Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

‘ ” اپنے اوپر کچھ بھاریپن محسوس کر کے اسکے آنکھ کھلی تھی ..
نیند سے بوجھل آنکھیں بمشکل کھول کر اس نے وجہ معلوم کرنی چاہی تو سب سے پہلی نظر اسکی وجدان پر پڑی ..
‘ ” وہ اسکے بےحد قریب لیٹا نیند میں ہونے کے باوجود بھی اس نے حرم کو پوری طرح اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا …
‘ ” اسکا پوری طرح سے جائزہ لیتی حرم کی آنکھیں یکدم سے شرم سے جھکی تھی ..
” وہ اس وقت بغیر شرٹ کے لیٹا اسکو اپنی باہوں میں قید کئے ہوئے تھا .
‘ ” یکدم سے رات کا سارا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوما تھا ..
رات وہ کتنی محبت اور احتیاط سے اسکو چھو رہا تھا جیسے وہ کوئی کانچ کی ہو ..
کہیں اسکی ذرا سے سختی سے وہ ٹوٹ نہ جائے ..
‘ ” اسکی شدتوں سے وہ اسکی محبت کا اندازہ لگا سکتی تھی ..
‘ یہ سب باتیں سوچتے ہوئے اسکے چہرے پہ اک شرمیلی مسکراہٹ آئی تھی ..
‘ ” وہ یوں ہی لیٹی اسکے چہرے کو دیکھتی رہی تھی ..
کچھ سوچتے ہوئے وہ تھوڑا سا انچا ہوئی اور وجدان کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئے تھے ..
‘ ” پیشانی کے بعد اس نے بہت ہی محبت سے اسکی کھڑی ناک کو چوما اور پھر اک اک کرکے اسکے چہرے کے نکوش کو لبوں سے چوم رہی تھی.. ..
‘ ” اس وقت اس پر بےخودی سوار تھی
اس پر یوں ہی اپنی محبت لٹانے کے بعد اس نے بہت ہی آہستہ سے وجدان کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا کر اٹھی تھی ..
‘ ” یہ تو بہت غلط بات ہے یار ابھی اک جگہ باقی ہے…
اس سے پہلے کہ حرم اپنی جگہ سے اٹھتی وجدان اسکو کمر سے پکڑ کر پھر سے اپنے قریب لیٹا چکا تھا ..
‘ ” اسکی بات سن کر حرم کا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا ..
‘ ” کیا ہوا رک کیوں گئی میں انتظار کر رہا ہوں .
وہ اسکے چہرے کو دیکھتا شرارتی انداز میں بولا تو اسکی بات سمجھ کر حرم نے شرما کر نہ میں گردن ہلائی تھی ..
‘ ” کوئی بات نہیں یہ کام میں خود ہی کر لیتا ہوں
وہ اپنی بات کہہ کر حرم کے ہونٹوں پر جھک کر انکو قید کر چکا تھا …
‘ “اسکی اس گستاخی پر حرم نے سختی سے بیڈشیٹ کو اپنی مٹھی میں جکڑا تھا ..
وجدان کی پکڑ میں شدت کے ساتھ ساتھ سختی بھی بڑھتی جا رہی تھی ..
‘ ” حرم کو جب اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے وجدان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور کیا تھا…
‘ “اس وقت دونوں کی سانسیں بےترتیب ہو رہی تھی
وجدان اک گہرا سانس بھرتا پھر سے اپ پر جھکا تھا…
‘ ” وجدان ” پلیز ..اٹھنے دیں ..
اسکو پھر سے رات والے روپ میں آتا دیکھ حرم التجائی انداز میں بولی .
بولتے وقت اسکا سانس بری طرح سے پھول رہا تھا..
‘ ” میں تو آرام سے سو رہا تھا تم نے ہی مجھے اٹھایا ہے ..
اب اسکی سزا تو تمھیں ملنی ہی چاہئے نہ ..
‘” اپنی بات کہہ کر وہ اسکی گردن پہ اپنے لب رکھ چکا تھا …
اسکے ہونٹوں نے گردن سے کندھے تک کا سفر طے تو اسکی بڑھی جسارتوں پر حرم نے احتجاج کرنے کی کوشش کی..
مگر اس نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی قید میں لے لیا تھا ..
‘ ” وجدان دیکھیں نہ کتنا لیٹ ہو چکا ہے ..
حرم نے پھر سے کوشش کرنی چاہی تھی مگر وہ فلحال اسکی سننے کے موڈ میں نہیں تھا …
‘ ” کوئی بات نہیں آج ہم اپنی صبح دوپہر میں کر لیں گے …
وہ پھر سے اسکے ہونٹوں پر جھک کر حرم کو مزید کچھ بولنے سے روک چکا تھا …
‘ ” اور اس بار حرم کو اسکی ماننی ہی پڑی تھی جانتی تھی وہ اب اسکو ایسے ہی چھوڑنے والا نہیں تھا ..
اس نے اسکی نیند خراب تھی اب اسکی باری تھی اسکو پریشان کرنے کی …
💞💞
‘ پریشے میں نے تمھیں کتنی بار سمجھایا ہے
کہ تم اتنا مت سوچا کرو ..
ابھی تمہاری طبیعت اتنی بھی ٹھیک نہیں ہوئی ہے کہ تم ٹینشن لو …
” اگر ہر وقت یوں اس طرح سے سوچتی رہو گی تو تمہاری صحت پر اثر پڑے گا …
” سادیہ بیگم جب لاؤج میں داخل ہوئی تو پریشے کو گہری سوچ میں گم دیکھ کر انکے پاس آئی تھی ..
‘” سادیہ بیگم کی آواز پر وہ اپنی سوچوں سے باہر نکلی تھیں.
‘ ” تم جانتی ہو نہ کہ تمہاری طبیعت خراب ہو یہ میں بلکل برداشت نہیں کر سکتی ہوں ..
‘ ” انکے لہجے میں پریشے کے لئے فکر تھی ..
‘ ” بس آپی آپ تو جانتی ہی ہیں سب میں سمن کی وجہ سے پریشان ہوں .
‘ اسکی وجہ سے میں اب تک اپنے اصل گھر بھی نہیں گئی ہوں …
‘ ” ماریہ اور ہاشم کتنے بار آ چکے ہیں لینے ..
اب اگر میں چلی گئی اور سمن نے وہاں ایسی ویسی حرکت کی تو میں اور ہاشم کیا منہ دیکھایں گے ان سب کو …
‘ ” کتنی شرم کی بات ہے ہوگی اگر ان سب کو معلوم ہو گیا کہ سمن اپنی ہی بہن کے شوہر کو …..
وہ اپنی بات پوری نہیں کر پائی تھی …
‘ ” میں تمہاری بات سمجھ سکتی ہوں بس اک وجدان ہی ہے جو اسکو سمجھا سکتا ہے ..
مجھے بس اسکے واپس آنے کا انتظار ہے ..
“لیکن تم فلحال یہ سب باتیں چھوڑو اور چل کر تیار ہو جاؤ ..
ہاشم کا فون آیا تھا کہ وہ تمھیں لینے آ رہیں ہیں تو میں نے بول دیا کہ آج پریشے تمہارے ساتھ ضرور جائے گی ..
” پر آپی سمن پتہ نہیں وہ جائے گی یا نہیں …
انکی بات پر وہ بس اتنا بول پائی تھی .
” تم سمن کی فکر مت کرو اس سے اک بار پوچھ لو اگر اس نے جانا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ تم اسکو یہیں چھوڑ کر چلی جاؤ…
“میں اس کا خیال رکھ سکتی ہوں تم بس اٹھو اور جلدی کرو ہاشم آنے ہی والے ہونگے …
” انہونے پریشے کو زبردستی کھڑا کیا تھا ..
” انکی بات پر پریشے مسکراتی ہوئی اٹھی اور سمن کے روم کی طرف بڑھی تھی ..
” ‘ کہاں جانے کی تیاری کر رہی ہو تم ?
وہ جیسے ہی سمن کے روم میں داخل ہوئی تو اسکو تیاری کرتا دیکھ یکدم سے بولی تھی ..
” ‘ کسی کام سے جا رہی ہوں رات تک واپس آ جاؤں گی ..اس نے مصروف سے انداز میں انکو جواب دیا تھا ..
” ‘بیٹے تمہارے ڈیڈ آ رہے ہیں آج ہمیں لینے تم چلو گی اپنے گھر ?
” وہ اپنے بال بناتی سمن کو دیکھ کر بولی ..
” ‘ نہیں امی مجھے آج کچھ کام ہیں آپ چلی جایں میں خود آ جاؤں گی ..
” اسکے جواب پر وہ کھڑی خاموشی سے اسکو کچھ دیر دیکھتی رہیں پھر اسی خاموشی سے اسکے کمرے سے نکل گئی تھی …
💞💞
” وہ لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی اسکی نظریں تو اسکرین پر تھی مگر اسکا دھیان کہیں اور تھا ..
‘ ” وجدان جب لاؤنج میں داخل ہوا تو اسکو ایسے بیٹھا دیکھ کر اسکے قریب آیا تھا …
” کس کے بارے میں سوچا جا رہا ہے جبکہ میں تو یہیں تمہارے پاس ہوں ..
وہ صوفہ پہ بیٹھی حرم کی گود میں سر رکھ کر لیٹا تھا …
” حرم جو گہری سوچ میں گم تھی وجدان کے اس طرح سے آنے پر یکدم سے ڈری تھی ..
” آپنے تو مجھے ڈرا ہی دیا ..
ڈر کی وجہ سے اس نے اپنے تیزی سے دھڑکتے دل پہ ہاتھ رکھا تھا ..
‘ ” اسکا ڈرا ہوا چہرہ دیکھ کر وجدان ہولے سے مسکرایا اور تھوڑا سا انچا ہو کر اسکے سینے پر رکھے ہاتھ پہ اپنے لب رکھ دئے تھے …
‘ “اب ڈر ختم ہو جائے گا ..
شرارتی انداز میں بولتا وہ پھر سے اپنی جگہ پر لیٹا اسکی حرکت پر حرم بس اسکو گھور کر رہ گئی تھی..
‘ ” اچھا بتاؤ نہ کیا سوچ رہی تھی تم …
وجدان نے اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا ..
‘ ” میں واپس جانے کے بارے میں سوچ رہی تھی جب ہم جائے گے تو سمن کا کیا ری ایکشن ہوگا ..
وہ اپنا دوسرا ہاتھ وجدان کے بالوں میں پھیرتی ہوئی بولی ..
‘ ” وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی اس نے اب تک اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا .
لیکن وہ فلحال حرم کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا ..
‘ ” جب واپس جائے گے تب سوچ لیں گے کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں ..
بس فلحال تم میرے بارے میں سوچو …
‘ ” مجھے وقت وقت پر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہا کرو کہ تم میرے پاس ہو ..
” میرے بہت قریب “”
وہ اسکی گود سے اٹھ کر بیٹھا اور حرم کو شوخ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا تھا ..
‘ ” میں آپکے پاس تو ہوں تو کیسے احساس دلاوں ?
” حرم نے ناسمجھی سے اسکی ترف دیکھا تھا ..
‘ ” قریب آؤ ذرا پھر بتاتا ہوں میں ..
وہ اپنی مسکراہٹ کو بمشکل روکتا ہوا بولا اور اسکو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچا تھا …
” ‘ اسکی انگلیوں کا لمس اپنی گردن اور کمر پہ محسوس کر کے حرم نے یکدم وجدان کی طرف دیکھا تو اسکی آنکھوں میں شرارت دیکھ اسکی بات سمجھ آ گئی تھی …
” نہیں بس آپ رہنے دیں نہیں جاننا مجھے اور نہ آپکو کوئی احساس دلانا ہے …
وہ اپنآ بازو آزاد کراتی ہوئی کھڑی ہوئی تھی …
” یار کہاں جا رہی ہو تمھیں نہیں دلانا تو کوئی بات نہیں مجھے اپنے آپ کو تو احساس دلانے دو کہ تم میرے پاس ہی ہو …
‘ ” وجدان نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو صوفہ پر گرا کر خود اسکے اوپر جھکا تھا …
‘ ” حرم تم نے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا ہے
جانتی ہو جب تم چلی گئی تھی مجھے ایسا لگا تھا کہ اس دنیا میں میرے لئے کچھ باقی نہیں رہا …
اتنا پاگل ہو گیا ہوں میں تمہارے لئے …
وہ بہت ہی محبت سے اسکی پیشانی چومتا ہوا بولا تو حرم بھی دھیرے سے مسکرا دی تھی …
‘ ” اب تو ہو گیا نہ آپکو یقین اب ہٹے پیچھے ..
اسکو پھر سے پٹری سے اترتا دیکھ حرم نے اسکو دور کرنا چاہا تھا …
‘ ” اتنی جلدی کیسے ابھی تو میں نے شروع ہی کیا ہے .
وہ اپنے ایک ہاتھ سے اپنی شرٹ کے بٹنز کھولتا اسکی گردن پہ جھک گیا تھا ..
‘ ” کتنے ہی لمحے یوں ہی خاموشی سے گزر گئے تھے
حرم نے اس بار اسکو روکا نہیں تھا جانتی تھی کہ اسکی وہ سننے والا نہیں تھا …
‘ ” وجدان شاید کوئی آیا ہے دروازے پہ …
ان دونوں کے درمیان خاموشی کو حرم کی آواز نے توڑا تھا ..
‘ ” اسکو ایسا احساس ہوا تھا کہ کسی نے زور سے دروازہ بجایا ہو ..
” کوئی نہیں ہیں یار …
وہ اسکے بلوں میں چہرہ چھپایں سرگوشی کے انداز میں بولا تھا …
“: تھوڑی دیر بعد دروازے پر بیل بجی تو وہ جیسے ہوش میں آیا تھا..
‘ ” میں نے کہا تھا نہ کہ کوئی ہے دروازے پہ
وجدان کے اٹھنے پر وہ بھی اپنا دوپٹہ درست کرتی اٹھی تھی …
‘ ” تم یہیں رکو میں دیکھتا ہوں …
وہ اسکو وہیں رکنے کا کہہ کر اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا دروازے کی طرف بڑھا تھا ..
💞💞
‘” اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو اپنے سامنے کھڑی سمن کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ حیران رہ گیا تھا'”
” سمن تم یہاں ?
‘ وہ حیرانگی سے اسکی طرف دیکھ کر بولا ..
کیونکہ جہاں تک اسکو یاد تھا حرم کے اس فلیٹ کے بارے میں ولید کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا .
‘ ” اس نے تو اپنی مام تک کو اس بارے میں نہیں بتایا تھا اس لئے سمن کی یہاں موجودگی اسکو حیران کر رہی تھی ..
‘ ‘” ولید میرا کزن ہے اور اس سے تمہارے بارے میں معلوم کروانا اتنا بھی مشکل نہیں رہا میرے لئے..
‘ اور دوسری بات تم میرے ساتھ ایسا کروگے اور میں بس خاموشی سے دیکھتی رہوں گی ..
‘ ” وہ اسکی حیرانگی ختم کرنے کے لئے بولی اور اسکی طرف دیکھتے ہوئے اک قدم آگے بڑھی تھی ..
‘ ” سمن میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں لیکن یہ بات تم بھی اچھی طرح سے جانتی ہو کہ اس وقت حالات کچھ اور تھے ..
‘” وہ اسکی آنکھوں میں غصّہ دیکھ چکا تھا اس لئے اسکو بہت آرام سے اپنی بات سمجھانی چاہی تھی ..
‘”” کیونکہ وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتا تھا کہ وہ غصّے میں سب کچھ بھول جاتی ہے کسی کا خیال نہیں کرتی ..
‘” میں کچھ نہیں جانتی وجدان نہ مجھے کچھ جاننا ہے
وہ یکدم سے چلا ئی تھی ..
‘ ” کیا ہوا وجدان کون آیا ہے …اور یہ …
حرم کسی کی تیز آواز سن کر دروازے کے پاس آئی مگر سمن کو وہاں دیکھ کر اسکے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے ..
‘ ” سمن تم اس وقت بہت غصّے میں ہو چلو چل کر اندر بات کرتے ہیں آرام سے ..
وجدان اک نظر حرم کی طرف دیکھ کر سمن سے مخاطب ہوا تھا …
‘ ” ہاں میں غصّے میں ہوں اور میرے اس غصّے کی وجہ یہ ہے ..
سب کچھ صرف اسکی وجہ سے ہو رہا ہے ..
تمھیں تو میں نہیں چھوڑوں گی ..
‘ ” وہ اپنے سامنے کھڑی حرم کی طرف غصّے سے بڑھی تھی ..
اسکا ارادہ بھانپ کر وجدان نے حرم کو اپنے پیچھے کیا تھا ..
‘ ” خبردار سمن اگر تم نے میری حرم کو چھونے کی بھی کوشش کی …
‘ ” ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم میری کزن ہو ..
‘ تم مجھ پر غصّہ ہو نہ تو مجھ سے لڑو لیکن حرم کو بیچ میں لانے کی غلطی مت کرنا ..
‘ ” وہ انگلی اٹھا کر اسکو وارن کرنے کے انداز میں بولا …
‘ ” وجدان کی بات پہ جہاں حرم کو سکون ملا تھا وہیں سمن کے بڑھتے قدم رکے تھے ..
“”میری حرم ”
‘ ” وہ وجدان کے صرف ان دو لفظوں میں اٹک کر رہ گئی تھی ..
‘ ” نہیں وجدان تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو .
تم اس سے محبت نہیں کر سکتے …
اگر تم میرے نہیں ہوئے تو میں تمھیں کسی کا بھی نہیں ہونے دوں گی …
‘ ” اس نے پھر سے حرم پہ حملہ کرنا چاہا مگر وجدان اسکو بازو سے پکڑ کر روک چکا تھا …
‘”” بس بہت ہو گیا سمن اب اور نہیں ..
میں مانتا ہوں کہ مجھے تم سے وعدہ نہیں کرنا چاہیے تھا ..
لیکن یہ وعدہ میں نے صرف آنی کی حالت کی وجہ سے کیا تھا ..
تمہارے اور آنی پہ کوئی انگلی نہ اٹھیں اس لئے کیا تھا ..
اگر آنی کی ایسی حالت نہ ہوتی تو میں کبھی تم سے شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ..
تم بھی کتنی خودغرض تھی
کبھی اپنی ماں کی فکر نہ کی تم نے صرف اپنے بارے میں سوچا ہمیشہ کہ تمھیں لوگوں کی باتیں نہ سننے پڑے …
‘ ” وہ کھڑا اسکو آئینہ دیکھا رہا تھا اور سچ ہی تو کہہ رہا تھا وہ کچھ بھی غلط نہیں تھا …
‘ ” دوسری اور آخری بات اگر حرم میری زندگی میں نہیں رہی تو میں اسکی جگہ کسی کو نہیں دے سکتا…کسی کو بھی نہیں …
‘ ” اس بار اسکا لہجہ سخت تھا ..
حرم کو سمن پر ترس تو آ رہا تھا مگر وہ اسکے لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی ..
‘ ” نہیں ایسا نہیں ہو سکتا بلکل بھی نہیں …
اسکی ساری بات بہت ہی خاموشی سے سننے کے بعد سمن اک نظر ان دونوں پہ ڈال کر تیزی سے وہاں سے نکلی تھی ..
‘ ” رک جاؤ سمن کہاں جا رہی ہو ..
اسکو اس طرح سے جاتا دیکھ کر وجدان تیزی سے اسکے پیچھے لپکا تھا ..
‘ ” اس وقت وہ غصّے اور صدمے تھی اور وجدان کو ڈر تھا کہ کہیں خود کی کوئی نقصان نہ پہنچا دے .
ویسے بھی رات کا وقت تھا اور انجان شہر ..
‘ ” ان دونوں کو اس طرح سے نکلتا دیکھ حرم بھی انکے پیچھے گئی تھی ..
‘ ” سمن رک جاؤ دیکھو ہم گھر پہ بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں …
وہ سڑک پر تیز تیز قدم اٹھاتی سمن کے پیچھے آیا تھا…
‘ ” مجھے کچھ نہیں سننا تم جاؤ یہاں سے ..
وہ بغیر مڑے تیز آواز میں بولی تھی …
حرم بھی ان دونوں سے کچھ فاصلے پر تھی ..
اس وقت وہ تینوں آگے پیچھے چلتے سڑک پر آ چکے تھے
گاڑیاں اپنی تیز رفتار سے آ جا رہی تھی ..
‘ ” سمن تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا رک جاؤ ..
اس نے سمن کا بازو پکڑا تھا …
‘ ” میں نے کہا نہ مجھے اکیلا چھوڑ دو ..
‘ ” سمن نے غصّے میں اس سے اپنا بازو آزاد کرا کر وجدان کو دھکا دیا تھا …
اسکے دھکہ دینے پر وہ اپنا بیلنس برکرار نہ رکھ سکا اور سامنے سے آتی کار سے ٹکرایا تھا ….
‘ “وجدان “”
ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی یہ منظر دیکھتی حرم کی چیخ نکلی تھی ..”
💞💞
====(جاری ہے )====