Harjai By Iqra Sheikh Readelle502003 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
میں تم لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آخر تم سب کہاں تھے اس وقت جب وہ یہاں سے جا رہی تھی ..
” تم میں سے کسی نے اسکو روکا کیوں نہیں .
” جواب دو مجھے ..
” ‘ اسکی دہاڈ اس وقت پورے لاؤنج میں گونج رہی تھی ….
” جبکہ اسکے غصّے سے سارے ملازم ایک کونے میں سہمے کھڑے تھے ..
” ‘ میں تم لوگوں سے کچھ پوچھ رہا ہوں جواب دو مجھے ..
‘” وہ اک بار پھر غصّے میں بولا تھا
اس وقت اسکی رگے تنی ہوئی تھی جبکہ ضبط کی وجہ سے آنکھیں لال ہو چکی تھی …
‘ ” اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنے سامنے کھڑے وں سارے ملازموں کا قتل ہی کر دیتا ..
‘ ” اسکی دہاڈ پر سارے ملازم اک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تھے
کسی میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اسکی بات کا جواب دے سکے …
‘ ” میں نے منع کیا تھا ان لوگوں کو کہ اسکے جانے سے کوئی نہ روکے …
‘ ” وہ کھڑا خونخار نظروں سے ان سب سکو دیکھ رہا تھا جب اسکو اپنے پیچھے سے صادیہ بیگم کی آواز سنائی دی تھی ..
‘ ” انکی بات سن کڑ وہ یکدم سے انکی طرف مڑا تھا..
” اس بیچ ووہ سبھی ملازموں کو وہاں سے جانے کہ اشارہ کر چکی تھی ..
‘ ” مام آپنے اسکو کیسے جانے دیا ی جاننے کے باوجود بھی کہ میں اسکے بغیر ادھورا ہوں
نہیں رح سکتا میں اسکے بنا ..
” وہ بےیقینی سے انکی طرف دیکھا ھوا بول رہا تھا..
‘ ” تم نے اج تک اسکے ساتھ جو بھی کیا ہے میں خاموشی سے دیکھتی رہی ہوں دانی
.. اور آج اس نے پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا تھا میں انکار نہیں کر سکی ..
‘ ” وہ اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہیں تھی وہ جانتی تھی کہ انہونے اسکے ساتھ غلط کیا ہے مگر وہ اپنے بیٹے کو اسکی غلطیوں کا احساس دلانا چاہتی تھی
” ‘ اس لئے یہ کرنا بہت ضروری تھا ..
” ‘ مام یہ آپنے اچھا نہیں کیا ہے ..
مگر میں اسکو اتنی آسانی سے جانے نہیں دوں گا ..
‘ ” وہ اک شکوہ بھری نگاہ ان پر ڈالتا باہر کی طرف بڑھا تھا …
‘ ” دانی رک جاؤ تم پہلے ہی اسکے ساتھ بہت کچھ غلط کر چکے ہو مگر اب نہیں
اسکو وقت دو وہ شاید خود ہی واپس آ جائے گی ..
‘ ” مگر تم پھر سے اسکے ساتھ زبردستی مت کرو .
‘ ” وہ اسکو باہر کی طرف بڑھتا ھوا دیکھ کر بولی تھی ..
‘ ” جانتی تھی اپنے بیٹے کو جو وہ کہتا ہے اسکو پورا کرکے ہی رہتا تھا .
پھر چاہے سامنے والے کی اس چیز میں مرضی ہو یا نہ ہو ..
‘ ” نہیں مام وہ ایسے نہیں جا سکتی اسکو یہیں واپس آنا ہے
کیونکہ وہ میری ہے صرف میری ..
‘ ” اور جب وہ میری ہے تو اس میں زبردستی کیسی …
” اپنی بات کہہ کر وہ رکا نہیں تھا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا .
” جبکہ سادیہ بیگم خاموشی سے بس اسکو جاتا دیکھتی رہیں تھیں …
” ‘ وہ تیزی سے اپنی کار کی طرف آیا اور جلدی سے بیٹھ کر کار سٹارٹ کی تھی ..
‘” ” وہ اسکو اتنی آسانی سے خود سے یوں دور جانے نہیں دیگا …
اسکے دماغ میں بر بار سادیہ بیگم کے الفاظ گونج رہے تھے ..
‘ ” وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہیں تھی
کتنی تقلیف دی تھی اس نے اج تک اسکو
بلکہ وہ اک اور نئی تقلیف اسکو دینے جا رہا تھا ..
” یہ جاننے کے باوجود بھی کہ اسکو کتنا دکھ ہوا ہوگا اسکے اس فیصلے سے ..
” ‘ پانچ ماہ صرف پانچ ماہ پہلے وہ جس لڑکی سے بےپناہ نفرت کا اظھار کرتا تھا مگر ان پانچ مہینوں میں اسکی یہ نفرت کہیں کھو سی گئی تھی ..
” وہ اس سے عشق کرنے لگا تھا .
کبھی کبھی تو وہ سوچتا تھا کہ وہ اسکو یوں اس طرح نا ملی ہوئی ہوتی کاش وہ اسکو الگ جگہ الگ حالات میں ملی ہوتی تو اسکی زندگی کتنی حسین ہوتی …
” مگر ایسا نہیں تھا وہ اسکو غلط وقت پر ملی تھی اور اسی کی سزا وہ اسکو دیتا آیا تھا یہ جاننے کے باوجود بھی کہ وہ بےقصور تھی ..
” ‘ وہ اب صرف پچھتانے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا تھا
💞💞
‘ ‘ مامی آپنے مجھے بلایا تھا ?
‘ “وہ ماریہ کے روم میں داخل ہوتے ہی بہ بہت ہی آہستہ آواز میں ان سے مخاطب ہوئی تھی “
” ‘ اس نے ہمیشہ کی طرح آنکھیں نیچی کی ہوئی تھی
جبکہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسل رہی تھی ..
‘ ” ماریہ جو بیڈ پر پڑے کپڑوں کا جائزہ لے رہیں تھیں حرم کی آواز پر یکدم سے مڑی تھیں ..
‘ ” اس پر نگاہ پڑتے ہی انکی آنکھوں میں یکدم سے ناگواری آئی تھی ..
‘ ” انکو ہمیشہ ہی اسکے اس سے اور اسکے پہنے ہوئے کپڑوں سے چیڑ ہوتی تھی .
‘ ” اس وقت وہ ڈارک گرین کلر کے سوٹ پر گرین ہی کلر کا دوپٹہ اپنے ارد گرد اچھی طرح لپیٹ رکھا تھا’
‘ ” جبکہ وہ لوگ ہائی سوسائٹی سے تعلق رکھتے تھے اور وہ خود ایک موڈرن خاتون تھی
‘ ” یہ ہی وجہ تھی کہ انکو ہمیشہ سے ہی حرم کی ڈریسینگ سے خاصی چیڑ ہوتی تھی ..
‘ ” کوئی بھی اسکو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ باہر ملک سے پڑھ کر آئی ہوئی ہے ..
‘ ” ہاں یہ لو میں نے خاص آج رات کی پارٹی کے لئے تمہارے لئے یہ ڈریس تیار کروائی ہے
آج تم یہ ہی پہن کر جانا ولید کے ساتھ …
‘ “” وہ اسکو ایک ریڈ کلر کی خوبصورت سی ڈریس دکھاتے ہوئے بولی تھی ..
‘ ” حرم کو وہ ڈریس بہت ہی پسند آئی تھی مگر اسکا گہرا گلا اور سلیولیس دیکھ کر اسکی پسندیدگی یکدم سے ناپسندیدگی میں بدلی تھی ..
‘ ” کیا ہوا پکڑو اسے ایسے کھڑی کیوں دیکھ رہی ہو
‘ ” اسکو ایسے ہی خاموش کھڑا دیکھ کر وہ اس سے پھر سے مخاطب ہوئی تھی ..
‘ “مامی میں یہ ڈریس نہیں پہن سکتی ہوں .
‘ ” انکی سرد آواز پر حرم بمشکل بول پائی تھی .
‘ “” کیوں ?
‘ “” کیوں نہیں پہن سکتی تم یہ ڈریس
کیا کمی ہے اس میں ?
” ‘ ماریہ کا لہجہ یکدم سے سخت ہوا تھا
‘ ” مامی آپ جانتی ہیں کہ میں اس طرح کے کپڑے نہیں پہنتی ہوں ..
اسکے ساتھ تو کوئی دوپٹہ بھی نہیں ہیں .
‘ ” وہ آہستہ آواز میں انکو اس ڈریس کی کمیاں بتا رہی تھی
جبکہ ماریہ کی نظر میں یہ کوئی کمی نہیں تھی بلکہ اس ڈریس کی خوبصورتی تھی ..
‘ ” میں سب جانتی ہوں مگر تم بھول رہی ہو کہ تم اب میری بہو بننے والی ہو
اور میں یہ ہرگز برداشت نہیں کروں گی کہ تم میری کوئی بھی بات کو ٹالو ..
‘ ” اس لئے بہتر ہے کہ تم ہر طرح کی چیزوں کی عادت ڈال لو کیونکہ ولید کی پسند سے تو تم اچھی طرح واقف ہو ..
‘ “ماریہ اسکو جتانے والے انداز میں سمجھا رہی تھی جس پر حرم بس خاموشی سے انکو دیکھتی رہ گئی تھی ..
‘ ” یہ لو جلدی جاؤ اور اچھے سے تیار ہونا آج ولید کے لئے بہت بڑا دن ہے تمھیں سب سے زیادہ خوبصورت دیکھنا ہے پارٹی میں ..
‘ ” ماریہ اسکے ہاتھ میں ڈریس دیتی ہوئی بولی تو حرم خاموشی سے انکے روم سے نکل گئی تھی .
‘ ” یہ تو اسکے ساتھ ہوتا ہی رہتا تھا جس چیز کو وہ سب سے زیادہ ناپسند کرتی تھی وہ ہی چیز اسکو کرنی پڑتی تھی …
‘ ” اگر مجبوری نہ ہوتی نہ تو میں کبھی اس لڑکی کی شادی اپنے بیٹے سے کبھی نہ کرتی ..
ماریہ اسکے جانے کے بعد خود سے بولتی پھر سے اپنے کام میں لگ گئی تھیں ….
💞💞
” ‘ یہ شہر کا بہت ہی شاندار ہوٹل تھا جہاں اس وقت وہ موجود تھی ..
‘ “” آج ولید خان کی سالگرہ کی پارٹی تھی .
پارٹی اس وقت اپنے عروج پر تھی
‘ ” لوگ اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے ..
‘ ” مگر ایک وہ تھی جو کونے میں سب سے الگ کھڑی تھی .
‘ ” وہ یہاں بہت سارے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ وہ اس وقت ماریہ مامی کی گھورتی ہوئی نظروں سے بچنے کے لئے یہاں کھڑی تھی ..
” ‘ اس نے اس وقت انکا دیا ہوا ڈریس ہی پہنا ہوا تھا مگر اس نے دوپٹے کا اضافہ کیا ہوا تھا جو ماریہ کو ذرا پسند نہ آیا تھا …
‘ ” حرم کی یہ حرکت ماریہ کو سخت ناگوار گزری تھی
اس لئے وہ انکی گھورتی نظروں سے بچ کر کونے میں آ کھڑی ہوئی تھی .
‘ ” یار حرم تم یہاں کھڑی ہو اور میں تمھیں سب جگہ تلاش کر رہا تھا
‘ ” چلو آؤ تمھیں اپنے دوستوں سے ملواتا ہوں ..
‘ ” وہ کھڑی اپنی سوچوں میں گم تھی جب ولید اسکے پاس آیا تھا ..
‘ ” نہیں ولید میں یہیں پر ٹھیک ہوں اور میرے سر میں بھی درد ہے میں پھر کبھی مل لونگی ..
‘ ” حرم بہانہ بناتی ہوئی بولی تھی ..
‘ ” کیونکہ وہ ولید کے دوستوں کو دیکھ چکی تھی
اور وہ اک ہی نظر میں سمجھ گئی تھی کہ اسکے دوست کی طرح کے ہیں …
‘ ” اسلئے اس نے ولید کو ٹالنا چاہا تھا .
‘ ” کچھ نہیں ہوا ہے تمھیں تم چپ چاپ چلو میرے ساتھ ‘
” اسکے جواب پر ولید نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو اپنے ساتھ کھینچتا ہوا اپنے دوستوں کی طرف بڑھا تھا …
‘ ” پلز ولید میں نے کہا نہ کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو مجھے نہیں ملنا کسی سے .
‘ حرم کو ولید کی حرکت بلکل پسند نہیں آئی تھی وہ بہت ہی آہستہ سے اسکا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتی بولی تھی ..
‘ ” جبکہ حرم کی اس حرکت پر ولید کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے
وہ یہاں اسکو کچھ کہہ کر اپنا تماشہ نہیں بنوانا چاہتا تھا اس لئے اپنا غصّہ ضبط کر گیا تھا ..
‘ ” حرم تم نے یہ آج پہلی اور آخری بار کیا ہے آئندہ ایسا کچھ کیا نہ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ..
‘ ” ولید کی آواز بہت ہی آہستہ تھی مگر اسکا لہجہ سخت تھا جس پر حرم کو تھوڑا ڈر محسوس ہوا تھا
‘ ” ولید اپنی بات کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے دوستوں کی طرف بڑھا تھا ..
” اسکے جانے کے بعد حرم سکھ کا سانس لیتی وہاں سے ہٹی اور باہر کی طرف بڑھی تھی ..
‘ ” اسکو اس وقت صرف تنہائی چاہئے تھی جو یہاں نہیں مل سکتی تھی …
💞💞
‘ ” سر پلز سنے آپ ایسے ہی بنا میٹنگ کیے نہیں جا سکتے ہیں …
سر سنے ….
‘ ” وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس ہوٹل سے باہر نکل رہا تھا جبکہ اسکی سکیٹری کو تکربن اسکے پیچھے بھاگنا پڑ رہا تھا “
‘ ” مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرنا جنہیں وقت کی قدر نہیں ہے ..
‘ ” وہ اپنے ہاتھ پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا بولا تھا ..
‘ ” سر صرف پانچ منٹ ہی تو لیٹ ہوئے ہیں ہم لوگ ایسے کیسے میٹنگ ادھوری چھوڑ کر آ سکتے ہیں .
‘ ‘ اسکی سکیٹری نے اسکو بتانا ضروری سمجھا تھا کیونکہ اسکی نظر میں پانچ منٹ لیٹ ہونا معمولی بات تھی ..
‘ ” آپکے لئے پانچ منٹ لیٹ ہونا کوئی معنے نہیں رکھتا لیکن میرے لئے ہر اک منٹ ضروری ہے .
‘ ” آفریدی صاحب سے کہنا کہ دوبارہ یہ غلطی نہ کریں ..
ہماری نیکسٹ میٹنگ دو دن بعد ہوگی …
‘ “وہ اک پل کے لئے رکا اور اپنی سکیٹری کو ہدایت دیتا پھر سے تیزی سے پارکنگ کی طرف بڑھا تھا ..
‘ ” حرم آہستہ سے قدم اٹھاتی واپس سے اندر کی ترف بڑھ رہی تھی جب سامنے سے کوئی آندھی طوفان کی طرح تیزی سے اس سے ٹکرایا تھا ..
‘ ” وہ اسکے ٹکرانے سے گرتے گرتے بچی تھی مگر اسکا دوپٹہ اس شخص کے پیروں میں الجھ کر زمین پر گر چکا تھا …
‘ ” اپنا دوپٹہ گرنے پر حرم یکدم سے ہڑبڑا کر جھکی اور اپنا زمین پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر پھر سے اپنے گرد اچھی ترح لپیٹا تھا …
‘ ” اگر انسان چلتے وقت اپنی ٹانگوں کے ساتھ ساتھ اپنی آنکھوں کا بھی استمال کر لے تو زیادہ بہتر ہو جائے گا ..
‘ ” وہ خود ہی خود بولی تھی اس بات سے انجان کہ وہ سخص جو اسکے ٹکرانے پر رکا تھا اور اب کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اسکی آہستہ آواز میں کہی بات بھی سن چکا تھا ..
‘ ” اسکا غصّہ تو پہلے ہی بڑھا ہوا تھا حرم کی بات نے اسکا غصّہ مزید بڑھا دیا تھا …
‘ ” جب ایسے بیہودہ لباس پہنتے ہوئے شرم نہیں آئی تو اسکو چھپانے کا ناٹک کیوں کرنا ..
‘ ” وہ اسکی ہڑبڑاہٹ دیکھ چکا تھا اسلئے صاف اس پر طنز کیا تھا …
‘ ” ویسے بھی تم جیسی لڑکیاں تو ایسے موقوں کی تالاش میں رہتی ہو ..
جانتا ہوں میں تم جیسی لڑکیوں کو …
‘ ” اپنی غلطی ہونے کے باوجود وہ سارا الزام اس پر ڈال رہا تھا اوپر سے اسکے الفاظ سن کر حرم کا چہرہ یکدم غصّے سے لال ہوا تھا ..
‘ ” اس سے پہلے کہ وہ اور کوئی غلط بات اسکے بارے میں بولتا حرم کا ہاتھ اٹھا تھا اور اسکے چہرے پر اپنے نشان چھوڑ چکا تھا “
‘ ” وہ اتنی بہادر نہیں تھی مگر کوئی اسکے بارے میں ایسے الفاظ استمال کرے یہ اسکو بلکل برداشت نہیں تھا …
‘ ” تمہاری اتنی ہمت تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا
وجدان شاہ پر …..
‘ ” اس نے غصّہ میں اسکا بازو سختی سے اپنی پکڑ میں لیا تھا .
‘ ” اسکی پکڑ کی سختی اور آنکھوں میں غصّہ دیکھ کر اک پل کے لئے حرم کے پورے بدن میں کپکپاہٹ دوڑ گئی تھی ..
‘ ” اس نے تھپڑ مار تو دیا تھا مگر اسکو اب ڈر لگ رہا تھا اوپر سے سنسان جگہ تھی ..
حرم کی ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندے جما ہو گئی تھی .
‘ ” سر آپکی مام کی کال ہے بہت ضروری ہیں انہونے بولا ہے کہ آپ فورن سے گھر پہنچ جائے …
‘ ” اسکی سکیٹری یکدم سے وہاں آئی تھی
حرم کو وہ اس وقت کسی فرشتے سے کم نہیں لگی تھی …
‘ ” اپنی سکیٹری کی بات پر اس نے ایک جھٹکے میں اسکا بازو اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا ..
‘ وہ بہت اچھے سے جانتا تھا کہ اسکی مام بلا وجہ اسکی کبھی کال نہیں کرتی ہیں ضرور کچھ بات تھی.
‘ ” میرا موبائل دو مجھے ..
اس نے اپنی سکیٹری سے اپنا موبائل مانگا جس پر اس نے جلدی سے اسکو موبائل دیا تھا
وہ جلدی سے اپنی کار کی طرف بڑھا اسکے پیچھے پیچھے اسکی سکیٹری بھی بھاگی تھی ..
‘ ” جبکہ حرم خاموش کھڑی اسکی جلد بازی دیکھ رہی تھی …
‘ ” اسکو یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ شخص آنکھوں میں غصّہ لئے اسکو دیکھ رہا تھا جیسے اسکو یہیں ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر اسکے یوں جانے پر وہ حیران کھڑی رہ گئی تھی ….
💞💞
“”””””””(جاری ہے )””””””
