Harjai By Iqra Sheikh Readelle502003 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
‘ ” اب اور کتنے گھنٹے اس کمرے میں قید رہنے کا ارادہ ہے تمہارا ..
صبح سے شام ہو گئی ہے …
‘ ” تمھیں خود کا تو کچھ خیال نہیں ہے کم از کم اپنے شوہر کا ہی کچھ خیال کر لو ..
‘” وجدان کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر بیٹھی حرم کی طرف دیکھ کر بہت نارمل انداز میں بولا تھا..
ایسے جیسی کچھ دیر پہلے ان دونوں کے درمیان کچھ ہوا ہی نہ ہو …
‘ ” جبکہ اسکی بات سن کر حرم نے اک نظر اسکی طرف دیکھ کر اپنا رخ دوسری طرف کر لیا تھا ..
اک تو وہ پہلے ہی یہاں سے نہ نکلنے کی وجہ سے غصّہ تھی ..
اوپر سے اسکی بات نے حرم کا غصّہ مزید بڑھا دیا تھا..
‘ ” یار میں تم سے کہہ رہا ہوں اٹھو اور چل کر کچھ بناؤ میرے لئے .
صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے میں نے ..
کیسی بیوی ہو تم جسے اپنے شوہر کی بھوک کا بلکل خیال نہیں ہے ..
وجدان اسکو بازو سے پکڑ کر کھڑا کرتا ہوا بولا تھا..
‘ ” آپ آخر کیوں کر رہے ہیں یہ سب
چاہتے کیا ہیں آپ مجھے بس اتنا بتا دیں ..
حرم اسکی گرفت سے اپنا بازو ایک جھٹکے میں آزاد
کراتی ہوئی بولی تھی ..
اگر کوئی و یا حالات ایسے نہ ہوتے تو وہ کتنا خوش ہوتی کہ اسکا شوہر اس سے کسی چیز کی خوائش کر رہا ہے …
لیکن انکے درمیان کچھ نارمل نہیں تھا کچھ ٹھیک نہیں تھا..
‘ ” میں چاہتا تو بہت کچھ ہوں تم سے لیکن فلحال جو کہہ رہا ہوں وہ کرو ..
وقت آنے پہ بھی بتا دوں گا میری اور کیا خوائشیں ہیں..
وہ اسکو اپنے قریب کرتا گہری نگاہوں سے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا تھا ..
اسکی آنکھوں میں تپیش سے حرم کا دل یکدم سے تیزی سے دھڑکا تھا ..
‘ ” نہیں مجھے آپ ابھی اور اسی وقت بتایں کہ کیوں کر رہے ہیں یہ سب کیوں آئے ہیں یہاں میرے پیچھے جبکہ آپکا تو راستہ بلکل صاف ہو چکا تھا ..
آپکی جو مرضی تھیں آپ وہ کرتے تو پھر کیوں بتایں مجھے ..
حرم اپنی حالات پر قابو کرتی ہوئی بولی تھی ..
کیونکہ اسکو لگ رہا تھا کہ اگر وہ اب بھی خاموش رہی تھی کبھی نہیں بول پائے گی۔۔
‘ میرا دل چاہنے لگا ہے تمھیں
محبت ہو گئی ہے مجھے تم سے ..
اس لئے کر رہا ہوں یہ سب اس لئے یہاں آیا ہوں ..
” اب خوش مل گیا تمھیں اپنا جواب .
چلو اب کچن میں ..
اس نے بہت ہی نارمل انداز میں اپنی محبت کا اظھار کیا تھا ..
” جبکہ وجدان کے منہ سے یہ الفاظ سن کر حرم بےیقینی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی .
وہ جو کہہ رہا تھا کیا وہ سچ تھا ..
کیا محبت کے اس سفر میں وہ اکیلی نہیں تھی ..
ایسے جیسے کتنے ہی سوال اسکے دل میں آئے تھے…
” نہیں یہ سب جھوٹ ہے ..
اس نے صرف بدلے کے لئے اس سے شادی کی تھی وہ تو سمن سے شادی کرنا چاہتا ہے ..
یہ ضرور کوئی نیا طریقہ ہے مجھے تکلیف دینے کا..
اسکے دماغ نے دل کی بات کو رد کیا تھا ..
‘ ” نہیں …
جھوٹ ہے یہ سب ..
نہ مجھے آپ پر بھروسہ ہے نہ آپکی کہی اک بھی بات پر ..
وہ اپنی بات کہہ کر غصّے میں پلٹی تھی مگر وجدان اسکی کلائی اپنی گرفت میں لے چکا تھا ..
حرم کی بات سے اسکو تکلیف تو ہوئی تھی لیکن وہ اپنی اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا تھا اسکو ..
وہ سمجھتا تھا کہ حرم کے لئے اس بات پر یقین کرنا مشکل تھا …
‘ تمھیں میری باتوں پر بھروسہ نہیں ہے نہ چلو کوئی بات نہیں ..
لیکن تم اسکی بات پہ تو بھروسہ کر سکتی ہو نہ ..
اس نے حرم کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر دل کی جگہ پہ رکھا تھا ..
‘ ” سنو انکو محسوس کرو یہ کیا کہہ رہی ہیں تم سے ..
وجدان نے اسکے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا تھا ..
اپنی ہتھیلی کے نیچے اسکی دھڑکنے محسوس کر کے حرم نے یک سے اسکی طرف دیکھا تھا ..
وجدان آنکھوں میں محبت لئے اسی کو دیکھ رہا تھا
کچھ لمحے دونوں یوں اک دوسرے کو دیکھتے ہوئے کہیں کھو سے گئے تھے ..
‘ ” اپنے ہاتھ کے نیچے اسکا دھڑکتا ہوا دل اور اوپر وجدان کے ہاتھ کا نرم گرم لمس محسوس کر کے اسکی خود کی دھڑکنے بےترتیب ہوئی تھی ..
‘ بولو حرم کیا تمھیں اب بھی یہ سب جھوٹ لگ رہا ہے..
کیا ابھی بھی میری بات پر بھروسہ نہیں ہے ..
وجدان کی آواز نے ان دونوں کے بیچ کی خاموشی کو توڑا تھا …
‘ ” اسکی آواز پر حرم جیسے اک سحر سے باہر نکلی تھی ..
اور جھٹکے میں اسکے ہاتھ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالا تھا ..
‘ ” جی ابھی بھی مجھے یقین نہیں ہے نہ آپ پر اور نہ آپکی باتوں پر …
وہ اس سے کچھ قدم دور ہوئی تھی ..
کوئی بات نہیں میرے ساتھ رہو گی تو میں تمھیں یقین بھی دلا دوں گا ..
وجدان کو برا تو لگا تھا مگر اسکی بےرخی نظرانداز کرتا ہوا بولا تھا ..
‘ ” آپ کتنی بھی کوشش کر لیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا ..
وہ اپنی بات کہہ کر کمرے میں رکی نہیں تھی تیزی سے وہاں سے نکلی تھی .
جانتی تھی کہ اگر وہ مزید کچھ دیر وہاں رکی تو یقینن اسکا بھروسہ کر لے گی ..
لیکن وہ ابھی اسکے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی
اتنی آسانی سے کیسے یقین کر لے اس پر …
اور اس بار وجدان کو اسکا اس طرح سے جانا برا نہیں لگا تھا کم از کم وہ کمرے سے تو باہر نکلی تھی فلحال تو اسکے لئے یہ ہی کافی تھا ..
💞💞
‘ ” تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ہو وجدان بلکل بھی نہیں .
میں حرم نہیں ہوں جو تم میرے ساتھ کچھ بھی کر لوگے .
اور میں خاموشی سے سب دیکھتی رہوں گی ..
‘ ” بلکل بھی نہیں …
اس نے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل غصّے میں بہت زور سے دیوار پہ دے مارا تھا ..
‘ جب بھی اسکا غصّہ کم نہیں ہوا تو وہ ادھر ادھر نظریں دوڑاتی ہوئی کوئی چیز تلاش کرنے لگی تھی..
جسے توڑ کر وہ اپنا غصہ کم کر سکے ..
جب سے وہ ولید کے پاس سے آئی تھی تب سے اسکا غصّے سے برا حال تھا
وہ بہت پہلے ہی وجدان کی آنکھوں میں حرم کے لئے محبت دیکھ چکی تھی ..
اور یہ سب دیکھ کر اسکے دل میں حرم کے لئے نفرت مزید بڑھ گئی تھی ..
جبکہ اسکو اس بات کا احساس تک نہ تھا کہ حرم کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اسکی ماں کی وجہ سے ہو رہا ہے ..
کبھی اس نے حرم کے لئے ہمدردی محسوس نہیں کی تھی ..
جبکہ وہ بہت معصوم اور بےقصور تھی ..
‘ اسکو شروع سے ہی حرم کی خوبصورتی دیکھ کر یہ لگتا تھا کہ وہ وجدان کو اس سے چھین لے گی
اور اب ایسا ہی ہوا تھا ..
اسکی سوچ سچ ثابت ہو گئی تھی
آج اسکا ڈر اسکے سامنے آ گیا تھا …
میں تمھیں کسی اور کا نہیں ہونے دوں گی وجدان کسی کا بھی نہیں ..
ابکہ بار گلاس ٹوٹنے کی باری آئی تھی …
‘ یہ کیا ہو رہا ہے سمن
کیوں اتنے غصے میں ہو تم ?
اپنے پیچھے سادیہ بیگم کی آواز سن کر وہ انکی طرف پلٹی تھی ..
انہونے اک نظر کمرے میں ڈال کر اسکی طرف دیکھا تھا .
وہ ابھی پریشے کے کمرے سے اپنے کمرے میں جا رہیں تھیں جب سمن کے کمرے سے انکو چیخنے اور کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی تو وہ فکرمندی سے اسکے روم میں آئی تھی ..
خالہ وہ چلا گیا ..
میں اسکو ایسا نہیں کرنے دوں گی ..
وہ انکی طرف دیکھ کر بولتی غصّے سے بڑھی تھی.
جبکہ سادیہ بیگم اسکی بات سمجھ نہیں پائی تھی
کیا کہہ رہی ہو بیٹا ..
کس کو ایسا نہیں کرنے دو گی ..
وہ پریشانی سے اسکی طرف دیکھ کر بولی .
‘ ” وجدان …
خالہ وہ چلا گیا مجھے چھوڑ کر اس حرم کے پاس
وہ مجھ سے نہیں اس حرم سے محبت کرتا ہے ..
دیکھا نہیں آپنے اس دن کس طرح دوڑتا ہوا یہاں سے گیا تھا ..
سمن کا غصّہ کسی بھی طرح کم نہیں ہو رہا تھا ..
جبکہ سمن کی بات سن کر سادیہ بیگم اپنی جگہ خوش ہوئی تھی ..
جیسا انہونے سوچا تھا ویسا ہی ہوا تھا ..
وجدان حرم سے محبت کرتا ہے .
حرم کے پاس جاکر اس نے اپنا فیصلہ لے لیا ہے …
سمن بیٹا خاموش ہو جاؤ آؤ بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں ..
سادیہ بیگم کو ڈر ہوا تھا کہ کہیں اسکی آواز سن کر پریشے یہاں نہ آ جائے …
” نہیں ہونا مجھے خاموش ..
اور نہ میں ایسا ہونے دوں گی ..
وجدان کو حرم کو چھوڑنا ہی ہوگا …
اس نے بری طرح سے سادیہ بیگم کے ہاتھ جھٹکے تھے ….
‘ ” کیا نہیں ہونے دو گی تم ..
کس کو چھوڑنے کی بات کر رہی ہو تم ?
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی پریشے کی آواز پر دونوں نے اک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا تھا …
‘ ” پریشے کو دروازے میں کھڑا دیکھ کر دونوں اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی …
💞💞
‘ ” سمن پلیز اک بار میری بات سن لو میں تمھیں سب سمجھا دوں گا ..
بس تم خود کو کچھ کرنے کی کوشش مت کرنا پلیز..
وہ پریشانی میں فون پر موجود سمن سے بولا تھا وہ بات ہی ایسی کر رہی تھی کہ اسکا پریشان ہونا لازمی تھا ..
اتنی دور سے بس وہ فون پر اسکو اپنی بات سمجھا سکتا تھا …
دوسری طرف اسکو آنی کی بھی فکر ہو رہی تھی کیونکہ ابھی اسکی اپنی مام سے بات ہوئی تو ان سے اسکو ساری خبر مل چکی تھی …
وہ اس پر غصّہ بھی ہوئی تھی کہ اس نے انکو کیوں نہیں بتایا کہ وہ حرم کے پاس جا رہا ہے ..
بس خاموشی سے انکی ڈانٹ سنتا رہا تھا …
سمن تم سن رہی ہو نہ میں کیا کہہ رہا ہوں
اگر تمھیں مجھ سے ذرا بھی محبت ہے تو تم میری بات ضرور سنو گی …
سمن کی خاموشی پہ وہ پھر سے بولا تھا ..
‘ مگر کمرے میں داخل ہوتی حرم کے قدم اپنی جگہ رک گئے تھے اسکے الفاظ سن کر ..
یہ کیا کہہ رہا تھا وہ .
سمن کو اپنی محبت کا واسطہ دے رہا تھا ..
اور کل وہ کیا تھا جو بھی سب اس نے کہا تھا
مطلب وہ سب جھوٹ تھا ناٹک تھا ..
اور اک وہ تھی جو اسکی اک اک بات کو سچ مان چکی تھی …
اسکا کہا ہر اک لفظ اسکو ابھی بھی یاد تھا …
وہ اسکی محبت قبول کر چکی تھی …
وہ اسکی پشت پر کھڑی نہ جانے کیا کیا سوچ رہی تھی جبکہ وہ اصل بات سے بلکل انجان تھی کہ وہ کیوں یہ سب کہہ رہا تھا …
‘” سمن تم میری بات سن رہی ہو نہ ..
میں واپس آ جاؤں پھر سب تمھیں سمجھا دوں گا پر پلیز تم خود کو کچھ بھی کرنے کی کوشش مت کرنا…
ہیلو سمن ..سمن ..
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا وہ فون کٹ کر چکی تھی …
واہ مسٹر وجدان شاہ ماننا پڑے گا آپکو ..
کیا کمال کی ایکٹنگ کرتے ہیں آپ ..
حرم کی آواز سن کر وہ یکدم سے پلٹا تھا اور ناسمجھی سی اسکی طرف دیکھنے لگا ..
اک طرف تو آپ مجھ سے اپنی محبت کا اظھار کرتے ہیں
اور دوسری طرف سمن کو اپنی محبت کا واسطہ دے رہے ہیں..
کون سا چہرہ اصلی ہے آپکا ..یہ یا کل والا ..
حرم آنکھوں میں شکوہ لئے اسکو دیکھ رہی تھی جبکہ اسکی بات سمجھ کر وجدان تیزی سے اسکی طرف بڑھا تھا ..
حرم جیسا تم سوچ رہی ہو ویسے بلکل بھی نہیں ہے
تم اک بار میری پوری بات سن لو تم سب سمجھ جاؤ گی .
وجدان اسکی غلطفہمی دور کرنے لئے جلدی سے بولا تھا یقینن حرم نے اسکی ادھوری بات سنی ہے جس وجہ سے وہ ایسا بول رہی تھی ..
آپ نے صحیح کہا میں غلط سوچنے لگی تھی کہ آپکی کہی ہر بات سچ ہے پر اچھا ہوا وقت پر میری یہ غلطفہمی بھی دور ہو گئی ..ورنہ ..
وہ اپنی کہہ کر رکی تھی ..
حرم ایسا کچھ نہیں ہے میں سمن کو پتہ چل چکا ہے کہ میں یہاں ہوں بس میں اسکو سمجھا رہا تھا کہ وہ کوئی غلط کام نہ کرے …
اس نے بولتے ہوئے حرم کو دونوں کندھوں سے تھامنا چاہا تھا .
ہاتھ مت لگاؤ مجھے آپ ..
نفرت محسوس ہو رہی ہے مجھے آپسے ..
وہ اسکو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر چلائی تھی .
اسکی اس حرکت پہ وجدان کے ماتھے پر بل پڑے تھے .
حرم جب میں کہہ رہا ہوں اک بار میری بات سن لو تو سمجھ کیوں نہیں آتا تمھیں .
اسکا لہجہ اب سخت ہوا تھا .
کیوں سنو میں آپکی ہر بار آپکی ہی سنی ہے آپکی ہی مرضی چلی ہے
لیکن اب نہیں ..
ہر بار آپنے درر دیا میں خاموش رہی ..
آپ ہر بار اپنی غلطی پر شرمندہ ہونے کے بجاۓ روب ڈالتے ہیں کیا آپکو اپنی غلطیوں کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا ..
اس بار اسکی آواز کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی نم ہوئی تھی.
میں مانتا ہوں حرم کے میں غلط تھا تمہارے ساتھ زیادتی کی میں نے .
کبھی اپنی غلطی تمہارے سامنے تسلیم نہیں کی اور یہ ہی میری سب سے بڑی غلطی رہی ہے .
لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم میری محبت پر شق کرو
مجھے تم سے محبت ہے شدید محبت کرتا ہوں میں تم سے
مگر میری محبت پر یوں الزام مت لگاؤ ..
ابھی میں سمن کو صرف سمجھا رہا تھا کہ وہ غصّے میں آکر خود کو نقصان نہ پہنچا لے ..
اور تم خود ہی سوچوں اگر مجھے سمن سے شادی کرنی ہوتی تو کون روک سکتا تھا مجھے ..
کوئی بھی نہیں ..
لیکن میں اس وقت یہاں تمہارے پاس موجود ہوں ..اتنا کافی نہیں ہے تمہارے لئے ..
وہ بولتا جا رہا تھا اور حرم بس خاموشی سے اسکو سن رہی تھی اب اک لفظ بھی نہیں تھا اسکے پاس کہنے کے لئے ..
وہ اسکی آنکھوں میں سچائی دیکھ سکتی تھی ..
‘ “لیکن میں تمھیں بھی غلط نہیں کہوں گا آخر آج تک میں نے کچھ اچھا بھی تو نہیں کیا تمہارے ساتھ ..
‘ ” اور تم یہی چاہتی تھی نہ کہ میں یہاں سے چلا جاؤ تو ٹھیک ہے میں ابھی اور اسی وقت یہاں سے جا رہا ہوں …
وہ اک پل کے لئے رکا تھا ..
میں آیا تو تھا تمھیں واپس لے جانے کے لیے لیکن میں اب کوئی زور زبردستی نہیں کروں گا ..
لیکن اتنا یاد رکھنا میری محبت تمہارے لئے بلکل سچی ہے ..
وہ اک نظر خاموش کھڑی حرم کو دیکھتا وہاں رکا نہیں تھا جبکہ اسکے جانے کے بعد حرم کتنے ہی دیر کھڑی اس جگہ کو دیکھتی رہی تھی جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ کھڑا تھا …
💞💞
یہ سب جو بھی کچھ ہو رہا ہے اس سب کی میں زمیدار ہوں ہاشم صرف میں ..
اگر میری ایسی حالت نہیں ہو رہی ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا ..
پریشے روتے ہوئے ہاشم صاحب کی طرف دیکھ کر بولی تھی .
جب سے انکو سے ساری حقیقت معلوم ہوئی تھی تب سے بس انکی یہی حالت ہو رہی تھی ..
انکو یہ بات کسی بھی پل چین نہی لینے دے رہی تھی کہ صرف انکا بدلہ لینے کے لئے وجدان کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے ..
بےقصور ہونے کے باوجود کتنا ظلم ہوا تھا حرم پر اسکو ہاشم خان کی بھانجی ہونے کی سزا ملی تھی..
نہیں پریشے تم اداس مت ہو
حرم کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس میں تمہارا قصور نہیں ہے
بلکہ یہ سب تو میری وجہ سے ہوا ہے
میں ذمیدار ہوں حرم کے ہر دکھ کا ..
یہ سب سوچ کر تم خود کو تکلیف مت دو .
ہاشم صاحب نے بہت نرمی سے پریشے کے آنسوں صاف کئے تھے ..
آج کتنا خوشی خوشی وہ یہاں آ رہے تھے
انکی پریشے نے انہیں معاف کر دیا تھا
بلکہ انکو فون کرکے انکے ساتھ گھر جانے کی خوائش بھی کی تھی ..
اب وہ خوشی خوشی اپنی زندگی ہاشم کے ساتھ گزارنا چاہتی تھیں .
ابھی وہ صحیح سے خوش بھی نہیں ہوئے تھے جب سادیہ بیگم نے انکو بتایا کہ پریشے وجدان اور حرم کے بارے میں سب جان چکی ہیں ..
ایسا نہیں تھا کہ وہ انہیں بتانا نہیں چاہتے تھے
لیکن پریشے کو یوں اس طرح سے سب معلوم ہوگا انہونے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ..
‘ ” نہیں ہاشم میں ہی وجہ ہوں اس سب کی نہ میری ایسی حالت ہوتی اور نہ وجدان بدلہ لینے کے بارے میں سوچتا ..
کاش میں نے پہلے ہی سب کچھ بتا دیا ہوتا کہ جیسا وہ سوچتے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے تو آج میں اس وقت اتنی تکلیف میں نہ ہوتی …
وہ ہاشم خان کے دونوں ہاتھوں کو تھامتی ہوئی بولی تھیں ..
‘ ” پریشے پلیز چپ ہو جاؤ تمھیں اس طرح سے تکلیف میں دیکھ کر مجھے بھی تکلیف ہو رہی ہے
میں مانتا ہوں کہ جو ہو گیا ہے ہم اسے بدل نہیں سکتے ہیں …
لیکن سب کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں نہ ..
یہ سب ہماری ہی وجہ سے ہوا ہے تو ٹھیک بھی ہمیں ہی کرنا ہوگا ..
ہاشم صاحب اپنی باتوں سے انکو سمجھا رہے تھے .
‘ ” انکی بات پر پریشے یکدم سے چپ ہوئی اور خاموشی سے انکی طرف دیکھنے لگی تھی .
‘ “وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہے تھے سب کچھ انکی وجہ سے ہوا ہے تو انہیں ہی ٹھیک کرنا ہوگا …
‘ ” آپ صحیح کہہ رہے ہیں ہاشم ..
‘ ” میری وجہ سے حرم بہت درد برداشت کر چکی ہے لیکن اب اور نہیں ..
میں اب سمن کو اسکی تکلیف کی وجہ نہیں بننے دوں گی ..
پریشے کچھ سوچتے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی..
کیا کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہو تم پریشے ..
انکی بات پر ہاشم صاحب کچھ پریشانی سے انکی طرف دیکھ کر بولے .
اگر تم سمن سے بات کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہو تو بھول جاؤ میں اس سے بات کر چکا ہوں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہے ..
انکو کچھ دن پہلے سمن سے کی ہوئی باتیں یاد آئی تھی ..
نہیں ہاشم سمن کو اب سمجھنا ہوگا ..
جیسا وہ چاہ رہی ہے ویسے نہیں ہوگا ..
وجدان کو جسکی اپنی زندگی میں ضرورت ہے وہ اس وقت اسکے پاس موجود ہے
جانتی ہوں یہ سب سمن سکو سمجھانا مشکل ہوگلیکن اسے سمجھنا ہی ہوگا …
وہ پرسوچ انداز میں بولی تو ہاشم صاحب انکی طرف دیکھ کر رح گئے تھے ….
💞💞💞
===(جاری ہے )===
