Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

‘ ” کیا ہو رہا ہے یہاں اور یہ لڑکی کون ہے ?
‘ سادیہ بیگم حیران پریشان سی دروازے میں کھڑی وجدان سے مخاطب ہوئی تھی ..
‘ ” سادیہ بیگم کی آواز پر اس نے یکدم سے انکی طرف دیکھا تھا
جو کبھی تو اسکو دیکھ رہی تھی تو کبھی زمین پر بیٹھی روتی ہوئی حرم کو ..
‘ ” اس وقت کمرے میں کیا چل رہا تھا یہ سب انکی سمجھ سے باہر تھا ..
‘ ” یہ لڑکی میرا انتقام ہے ۔
” وہ انکی طرف دیکھ کر دھیرے سے بولا تھا مگر جانے کیوں اسکے دل میں عجیب سی بےچینی ہوئی تھی ..
‘ ” ایسا کیوں ہوا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ..
‘ ” کیا مطلب …
سادیہ بیگم اسکی بات سمجھ نہیں پائی تھی وہ اسکے پاس آکر کھڑی ہوئی تھی …
‘ ” مام یہ لڑکی ہاشم خان کی بھانجی ہے میرا انتقام میں اس کو یہاں اس لئے لایا ہوں کہ اپنی آنی کے ساتھ ہوئی زیادتی کا بدلہ لے سکوں ..
‘ ” اسکے مام کی کیے ہوئے ظلم کی سزا دوں اسکی تقلیف میں دیکھ کر وہ بھی تڑپے گا مجھے تب سکون ملے گا …
‘ ” وجدان کے لہجے میں ہاشم خان کے لئے نفرت ہی نفرت تھی ..
جبکہ سادیہ بیگم بےیقینی سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی ..
‘ ” انکو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ انکا بیٹا اتنی گری ہوئی حرکت بھی کر سکتا ہے .
‘ ” انتقام لینا چاہتے ہو .
وہ بھی اس معصوم سے ..
تو پھر مجھے بتاؤ تم میں اور ہاشم خان میں کیا فرک رہ جائے گا ..
‘ ” یہ تو بیچاری بےگناہ ہے اسکو برباد کرنے چلے ہو تم .
‘ ” سادیہ بیگم کے لہجے میں دکھ تھا ..
انہونے ایسی پرورش تو نہیں کی تھی اپنی اولاد کی..
‘ ” وہ اک نظر وجدان کو دیکھتی جھکی تھی اور زمین پر روتی ہوئی حرم کو اٹھایا تھا ..
‘ ” میں نے اسکے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا ہے مام بلکہ اس سے نکاح کر کے یہاں لایا ہوں .
جب اسکے پریوار والے اسکی شکل دیکھنے کے لئے تڑپے گے تب سکون ملے گا مجھے ..
‘ ” اسکو میں اتنی تقلیف دوں ….
اس سے پہلے کے وہ مزید زہر اگلتا سادیہ بیگم آگے بڑھی اور ایک زوردار تھپڑ اسکے گال پر مار کر اسکی چلتی زبان کو روکا تھا …
‘ ” انکے اس طرح سے مارنے پر وجدان بےیقینی سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہا تھا
جنہونے آج تک اس سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی آج اس لڑکی کی وجہ سے انہونے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا …
‘ ” بس بہت ہو گیا ..
اب اور نہیں …مجھے تو اب شرم آ رہی ہے تمھیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے …
تم اک بےگناہ کے ساتھ ظلم کرنے چلے تھے …
‘ ” بدلہ لینا ہوتا تو میں بہت وقت پہلے بدلہ لے چکی ہوتی پر نہیں
مجھے میرے اللہ پر بھروسہ تھا ..
کہ اک دن وہ ہاشم کی اسکے کیے کی سزا ضرور دیگا …
‘ ” سادیہ بیگم کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے تھے
انہونے اک نظر بیڈ پر خاموش بیٹھی اپنی بہن کو دیکھا تھا ..
‘ ” بدلہ لینا تھا نہ تمھیں تو ہاشم خان سے بدلہ لیتے
تب مجھے اچھا لگتا مگر تمہاری اس حرکت نے مجھے نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا ہے …
‘ ” سادیہ بیگم اپنی بات کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی حرم کو اپنے ساتھ لئے کمرے سے نکل گئی تھی ..
‘ ” جبکہ وجدان خاموش کھڑا انکو جاتا دیکھتا رہا تھا اسکو بلکل امید نہیں تھی کہ اسکی مام ایسے ریعکٹ کریں گی ..
‘ ” کیا اس نے واقعی میں غلطی کر دی
کیا وہ سچ میں اک بےقصور کو سزا دینے جا رہا تھا
یا پھر آج اسکی ماں نے مزید غلطی کرنے سے روک دیا تھا ..
‘ ” یہ سب باتیں بار بار اسکو پریشان کر رہی تھی اور نہ جانے وہ کتنی دیر تک یوں ہی کھڑا سوچتا رہا تھا ….
💞💞
‘ ” کیا ہوا ہے پری میں دیکھ رہا ہوں تم کچھ دنوں سے بہت پریشان اور کھوئی کھوئی سی لگ رہی ہو مجھے …
‘ ” کیا بات ہے کوئی پریشانی ہے تمھیں
مجھے بتاؤ شاید میں تمہاری پریشانی دور کر سکوں..
‘ ” ہاشم نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اسکی گہری کالی آنکھوں میں جھانکا تھا ۔
” ‘ اسکے لہجے میں فکر مندی اور آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھ کر پریشے ہلکے سے مسکرائی تھی
‘ ” اس نے آج تک صرف اپنی بہن سے محبت کی تھی مگر یہاں آکر جب اسکی ملاقات ہاشم سے ہوئی تو وہ خود کو اس سے محبت کرنے سے نہیں روک پائی تھی ..
‘ ” شاید ہاشم اس سے اتنی محبت نہیں کرتا ہوگا جتنی محبت وہ اس سے کرتی تھی .
بلکہ یہ کہنا ٹھیک رہے گا کہ وہ اس سے عشق کرتی تھی دیوانوں کی طرح …
‘ ” کیا ہوا کیا سوچنے لگی ..
اسکو خاموش دیکھ کر اس نے پھر سے اسکو مخاطب کیا تھا ..
‘ “نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی ..
وہ تھوڑا سمبھال کر بیٹھی تھی ..
‘ ” تو پھر بتاؤ نہ کیا پریشانی ہے تمہیں ..
اس نے پھر سے اپنا سوال دوہرایا تھا ..
‘ ” میں آپی کی وجہ سے پریشان ہوں ..
‘ پریشے اداسی سے بولی تھی اسکی یہ اداسی چہرے سے بھی جھلک رہی تھی ..
‘ ” آپی ..کیوں کیا ہوا آپی کو .
ہاشم اسکی بات کا یہ ہی مطلب سمجھ پایا تھا ..
‘ ” انکو کچھ نہیں ہوا ہے
ابھی کچھ دن پہلے میں نے انکو تمہارے بارے میں بتایا تھا ..
پر وہ اس رشتے سے راضی نہیں ہے ہاشم
وہ کہتی ہیں کہ جب میں واپس آؤ تو تمھیں اپنے دل اور دماغ سے نکال کر واپس جاؤ کیونکہ وہ ہماری شادی کے لئے کبھی راضی نہیں ہوگی ..
‘ ” بولتے بولتے پریشے کی آنکھیں نم ہوئی تھی .
جبکہ ہاشم بس خاموشی سے اسکو دیکھ رہا تھا .
وہ کبھی اسکی بہن سے ملا نہیں تھا مگر پریشے نے اسکو اپنی آپی کے بارے میں سب بتا رکھا تھا ..
‘ ” اب تم ہی بتاؤ ہاشم میں کیا کروں
میں نے انکو بہت بار سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ میری کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں …
تم جانتے ہو نہ کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی ہوں اور میں آپی کے بغیر بھی نہیں رہ سکتی ہوں کیا کروں میری تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے ..
وہ اب بولتے بولتے رونے لگی تھی ..
‘ ” چپ ہو جاؤ پری تم جانتی ہو کہ تمھیں روتا ہوا دیکھ کر مجھے کتنی تقلیف ہو رہی ہے ..
اور رونے سے یہ پریشانی ختم نہیں ہوگی ..
‘ ” ہاشم اسکو سمجھاتے ہوئے بولا تو اسکی بات پر پریشے یکدم سے چپ ہو گئی تھی ..
‘ ” یہ ہوئی نہ بات …
تم فکر مت کرو ہم کوئی نہ کوئی راستہ ضرور تلاش کر لیں گے تمہاری آپی کو منانے کا ..
وہ اسکو تسلی دیتے ہوئے بولا تو اسکی بات پر پریشے کچھ ھلکی پھولکی ہوئی تھی …
‘ ” آخر وہ اس سے اتنا پیار جو کرتی تھی اور اسکی بات پر وہ آنکھیں بند کر کے یقین کر سکتی تھی اس لئے اب اسکو لگ رہا تھا کہ ہاشم ضرور کوئی راستہ تلاش کر لیگا ..
‘ ” تم دونوں یہاں ہو اور میں تمھیں پوری یونی میں تلاش کر رہا تھا ..
ہاشم اسکو مزید کچھ کہتا کہ صفدر کی آواز پر وہ یکدم سے رکا تھا …
‘ ” ہاں ہم بس آنے ہی والے تھے
ہاشم اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہوئے بولا تھا مگر صفدر کی نظریں پریشے پر تھی .
وہ اسکی نظریں خود پر محسوس کرتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی ..
‘ ” وہ ہاشم اور صفدر تینوں ساتھ یونی میں پڑھتے تھے ..
پریشے اس سے بات صرف اس لئے کر لیتی تھی کیونکہ وہ صفدر کا چھوٹا بھائی تھا ورنہ وہ کسی سے زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی …
‘ ” ہاشم میں ابھی آتی ہوں ثنا سے بک لیکر …
وہ ہاشم کی طرف دیکھ کر بولی اور تیزی سے وہاں سے نکلی تھی ..
جبکہ ہاشم کے ساتھ ساتھ صفدر کی آنکھوں نے بھی دور تک اسکا پیچھا کیا تھا …
💞💞
‘ ” یہ سب کیا ہو رہا ہے دانی ..
تم نے نکاح کر لیا ہے تم ایسا کیسے کر سکتے ہو میرے ساتھ ..
‘ سمن تیزی سے اسکے آفس میں داخل ہوتے ہوئے بولی تھی .
‘ ” آج وہ اپنی دوست کے گھر گئی ہوئی تھی جب وہ گھر واپس آئی تو ایک خبر اسکی منتظر تھی ..
سادیہ بیگم سے اسکو وجدان کی حرکت کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ کیا کر چکا ہے ..
انکے منہ سے یہ ساری باتیں سن کر سمن اپنی جگہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی .
‘ ” اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وجدان اسکے ساتھ ایسا کر سکتا ہے
اسکو تو اس بےچاری حرم پر بھی غصّہ آیا تھا سمن کو لگ رہا تھا کہ وہ اب ان دونوں کے بیچ آ چکی ہے
” ‘ اسکو اس بات سے کوئی مطلب نہیں تھا کہ حرم کا ہاشم خان سے کیا رشتہ ہے
‘ ” اسکو صرف وجدان چاہئے تھا جس پر وہ صرف اپنا حق سمجھتی تھی .
‘ ” سمن یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا تمھیں کب سمجھ آۓ گی کہ یہ میرا آفس ہے ہمارا گھر نہیں ہے …
وجدان اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا ناگواری سے بولا تھا .
اک تو وہ پہلے ہی پریشان تھا اب سمن آ گئی تھی اسکی پریشانی میں مزید اضافہ کرنے …
‘ ” مجھے کچھ نہیں سمجھنا ہے دانی مجھے تم بس اتنا بتاؤ آخر تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو.
‘ ” میں جب شادی کی بات کرتی تھی تو تم ہر بار ٹال دیتے تھے
اور اب ..
‘ ” اس شخص کی بھانجی سے نکاح کر لیا جو میری ماں کا مجرم ہے ..
سمن غصّے سے اسکی طرف بڑھی تھی ..
‘ ” جب تم اتنا جان گئی ہو تو تمھیں یہ بھی پتہ چل چکا ہوگا کہ میں نے یہ نکاح صرف بدلے کے لئے کیا ہے …
اور دوسری بات آج تمھیں کیسے یاد آ گیا کہ وہ تمہاری ماں کا مجرم ہے ..
پہلے تو تمھیں کسی سے بھی مطلب نہیں تھا ..
‘ ” وجدان طنزیہ انداز میں بولا تو اسکا بات کا مطلب سمجھ کر سمن کا غصّہ مزید بڑھا تھا ..
ہاں مجھے کوئی مطلب نہیں ہے کہ ہاشم خان سے میرا کیا رشتہ ہے
اور نہ مجھے تمہارے بدلے سے کوئی مطلب ہے ..
مجھے صرف تم سے مطلب ہے ….صرف تم سے ..
وہ اسکا کالر پکڑ کر جنونی انداز میں بولی
اسکی یہ حرکت وجدان کو بلکل پسند نہیں آئی تھی ..
‘ ” تمھیں صرف مجھ سے مطلب ہے نہ تو میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہا ہوں میں تم سے شادی کروں گا ..
یہ میرا وعدہ ہے تم سے ..
وہ اسکے ہاتھ اپنے کالر سے ہٹاتا ہوا بولا اور واپس سے اپنی سیٹ پر جا بیٹھا تھا
اسکو اس وقت سمن پر غصّہ تو بہت آیا تھا مگر وہ ہمیشہ کی طرح ضبط کر گیا تھا …
‘ ” اسکی کبھی کبھی یقین ہی نہیں آتا تھا کہ اسکی کزن اتنی خودگرز بھی ہو سکتی ہے …
‘ “جبکہ اسکی بات پر سمن کچھ دیر تو کھڑی اسکو دیکھتی رہی
جب وہ کچھ نہ بولا تھا جس طرح سے آئی تھی اسی طرح سے واپس چلی بھی بھی گئی تھی .
‘ ” کیونکہ اب وجدان کے وعدہ کرنے پر اک سکون سا اسکے اندر اترا تھا اس لئے خاموشی سے وہاں سے چلی گئی تھی ..
💞💞
‘ ” سمن کے جانے کے بعد وہ بہت دیر تک اسکے بارے میں سوچتا رہا تھا ..
اسے سمن سے محبت نہیں تھی ..
اسے تو کبھی کسی سے محبت نہیں ہوئی تھی
سمن سے شادی وہ صرف اپنی آنی کی وجہ سے کر رہا تھا
‘ ” کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی اسکی آنی یا سمن سے اسکے باپ کے بارے میں سوالات کریں..
‘ ویسے بھی وہ انھیں سوالاتوں سے بچنے کے لئے اپنا شہر چھوڑ کر اس انجان شہر میں آ گئے تھے .
‘ ” صرف اک یہ ہی وجہ تھی سمن سے شادی کرنے کی وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی اسکی آنی پر انگلی اٹھایں …
‘ “اور دوسری طرف اسکو بار بار اپنی ماں کی باتیں یاد آ رہی تھی
کبھی وہ خود کو غلط تو کبھی صحیح سمجھ رہا تھا
” بہت دیر تک وہ آفس میں بیٹھا سوچتا رہا تھا پھر تھک ہار کر گھر کی طرف روانہ ہوا تھا .
‘ ” بنا کسی سے ملے وہ سیدھا اپنے روم میں آیا تھا مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی سامنے کا منظر دیکھ کر وہ اپنی جگہ کھڑا ہی رہ گیا تھا ..
‘ ” سامنے کے منظر نے اسکو اپنی جانب کھنچا تھا حرم نماز پڑھنے کے بعد ہاتھ پھیلائیں دعا مانگ رہی تھی ..
وجدان کتنی ہی دیر کھڑا اسکو دیکھتا رہا تھا
مگر اگلے ہی لمحے سب یاد آنے پر غصّے سے اسکی رگے تن گئی تھی
‘ تم میرے روم میں کیا کر رہی ہو تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی ..
وجدان اسکو نماز سے اٹھتا دیکھ غصّے میں اسکی طرف بڑھا تھا
اسکو یوں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر حرم خوفزدہ ہوئی تھی
اسکو تو سادیہ بیگم یہاں لیکر آئں تھی اگر اسکو پتہ ہوتا کہ یہ اسکا روم ہے تو وہ کبھی یہاں نہیں آتی ..
میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں .
یہاں کیوں آئی ہو
وجدان نے اسکا بازو سختی سے اپنی گرفت میں لیا تھا ..
اسکے اس طرح سے قریب آ جانے پر حرم کے ڈر میں مزید اضافہ ہوا تھا
بولو ….
اس نے اسکے بازو پر اپنی پکڑ سخت کی تھی .
‘ ” و…وہ …آ…آنٹی یہاں لے کر آئی تھی مجھے
حرم اسکی غصے سے لال ہوتی آنکھیں دیکھ کر بمشکل بول پائی تھی …
اسکی بات پر وجدان نے اک جھٹکے میں اسکا بازو آزاد کیا تھا ..
اسکو اپنی ماں یہ بلکل بھی امید نہیں تھی سب کچھ جاننے کے بعد بھی انہونے ایسا کیا تھا
مگر فلحال وہ ان سے بات نہیں کر سکتا تھا کیونکہ جانتا تھا وہ اس وقت سخت غصّے میں ہیں اور اسکی اک نہیں سنیں گی …
وہ حرم کی طرف دیکھتا ہوا سوچ رہا تھا جبکہ حرم یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اسکے ساتھ کیا کرنے والا ہے.
میری ماں نے تمھیں قبول کر لیا ہے اور وہ تمھیں یہاں لے آئی ہے اسکا یہ مطلب بلکل نہیں ہے کہ میں تمھیں قبول کر چکا ہوں ..
جتنی نفرت مجھے ہاشم خان سے ہے اتنی ہی نفرت تم سے بھی ہے .
اور یہ شادی میں نے بدلے کے لئے کی ہے
میرے بدلے کے بعد تم بھی یہاں نہیں رہو گی …
وہ کمرے سے جاتے جاتے مڑا اور سخت لہجے میں بولتا اک نظر اسکو دیکھتا باہر نکل گیا تھا ..
اسکے جانے کے بعد حرم گرنے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھی تھی …
💞💞
(جاری ہے )