Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

💞💞
‘ ” نہیں پلز ایسا مت کرو میرے ساتھ
پلز میں مر جاؤں گی ..
‘ ” پلز …
‘ ” وہ بس بار بار چیخے جا رہی تھی
کبھی تو زور زور سے اپنے بال نوچنے لگتی تو کبھی اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگ جاتی تھی ..
‘ ” سادیہ بیگم کب سے اسکو سمبھالنے کی کوشش کر رہیں تھی مگر وہ انکے بس میں نہیں آ رہی تھی ..
‘ ” ملازم الگ پریشان سورت لئے کھڑے اپنی مالکن کو تڑپتا ہوا دیکھ رہے تھے ..
‘ ” وہ سب بےبس تھے
کیونکہ جب بھی انکی ایسی حالت ہوتی تھی وہ کسی کے بس میں نہیں آتی تھیں ..
‘ ” نہیں ‘
مت کرو ایسا
میں مر جاؤں گی …
‘ ” وہ بیڈ پر بیٹھی بیٹھی چلا رہیں تھی جبکہ اسکی ایسی حالت دیکھ ہمیشہ کی طرح سادیہ بیگم اپنے آنسو ضبط کیے اسکو سمبھالنے کی کوشش کر رہیں تھی ..
‘ ” تم لوگ دوبارہ فون کرو اور معلوم کرو کہ وجدان کہاں ہے اور اب تک کیوں نہیں آیا ہے …
‘ ” سادیہ بیگم نے پاس کھڑی ملاذمہ کو ہدایت دی تھی …
‘ ” بیگم صاحبہ ہم نے فون کیا تھا شاہ جی کی سکیٹری نے بولا ہے کہ وہ بس گھر آنے ہی والے ہونگے ..
‘ ” ملاذمہ سر نیچے کیے انکو بتا رہی تھی جب یکدم سے روم کا دروازہ کھلا تھا اور وجدان تیزی سے اندر داخل ہوا .
‘ ” آنی …آنی میں آ گیا ہوں .
کوئی کچھ نہیں کرے گا آپکو .
‘ ” وہ بولتا ہوا اپنی ماں کے ہاتھوں میں مچلتی اپنی آنی کے پاس بیٹھا تھا .
‘ ” نہیں ..چھوڑو مجھے میں مر جاؤں گی ..
وہ ہر بار کی طرح اپنے الفاظ دوہرا رہیں تھیں
‘ ” ویسے تو وہ خاموش ہی رہتی تھیں مگر جب اس طرح بولنا شروع کرتی تو کسی کے بس میں نہیں آتی تھیں …
‘ ” صرف ایک وہ ہی تھا جو انکو خاموش کر سکتا تھا اپنی باتوں سے …
‘ ” ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا وہ نرمی سے انکے بالوں کو سہلا رہا تھا
‘ ” اسکی موجودگی اور اسکو اپنے پاس محسوس کر کے وہ خاموش ہوتی چلی گئی تھیں …
‘ ” اس نے سائیڈ ٹیبل سے انکی دوائی اٹھا کر انکو کھلائی اور بہت ہی آہستہ سے انکو بیڈ پر لیٹا کر انکے پاس سے اٹھا تھا …
‘ ” اس نے پاس کھڑی اپنی ماں کو دیکھا جو آنکھوں میں آنسوں لئے اپنی بہن کو دیکھ رہیں تھی …
اپنی ماں اور آنی کی یہ حالت دیکھ کر اسکی اس شخص سے جو نفرت تھی اس میں ہمیشہ کی طرح اضافہ ہوا تھا …
جس نے اسکی آنی کی یہ حالت کی تھی ..
‘ ” مام یہ سمن کہاں ہے ..
اسکی غیر موجودگی کو محسوس کر کے اپنی سے پوچھا تھا …
‘ ” بیٹا وہ اپنی دوست کی شادی میں گئی ہوئی ہے شاید اب تک واپس نہیں لوٹی ..
انہونے اسکی بات کا جواب آہستہ سے دیا تھا مگر انکے جواب پر وہ اپنا غصّہ ضبط کرکے رہ گیا تھا
💞💞
” ‘وہ ابھی واشروم سے باہر نکلی ہی تھی کہ ولید کو اپنے بیڈ پر لیٹا دیکھ کر اسکے چلتے قدم یکدم سے رکے تھے .
‘ ” تم اس وقت یہاں?
کوئی کام تھا تمھیں ?
‘ ” وہ اپنے دوپٹے کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی تھی .
‘ ” حرم کو ولید کا صبح صبح اپنے روم میں یوں بنا اجازت کے آنا اچھا نہیں لگا تھا ..
‘ ” کہیں تم اسکو تو تلاش نہیں کر رہی ?
‘ ” ولید اپنی کمر کے نیچے دبا ہوا اسکا دوپٹہ نکال کر لیٹے لیٹے حرم کی طرف کرتے ہوئے بولا تھا .
‘ ” جبکہ اسکے ہونٹھوں کے ساتھ ساتھ اسکی آنکھیں بھی مسکرا رہیں تھی.
‘ ” اسکے ہاتھ میں اپنا دوپٹہ دیکھ کر حرم تیزی سے اسکی طرف بڑھی تھی
مگر اسکا ارادہ جان کر ولید نے اتنی ہی تیزی سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا تھا ..
‘ ” حرم جو تیزی سے اسکی طرف آ رہی تھی ولید کے ایسا کرنے سے وہ اسکے اوپر گرتے گرتے بچی تھی ..
‘ ” حرم کو اسکی یہ حرکت بلکل پسند نہیں آئی تھی
‘ ” کیا کام ہے تمھیں جلدی بتاؤ .
حرم خود پر ضبط کرتی ہوئی بولی تھی
‘ ” جب سے وہ واپس آئی تھی اسکو ولید کو حرکتیں بلکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی ..
‘ ” وہ یہ بات اچھے سے جنتی تھی کہ وہ اسکا کزن ہونے کے ساتھ ساتھ اسکا ہونے والا شوہر بھی ہے مگر بہت سی باتیں ایسی ہو رہی تھی جو اسکو برداشت کرنی پر رہی تھی …
‘ ” کل تم نے مجھے گفٹ نہیں دیا تھا اس لئے میں اب تم سے اپنا گفٹ لینے آیا ہوں ..
‘ ” وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے قریب آتے ہوئے بولا تھا…
‘ ” پر میں نے تو کل ہی دے دیا تھا تمہارا گفٹ اب کیا چاہئے تمھیں …
‘ ” اسکے قریب آنے پر حرم اس سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی
‘ اس وقت اسکو ولید کی آنکھوں اور لہجہ کچھ عجیب سا لگ رہا تھا ..
‘ ” پر مجھے تو کچھ اور ہی گفٹ چاہئے تھا
ولید نے کہتے کے ساتھ ہی حرم کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو اپنے مزید قریب کیا تھا .
‘ ” ولید یہ کیا کر رہے ہو تم چھوڑو مجھے
‘ اسکی اس حرکت پر حرم پورے جان سے کانپ اٹھی تھی .
‘ ” جبکہ وہ آرام سے کھڑا اسکی حالت سے مزا لے رہا تھا “
‘ ” کم اون یار حرم تم تو ایسے شرما رہی ہو جیسے میں کوئی غیر ہوں ..
‘ ” تمہارا منگیتر ہوں یار اور کچھ دن میں ہمارے شادی ہونے والی ہے تو پھر یہ کیسی شرم ?
” ‘ وہ اسکو بالوں کو چھیڑتا ہوا بےباک انداز میں بولا تھا .
‘ ” اسکے چھونے پر حرم نے پوری جان لگا کر خود کو اسکی پکڑ سے آزاد کرایا تھا ..
‘ ” شادی ہونے والی ہے ابھی ہوئی نہیں ہے ولید
اور تم نے کیا مجھے ایسی لڑکی سمجھا ہے جو میں یوں اس طرح ..
‘ ” آگے اس سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا
کچھ غصّے کی وجہ سے اور کچھ اس وقت اسکی آواز بھی کانپ رہی تھی …
‘ ” باہر ملک میں رہنے کے بعد بھی تم یہ کیسی باتیں کر رہی ہو
اور میں کچھ غلط تو نہیں کر رہا ہوں جو تم یوں اس طرح سے ریعکٹ کر رہی ہو .
‘ ” وہ لوگ جس سوسائٹی میں رہتے ہیں وہاں یہ سب باتیں عام تھی مگر وہ حرم تھی جو باہر ملک میں رہنے کے بعد بھی اس نے کبھی اپنی حد پار نہیں کی تھی
‘ ” نکاح سے پہلے یہ سب کچھ غلط ہی ہوتا ہے
اور میں ان لڑکیوں کی طرح بلکل نہیں ہوں جس طرح کی تم نے مجھے سوچا ہے ..

‘ ” اس بار حرم کا لہجہ تھوڑا سخت ہوا تھا جسکو ولید نے بہت اچھے سے محسوس کیا تھا ..
‘ ” حرم اک نظر اسکو دیکھتی بیڈ پر پڑا اپنا دوپٹہ لیکر روم سے نکل گئی تھی ..
‘ ” ولید کا تو کل سے ہی موڈ خراب ہوا وہ تھا اب اسکی باتوں نے مزید اسکا موڈ خراب کیا تھا ..
‘ ” ایک بار نکاح ہو جانے دو حرم خان پھر دیکھنا میں کیسے تمہاری یہ ساری اکڑ نکالتا ہوں ..
‘ ” حرم کے روم سے جانے کے بعد وہ غصّہ میں خود سے بولا تھا ..
💞💞
‘ ” دانی اگر تم بیزی نہیں ہو تو کیا ہم بات کر سکتے ہیں ?
‘ ” وہ اپنے آفس میں بیٹھا کوئی فائل ریڈ کر رہا تھا جب سمن بنا ناک کیے اسکے روم میں داخل ہوئی تھی
‘ ” جبکہ اسکی اس حرکت سے ہمیشہ کی طرح وجدان کے ماتھے پر بل پڑے تھے
‘ ” مگر وہ ہر بار کی طرح انجان بنتی سیدھی اسکے سامنے والی چیئر پر آکر بیٹھ گئی تھی ..
‘ ” سمن میں نے تم سے کتنی بار کہا ہے کہ تم ناک کرکے آیا کرو مگر مجال ہے کہ تمھیں کبھی میری کوئی بات سمجھ آئی ہو ..
‘ ” وہ فائل کو سائیڈ پر رکھتا آج تھوڑا سخت لہجے میں بولا تھا
وجہ کل رات اسکی گھر پر غیر موجودگی تھی ..
‘ ” جب تمھیں پتہ ہے کہ میں تمہاری کوئی بات نہیں مانتی تو کیوں بار بار بولتے ہو مجھے
‘ وہ اسکی ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا اسکی طرف جھکی تھی
آنکھوں میں شرارت صاف نظر آ رہی تھی ..
‘ ” سمن کبھی تو سیریس ہو جایا کرو کچھ پتہ بھی ہے کل آنی کی پھر سے طبیعت خراب ہوئی تھی
اور تمھیں تو اس بات کی خبر تک نہیں تھی شاید .
‘ ” اسکو اس وقت اپنی سامنے بیٹھی اس بےحس لڑکی پر بہت غصّہ آ رہا تھا …
‘ ” اس میں کون سی نئی بات ہے انکی طبیعت تو ہر دوسرے دن خراب رہتی ہے …
اس سے اچھا تو وہ مجھے خاموش ہی اچھی لگتی ہیں .
‘ ” جب چپ رہتی ہیں اتنا شور تو نہیں کرتی …
وہ تلخ لہجے میں بولی تھی ..
‘ ” اسکی بات پر وجدان بس اسکو دیکھتا رہ گیا تھا ..
‘ ” سمن وہ تمہاری ماں ہے کچھ تو اچھا بول لیا کرو انکے بارے میں ..
اسکی نظروں کے سامنے یکدم سے اپنی آنی کا چہرہ آیا تھا ..
‘ ” کیا اچھا بولو میں انکے بارے
مجھے اتنے سارے سوالوں کے بیچ اکیلا چھوڑ کر خود خاموش ہو کر بیٹھ گئی ہیں …
‘ ” اسکے انداز میں اپنی ماں کے لئے ذرا بھی ہمدردی یا محبت بلکل نہیں تھی ..
‘ ” کیسے سوال سمن کوئی تم سے سوال نہیں کرے گا میں ہوں نہ …
اس بار وجدان تھوڑا نرم لہجے میں بولا تھا
‘ ” تو اس لئے تو پوچھتی رہتی ہوں میں کب کروگے تم مجھسے شادی ..
اس نے ہر بار کی طرح اپنا سوال دوہرایا تھا ..
” ‘ ابھی نہیں سمن جب صحیح وقت آۓ گا میں خود تم سے شادی کروں گا مگر فلحال نہیں ..
‘ ” اس بھی اپنا پرانا جواب دیا تھا
وہ کیسے کر لیتا شادی اسے پہلے اپنی آنی کا بدلہ لینا تھا
انکے گناہگار کو سزا دینی تھی..
انکو اس حالت میں جس نے پہنچایا تھا انکو برباد کرنا تھا …
‘ ” اور وہ وقت کب آۓ گا
اس سے پہلے کہ وہ اور کچھ کہتی وجدان کی ٹیبل پر رکھا فون بجا تھا ..
“‘ ‘ سر کوئی سر احمد آپسے ملنا چاہتے ہیں
اسکی سکیٹری اسکے کال پک کرتے ہی بولی تھی ..
‘ ” ٹھیک ہیں تم انکو روکو میں ابھی آ رہا ہوں ..
اسنے اپنی سکیٹری کو جلدی سے جواب دیا تھا …
‘ ” کیا ہوا کہاں جا رہے ہو اتنی جلدی میں .
اسکی جلد بازی دیکھ کر سمن بولے بنا نہ رہ سکی تھی ..
میں ابھی آتا ہوں تھوڑی دیر میں
وہ اسکو جواب دیتا جلدی سے اپنے روم سے نکلا تھا آج شاید احمد کوئی اچھی خبر ہی سنا دے اسکو اسکے دل نے یکدم سے یہ کہا تھا “
‘ “💞💞
” ‘ کبھی کبھی انسان کتنا بےبس اور مجبور ہو جاتا ہے .
کبھی قسمت کے ہاتھوں تو کبھی حالات اور وقت کی وجہ سے ..
” ‘ وہ بھی اس وقت بہت بےبس اور مجبور تھی قسمت اور حالات دونوں کی ہی وجہ سے …
‘ ” وہ چاہ کر بھی اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی کچھ بھی نہیں …
” آج وہ خود کو بہت تنہا محسوس کڑ رہی تھی
اتنا تنہا تو اس نے خود کو اس وقت بھی محسوس نہیں کیا تھا جب اسکے ماں باپ اسکو چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے …
‘ ” یا شاید اس وقت اس میں اتنی سمجھ نہیں تھی کہ وہ یہ سب محسوس کر سکتی .
” ‘ اسکی زندگی بچپن سے آج تک دوسروں کی ہی مرضی سے چلی ہے ..
” کبھی بھی اس نے کچھ اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا ..
” ‘ مگر کبھی اسکو اس بات کا بڑا نہیں لگا کیونکہ صرف وہ لوگ ہی تو اسکے اپنے تھے
اور انکا پورا حق تھا اس پر ..
” ویسے بھی اسکو اب یں سب باتوں کی عادت ھو چکی تھی ..
” ‘ حرم بیٹا آپ یہاں اکیلی بیٹھی ہوئی کیا کار رہی ہو?
” ‘ ہاشم صاحب کی آواز پر وہ یکدم سے چوکی تھی.
” ماموں جان آپ …
آپ کب آئں ؟
” وہ ہاشم صاحب کو دیکھ کر یکدم سے خوش ہوئی تھی .
اس گھر میں صرف وہ ہی تھے جنکے سب سے زیادہ قریب تھی .
‘ ” میں تو بہت دیر سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہا ہوں مگر ہماری بیٹی کو تو ہماری موجودگی کا ذرا احساس تک نہیں ہوا ..
‘ ” وہ مسکراتے ہوئے بولے اور اسکے برابر والی چیئر پر آ بیٹھے تھے ..
‘ ” نہیں ماموں جان ایسی بات نہیں ہے بس یہاں اچھا لگ رہا تھا اس لئے بس ..
سچ میں ماموں جان جب آپ چلے جاتے ہیں نہ تو میں بلکل بور ہو جاتی ہوں آپ مت جایا کریں نہ ..
‘ ” وہ انکی طرف دیکھ کر اداسی سے بولی تھی ..
‘ ” کیوں بیٹا بور کیوں ہو جاتی ہو آپ یہاں صفدر ماموں ہیں ماریہ مامی اور پھر ولید بھی تو ہے کیا وہ خیال نہیں رکھتا تمہارا …
‘ ” وہ اسکی طرف محبت سے دیکھ کڑ بول رہے تھے انکو اپنی بھانجی بہت عزیز تھی .
‘ ” انکی بات پر حرم خاموشی سے انکی طرف دیکھنے لگی تھی
اب وہ انکو کیا بتاتی
آج وہ خاموش تھی تو بس انکی وجہ سے کیونکہ اس نے صرف انکے کہنے پر ہی ولید سے شادی کے لئے ہاں بولی تھی ..
‘ ” جی سب بہت خیال رکھتے ہیں بس میں آپکے بغیر بور ہو جاتی ہوں ..
وہ لاڈ سے بولی تھی …
بس بیٹا بہت ضروری میٹنگ تھی اس لئے جانا پڑا تھا ورنہ میں خود اپنی بیٹی کو اکیلا نہ چھوڑوں اتنے سالوں بعد تو تم واپس آئی ہو ..
‘ ” وہ بہت ہی محبت سے اسکو دیکھ رہے تھے انکی بات پر حرم کھل کر مسکرا دی تھی اسکو مسکراتا دیکھ انکو اندر تک سکون ملا تھا “
💞💞
“”””””””(جاری ہے )””””””