Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

‘ یہ کیا کر رہی ہو تم ?
وہ لاؤنج میں موجود صوفہ پہ اپنا بستر کرتی حرم کی پشت کو دیکھ کر بولا تھا .
جبکہ اسکی آواز اپنے پیچھے سن کر بھی وہ ان سنی کرتی اپنے کام میں مصروف رہی تھی ..
‘ جب سے وہ یہاں آیا تھا تب سے ہر بات پر اسکو حقم چلا رہا تھا .
پہلے تو کھانے کی فرمائش اسکے بعد چاۓ کی ..
‘ پچھلے تین گھنٹوں سے وہ وہ اسکو کوئی نہ کام بتا کر اسکو پریشان کر رہا تھا ..
اور وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسکے کام کر رہی تھی ..
‘ اس نے بھی سوچ لیا تھا کہ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اسکو یہاں سے نکلنا تھا ..
اس تو وہ پوری طرح سے تھک چکی تھی اور بس وہ سونا چاہتی تھی …
‘ لیکن وہ پھر سے اسکے سر پہ آں کھڑا ہوا تھا …
‘ ” میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے کیا کر رہی ہو ..
وجدان نے اسکا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا …
‘ ” سونے جا رہی ہوں کیونکہ اس وقت مجھے بہت تیز نیند آ رہی ہے
‘ آپکو جو بھی کام ہے خود کر لیں ..
ویسے بھی میں آج بہت تھک چکی ہوں …
اس نے بےزاری سے کہتے ہوئے اپنا بازو آزاد کرایا اور صوفہ پہ بیٹھی تھی ..
‘ اگر نیند آ رہی ہے تو کمرے میں جاکر سو جاؤ یہاں کیوں سو رہی ہو …
چلو اٹھو کمرے میں چل کر آرام سے سونا ..
‘ ‘ وہ نرم لہجے میں بولتا اسکو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا …
جبکہ اسکے حقم پر حرم پوری طرح سلگ گئی تھی .
‘ نہیں جانا مجھے کمرے میں ..
میں یہیں پر ٹھیک ہوں آپکو میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ..
‘ وہ اس بار صوفہ پر لیٹتے ہوئے بولی اور اپنے اوپر اچھی طرح سے بلینکٹ لیا تھا ..
حرم کی اس حرکت پر اسکو غصّہ تو بہت آیا تھا مگر ضبط کر گیا تھا …
‘ ” جو بھی تھا وہ اپنی جگہ بلکل ٹھیک تھی اسکا بےزار ہونا بنتا تھا ..
لیکن وہ بھی وجدان شاہ تھا کہاں اسکی سننے والا تھا..
میں نے کہا نہ اٹھو چل کر کمرے میں آرام سے بیڈ پر لیٹو .
یہاں تمھیں آرام سے نیند نہیں آئے گی۔
وہ اسکے منہ پر سے بلینکٹ ہٹاتا ہوا بولا مگر حرم ایسے ہی آنکھیں بند کئے لیٹی رہی تھی جیسے وہ کسی اور سے بات کر رہا ہو ..
‘ ایسے نہیں تو پھر ویسے سہی …
وہ اسکی بند آنکھوں کو دیکھتا ہوا بولا اور جھک کر لیٹی ہوئی حرم کو اپنی باہوں میں اٹھایا تھا ..
حرم جو آنکھیں بند کئے ہوئے آرام سے لیٹی تھی خود کو وجدان کی باہوں میں محسوس کر کے اس نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی تھی ..
یہ کیا کر رہے ہیں آپ
نیچے اتاریں مجھے ..
وہ اسکے سینے پر ہاتھ مارتی ہوئی چلائی تھی
مگر اس پر کہاں فرک پڑنے والا تھا ..
وہ یوں ہی آرام سے اسکو اپنی باہوں میں اٹھائے کمرے کی طرف بڑھا تھا ..
میں نے کہا نہ کہ مجھے نہیں سونا یہاں چھوڑے مجھے …
وہ بولے جا رہی تھی مگر وجدان اسکی بات ان سنی کرتا اسکو بیڈ پر لیٹا چکا تھا ..
جب میں کہہ رہا ہوں کہ تم یہاں لیٹ جاؤ تو اک بات سمجھ میں نہیں آتی تمھیں ..
وہ اسکے اوپر جھکتا ہوا بولا ..
وجدان کو خود کے اتنے قریب دیکھ کر حرم کو بولتی یکدم سے بند ہوئی تھی ..
‘ کچھ دیر وہ ایسے ہی اسکو خاموشی سے دیکھتا رہا پھر اٹھ کر اسکے قریب ہی آں لیٹا تھا ..
اسکے اپنے قریب لیٹنے پر حرم نے یکدم سے اٹھنا چاہا مگر وہ اسکا ارادہ بھانپ کر اسکی کلائی تھام چکا تھا . ..
اگر تم چاہتی ہو کہ میں کوئی اور زبردستی نہ کروں تو آرام سے لیٹ جاؤ ..
ویسے بھی میں بہت تھک چکا ہوں
اس لئے مجھے پریشان مت کرو …
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا اور اپنی بات کہہ کر آنکھیں بند کر کے لیٹ چکا تھا ..
جبکہ حرم اسکی بند آنکھوں کو دیکھتی ہوئی یہ سوچ رہی تھی کہ اس نے کب پریشان کیا اسکو ..
بلکہ پریشان تو کر رہا تھا اسکو جب سے آیا تھا ..
‘ بہت ہی عجیب انسان ہے ..
حرم بس سوچ کر رہ گئی تھی …
‘💞💞
‘ “آپ میری بات سمجھ کیوں نہیں رہی ہیں میں ایسے آپکو اندر جانے کی اجازت نہیں دے سکتی ہوں
کیونکہ سر ابھی بہت امپورٹنٹ میٹنگ میں بیزی ہیں ..
‘ ” آپکو تھوڑا انتظار کرنا ہوگا ..
ویسے بھی میٹنگ ختم ہونے والی ہیں ..
‘” ولید کی سکیٹری نے یہ بات دوسری بار دوہرائی تھی .
مگر وہ بھی سمن تھی جو کسی کی نہ سننے والی.
‘” تم شاید مجھے نہیں جانتی ہو ..
میں اس کمپنی کے مالک ہاشم خان کی بیٹی ہوں ..
اس لئے تمہارے لئے اچھا ہوگا تم مجھے جانے دو ..
‘ ” سمن اسکو سخت نظروں سے گھورتی ہوئی بولی تھی ..
اسکو کل وجدان کے یوں اچانک جانے پر کچھ ٹو گڑبڑ کا احساس ہوا تھا ..
‘ ” اسکو کہیں نہ کہیں یہ شق ہوا تھا کہ وجدان کو حرم کے بارے میں معلوم ہو چکا ہے جس وجہ سے کل وہ اتنی جلدی میں گھر سے نکلا تھا اور اب تک واپس نہیں آیا تھا …
‘ “وہ اس بات کو کنفرم کرنے کے لئے ولید سے ملنا چاہتی تھی ..
کیونکہ وجدان کے ساتھ ولید بھی حرم کی تلاش میں لگا ہوا تھا اور وہ ضرور کچھ جانتا ہوگا اس بارے میں.
‘ ” یہ ہی وجہ تھی کہ وہ آج پہلی بار اپنے باپ کی کمپنی میں آئی تھی اور پچھلے پندرہ منٹ سے ولید کی سکیٹری کے سر پہ کھڑی تھی ..
‘ ارے سمن تم یہاں ?
وہ ابھی اسکو کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اپنے برابر سے ولید کی آواز سنائی دی تو اسکی آواز پر وہ ولید کی طرف پلٹی تھی ..
سمن کو اپنے آفس میں دیکھ کر ولید کو خوشی ہوئی تھی ..
جب بھی وہ گھر آتی تھی تو تب بھی اس سے تھوڑی بہت بات ہو جاتی تھی اسکی …
ویسے بھی وہ اسکے ہاشم تایا جان کی بیٹی تھی اس لئے وہ اسکی بہت عزت کرتا تھا ..
‘ ‘ شکر ہے تمہاری میٹنگ تو ختم ہوئی مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی .
وہ ولید کی طرف دیکھ کر بولی تھی ….
‘ “ہاں ہاں کیوں نہیں میرے آفس میں چل کر بات ہیں وہ اسکو اپنے روم کی طرف آنے کا اشارہ کرتا آگے بڑھا تھا ..
اسکی بات سن کر سمن اسکے پیچھے چل دی تھی..
ہاں اب بولی ایسی کیا ضروری بات تھی جو تم یوں اچانک آفس چلی آئی ..
وہ اسکو چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کرتا خود بھی اپنی جگہ پر بیٹھا تھا …
‘ مجھے بس اتنا جاننا تھا کہ تمھیں حرم کے بارے میں کچھ معلوم ہوا ہے کیا …کہ وہ کہاں ہے ..
وہ سیدھا اپنی بات پر آئی تھی ..
ہاں وجدان کو حرم کے بارے میں پتہ چلا تھا اس لئے وہ کل ہی وہاں گیا ہے ..
پر تم ابھی کسی کو مت بتانا وہ آنٹی کو سرپرائز دینا چاہتا ہے …
ولید بول رہا تھا اس بات سے انجان کہ اسکی بات سن کر سمن کا خون کھول اٹھا تھا ..
تم خاص مجھسے ملنے آئی یہ بات جاننے کے لئے اس لئے میں نے تمھیں بتا دیا ہے …
ورنہ وجدان نے مجھے منع کیا تھا کہ میں کسی کو بھی نہ بتاؤں …
وہ اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا مگر سمن کو اب وہاں بیٹھنا مشکل لگ رہا تھا …
‘ اچھا ولید تمہارا بہت شکریہ بتانے کے لئے اب میں چلتی ہوں مجھے کوئی ضروری کام ہے ..
سمن یکدم سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی ..
ولید اسکو روکنا چاہتا تھا مگر اسکی جلدبازی دیکھ کر خاموش رہ گیا تھا …
وہ اسکے روم سے نکل کر تیزی کمپنی سے باہر نکلی تھی ..
ہاشم صاحب جو ولید کے پاس جا رہے تھے سمن کو اسکے روم سے نکلتا دیکھ کر حیران ہوئے تھے ..
مگر انکو خوشی بھی ہوئی تھی کہ سمن ان سب سے اچھی طرح گھل مل گئی ہے ..
وہ جب بھی سمن کو دیکھتے ہیں انکو ولید کا ہی خیال آتا ہے ..
مگر وہ سمن کی ضد کے آگے بےبس تھے .
لیکن انہیں اب ولید سے بہتر سمن کے لئے کوئی اور نہیں لگتا تھا ..
‘ 💞💞
وہ جلدی جلدی سے ہاتھ چلاتی اپنی ساری چیزیں بیگ میں ڈال رہی تھی .
اسکے پاس وقت بہت کم تھا ..
‘ وہ کبھی بھی واپس آ سکتا تھا اور اسکو وجدان کے واپس آنے سے پہلے اس فلیٹ سے نکلنا تھا ..
‘ اسکی موجودگی میں تو یہاں سے نکلنا اسکے لئے مشکل تھا .
رات ہی اس نے ساری پلاننگ کر لی تھی ..
صبح سے وہ وجدان کے باہر جانے کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ تھا کہ کہیں جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا …
‘ تھک ہار کر اسکو وجدان کو مخاطب کرنا ہی پڑا تھا
اور اسکو کچھ چیزیں لانے کے لئے کہا ..
پہلے تو وجدان نے انکار کر دیا۔
مگر جب اس نے خود باہر جانے کے بارے میں کہا کہ وہ لے آئے گی تو اک نظر حرم پر ڈالتا خود گھر سے باہر چلا گیا تھا ..
‘” سارا سامان رکھنے کے بعد وہ اک نظر کمرے پر ڈالتی جلدی سے باہر کی طرف بڑھی تھی ..
اس نے جیسے ہی دروازہ کھولنے کے لئے ہاتھ بڑھایا
اسکے دروازہ کھولنے سے پہلے ہی وجدان دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا .
اسکو اپنے سامنے دیکھ کر حرم اپنی جگہ ڈری اور بیگ ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا تھا ..
اسکے ہاتھ میں بیگ دیکھ کر وجدان کے ماتھے پر بل پڑے تھے ..
‘ کہاں جا رہی تھی تم ?
‘ ” وہ دروازہ اچھی طرح سے بند کرتا ماتھے پر بل ڈالے اسکی طرف بڑھا تھا ..
اسکے سخت لہجے اور آنکھوں میں غصّہ دیکھ کر حرم ڈر کے اس سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی …
‘ ” میں کہیں بھی جاؤ آپکو اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے ..
مجھے میری زندگی آرام سے جینے دیں ..
‘ ” اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ حرم اپنے ڈر پہ قابو کرتی ہوئی بولی اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی .
مگر اسکو دروازے کی طرف بڑھتا دیکھ وجدان اتنی ہی تیزی سے اسکے سامنے آیا تھا ..
‘ کیوں کر رہی ہو تم ایسا ..
بار بار مجھسے یوں دور جاکر آخر ثابت کیا کرنا چاہتی ہو ?
‘ وہ اسکے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا تھا .
اس بار اسکے لہجے میں حرم کے لئے تڑپ تھی محبت تھی جو غصّے میں ہونے کی وجہ سے حرم محسوس نہیں کر پائی تھی ..
‘ میں کچھ ثابت نہیں کرنا چاہ رہی ہوں بلکہ میں خود کو آپکے ظلم سے بچا رہی ہوں .
آج تک آپنے میرے بےقصور ہونے کے باوجود بھی کتنا غلط کیا ..
‘ پر اب میں مزید آپکا ظلم برداشت نہیں کر سکتی
بولتے بولتے یکدم سے اسکا لہجہ نم ہوا تھا آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا ..
‘ ” پر نہیں اب میں خود کو آپکا کھلونا نہیں بننے دوں گی کہ جب آپکے دل چاہے آپ کچھ بھی کریں اور میں خاموشی سے دیکھتی رہوں …
نہیں اب میں آپکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہوں میں آپکو..
‘ ” حرم بس اب خاموش ہو جاؤ آج کے لئے بس اتنا کافی ہے .
اسکو مسلسل بولتا دیکھ کر وجدان نرم لہجے میں بولا
وہ اسکے احساسات کو بہت اچھے سے سمجھتا تھا کہنا تو وہ بھی بہت کچھ چاہتا تھا اس سے
لیکن حرم اس سے بہت غصّہ تھی ..
وہ پہلے اسکا غصّہ کم کرنا چاہتا تھا تاقی وہ آرام سے اسکی اک اک بات سنے ..
کیونکہ غصّے میں انسان غلط ہی فیصلے لیتا ہے ..
اور وہ اب اپنے اور حرم کے بچ کوئی غلطی کوئی غلط فیصلہ نہیں ہونے دے سکتا تھا ..
‘ نہیں ہونا مجھے خاموش اور نہ میں اک پل مزید یہاں رکنا چاہتی ہوں ..
مجھے بس یہاں سے جانا ہے آپ سے دور ..
‘” اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتی وجدان نے اک جھٹکے میں حرم کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور اس کے ہونٹوں پہ جھک کر اسکی سانسوں کو خود میں قید کر چکا تھا ..
وجدان کی اس گستاخی پر حرم نے واجد کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو خود سے دور کرنا چاہا مگر مگر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو اپنے مزید قریب کیا تھا ..
وہ اس پہ جھکا اپنی محبت کا احساس دلانا چاہ رہا تھا جبکہ حرم اسکی مضبوط پکڑ سے خود کو آزاد کرانا چاہ رہی تھی جو فلحال ناممکن تھی …
‘” کچھ لمحوں بعد اسکو حرم پر ترس آ گیا تھا اس نے حرم کو آزاد کیا تو وہ شرم سے لال پڑتے چہرے کے ساتھ اپنی سانسیں درست کر رہی تھی ..
اور وہ اسکی غیر ہوتی حالت کو بہت ہی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ..
‘ یہ کیا حرکت تھی ..
وہ اپنی حالت ٹھیک کرتی بمشکل بول پائی تھی ..
‘ جب تم خاموش نہیں ہو رہی تھی تو یہ میرا طریقہ تھا تمھیں خاموش کرنے کا ..
اور میں نے تو پہلے ہی کہا تھا تمھیں میرے طریقے پسند نہیں آئے گے۔
وہ اسکی طرف دیکھتا دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تو حرم سچ میں جل گئی تھی اسکی مسکراہٹ دیکھ کر …
‘ ” اب چپ چاپ جاؤ یہ سارا سامان اپنی جگہ پر رکھو اور اگر دوبارہ یہ حرکت کی نہ تو
بس اتنا سوچ لینا میری جان یہ جو ابھی کیا ہے نہ یہ کچھ نہیں تھا …
وہ اس پر پھر سے جھکا اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا اسکے ہونٹھ حرم کی کان کی لؤ کو چھو رہے تھے ..
وجدان کی بات پر حرم پوری جان سے کانپ اٹھی
اسکی گرم سانسیں اور اسکے ہونٹوں کا لمس اپنے کان پر محسوس کر کے حرم دھڑکنے بےترتیب ہوئی تھی …
‘ مجھے امید ہے تم میری بات سمجھ گئی ہونگی اور آگے سے ایسی حرکت دوبارہ نہیں کرو گی ..
ورنہ ….
‘” وہ اپنی بات کہہ کر پھر سے اس پر جھکا تو اسکو پھر سے کوئی حرکت کرتے دیکھ حرم تیزی سے وہاں سے کمرے کی طرف بھاگی تھی …
‘ ” اسکی جلدبازی پر وجدان مسکرایے بغیر نہ رہ سکا تھا …
💞💞
‘” تمہاری یہ سزا اور کتنے دن تک چلے گی پریشے
تم انکو تو تڑپا رہی ہو لیکن سکون سے خود بھی نہیں ہو ..
معاف کر دو انہیں اور ختم کرو یہ بےسکون اپنی زندگی سے ..
غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں
تم اپنا دل بڑا کرو اور معاف کر دو انہیں ..
‘ تمہاری معافی کے طلبگار ہیں وہ ..
سادیہ بیگم خاموش بیٹھی پریشے کی طرف دیکھ کر بولی تھیں ..
‘ وہ دیکھ رہیں تھیں جب سے ہاشم صاحب انکے پاس سے گئے تھے انکی بہن تب سے اور خاموش ہو گئی تھی ..
سارا دن خاموش ہی رہتی تھی یا دروازے کو دیکھتی رہتیں تھیں جیسے انہیں کسی کے آنے کا انتظار ہو .
اور انہیں تھا انتظار ..
ہاشم خان کا ..
وہ اس دن کے بعد سے پھر ان سے ملنے نہیں آئے تھے ..
پریشے روز ہی انکی وجہ سے بےچین رہتیں تھیں ..
مگر وہ یہ بات تسلیم نہیں کرنا چاہ رہیں تھیں کہ انہیں ہاشم خان کا انتظار تھا ..
‘ نہیں آپی آپکو غلط لگ رہا ہے ..
میں تو بہت سکون سے ہوں کیونکہ میں نے کسی کا اعتبار نہیں توڑا ہے .
وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھیں ..
‘ اگر ایسی بات ہے تو تم بات کرتے ہوئے مجھسے نظریں کیوں چرا رہی ہو ..
میری طرف دیکھ کر بات کرو نہ ..
سادیہ بیگم بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہوکر اسکے پاس آئی تھی..
انہونے پریشے کا رخ اپنی طرف کیا تھا ..
‘ بولو اب کہ تم بہت سکون سے ہو تمھیں کوئی فرک نہیں پڑتا ہے …
‘ میں جانتی ہوں یہ سب جھوٹ ہے ..
کیونکہ میں تمہاری آنکھوں میں ہاشم کے لئے محبت تڑپ دیکھ سکتی ہوں ..
میں تمہاری بڑی بہن ہوں آج تک تم مجھسے کچھ نہیں چھپا پائی ہو
اور نہ کبھی چھپا سکتی ہو ..
وہ پریشے کے جھکے سر کو دیکھتی ہوئی بول رہیں تھیں ..
‘ سچ کہا نہ میں نے ..
انہونے پریشے کا چہرہ اوپر کیا جو اس وقت آنسوں سے بھیگا ہوا تھا ..
‘ سادیہ بیگم کی بات پر پریشے یکدم سے انکے گلے لگ کر زور زور سے رونے لگیں تھیں ..
‘ جی آپی میں انکو دکھ میں دیکھ کر سکون سے نہیں ہوں ..
اور نہ میں ان سے ناراض ہوں …
‘ جانتی ہیں میرے دل نے تو انہیں تب ہی معاف کر دیا تھا جب ہسپتال میں آنکھ کھلنے پر میری سب سے پہلی نظر ان پر پڑی تھی …
‘ بس تھوڑا ناراض تھی ان سے اور یہ ناراضگی بھی اس دن ختم ہو گئی جب وہ میرے کمرے میں آئے تھے..
‘ ” وہ روتے ہوئے اپنا درد اپنی بہن کو سنا رہیں تھیں..
میں جانتی ہوں پری بس یہ سب تمہارے منہ سے سننا چاہتی تھیں ..
‘ ” اور اب جو سکون مجھے ملا ہے نہ میں تمھیں بتا نہیں سکتی ہوں ..
وہ پریشے کے آنسوں صاف کرتی ہوئی بولی تھی انکے ساتھ ساتھ پریشے کو بھی سکون ملا تھا اپنی بات کہہ کر …
-‘” اور اب یہ سب ان سے بھی کہہ دینا جن کی وجہ سے تم نے اپنا سکون خراب کیا ہوا ہے ..
وہ تھوڑا سا مسکرائی تو انکی بات سن کر پریشے ہاں میں گردن ہلا کر مسکرا دی تھیں …
💞💞
(جاری ہے )
💞💞💞