہا ۔۔۔

دونوں باز نہیں آے اتنے بڑے ہو چکے ہو ۔۔۔

تافشین دونوں کی بات سنتا ہنستا ہوا اے ڈی کے ماتھے پر لب رکھتا ہوا بولا ۔۔۔

می۔مجھے بھی سپر ہیرو مجھے تین کس چاہے ۔۔۔

درام منہ بناتا ہوا تافشین کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔

آہہیہہہہہ میرا بے بی میں کرتا ہو کس تمہیں ۔۔۔

تافشین سے پہلے اے ڈی اس کے گال کیھچتا ہوا زور زور سے کس کرتے بولا ۔۔۔۔

گندہ بیٹ مین مجھے نہیں چاہے یہ گندی والی کس ہاے میرا منہ ۔۔۔

درام روتا ہوا اپنا گال مسلتا ہوا بولا ۔۔۔۔

ہاہاہاہا اب تو میں اور کرو گا جانی رک ۔۔۔

اے ڈی درام کی طرف جان بوجھ کر آتا ہنستا ہوا آتے بولا ۔۔۔

نہ۔نہیں ۔بچاٶ بچاٶ دوست سپر گرل بیٹ گرل ۔۔

درام چیختا چلاتا ہوا اٹھ کر بھاگتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہا توبہ اے ڈی تم واقعی باز نہیں آے چھوڑ دو اسے ۔۔۔

تافشین زمین پر لوٹ پوٹ ہوتا ہنستا ہوا بولا ۔۔۔

جبکہ اب درام آگے روتا ہوا بھاگ رہا تھا جبکہ اے ڈی اس کے پیھچے جان بوجھ کر بھاگ رہا تھا ۔۔۔

———————————————————–

چاچو کا بہت احسان تھا مجھ پر اے ڈی تبھی میں واپس آ گیا ماما کے بعد انھوں نے مجھے سبھنالا مجھے پڑھایا لکھایا آج میں جو کچھ بھی ہو انہی کی وجہ سے ہو ویسے بھی مجھے اپنا بھائ بہت عزیز تھا ۔۔۔

خیر چھوڑو اب ہمارا جو کام ہے وہ کر لے پہلے درام کو ٹھیک کرنا ہے ہمیں ۔۔۔

تافشین اے ڈی درام تینوں ایک ساتھ بیٹھے بات کر رہے تھے ۔۔۔

اب درام اے ڈی سے چھپا ہوا

تافشین کے کندھے سے لگے بیٹھا تھا۔۔۔۔

ہمممم ضرور پہلے یہ کام ضروری ہے ہمارے لیے ۔۔۔

کیونکہ میں اے ڈی نہیں ہو جو ہے و۔۔۔

ارے میرا گینگسٹر مجھے یاد نہیں کیا ہاۓ میں نے بہت کیا پتہ کیسے میں ایک ہفتہ امریکہ رہ کر آ گی اگر کام نہ ہوتا تو ہرگز اپنی جان کو چھوڑ کر نہیں جاتی ۔۔۔

اس سے پہلے اے ڈی اپنی بات مکمل کرتی جب ریڈ ٹاپ نیلی پینٹ بالوں کو کھولا چھوڑے لاہٹ لیپ گلوس لگاۓ ثمن ائیرپورٹ سے واپس آتی سیدھا اے ڈی کے روم میں آتی بنا دیکھتی اے ڈی کی طرف منہ کیے اس کی گود میں بیٹھتی ہوئ بولی ۔۔۔

ثمن۔می۔۔۔

اففففف چپ میں بولو گی گینگسٹر کتنی یاد آی مجھے اب بلکل نہیں میں جا رہی میرا دل بلکل نہیں لگتا پھر اداس ہو جاتی میں ۔۔۔

ثمن اے ڈی کی بات کاٹتی اس کی آنکھوں کو چومتی ہوئ بولی ۔۔

ثمن کچھ شرم کرو آس پاس بھی دیکھ لیا کرو دیکھو میرے دونوں بھائ بیٹھے ہے لیکن تمہارا یہ ٹھرک ہر وقت شروع ہو جاتا ہے ۔۔۔

اے ڈی اپنے سامنے بیٹھے تافشین اور درام کی طرف دیکھتا دانت پیستا ہوا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔

اسے شرمندگی ہوئ تھی دونوں کے سامنے تافشین تو لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو چکا تھا جبکہ درام اپنا منہ کھولے یہ منظر شوق سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

اوپسسسسس سوری چلو ابھی ملتی ہو میں ۔۔۔

ثمن بنا شرمندہ ہوتی ویسے ہی اسی کی گود میں ٹرن لیتی تافشین اور درام کی طرف دیکھتی ہوئ بولی ۔۔۔

ہاے بیٹ گرل میں درام شاہ ۔۔

درام خودی خوش ہوتا اپنا سفید ہاتھ ثمن کے آگے کرتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

اوووو ہاے کیوٹ جیٹھ جی ۔۔۔

ثمن درام کے ہاتھ کو پکڑتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

السلام و علیکم بڑے جیٹھ جی ۔۔۔

ثمن تافشین کے چہرے کی طرف دیکھتی سنجیدہ ہوتی بولی ۔۔۔

وعلیکم السلام خوش رہو ۔۔۔

تافشین اپنی مسکراہٹ روکتا بامشکل ثمن کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔

اسے ہنسی آ رہی تھی جو سب کا جینا حرام کرتا تھا آج اس کا جینا حرام کرنے والی بیوی آی تھی ۔۔۔

میں بھی رکھو گا ہاتھ ۔۔

درام تافشین کی نقل اتارتا ہوا اپنا ہاتھ ثمن کے سر پر رکھتا ہوا بولا ۔۔۔

ہاہاہاہاہا سہی کیوٹ جیٹھ جی ۔۔۔

ثمن درام کی حرکت پر ہنستی ہوئ بولی ۔۔۔

چلو دانی چلے گھر ہم ۔۔

تافشین کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔

اے ڈی بات سنو میری ۔۔

تافشین نے اے ڈی کو مخاطب کیے کہا جو ایسے بیٹھا تھا جیسے ہو ہی نہ ۔۔۔

ج۔جی۔بھاہیٶ ۔۔۔

اے ڈی اپنا گلا تر کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

اسے پکا یقین تھا تافشین انسلٹ کرے گا ۔۔۔

اب اٹھ بھی جاٶ گود سے کیا ایسے گود میں لے کر چلو تمہیں میں ۔۔۔

اے ڈی ثمن کو اپنی گود سے اٹھاتے ہوۓ دانت پیستا ہوا بولا ۔۔۔

جو واقعی بیڈ سمجھتی سکون سے ویسے ہی بیٹھی تھی ۔۔۔

ہاں لے جاٶ مجھے کوئ پرواہ نہیں ۔۔

ثمن اس کی گردن میں باہیں ڈالے مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

آ کے پوچھتا ہو میں ۔۔

اے ڈی ثمن کو زبردستی خود سے دور کرتا ہوا بولا ۔۔۔

بھاہیٶ بھاہیٶ وہ س۔۔۔

ویسے اے ڈی بیوی کمال کی ملی ہے تمہیں مجھے خوشی ہوئ مل کر بہت پیاری ہے خیال رکھا کرو اس کا دیکھو کتنا کرتی ہے بس چھوڑنا مت اور ہاں تیاری کرو جلدی شاہ پلیس آٶ ۔۔۔

تافشین اے ڈی کو گلے لگاۓ مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

جی بھاہیٶ پر وہ میرا ماضی نہیں جانتی اگر جان گی تو دور ہو جاۓ گی ۔۔۔

اے ڈی اچانک افسردہ ہوتا بولا ۔۔۔

ایسا کچھ نہیں ہو گا دیکھنا اور جلدی بتا دو اسے سب کچھ ۔۔

تافشین اسے سکون میں کرتا ہوا بولا ۔۔۔

ا۔۔۔

آہہہہہہ آہہہہہہہ یہ کیا تھا درام ۔۔۔

اس سے پہلے اے ڈی کچھ کہتا جب درام اس کے پاس آتا زور سے اس کے گال کاٹتا ہوا بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ چکا تھا ۔۔۔

ت۔تم۔نے بھی کیا تھا مجھے۔۔۔

سپر ہیرو چلو یہ آ جاۓ گا پھر چلو چلو ۔۔۔

درام گاڑی کی کھڑکی سے باہر منہ نکال کر جلدی سے بولتا ہوا دوبارہ اندر منہ کر لیا تھا ۔۔۔

ہاہاہہاہاہاہا ۔۔۔

چلو پھر ملتے ہے ۔۔۔

تافشین ہنستا ہوا اے ڈی کو دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔

جو اپنے ماسک لگے چہرے پر ہاتھ رکھتا ہکابکا کھڑا تھا ۔۔۔

————————————————————

““دیوانے رک جا تیرا ہم سے سامنا ہے “

“آنکھوں سے چھولے چھونا ہاتھوں سے منع ہے“😍

“خواب میں جو آے جاۓ یار ہم وہی ہے “

“ہم کسی کو آسانی سے مانے ہی نہیں ہے “😍

“تیرے بن شام ہے بے نظارہ تیرے بن عشق ہے بے سہارا ””

“عاشق بنایا عاشق بنایا “😍😍

درام اور تافشین جب گھر واپس آے تو سامنے کا منظر دیکھ کر دونوں رک چکے تھے ۔۔۔

جہاں زری اور حنین دونوں سیم ریڈ کلر کی ساڑھی پہنے ڈانس کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔

یاہووووو ڈانس میں بھی کرو ۔۔۔

درام خوشی سے تالیاں بجاتا ہوا دونوں کے پاس آتا ہوا بولا ۔۔

ہاں میرے شاۓ ہبی ۔۔

حنین درام کے گال کھیچتی ہوئ بولی ۔۔۔

کیا تماشہ ہے یہ گھر اتنے ملازم ہے اتنا شوق ہے رومز میں جا کر پورا کرو دونوں ۔۔

تافشین دونوں کے پاس آتا دانت پیستا ہوا بولا ۔

ملازموں کو آج ہم نے چھٹی دی ہے تاشو ہم اکیلی بور ہو رہی تھی تبھی سوچا انجواۓ کرے ۔۔۔

زری تافشین کی طرف دیکھتی ہوئ مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

کرو پھر میں جا رہا ۔۔

تافشین زری کو نظر انداز کرتا ہوا بولا ۔۔

ایک ماہ میں زری نے تافشین کا خیال رکھا تھا یا یہ کہنا زیادہ بہتر تھا وہ محبت کرنے لگی تھی اس سے محبت تو تافشین بھی کرتا تھا پر وہ اکثر اپنی احساسات سے نظریں چڑا جاتا تھا ۔۔۔

آو سپر ہیرو ڈانس کرے ۔۔۔

درام تافشین کا ہاتھ پکڑتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔

————————————————————

“““ تیرے بنا نہ میں سانس لو “

“تیرے بنا نہ میں جیو “💏

”تیرے بنا میں نہ ایک پل بھی میں رہ سکو “

“تو ہمسفر تو تو ہمقدم تو ہمنوا میرا ””

””تو ہمسفر تو تو ہمقدم تو ہمنوا میرا “““💏💕

”تو ہی حیقیت خواب تو “

“ دریا تو ہی پیاس تو “💕

“تو ہی دل کی بے قراری “

“تو سکون تو سکون ““💕

دونوں کپل ایک دوسرے کے ساتھ ڈانس کرنے میں مگن تھے ۔۔۔

د۔و۔ت ایک بات کہو ۔۔۔

درام نے حنین کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو درام کے شولڈر پر ہاتھ رکھ ڈانس کر رہی تھی ۔۔

ہاے ضرور شاۓ ہبی ۔۔۔

حنین درام کا خوبصورت چہرہ دیکھتی ہوئ بولی ۔۔۔

وہ۔تم۔جب میرے پاس آتی ہو ایسے تو دل بہت تیز دھڑکاتا ہے میرا جیسے باہر آ جاۓ گا ۔۔

درام گھبراتے ہوۓ بولا ۔۔

مطلب تمہیں اب فیل ہوتا ہے ۔۔

حنین اس کی کالی گہری آنکھوں میں دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

پتہ نہیں ہم صبح ڈاکٹر کے پاس جاۓ گے تم کہنا ایسا ہوتا مجھے ۔۔

درام پریشان ہوتا ہوا بولا ۔۔۔

ایسا کچھ بھی نہیں ہے شاۓ ہبی اس کا مطلب یہ ہے تم اب ٹھیک ہو رہے ہو ۔۔۔

حنین درام کے گال پر کس کرتی ہوئ بولی ۔۔۔

مطلب اب میں تمہیں کس کر سکتا ہو کیا ۔۔

درام شرماتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہا ہاں ۔۔

حنین قہقہ لگاتی ہوئ بولی ۔۔۔

جبکہ درام اب شرماتا ہوا اپنا سر حنین کے کندھے پر رکھ چکا تھا ۔۔۔

———————————————————–

کیا مسئلہ ہے زری کیوں دیکھ رہی ہو ۔۔۔

تافشین زری کی نظروں سے تنگ آتا چڑتے ہوے بولا جو ڈانس کرتے مسلسل اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔

اپنے شوہر کو دیکھ رہی ہو میں تمہیں مسئلہ ہے کیا ۔۔

زری اس کی طرف مسکراتی تنگ کرتی بولی تھی ۔۔۔

دماغ خراب ہو چکا ہے تمہارا ۔۔۔

تافشین بیزار ہوتا بولا ۔۔۔

نہ نہ بلکل نہیں دماغ نہیں دل خراب ہو چکا ہے وہ بھی تم پر تاشو ۔۔۔

زری اسے اور تنگ کرنے کے لیے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے پاس لاتی ہوئ بولی ۔۔

جہاں دونوں کی سانسوں کی گرماہٹ ایک دوسرے پر پڑ رہی تھی ۔۔۔

اچھا واقعی پھر اور پاس آو میرے ۔۔

تافشین دانت پیستا طنز کرتا زری کو کمر سے پکڑتا اپنے قریب لاتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔

ہ۔ا ں۔

ہاں ضرور کیوں نہیں شوہر ہو ۔۔۔۔

زری گھبراتے ہوۓ بولی تھی جہاں وہ تافشین کی کلون کی خوشبو سے پاگل ہو رہی تھی ۔۔۔

ی۔یہ۔کیا کر رہے ہو تاشو ۔۔

زری جو بامشکل کھڑی تھی جب اسے تافشین کا ہاتھ اپنی کمر سے اوپر کی طرف جاتا ہوا محسوس ہوا تبھی گھبراتے ہوۓ بولی ۔۔

کچھ نہیں بتا رہا تمہیں شوہر ہو میں تمہارے باقول ۔۔

تافشین اپنا ہاتھ اوپر کی طرف لے کر جاتا طنز کرتا ہوا بولا ۔۔۔

چھ۔چھوڑو میں جیسٹ مذاق کر رہی تھی ۔۔

زری اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتی اسے دور کرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

میں مذاق کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا آو بتاٶ شوہر ہو میں تمہارا ۔۔۔

تافشین زری کی حالت انجواۓ کرتا مسکراہٹ روکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

م۔ی۔جا رہی ۔۔

زری سے کہتے ڈر کے مارے روم کی طرف بھاگ چکی تھی ۔۔۔

آہہہ زری بے بی ڈر گی ۔۔۔

تافشین زری کو دیکھتا طنز کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

م۔مجھے سمجھ بلکل نہیں آ رہی حنین کس منہ سے معافی مانگو میں ۔۔۔

ارسلان حنین کے سامنے بیٹھا نروس ہوتا بولا تھا ۔۔۔

کس بات کی معافی ارسلان۔۔

حنین اس کے سامنے بیٹھی سکون سے بولی ۔۔

اس بات کی معافی حنین جو اس دن یقین نہ کر سکا میں آج پورے ایک ماہ بعد ہمت جمع کرتا تم سے معافی مانگنے آیا ہو ۔۔۔

اس ایک ماہ میں ارسلان اور عائشو دوبارہ اسلام آباد آ چکے تھے کیونکہ دانیال صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی ۔۔۔

عائشو نے بہت کوشش کی تھی ارسلان کو مانا سکے پر ارسلان اس کی کوئ بھی بات نہیں سن رہا تھا ۔۔۔۔

معافی تو بنتی ہی نہیں ارسلان یہ سب قسمت کا لکھا تھا ایسا ہونا جو کہ ہو چکا ۔۔۔۔۔

اب افسوس کرنے کا فائدہ نہیں بلکہ تم عائشو کو خوش رکھو ۔۔۔۔

حنین پھر سکون سے بولی ۔۔۔

لیکن غلط ہوا جو بھی ہوا میں سب ٹھیک کر دو گا تم درام سے طلاق لے لو واپس آ جاٶ مجھے سب پتہ چل گیا تھا

حنین پر میں اپنے پچھتاوۓ میں جلتا رہا کیسے آو تمہارے پاس ۔۔۔

ارسلان حنین کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔۔

درام کو تب چھوڑتی جب مجھے تم سے محبت ہوتی ارسلان جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

مجھ محبت ہوئ ہے تو درام شاہ سے تم جانتے ہو چاہے وہ بچہ ذہین ہی سہی پر اسے پتہ میری کیسے عزت کرنی ہے مجھ پر یقین کیسے کرنا ہے ۔۔

اس کی کیوٹ کیوٹ سی حرکتوں نے مجھے اپنا دیوانہ بنا دیا ہے ۔۔

حنین ارسلان کی بات سنتی غصہ میں آتی ہوئ بولی ۔۔۔

میں جانتا ہو پھر بھی وہ پاگل۔۔۔

پاگل نہیں ہے وہ سمجھے تم ہاں ایک حادثے کی وجہ سے ہوا ہے لیکن اب ٹھیک ہو رہا ۔۔

سو پلیز ارسلان میری فکر کرنے کی بجاۓ میری بہن کو خوش رکھو جو محبت کرتی ہے تم سے ۔۔

حنین اسے آرام سے سمجھاتی بات ٹوکتی ہوئ بولی ۔۔۔

لیکن وہ غلط تھا حنین عائشو کے ہم دونوں کو الگ کر دیا ۔۔۔

ارسلان کچھ بھی سمجھنے کی بجاۓ پھر تڑپتے ہوۓ بولا ۔۔۔

کون ہم دونوں میں کہہ نہیں رہی کیا مجھے محبت ہے تو درام شاہ سے تمہاری محبت عائشہ ہے سمجھ آی ۔۔۔

حنین طش میں آتی ہوی چلائ ۔۔۔

تم جاٶ یہاں سے ارسلان ۔۔۔

حنین یہ کہتی جوس کی ٹرے اٹھاۓ جاتی ہوئ بولی ۔۔۔

———————————————————–

اندھی ہو کیا دیکھائ نہیں دیتا تمہیں جاہل لڑکی میرا اتنا مہنگی ساڑھی خراب کر دی ۔۔۔

حنین جو غصہ سے ٹرے اٹھاۓ جا رہی تھی سامنے سے آتی نتاشا بیگم سے ٹکر لگتے وہ ساری جوس کی ٹرے گرا چکی تھی ۔۔۔

تبھی وہ طش میں آتی ہوئ بولی ۔۔۔

ارسلان یہ سب دیکھتا غصہ سے آگے بڑھا تھا ۔۔۔

تمیز سے بات کرے آنٹی حنین کی غلطی تھی ۔۔۔

ارسلان غصہ سے بولا اسے برا لگا تھا ان کا ایسے بولنا ۔۔۔

تم کون ہو اووو اچھا وہی کزن جس کو دھوکہ دے کر اس لڑکی نے پاگل سے شادی کی ۔۔۔

نتاشا بیگم ارسلان کی طرف دیکھتی زہر اگلتی ہوئ بولی ۔۔۔

میں نے دھوکہ نہیں ت۔۔۔

میں سمجھ سکتی ہو ایک پاگل کے ساتھ رہنا تمہارے لیے مشکل ہو گا تبھی اپنے اس کزن کو بلا لیا ۔۔۔

حنین جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب نتاشا بیگم اس کی بات کاٹتی ہوئ حقارت سے بولی ۔۔۔

آپ غلط سمجھ رہی ہے بڑی ہے ہم سے تبھی میں لحاظ کر رہا ہو ۔۔۔

ارسلان یہ سب سنتا کنٹرول کرتا ہوا بولا ۔۔۔۔

سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے ۔۔۔

نتاشا بیگم طنز کرتی ہوئ بولی ۔۔۔

ماما یہ میرا کزن اور عائشو کا شو۔۔۔

خبردار لڑکی مجھے ماما کہا میں نہیں ہو اس پاگل کی ماما ۔۔۔

نتاشا بیگم طش میں آتی حنین کی بات کاٹتی ہاتھ آٹھاتی ہوئ بولی ۔۔۔۔

مامممممممااااا ۔۔۔

اس سے پہلے نتاشا بیگم حنین کو تھپڑ مارتی جب ہال میں درام کی رعب دار آواز گونجی ۔۔۔۔

بلیک شرٹ بلیک ہی پینٹ پہنے اپنے کسرتی جسم اور چھ فٹ قد کے ساتھ براٶن بالوں کو جیل سے سیٹ کیے چہرے پر ہلکی سی ڈراھی آنکھوں میں غصہ لاۓ سامنے کھڑے درام کو دیکھ حنین ایک منٹ کے لیے حیران رہ گی تھی کہی سے بھی پاگل نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔

ہاتھ کنٹرول میں کرے آپ ورنہ اگر میں بولا تو آپ سے برداشت نہیں ہو گا ۔۔۔

اور ہاں بیوی ہے میری سوچ سمجھ کر بولا کرے ۔۔۔

درام ان کے قریب آتا ان کی آنکھوں میں دیکھتا غصہ سے بولا ۔۔۔

ارے پاگل بھی بول رہا آج واہ ویسے بھول گے ماں ہو تمہاری ۔۔۔

نتاشا بیگم ایک منٹ کے لیے ڈری تھی پر خود پر قابو پاتی طنز کرتی بولی ۔۔۔۔

آپ بھول گی ماں نہیں میری ابھی دوست کے سامنے کہا خیر آئندہ خیال رکھنا آپ ۔۔۔

درام بھی طنز کرتا ہوا بولا ۔۔۔

ت۔۔۔۔

روم میں آ جانا ۔۔۔

درام نتاشا بیگم کو بولنے کا موقع دے بنا حنین کو کہتا روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

واقعی حنین درام تم سے محبت کرتا ہے پاگل ہی سہی لیکن اسے پتہ ہے جن سے محبت کی جاۓ اس کی سب کے سامنے کیسے عزت رکھی جاتی ہے ۔۔۔۔

بس مجھے معاف کر دینا چلتا ہو میں ۔۔۔

ارسلان یہ سب دیکھتا واقعی خوش ہوا تھا تبھی ہکابکا کھڑی حنین کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔

جو ابھی بھی درام کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔

شکر ہے ارسلان تم نے بات سمجھ لی دیکھو جو ہونا تھا ہو گیا لیکن اب خوش رہو ۔۔۔۔

میری بہن کو معاف کر دو بچی تھی وہ یہ بھی سوچو اس دن اگر تمہاری محبت کے لیے وہ گناہ کر جاتی تو کیا ہوتا ۔۔۔۔

میری بہن نے محبت کی ہے اسے وہ محبت دو جس کا وہ حق رکھتی ہے سزا مت بناٶ اس کی محبت کی ۔۔۔۔

بلکہ خوش رہو دونوں ۔۔۔

میں تمہیں معاف کرنے کو تیار ہو اگر تم میری بہن کی محبت کا جواب محبت سے دو ۔۔۔

ان دو ہاتھوں سے پالا تھا میں ہر وہ چیز دی اسے جو چاہے تھی ۔۔۔

ایک دفعہ اگر وہ کہتی تم سے شادی کرنا چاہتی ہے میں خوشی سے کروا دیتی شادی تم دونوں کی ۔۔۔۔

پر وہ تھوڑی خود غرض ہو چکی تھی گمراہی کے راستے پر آ چکی تھی ۔۔۔۔

تو یہ سب ہوا پر مجھے اپنی بہن سے کوئ گلہ نہیں ۔۔۔

حنین اپنے

ہاتھوں کی طرف دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

ہممممم میں کوشش کرو گا واقعی عائشو نے محبت ہی کی تھی ۔۔۔

ارسلان اس کی بات سنتا اپنا دل صاف کرتا ہوا بولا ۔۔۔۔

اب جاٶ میری بہن انتظار کر رہی ہو گی ۔۔۔۔

حنین ارسلان کی طرف مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

————————————————————

عائشو کو میں آج معاف کر دو گا۔۔۔

ارسلان خوش ہوتا سوچتا جا رہا تھا جب اسٹڈی روم کے پاس سے گزرتے آواز سنتا ہو رک گیا ۔۔۔

تاشو تم ملنے کیوں نہیں جا رہے ارسلان سے ۔۔۔

زری تافشین کے قریب بیٹھتی ہوئ بولی ۔۔۔

کوئ فائدہ نہیں ملنے کا اس کی شکل دیکھ کر مجھے عائشو کی حرکت یاد آ جاتی ہے ۔۔۔

تافشین ناگواری سے بولا ۔۔۔

بس بھی کر دو تاشو وہ غلطی تھی عائشو کی اس نے معافی بھی مانگ لی تھی مجھ سے فون پر اور ویسے بھی اس رات جو بھی ہوا اچھا ہوا ۔۔

زری تافشین کے کندھے پر سر رکھتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

کیا اچھا ہوا تھا ۔۔۔

تافشین زری کے چہرے کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔

اس رات نشے والے جوس کی وجہ سے تم مجھے ملے میری زندگی میں آے سو بھول جاٶ تم بھی سب کچھ اور ویسے بھی وہ بندر میرا بھائ ہے ۔۔۔

اگر تم اس سے نہ ملے میں اسی کے ساتھ چلی جاٶ گی گھر ۔۔۔

زری تافشین کے سینے پر سر رکھتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

کیییییااا مطلب زری کے ساتھ وہ حرکت عائشو نے ہی کی تھی ۔۔

ارسلان یہ سنتا غصہ سے سوچتا باہر کی طرف چلا گیا ۔۔۔

پہلے وہ گھر جانا چاہتا تھا پر غصہ سے آفس چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

درام یہ تم تھے کیا اتنا غصہ ۔۔۔

حنین روم میں آتی درام کو گلے لگاتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

ہاں وہ گندی ماما تمہاری انسلٹ کر رہی تھی ویسے بھی سپر ہیرو نے بتایا تھا بیوی کی عزت کرنی چاہے ۔۔۔

درام بھی اسے گلے لگاۓ سوچتا ہوا بولا ۔۔۔

ارے واہ مطلب میرا شاۓ ہبی ٹھیک ہو رہا تم نہیں جانتے درام مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے ۔۔

پہلی دفعہ کوئ میرے لیے بولا تھا ۔۔۔

حنین اچانک سنجیدہ ہوتی بولی ۔۔۔

م۔میں ہو تمہارے ساتھ ۔۔

درام حنین کے ماتھے پر لب رکھتا ہوا بولا ۔۔۔

یہ لک کس نے کراوئ بہت ہی ڈیشنگ لگ رہے ہو ۔۔

حنین آنکھ ونک کرتی ہوئ بولی ۔۔

و۔ہ۔بیٹ مین۔نے ۔۔

درام شرماتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

یہ کون ہے بیٹ م۔۔۔

آپپییییی آپییییی ۔۔

اس سے پہلے حنین کچھ پوچھتی جب روم کے اندر انٹر ہوتی عائشو چیختی ہوئ بھاگتی آی ۔۔۔

————————————————————

ارے ارے میرا بچہ آیا ہے ۔۔۔

حنین اچانک اپنے سامنے عائشو کو دیکھتی خوش ہوتی بولی ۔۔۔

و۔ہ۔آپی مجھ۔م۔۔۔

چپ بلکل میری جان آپی کیوں معافی دے میری بیٹی ہو تم چھوڑو یہ ساری باتیں یہ بتاٶ کیسی ہو ۔۔۔

کافی دیر دونوں ایک دوسرے کے گلے لگی روتی رہی تھی جب عائشو الگ ہوتی روتے ہوۓ بول رہی تھی جب حنین اسے ٹوکتی بیڈ پر بیھٹاتے ہوۓ بولی ۔۔۔

میں ٹھیک آپی لیکن میں نے جو کیا وہ بہت غلط تھ۔۔۔

بس کرو عائشو مجھے کوئ گلہ نہیں پہلے وہ سلانٹی معافی مانگنے آ گیا اب تم آ گی ہو ۔۔۔

حنین اس کی بات کاٹتی منہ بناتی ہوئ ۔۔

اچھا وہ بھی آے تھے کیا مجھے نہیں تھا پتہ وہ بات ہی نہیں کرتے ۔۔

عائشو اداس ہوتی بولی ۔۔

کرے گا بات تم سے فکر مت کرو ابھی ابھی گیا شاہد آفس چلا گیا ہو ۔۔۔

حنین عائشو کو گلے لگاتی ہوئ بولی ۔۔۔

ع۔ا۔ئشو میں نے پانی بنایا ہے ۔۔۔

درام عائشو کو پانی کا گلاس دیتا خوش ہوتا بولا ۔۔۔

ارے کرش کیسے ہو اور بڑے خوبصورت لگ رہے ہو ۔۔۔

عائشو درام کے گال کیھچتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

جی۔۔۔

درام شرماتا ہوا صرف اتنا بولا ۔۔۔

اچھا آپی ایک بات بتانی تھی ۔۔۔

اچانک کچھ یاد آتے عائشو شرماتے ہوۓ بولی ۔۔۔

جی میری جان بولو ۔۔۔

حنین اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی ۔۔۔

و۔ہ۔وہ۔آپ آنی بننے والی ہے آپی ۔۔۔

عائشو شرماتے ہوۓ کہتی حنین کے گلے لگ چکی تھی ۔۔۔

کیییییییااااا سچی ہاۓ کب پتہ چلا تمہیں ۔۔

حنین خوشی سے چیختی اس کا چہرہ چومتی ہوئ بولی ۔۔۔

جی آج ہی پتہ چلا پھر احساس ہوا آپ نے مجھے ماں بن کر کیسے پالا تھا اور میں نے کوئ احساس نہیں کیا پلیز آپی مجھے معاف کر دے ۔۔۔

مجھے ڈر ہے کہی آپ کا دل دکھا کر میری اولاد کو کچھ نہ ہو جاۓ ۔۔۔

عائشو ندامت سے روتی ہاتھ جوڑتی ہوئ بولی ۔۔۔

اففففف پاگل لڑکی یہ فضول چیزیں مت سوچو بلکہ اچھا اچھا سوچو ہاے سلانٹی باپ بننے والا ہے کتنی خوشی والی بات ہے تم نے بتایا اسے ۔۔۔

حنین اسے چپ کرواتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

نہیں جیسے ہی پتہ چلا آپ کے پاس آ گی ابھی بتاٶ گی اگر میر۔۔۔۔

اولاد کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے چلو اٹھو ابھی سلانٹی کے پاس جاٶ اور بتاٶ پاگل لڑکی میرے پاس آ گی ہو ۔۔

حنین عائشو کو کھڑا کرتی اس کی بات کاٹتی باہر لے کر جاتی ہو

ہوئ بولی ۔۔

لی۔۔۔

لیکن ویکن کچھ نہیں پہلا حق باپ کا ہوتا ہے جاٶ ۔۔۔

حنین پھر بات کاٹتی ہوئ بولی ۔۔۔

د۔و۔ست۔۔

ہممم۔۔۔

حنین جو عائشو کو جاتا ہوا دیکھ رہی تھی جب درام کے پکارنے پر بولی ۔۔

آن۔ی۔آنی کس کو کہتے ہے ۔۔۔

درام حنین کے کندھے پر تھوڑی رہتا ہوا بولا ۔۔۔

آنی مطلب عائشو کے بے بی ہونے والا ہے میں آنی بننے والی ہو ۔۔۔

حنین خوش ہوتی بولی ۔۔۔

تو ہیرو پاپا بنے گا ۔۔۔

درام نے ایک اور سوال کیا ۔۔۔

ہاں وہ پاپا بنے گا ۔۔۔

حنین مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔

پھر مجھے بھی بے بی چاہے میں بھی پاپا بنو گا بتاٶ کیسے بنتے ہے پاپا ۔۔۔

درام بچوں جیسی ضد کرتا ہوا بولا ۔۔۔

ک۔ی۔کیا چھوڑو یہ بات چلو نیچے ۔۔۔

حنین اس کی فرمائش سنتی گڑبڑا کر بولتی نیچے کی طرف جاتے ہوۓ بولی ۔۔۔

لیکن بتاٶ تو سہی ۔۔

درام بھی پیچھے آتا روٹھے پن سے بولا ۔۔۔

————————————————————

میں نے ایک دفعہ کہا ہے مجھے کوئ ڈسٹرب نہ کرے تو کیوں آفس میں آیا کوئ ۔۔۔

ارسلان جو مسلسل غصہ سے بیٹھا اپنے آفس میں سوچ رہا تھا ۔۔۔

وہ سب کو منع کر چکا تھا اندر آنے سے تبھی آفس کے ڈور کے اوپن ہونے کی آواز پر بنا دیکھے والس اٹھا کر مارتے ہوۓ کہا ۔۔۔

ار۔ارسلان میں ہو عائشہ ۔۔۔

عائشو ڈرتے ہوۓ بولی جب وہ اندر آ رہی تھی ۔۔

تم۔تم۔جھوٹی عورت نفرت ہے مجھے تم سے کیسی محبت تھی تمہاری جو تم نے کسی کا احساس ہی نہیں کیا ۔۔۔

پہلے حنین پھر زری کے ساتھ بھی غلط کیا ۔۔

ارسلان عائشو کو کندھوں سے پکڑتا غصہ سے چلاتا ہوا بولا ۔۔۔

لیکن میری بات سن لو تم باپ ن۔۔۔

کوئ بات نہیں سنی میں نے تم جھوٹی تمہارا پیار بھی جھوٹا ہو گا آج میرے ساتھ ہو کل کوئ اور مل جاۓ گا ۔۔۔

جس نے اپنی ماں جیسی بہن کا خیال نہیں کیا وہ میری کیسے بن سکتی ہے ۔۔۔

ارسلان شدد طش میں آتا جو منہ میں آیا بول گیا ۔۔۔۔

بسسسسسس بہت ہو گیا ۔۔۔۔

بلکل صیح کہا میں تمہاری محبت کے لیے اپنی اس بہن کو دھوکہ دیا جس نے مجھے پالا تھا ۔۔۔

اپنے یہ بال تمہارے لیے کٹواۓ تم بھی جانتے تھے مجھے اپنے بال کتنے پسند تھے ۔۔۔

اس ایک ماہ میں ہر وہ کام کیا تمہاری محبت کے لیے خود سوچو جس لڑکی نے آج تک اٹھ کر ایک پانی کا گلاس تک نہیں پیا تھا ۔۔۔

اس لڑکی نے تمہاری محبت کی خاطر کچن میں جا کر سب کام کرتی تھی ۔۔۔

پتہ کیا مسٹر ارسلان غلطی تمہاری نہیں میری تھی جو تم جیسے بے حس انسان سے محبت کر لی ۔۔۔

خود غرص ہو گی میں اتنی وہ تو شکر ہے اس رات گناہ نہیں کر لیا اگر ایسا کام میں کرتی تو اپنے اللہٌ اور آپی کے سامنے کیا منہ دیکھاتی میں ۔۔۔

تمہارے علاوہ مجھے کوئ اور چاہے بھی نہیں تم ہی کافی تھے کیا مانگا تھا تم سے بس اتنا کہ تھوڑی سی محبت دے دینا پر نہیں بنا سوچے سمجھے بول دیتے ہو ۔۔۔

اس سے اچھا میں مر جاٶ تاکہ تمہاری جان چھوٹ جاۓ مجھ سے ۔۔۔

غلطی کی تم سے محبت کرکے بلکہ تم محبت کے قابل ہی نہیں تھے تمہیں پتہ ہی نہیں محبت ہوتی کیا ہے ۔۔۔۔

جا رہی ہو تمہاری زندگی سے کبھی واپس نہیں آو گی ۔۔۔

عائشہ ارسلان کی بات سنتی غصہ سے پھٹ پڑی تھی تبھی وہ بولتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔

وہ بھول چکی تھی وہ ارسلان کو کیا بات بتانے آی تھی ۔۔۔

————————————————————

سر سر آپ کی مسز کا ایکسڈنٹ ہو گیا ۔۔۔

ارسلان جو عائشو کے جانے کے بعد سوچ رہا تھا جب ایک کولیگ نے اندر آتے کہا ۔۔۔

کی۔۔۔۔م۔ط۔۔۔۔

چلو ۔۔

ارسلان کو سمجھ نہ آیا کیا بولے تبھی گھبراتے ہوے باہر جاتا بولا ۔۔۔

عائشو جو روتی ہوئ بے خیالی میں سڑک پار کرتی جا رہی تھی جب سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکر لگاتے وہ دور جا گری تھی ۔۔۔

خون میں لت پت عائشو نے اپنی بند ہوتی آنکھوں سے سامنے سے آتے گھبراتے ارسلان کو دیکھا ۔۔۔

ار۔س۔ل۔ن۔ب۔چ۔

اپنے پاس آتے ارسلان کو دیکھتی عائشو بامشکل بولتی اپنی آنکھیں بند چکی تھی ۔۔۔

عائشو عائشو تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔

ارسلان عائشو کو بے ہوش ہوتا دیکھ روتے ہوے بولا جہاں اس کے سر اور منہ سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔

نہیں نہیں تمہیں کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔

ارسلان عائشو کو گود میں آٹھاے گاڑی کی طرف لے کر جاتا روتے ہوے بولا تھا ۔۔۔