Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

‘ ‘ بیٹا دانی تم نے آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے کب تک یوں ہی چلتا رہے گا …
سادیہ بیگم چاۓ پیتے وجدان سے مخاطب ہوئی تھی
کیا مطلب امی ..
کس بارے میں سوچنے کی بات کر رہیں ہیں آپ ?
وجدان نے اپنا چاۓ کا کپ اک طرف رکھ کر ناسمجھی سے انکی طرف دیکھا ..
میں حرم کی بات کر رہی ہوں میں
تم نے اس سے بدلہ لینے کے لئے شادی کی تھی نہ اور اب جب سب کچھ سامنے آ چکا ہے
جیسا ہم سوچتے تھے ایسا کچھ نہیں ہے تو اب …
سادیہ بیگم نرمی سے اسکو اپنی بات سمجھا رہیں تھی ..
انکی بات سن کر وہ کچھ پل تو انکو خاموشی سے دیکھتا رہا تھا
ٹھیک ہی تو کہہ رہیں تھیں وہ ..
اس نے حرم کے بارے میں تو کچھ سوچا ہی نہیں تھا
کیا وہ واقعی میں اسکو چھوڑ دیگا …
اک اسی سوال کا جواب نہیں تھا اسکے پاس …
‘ امی ہاشم خان نے برا کیا ہے آنی کے ساتھ انکی حالت نہیں دیکھی آپنے ..
اب ہاشم خان کی یہ ہی سازا ہے
وہ اپنی دونوں بیٹی کے لئے تڑپتا رہےگا ..
ساری زندگی وہ معافی مانگتا بھی رہے مگر اسکو کبھی معافی نہیں ملے گی ..
اس نے اک نظر اپنی ماں کو دیکھ کر پھر سے اپنا کپ اٹھایا تھا ..
مگر بیٹا اک بار ہمیں اسکی بات سن لینی چاہیے کیا پتہ پہلے کی طرح ہم غلط ہی ثابت ہو ..
کیا پتہ وہ سچ کہہ رہا ہو …
اور دوسری بات ان سب میں حرم کا کیا قصور ہے کب تک تم یوں اسکو اسکے اپنوں سے دور رکھو گے ..
سادیہ بیگم ہاشم خان کے حق میں بول رہیں تھی وہ اب تک ہاشم خان کے چہرے پر جو درد تھا جو اداسی تھی وہ بھول نہیں پائی تھی ..
اور کچھ حرم کی باتوں کا اثر تھا اس نے سادیہ بیگم کو سمجھنانے کی بہت کوشش کی تھی اور وہ کچھ کچھ اسکی بات سے قائل بھی ہو گئیں تھیں…
امی میں نے کہہ دیا نہ کہ میں اس شخص کے بارے میں اک لفظ بھی نہیں سننا چاہتا ہوں اور رہی بات حرم کی تو ….
دیکھیں خالہ امی آج ہمارے ساتھ کون ناشتہ کرنے آیا ہے …
اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ بولتا سمن پریشے کو اپنے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر لیکر آئی تھی …
پریشے کو یوں اس طرح سے اپنے روم سے باہر دیکھ کر وجدان اور سادیہ خوشی سے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے ..
آج تو تم نے بہت ہی بڑا کام کیا ہے
ماننا پڑے تمھیں ..
وجدان پریشے کو کرسی پر بیٹھاتا ہوا سمن کی طرف دیکھ کر بولا تو اسکی بات پر سادیہ بیگم بھی مسکرا دی تھیں ..
وہ تینوں اب پریشے کو ناشتہ کروا رہے تھے کبھی وجدان کچھ کھلا رہا تھا تو کبھی سمن .
وہ دونوں ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے …
جہاں وہ دونوں خوش نظر آ رہے تھے وہیں ان دونوں کو یوں اس طرح سے دیکھ کر دروازے میں کھڑی حرم اداس ہوئی تھی ..
کتنا خوش رہتا ہے وہ سمن کے ساتھ اور اک وہ تھی جسکو دیکھ کر ہمیشہ ہی اسکے ماتھے پر بل پڑے رہتے تھے …
کیا وہ اتنی ناپسند تھی اسکو
کیا اسکے لئے اس رشتے کی بھی کوئی اہمیت نہیں تھی جو ان دونوں کے بیچ تھا …
حرم کی آنکھیں یہ سوچتے ہی نم ہوئی تھی اک درد سا سینے میں اٹھا تھا..
بیٹا حرم وہاں کیوں کھڑی ہو یہاں آؤ نہ …
سادیہ بیگم کی نظر جب دروازے میں کھڑی حرم پر پڑی تو انہونے اسکو اپنے پاس بلایا تھا ..
حرم کا نام سن کر سمن کے ساتھ ساتھ وجدان کے ہونٹوں سے مسکراہٹ اکدم سے غائب ہوئی تھی
یہ منظر حرم کی آنکھوں سے پوشیدہ نہ رہ سکا تھا..
وہ اپنے آنسوں ضبط کرتی ناچاہتے ہوئے بھی سادیہ بیگم کی طرف بڑھی تھی ..
انکے اشارے پر وہ انکے ساتھ والی چیئر پر آں بیٹھی اسکے بیٹھنے کے بعد اب ڈائننگ ٹیبل پر مکمل خاموشی تھی …
وجدان اور سمن تو اسکو ایسے نظر انداز کیے بیٹھے تھے جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو
جبکہ سادیہ بیگم کچھ نہ کچھ اسکو کھانے کو دے رہیں تھی …
حرم سے جب مزید برداشت نہ ہوا تو وہ سے اٹھی تھی
اگر وہ وہاں اور بیٹھتی تو اپنے آنسوں پر ضبط نہیں کر سکتی تھی …
مگر وہ اس بات سے انجان تھی کہ وجدان کی آنکھوں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا ….
💞💞
اپنی آنی کو انکے روم میں لے جانے کے بعد جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو حرم اسکو کہیں نظر نہیں آئی تھی..
اسکے ڈائننگ ٹیبل سے جانے کے بعد وجدان کا وہاں بیٹھنے کا دل بلکل ہی نہیں کر رہا تھا
کچھ دیر بعد وہ آنی کو انکے کمرے میں لیکر گیا تو حرم وہاں بھی نہیں تھی
اس نے سوچا کہ شاید وہ اپنے کمرے میں ہوگی لیکن اسکو یہاں بھی موجود نہ پاکر اسکا دل بےچین ہوا تھا…
وہ اسکو تلاش کرنے کے لئے کمرے سے نکلنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ
حرم دروازہ کھولتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تھی
مگر وجدان کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر اک پل کے لئے تو وہ حیران ہوئی تھی
اسکو لگا تھا کہ وہ آفس جا چکا ہوگا اس لئے وہ کمرے میں آئی تھی مگر وہ ابھی تک گیا نہیں تھا..
اسکو اپنے سامنے دیکھ کر اک سکون سا ملا تھا اسکے دل کو
اسکی ایسی حالت کیوں ہو رہی تھی وہ خود سمجھ نہیں پا رہا تھا …
مگر اسکی روئی روئی اور لال آنکھیں دیکھ کر اسکا دل یکدم سے بےچین ہوا تھا ..
تم روئی تھی ?
وہ اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر بولا تھا …
نہیں …
حرم صرف اک لفظ میں اسکو جواب دیتی اسکی سائیڈ سے نکلی تھی
اسکا ارادہ واشروم میں جانے کا تھا
اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتی وجدان نے اسکا بازو پکڑ کر اسکو جانے سے روکا تھا ..
کیوں روئی ہو تم ?
اسکے لہجے کے ساتھ ساتھ اسکی پکڑ میں بھی سختی تھی ..
اسکو غصّہ آیا تھا حرم کے جواب پہ ..
آپسے بہتر کون جانتا ہوگا میرے غم اور رونے کی وجہ کیا ہے
پھر بھی آپ پوچھ رہے ہیں …
حرم کی آنکھیں پھر سے نم ہوئی تھی ..
اسکو دکھ ہوا تھا وجدان کی سخت پکڑ سے نہیں اسکے سخت لہجے سے ..
ہمیشہ اسکے حصّے میں اسکا غصّہ ہی کیوں آتا تھا .
نہیں میں کچھ نہیں جانتا ہوں ..
مجھے صرف تمہارے منہ سے سننا ہے کیوں روئی تم وہ جاننا چاہتا تھا اسکے رونے کی وجہ
اسکو لگ رہا تھا کہ وہ آج صبح والی بات کی وجہ سے روئی تھی …
اسکی بات پر حرم کا دل کیا کہ چیخ چیخ کر کہہ دے کہ وہ اسکی وجہ سے روئی ہے
اسکو پتہ نہیں کیوں لیکن سمن کے ساتھ دیکھ کر اسکو بہت برا لگتا ہے …
وہ برداشت نہیں کر پاتی ہے کسی اور کے ساتھ دیکھ کر …
مگر وہ جانتی تھی کہ اسکے احساسات کی اسکو کوئی قدر نہیں ہے
وہ یہ سب کہہ کر اپنی توہین نہیں کروانا چاہتی تھی۔
میں اپنے ماموں کی وجہ سے روئی ہوں
اک بار آپ موقع تو دو انکو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا..
وہ کسی کے ساتھ غلط نہیں کر سکتے ہیں ضرور کوئی وجہ رہی ہوگی …
حرم اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی ..
جبکہ اسکا جواب سن کر وجدان کو اچھا نہیں لگا تھا وہ کچھ اور سننا چاہتا تھا اس سے …
جو وہ اس وقت اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا وہ اسکی زبان پر نہیں تھا …
میں تمہاری بات ضرور سنتا اگر تم اپنے رونے کی صحیح وجہ بتاتی ..
لیکن تم نے جھوٹ بولا ہے ..
جب تم میں سچ بولنے کی ہمت آ جائے تو تب میں تمہاری بات بھی سنو گا …
وہ اسکا بازو جھٹکے سے چھوڑتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا ..
تم بہت ظالم انسان ہو وجدان شاہ بہت ظالم …
حرم اپنی سوچوں میں اس سے مخاطب ہوئی اور
اک آنسوں خاموشی سے اسکی آنکھ سے گرا تھا
💞💞
‘ کیا بات ہے سمن میں دیکھ رہا ہوں تم آج کل بہت خاموش رہنے لگی ہو ..
اب نہ تم مجھسے بحث کرتی ہو نہ کسی بات کے لئے ضد کرتی ہو ..
خیریت تو ہے ?
وجدان اپنے سامنے کب سے خاموش بیٹھی سمن کو دیکھ کر بولا تھا ..
وہ پچھلے ایک گھنٹے سے نوٹ کر رہا تھا کہ وہ جب سے آئی تھی یوں ہی بیٹھی تھی
اور یہ نئی بات تھی کیونکہ سمن خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھی ..
کچھ نہیں بس ایسے ہی …
اور تم تو جانتے ہی ہو نہ کہ پچھلے کچھ دنوں میں کتنا کچھ ہو گیا ہے ..
سمجھ نہیں آتا کیا صحیح ہے اور کیا غلط ..
وہ کچھ الجھی الجھی سی لگی تھی اسکو ..
اسکا کبھی کبھی تو دل کرتا کہ اپنے باپ کو معاف کر دے ..
مگر اپنی ماں کی حالت دیکھ کر وہ اپنا ارادہ بدل لیتی تھی ..
سمن کی طرح وجدان کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھا
اسکی سوچوں میں بس حرم تھی ..
اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوتا جا رہا تھا اسکے ساتھ ..
اور سمن …
وہ سمن سے بھی تو وعدہ کر چکا تھا..
چلو چھوڑو یہ سب آج ہم دونوں کہیں باہر ڈنر کے لئے چلتے ہیں ..
کافی وقت ہو گیا ہم کہیں نہیں گئے ہیں …
سمن کی آواز پر وہ اپنی سوچوں سے باہر آیا تھا ..
ہمارا موڈ بھی اچھا ہو جائے گا
کیوں ٹھیک کہہ رہی ہوں نہ میں ..
وہ مسکرا کر بولی تھی اس نے بھی ناچاہتے ہوئے ہاں میں گردن ہلائی تھی …
اگر کوئی اور وقت ہوتا تو وہ منع کر دیتا مگر فلحال وہ خود بھی اپنی سوچوں سے پیچھا چھوڑنا چاہتا تھا اس لئے اٹھ کھڑا ہوا تھا …
آج ڈینر میری پسند کا ہوگا
سمن اسکے ساتھ چلتی ہوئی بولی تھی
اسکی بات پر وجدان مسکرایا تھا مگر سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکی مسکراہٹ یکدم سے غائب ہوئی تھی …
تم یہاں کیوں اۓ ہو.
صفدر خان کو اپنی کمپنی کے باہر کھڑا دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے
اسکی بات پر سمن نے اس شخص کی طرف دیکھا اسکے لئے وہ سخص بلکل اجنبی تھا ..
میں جانتا ہوں تمھیں میرا یہاں آنا بلکل پسند نہیں آیا ہے مگر بس اک بار میری بات سن لو ..
صفدر خان اسکی طرف بڑھا تھا ..
میں تمہاری اور نہ تمہارے بھائی کی کوئی بھی بات سننا چاہتا ہوں
بہتر ہے تم یہاں سے چلے جاؤ ..
وہ سمن کو لئے اپنی کار کی طرف بڑھا تھا ..
رک جاؤ بس اک بار سن لو ..
مجھے میرے بھائی نے یہاں نہیں بھیجا ہے میں یہاں اپنا گناہ قبول کرنے آیا ہوں ..
صفدر خان ان دونوں کے پیچھے چلتے ہوئے بولا
اسکی بات سے سمن اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ یہ شخص اسکے باپ کا بھائی تھا …
ہاشم بھائی نے جو کچھ بھی تمہاری خالہ کے ساتھ کیا ہے وہ سب میری وجہ سے کیا ہے
میں زمیدار ہوں تمہاری خالہ کی اس حالت کا …
وجدان جب بھی نہ رکا تو صفدر خان اسکو جاتا دیکھ یکدم سے بولا
اسکی بات پر وجدان کے بڑھتے قدم یکدم سے رکے تھے …
صفدر خان سمجھ گیا تھا اگر اسکو اپنے بھائی کی معافی چاہئے تھی تو اسکو اپنے بھائی کی زندگی میں سب کچھ ٹھیک کرنا ہوگا ..
انکی ساری خوشیاں انکی بیٹی اور بیوی کو واپس انکی زندگی میں لانا ہوگا …
ہاں میں گنہگار ہوں ہاشم بھائی کے دل میں غلطفہمی ڈالنے والا میں ہوں
وہ تو بےقصور ہیں ..
صفدر خان اک پل کے لئے رکا اور خاموش کھڑے وجدان کو دیکھا تھا …
صفدر خان بول رہا تھا جبکہ وجدان اور سمن خاموش کھڑے اسکی اک اک بات کو سن رہے تھے ..
اسکی ماں اور حرم صحیح کہہ رہی تھی
ہاشم خان کا بس اتنا قصور تھا کہ اس نے بس اپنی محبت پر یقین نہیں کیا تھا..
بےقصور تو حرم بھی تھی غلط تو اس نے حرم کے ساتھ بھی کیا تھا ..
وجدان کے دل پر بوجہ بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔
میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میرے کیے کی سزا میرے بھائی کو نہ دو ..
اسکو اسکی پریشے لوٹا دو ..
اور اپنی آنی سے کہنا کہ اسکا مجرم میں ہوں وہ مجھے جو سزا دیگی مجھے قبول ہے بس میرے بھائی کو معاف کر دیں ..
صفدر خان اپنی بات مکمل کر کے کچھ دیر تو اسکی طرف دیکھتا رہا
اسکو خاموش دیکھ کر تھکے قدموں سے اپنی کار کی طرف بڑھا تھا …
اس نے اپنی پوری کوشش کی تھی اپنے بھائی کی خوشیاں واپس لانے کی آگے بس امید کر سکتا تھا کہ وہ سب سمجھ جائے …
‘ ” سمن تم گھر جاؤ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ..
صفدر خان کے جانے کے بعد وہ حیران پریشان کھڑی سمن سے مخاطب ہوا ..
پر تم کہاں جا رہے ہو اس طرح سے …
اسکو تیزی سے اپنی کار کی طرف بڑھتا دیکھ سمن پریشان ہوئی تھی …
تم فکر مت کرنا میں آ جاؤں گا تم سیدھا گھر جاؤ ..
وہ کار کا دروازہ بند کرتا ہوا بولا اس سے پہلے کہ سمن اور کچھ کہتی اسکی کار تیزی سے اسکے پاس سے گزری تھی …
سمن بس اسکی کار کو دور جاتا دیکھتی رہی تھی .
💞💞
گھنٹوں سڑک پر کار دوڑانے کے بعد وہ آدھی رات کو گھر واپس آیا تھا ..
اس دوران سادیہ بیگم اور سمن اسکو کتنی ہی بار کال کر چکی تھی مگر وہ انکی کال پک نہیں کر رہا تھا ..
وہ جانتا تھا کہ سمن اسکی مام کو آج ہوئی سب باتیں بتا چکی ہوگی لیکن وہ فلحال کسی بھی بارے میں بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا …
اور اسکو جسکی کال کا انتظار تھا اس نے تو اک بار بھی اسکو کال نہیں کی تھی
اور وہ کرتی بھی کیوں ..
اسنے اس بات کا اسکو حق ہی کب دیا تھا …
آج تک اس نے جس طرح کا رویہ اسکے ساتھ رکھا ہوا تھا اسکے بعد وہ کیوں اسکی فکر کرتی کیوں اسکو فون کرتی …
یہ سوچ آتے ہی وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا پھر اپنی ماں کا خیال آتے ہی کہ وہ اسکی فکر کر رہیں ہوگی تو اس نے گھر فون کرکے انہیں اپنی خیریت کی خبر دے دی تھی…
وہ تھکے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا کمرے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے نظر اسکی صوفہ پر لیٹی حرم پر پڑی تھی ..
وہ اس چھوٹے سے صوفہ پر بھی کتنی سکون سے لیٹی سو رہی تھی
سوتے وقت بھی اسکے چہرے پر اک سکون تھا
شاید جنکے دل پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا ہے وہ لوگ یوں ہی آرام اور سکون کی نیند سوتے ہیں ..
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکے پاس آیا اور کتنی ہی دیر کھڑا اسکو سوتا ہوا دیکھتا رہا تھا .
کچھ سوچ کر جھکا اور بہت ہی آہستگی سے اسکو اپنے بازوں میں اٹھایا تھا
وہ پہلے ہی دن سے حرم کو یہاں لیٹنے سے منع کرنا چاہتا تھا مگر ہر بار اسکی انا بیچ میں آ جاتی تھی …
‘ اس نے بہت ہی آہستگی سے اسکو بیڈ پر لیٹایا تو حرم ہلکا سا کسمسائی تھی مگر نیند سے بےدار نہیں ہوئی تھی …
اسکو لیٹانے کے بعد وہ خود بھی اسکے پاس آں لیٹا اور بہت ہی نرمی سے اسکا سر اپنے سینے پر رکھا تھا ..
اس وقت وہ کچھ بھی نہیں سوچنا چاہتا تھا نہ یہ سوچنا تھا کہ سب سچائی معلوم ہونے کے بعد آگے کیا کرنا ہے
یا کیا ہونے والا ہے …
اسکو بس اس وقت حرم کو اپنے پاس محسوس کرنا تھا
صرف اسکو سوچنا چاہتا تھا
حرم کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ اک سکون سا محسوس کر رہا تھا
اور کچھ دیر بعد وہ خود بھی نیند کی وادیوں میں اتر گیا تھا …
💞💞
“””””””””””(جاری ہے )””””””””