Harjai By Iqra Sheikh Readelle502003 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
‘” وہ جانے کب سے ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی
اس وقت اسکے ہر اک انداز سے بےچینی جھلک رہی تھی ..
‘ ” یہ کیا ہو گیا تھا اس سے ..
اس نے ایسا تو کبھی نہیںچاہا تھا ..
وہ وجدان کو کبھی نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی …
‘ ” وہ مانتی ہے کہ اس وقت وہ بہت غصّے میں تھی لیکن جو کچھ بھی ہوا وہ انجانے میں ہوا تھا …
‘”” نہیں …نہیں میں نے کچھ نہیں کیا ہے
وہ سب غلطی سے ہوا تھا …
کچھ دیر پہلے کا منظر یکدم سے اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا ..
‘ ” وجدان کو کچھ نہیں ہوگا …
ہاں …وہ ٹھیک ہو جائے گا ..بلکل ٹھیک …
وہ خود سے بولتی یکدم سے پلٹی تو اسکی نظر چیئر پہ بیٹھی aحرم پہ پڑی ..
‘ ” آج پہلی بار اسکو حرم پر ترس آیا تھا پہلی بار اس نے اپنے دل میں حرم کے لئے ہمدردی محسوس کی تھی..
‘ ” حرم “
اس نے بہت آہستہ آواز میں اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسکو پکارا تھا ..
‘” جبکہ حرم تو بس اک ٹک اوپریشن روم کے دروازے کو دیکھ رہی تھی ..
جہاں اس وقت اسکا شوہر اسکی محبت موجود تھی ..
‘” کتنا دردناک منظر تھا وہ ..
کس طرح سے وہ لوگ وجدان کو ہسپتال لے کر آئی تھی..
‘ ” پتہ نہیں وہ کیسا تھا
کتنی چوٹ آئی تھی اسکو ..
ڈاکٹر نے ابھی تک کچھ نہیں بتایا تھا ..
وہ بس آنکھوں میں آنسوں لئے اسکی صحت کے لئے دعا کر رہی تھی ..
‘ ” حرم “
” اس نے جب کوئی جواب نہیں دیا تو سمن نے اسکےکندھے پر ہلکا سا دباو ڈالکر اسکو مخاطب کیا تھا..
‘ ” اپنے کندھے پر دباو محسوس کر کے حرم نے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا تھا …
سمن کو اپنے پاس کھڑا دیکھ کر اسکی آنکھوں میں یکدم سے غصّہ آیا تھا “
” ‘مل گیا تمھیں سکون …
“اب تو بہت خوش ہو نہ تم ..
مجھے اور وجدان کو تکلیف میں دیکھ کر .
‘ “حرم اسکا ہاتھ اپنے کندھے سے بری طرح جھٹکتی ہوئی بولی ..
“
” نہیں حرم میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا
یہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ انجانے میں ہوا میرا بلکل ایسا ارادہ نہیں تھا …
‘ ” آج سمن شاید پہلی بار کسی کے سامنے شرمندہ ہوئی تھی ..
” انجانے میں نہیں تم نے جان بوجھ کر کیا ایسا .
” یہی تو چاہتی تھی نہ تم کہ وجدان مجھ سے دور ہو جائے .
اور دیکھو تم نے اپنی نفرت میں آج کیا کر دیا …
” وہ اسکی طرف دیکھ کر روتی ہوئی بولی اور اک نظر روم کے بند دروازے کو دیکھا تھا …
” میں مانتی ہوں میں نے ایسا کہا تھا مگر میرا یقین کرو میرا ایسا ارادہ ہرگز نہیں تھا ..
میں کابھی وجدان کو تکلف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ہوں …
‘” اس نے حرم کے ہاتھ کو تھامنا چاہا تھا …
” نہیں کرنا مجھے یقین تمہاری کسی بھی بات کا
آج میرے وجدان کی جو حالت ہے اسکی وجہ صرف تم ہو ..
‘ “” پلیز تم یہاں سے چلی جاؤ اگر میری تکلف کو نہیں بڑھانا چاہتی ہو …
‘ “اور پلیز ….
‘ “اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی ڈاکٹر صاحب وجدان کے روم سے باہر نکلے تھے ..
انکو دیکھ کر حرم کے ساتھ ساتھ سمن بھی تیزی سے انکی طرف بڑھی تھی …
” ڈاکٹر صاحب کیسے ہیں میرے شوہر …
حرم کے لہجے میں وجدان کے لئے تڑپ تھی ..
‘” گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے انکے سر اور ہاتھ پہ چوٹ آئی ہے اور چوٹ بھی زیادہ گہری نہیں ہے ..
کچھ وقت لگے گا ٹھیک ہونے میں ..
ڈوکٹر نے ان دونوں کو تسلی دی تھی …
‘ ” کیا میں اپنے شوہر سے مل سکتی ہوں ..
حرم یکدم سے بولی تھی ..
‘ ” نہیں ابھی فلحال آپ نہیں مل سکتی کل صبح تک انتظار کریں آپ …
وہ اپنی بات کہہ کر چلے گئے تھے …
‘ ” تم ابھی تک یہیں ہو پلیز چلی جاؤ یہاں سے ..
سمن کو وہیں کھڑا دیکھ کر حرم پھر سے بولی ..
‘ ” پلیز سمن جاؤ یہاں سے …اور ہاں ہو سکے تو اک احسان کرنا مام اور آنی کو اس سب کے بارے میں بلکل مت بتانا بس اتنی سے ریکویسٹ ہے تم سے …
وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ سب جان کر سادیہ بیگم اور پریشے پریشان ہو …
‘ ” حرم کی بات سن کر سمن اک نظر اسکو دیکھتی وہاں سے چلی گئی تھی …
اسکے جانے کے بعد حرم پھر سے اپنی جگہ آ بیٹھی تھی ڈاکٹر کی بات سے اسکو سکون ملا تھا ..
💞💞
” سمن کے جانے کے بعد وہ وہیں بیٹھی وجدان کے لئے دعا کر رہی تھی ..
رات سے صبح ہو گئی تھی مگر اک پل کے لئے بھی اس نے آنکھیں بند نہیں کی تھی …
‘ “”صبح جاکر نرس نے اسکو وجدان سے ملنے کی اجازت دی تھی …
وہ خوش ہوتی ہوئی وجدان کے روم کی طرف بڑھی تھی …
‘” روم میں داخل ہو کر اس نے بہت ہی آرام سے دروازہ بند کیا اور آہستہ سے قدم اٹھاتی بیڈ پر لیٹے وجدان کی طرف بڑھی تھی ..
‘ ” حرم کی نظریں بس وجدان کے چہرے پر ہی جمی ہوئی تھی ..
وہ اسکے چہرے کو دیکھتی پاس رکھی چیئر پر بیٹھی تھی …
‘ “اسکے سر پہ پٹی بندھی ہوئی تھی چہرے پر ایک دو جگہ خراشے پڑی تھی ..
اسکی چوٹ کو دیکھ کر حرم کو اپنے دل میں درد سا محسوس ہوا تھا ..
‘ ” کیا حالت ہو گئی تھی اسکی .
جانے کتنے ہی آنسوں اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر گود میں گرے تھے ..
‘ “: وجدان بس اب اٹھ جائیں آپ ..
بہت ڈرا لیا آپ نے مجھے ..
معلوم بھی ہے کتنا ڈری ہوئی ہوں میں اس وقت ..
‘” وہ منظر اب بھی یاد کرتی ہوں تو میری روح کانپ اٹھتی ہے ..
اس نے وجدان کا اک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا …
‘ “” اگر آپکو کچھ ہو جاتا تو میں بھی زندہ نہ رہ پاتی..
‘ ” کیونکہ وجدان کے بغیر حرم ادھوری ہے
” بلکل ادھوری “
‘ ” آپکے علاوہ میرا ہے ہی کون ..
میں کچھ نہیں ہوں آپکے بنا …
‘ ” حرم اسکے ہاتھ کو اپنے لبوں سے چومتی ہوئی نم لہجے میں بولی تھی ..
‘ ” اب اٹھ بھی جائیں نہ ..
مجھے اکیلے ڈر لگ رہا ہے .
بہت ضرورت ہے مجھے آپکی …
اس نے بہت ہی محبت سے وجدان کے چہرے پہ ہاتھ رکھا اور نرمی سے اسکی چوٹ کو چھو رہی تھی “
“‘ ‘ کچھ سوچ کر وہ تھوڑا سا انچا ہوئی اور وجدان کی پیشانی پر لگی چوٹ پر اپنے لب رکھے تھے ..
‘ “اسکی آنکھ سے اک آنسوں ٹوٹ کر وجدان کے چہرے پر گرا تھا ..
‘ ” اب تم میری نیند خراب کر رہی ہو اور پھر میں کچھ کروں گا تو شکایات کرتی ہو کہ میں تمھیں پریشان کر رہا ہوں …
‘” وجدان کی آواز پر اس نے خوشی اور حیرانی سے اسکی طرف دیکھا تھا ..
‘ ” وہ آنکھوں میں شرارت لئے اسکو دیکھ رہا تھا مگر وہ اسکے چہرے سے اسکی تکلیف کا اندازہ لگا سکتی تھی …
‘ ” آپ اٹھ رہے تھے …اور میں کب سے آپکو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی .
آپ تب کیوں نہیں بولے کچھ …
‘ ” پتہ ہے کتنا پریشان ہو رہی تھی میں آپکے لئے ..
‘ “وہ شکایتی انداز میں بولی …
‘ ” اگر میں اٹھ جاتا تو وہ سب کیسے سن پاتا جو تم مجھے نیند میں سوچ کر بول رہی تھی .
‘ ” اور پھر تمنے بھی تو مجھے اتنا ہی پریشان کیا تھا …
اس بار میری باری تھی …
‘ ” وہ اسکے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا ..
ان چند ہی گھنٹوں میں کیا حالت ہو گئی تھی اسکی
بکھرے بال ..
زیادہ رونے کی وجہ سے آنکھیں لال ہو چکی تھی ..
‘ ” کل سے کتنا ڈرایا ہوا ہے آپنے کیا یہ کافی نہیں تھا …
جائیں مجھے نہیں بات کرنی آپ سے ..
‘ ” وہ اسکا ہاتھ چھوڑ کر منہ بناتی ہوئی اٹھی تھی..
‘ ” یار کیسی بیوی ہو تم تمہارا شوہر تکلیف میں ہے اور تم اسے چھوڑ کر جا رہی ہو …
اسکے اس طرح سے اٹھنے پہ وہ یکدم سے بولا ..
‘ ” وجدان کی بات پر حرم پھر سے اپنی جگہ بیٹھی تھی ..
کیا ہوا وجدان کہاں تکلیف ہو رہی ہے آپکو ڈاکٹر کو بولا کر لاؤں ?
” اسکی بات کا وہ کچھ اور ہی مطلب سمجھی تھی اس لئے فکرمندی سے اسکی طرف دیکھ کر پوچھ رہی تھی ..
‘ ” حرم کی بات پر وجدان ہولے سے مسکرایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھا تھا …
‘ “جب تم مجھسے دور جاتی ہو نہ تو مجھے یہاں تکلیف ہوتی ہے ..
‘ ” میری اس تکلیف کی دوا تم ہو اس لئے بس میرے پاس رہو مجھے سکون ملتا رہے گا تمہارا چہرہ دیکھ کر ..
وہ اسکے چہرے کو دیکھ کر بہت محبت بھرے لہجے میں بولا تو حرم اسکی بات پر کھل کر مسکرا دی تھی…
ویسے بھی وہ کونسا اسکو چھوڑ کر جا رہی تھی بس اسکو تھوڑا سا پریشان کرنے کے لئے اپنی جگہ سے اٹھی تھی …
💞💞
(ایک ہفتے بعد )
” ‘وجدان آپکو کیا لگتا ہے امی نے اتنی جلدی میں کیوں بلایا ہے ہمیں …
‘ ” کیا وجہ ہو سکتی ہے ?
” ‘ انکی گاڑی جیسے ہی گھر کے آگے رکی تو حرم کار کا گیٹ کھولتے وجدان سے مخاطب ہوئی تھی ..
” اس وقت اسکے لہجے میں فکر اور پریشانی تھی..
‘ ” کہیں سمن نے گھر پہ آپکے ایکسیڈنٹ کے بارے میں تو نہیں بتا دیا .
‘ ” وہ بھی اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولتی کار سے باہر نکلی تھی …
‘ ” نہیں اگر اسکو بتانا ہوتا تو وہ پہلے ہی بتا چکی ہوتی ..
کوئی دوسری وجہ ہے جو ہمیں اندر جاکر ہی معلوم ہوگی ..
‘ ” تم بلکل فکر مت کرو میں ہوں نہ تمہارے ساتھ “
” وہ حرم کا ہاتھ تھامتا ہوا اندر کی طرف بڑھا تھا ..
‘ ” ہسپتال سے حرم واپس سے اسکو فلیٹ پر لیکر آ گئی تھی ..
اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور وہ دونوں نہیں چاہتے تھے کہ وجدان کو ایسی حالت میں دیکھ کر سادیہ بیگم پریشان ہو …
‘ ” لکین کل سادیہ بیگم کے فون پر انکو واپس آنا پڑا تھا .
وجدان کی ہاتھ کی چوٹ تو ٹھیک ہو چکی تھی لیکن سر کی چوٹ ابھی باقی تھی ..
‘ ” گھر میں داخل ہوتے ہی انہیں اک چھل پھل سی نظر آئی تھی ..
ملازم ادھر سے ادھر کام کرتے پھر رہے تھے .
‘ ” سادیہ بیگم اک سائیڈ پر کھڑی ملاذمہ کو کچھ ہدایت دے رہیں تھیں ..
جبکہ لاؤنج میں موجود صوفہ اور میز پر کچھ سامان رکھا ہوا تھا …
اور پریشے وہیں موبائل پر کسی سے بات کر رہیں تھیں …
‘ “دونوں نے ناسمجھی سے اک دوسرے کی طرف دیکھا تھا ..
انکے گھر میں کیا ہو رہا تھا کیسی تیاری چل رہی تھی یہ سب انکی سمجھ سے باہر تھا …
‘ ” آ گئے تم دونوں …میں کب سے تم دونوں کا انتظار کر رہی تھی ..
جیسے ہی سادیہ بیگم کی نظر ان دونوں پر پڑی تو وہ خوشی سے انکی طرف بڑھی تھی …
‘ “وہ دونوں بھی سلام کرتے انکے پاس آئے تھے ..
ارے وجدان بیٹا یہ کیا ہوا کیسے لگی ی چوٹ ?
” جیسے ہی انکی نظر وجدان کی پیشانی پر پڑی تو فکرمندی سے بولی …
سادیہ بیگم کی بات سن کر پریشے بھی وہاں آئی تھی…
‘ ” کچھ نہیں امی چوٹی سی چوٹ ہے ٹھیک ہو جائے گی…
اس نے محبت سے اپنی ماں کے ہاتھ کو چوما تھا ..
‘ ” پہلے آپ مجھے یہ باتیں کہ اتنی جلدی میں کیوں بلایا آپنے …
اور یہ تیاریاں کس چیز کے لئے ہو رہی ہیں …
‘ ” وہ ادھر ادھر نظریں ڈالتا ہوا بولا تو اسکی بات پر سادیہ بیگم اور پریشے اک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی …
” انکے مسکرانے پر وجدان اور حرم نے اک دوسرے کی طرف دیکھا تھا ..
” ‘ ایسے حیران کیوں ہو رہے ہو تم دونوں ..
شادی والے گھر میں ہی تو تیاریاں ہوتی ہیں ..
جواب سادیہ بیگم کی طرف سے آیا تھا …
” شادی ….کس کی …شادی
” حرم کے دل کی دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تھی…
” کس کی سے تمہارا کیا مطلب .
سمن کی شادی ہے اور کس کی ہوگی …
” پریشے نے اسکی الجھن کم کی تھی …
” انکے جواب پر وہ دونوں ہی اپنی جگہ حیران ہوئے تھے …
” آپ لوگ پوری طرح سے کیوں نہیں بتا رہے ہیں سمن کی شادی ہو رہی ہے لیکن .
کس سے ہو رہی ہے اسکی شادی …
” ‘ وہ چیڑا تھا انکی آدھی ادھوری بات سے ..
” ‘ ولید سے ہو رہی ہے ..
اور اس میں سمن کو کوئی اعتراض نہیں ہے …
” سادیہ بیگم مسکرا کر بولی تو انکی بات پر حرم کو اپنے اندر ایک سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا تھا ..
لیکن ایک سوال من میں تھا آخر سمن کیسے مان گئی اس شادی کے لیے ….
💞💞
” ‘ وجدان نے شادی کی پوری زمیداری خود سمبھال لی تھی ..
پانچ دن باد شادی تھی کام زیادہ تھا وقت کم …
” یہ سادیہ بیگم کی ہی خوائش تھی کہ ووہ سمن کو اپنے گھر سے رخصت کریں گی ..
کیونکہ سمن کا بچپن اس گھر میں گزرا تھا ..
” انکی اس خوائش پر پریشے اور ہاشم صاحب کو کوئی اعتراض نہیں تھا ..
آخر انہونے انکی بیٹی کو پالا تھا اتنا تو حق رکھتی تھی وہ اس پر .
” ‘ اس لئے پریشے ہاشم صاحب کے ساتھ اپنی بہن کے گھر آ گئی تھی ..
‘” کبھی کبھی تو وجدان کو یقین نہیں ہوتا تھا کہ سمن اتنی جلدی کیسے مان گئی .
یا شاید اب اسکو احساس ہو گیا تھا کہ وہ جو کر رہی تھی غلط تھا …
‘ ” جو بھی تھا سب اپنی جگہ پر ٹھیک ہو گیا تھا ..
‘ ” لیکن اک ہی گھر میں رہنے کے باوجود حرم اور وجدان کی سمن سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی ..
” ‘ جبکہ حرم کے واپس آنے کے بعد ماریہ صفدر اور ولید حرم سے اپنی غلطیوں کی اس سے معافی مانگ چکے تھے ..
” اور حرم تو تھی ہی اتنے اچھے دل کی اس نے دل سے ان لوگوں کو معاف کر دیا تھا ..
“‘ وہ تو سمن سے بھی اپنے اس دن کے رویہ کی معافی مانگنا چاہتی تھی لیکن اس میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی …
” ” پھر کل سمن ہمت کرکے ان دونوں سے معافی مانگنے انکے کمرے میں آئی تھی ..
کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی وہ جو چاہتی تھی وہ ناممکن تھا اسکو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا …
اس دن واپس آنے کے بعد اس نے سب سے پہلے اپنی ماں اور باپ سے معافی مانگی تھی ..
” ‘ اور اپنے ہر فیصلے کا حق انکو دیا تھا .
جب ہاشم صاحب نے ولید کے بارے میں اسکی راۓ معلوم کرنی چاہی تو اس نے انکے فیصلے کو دل سے قبول کر کے ہاں کر دی تھی ..
” اسکی ہاں سے سب کو ہی خوشی ملی تھی ہاشم صاحب کی سب سے بڑی خوائش پوری کردی تھی اس نے …
” ‘ بس وجدان اور حرم سے معافی مانگنے کی اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی ..
“لیکن آج وہ ہمت کرکے انکے پاس آ ہی گئی تھی .
” اور حرم تو اس سے ناراض ہی نہیں تھے تو معافی کیسی..
” یوں وہ تینوں اک دوسرے کو دل سے معاف کر چکے تھے .
💞💞
‘ ” مام یہ حرم کہاں ہیں کب سے تلاش کر رہا ہوں مجھے کہیں نظر نہیں آ رہی ہے ..
‘ “” وہ لان میں جاتی سادیہ بیگم سے مخاطب ہوا تھا..
‘ “”آج پورا دن گزر گیا تھا وہ اسکو ملی نہیں تھی ابھی تھوڑی دیر پہلے جب وہ کمرے میں تیار ہونے گیا تو وہ اسکو وہاں بھی نظر نہیں آئی تھی …
‘ ” آج سمن کی بارات تھی ہر کوئی اپنے اپنے کام میں مصروف تھا …
مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ سب بہت خوش بھی تھے …
‘ ” اور خوش کیوں نہ ہوتے سب کچھ صحیح جو ہو گیا تھا ..
ساری پریشانیاں ختم جو ہو گئی تھی …
‘” ہاں بیٹا وہ ابھی مجھے ہی تیار کر رہی تھی میں نے اسکو بولا ہے جلدی سے خود بھی تیار ہو جائے ..
‘ ” میری بچی صبح سے کام میں لگی ہوئی تھی ابھی بھیجا ہے میں نے اسکو تیار ہونے کے لئے
انکے لہجے میں حرم کے لئے محبت ہی محبت تھی ..
ویسے بھی بارات آنے والی ہوگی …
‘ ” میں ذرا پریشے کے پاس سے آتی ہوں تم دیکھ لو جاکر وہ تیار ہوئی ہے یا نہیں ..
‘ سادیہ بیگم کی بات پر وہ مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا …
‘ ” وہ جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوا تو آئنے کے سامنے کھڑی حرم کو دیکھ کر اپنی جگہ رک سا گیا تھا …
‘ ” اس وقت وہ ڈیپ ریڈ کلر کی ساڑی میں بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی
یہ ساڑی وہ لیکر آیا تھا اسکے لئے ..
‘ ” جتنا اس نے سوچا تھا حرم اس سے کہیں زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی اس میں …
” وجدان نے دروازہ بند کیا اور آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکے قریب آکر حرم کو پیچھے سے اپنی باہوں کے حصار میں لیا تھا ….
‘ ” بہت خوبصورت لگ رہی ہو …
وہ اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا اور ہلکے سے اسکے کان کی لؤ کو اپنے دانتوں میں دبایا تھا ..
” مل گئی آپکو فرصت …
یاد آ گیا آپکو کہ آپکی اک بیوی بھی ہے …
حرم آئنے میں اک نظر اسکو دیکھ کر چوڑیاں پہنتی ہوئی بولی تھی ..
” ‘ میں تمھیں کیسے بھول سکتا ہوں تم تو میری دھڑکنوں میں ہو ..
لیکن تم کل سے مجھے اگنور کر رہی ہو ..
رات کو بھی میرے سونے کے بعد روم میں آئی تھی اور صبح ہوتے ہی روم سے غائب ..
‘ ” اسکے لہجے میں شکوہ محسوس کر کے ہلکا سا مسکرائی تھی …
‘ ” کل سے تم نے مجھے جتنا اگنور کیا ہوا ہے نہ اسکی سزا کے لئے تیار رہنا .
” بہت ہی اچھی سزا سوچ رکھی ہے تمہارے لئے ..
” ‘ وہ اپنا چہرہ اسکے بالوں میں چھپا کر اسکی خوشبوں کو اپنے اندر اتارتا ہوا بولا تھا ..
” وجدان کی بات پر حرم نے گھور کر اسکے طرف دکھا تو وہ شوخ نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا …
‘ “ویسے مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ آج ہم لیٹ جانے والے ہیں شادی میں .
وہ ابھی بھی اسکو اپنی باہوں کے حصار میں لئے ہوئے تھا ..
” ‘ مطلب لیٹ کیوں ہونگے ہم ?
حرم نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا تو اسکے سوال پر وجدان کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی …
” ‘ مطلب ابھی سمجھا دیتا ہوں …
اس نے اک جھٹکے میں حرم کا رخ اپنی طرف کر کے اسکے لبوں پر جھک گیا تھا …
” ‘ اسکی گستاخی پر حرم نے سختی سے اسکا کالر اپنی مٹھی میں جکڑا تھا ..
” ‘ حرم کے ساتھ ساتھ اسکی پکڑ میں بھی سختی آتی جا رہی تھی …
” ‘ وہ اس پر یوں ہی جھکا اسکی سانسوں کو خود میں اتار رہا تھا …
کچھ لمحے یوں ہی گزر جانے کے بعد جب حرم کو لگا کہ وہ رکنے والا نہیں ہے ..
تو اس نے وجدان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو دور کیا تھا …
” ‘ کبھی کبھی تو وہ وجدان کی بڑھتی شدتوں سے یوں ہی گھبرا جاتی تھی ..
” ‘ آپ بہت ہی برے ہیں وجدان ..
میری ساری تیاری خراب کر دی …
وہ اپنی بےترتیب ہوئی سانسوں کو درست کرتی بولی …
” ‘ میں نے پہلے ہی کہا تھا ہم آج لیٹ ہونے والے ہیں ویسے بھی تم کل سے اب میرے ہاتھ آئی ہو
ایسے کیسے جانے دوں …
وہ حرم کو کمر سے پکڑ کر پھر سے اپنی قریب کرتا ہوا بولا اور اپنے لب اسکی گردن پہ رکھ چکا تھا ..
” ‘ وجدان کیا کر رہے ہیں …
چھوڑیں مجھے دیکھیں بارات بھی آنے والی ہے ..
” اسکی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر حرم نے اپنا آپ چھڑانا چاہا تھا …
” ‘ اسکی بات پر وجدان اس سے دور ہوا لیکن اسکو اپنی پکڑ سے آزاد نہیں کیا تھا …
” ٹھیک ہیں اب تو چھوڑ رہا ہوں لیکن رات کو مجھسے کسی بھی بات کی امید مت رکھنا …
” وہ اسکے لبوں کو بہت نرمی سے چھوتا اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کرکے بیڈ پہ بیٹھ کر اسکو پھر سے تیار ہوتا دیکھنے لگا تھا …
” ‘ وہ اسکی بات مان گیا تھا حرم کے لئے اتنا ہی کافی تھا ..
” چلیں ….
اپنیی تیاری مکمل کرنے کے بعد وہ اس مخاطب ہوئی تو وجدان مسکراتا ہوا تھا …
‘ ” چلو …
اس نے حرم کی کمر میں ہاتھ ڈالا تو اس نے گھور کر وجدان کو دیکھا مگر اس پر کہاں فرک پڑنے والا تھا ..
وہ ایسے ہی اسکو اپنے ساتھ لئے کمر سے باہر نکلا تھا ..
اسکے انداز پر حرم بس مسکرا کر رہ گئی تھی اسکو اس طرح سے مسکراتا دیکھ کر وجدان کو سکون ملا تھا ..
‘ ” دونوں ہی اپنی زندگی میں بہت خوش تھے
💞💞
(ختم شد )
