Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

‘ ” اسکی آنکھ کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی سے کھلی تھی .
جو سیدھا اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی ..
اسکے پہلے تو کچھ سمجھ نہیں آیا تھا
مگر انجان کمرہ دیکھ کر وہ ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھی تھی .
‘ ” کل کا پورا منظر اک اک کر کے اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا ..
اسکی آنکھ سے آنسوں پھر سے بہنا شروع ہو چکے تھے ..
‘ ” کچھ آنسوں بچا کر رکھو آگے بھی انکی بہت ضرورت پڑنے والی ہے
‘ ” وہ کمرہ میں داخل ہوا تو اسکو آنسوں بہاتا دیکھ کر سخت لہجے میں بولا تھا ..
‘ ” مگر حرم پر نظر پڑتے ہی جیسے اسکی نظروں نے پلٹنے سے انکار ہی کر دیا تھا ..
‘ ” وہ کل سے اسکی دلہن کے لباس میں مبلوث تھی زیادہ رونے کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو چکی تھی بال بکھر کر چہرے پر آ رہے تھے ..
‘ ” وہ اپنے نام کی ہی طرح خوبصورت تھی ..
‘ ” اس بات کا عتراف اس نے جب حرم کو پہلی بار دیکھ کر اپنے دل میں کیا تھا .
‘” نہیں وجدان تم اسکی تعریف کرنے کے لئے نہیں لاۓ تھے تمہارا تو کچھ اور مقصد تھا
ہاشم خان سے بدلہ لینا ہے تمھیں ..
‘ ” اس نے یکدم سے نفرت سے سوچا تھا
اور تیزی سے بیڈ کی طرف اپنے قدم بڑھاۓ تھے.
‘ ” میرے قریب مت آؤ پلز
دور رہو مجھسے …
حرم اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر جلدی سے بیڈ سے اٹھی تھی ..
‘ ” اسکو اس وقت اپنے سامنے موجود شخص کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ..
‘ ” تمہارے ماما کو بھی تو پتہ چلنا چاہیے نہ کہ کسی کی بہن کے ساتھ برا کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے ..
وہ غصّے سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا .
‘ ” نہیں پلیز ایسا مت کرو
ماموں جان نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے تمھیں ضرور کوئی غلطفہمی ہوئی ہوگی …
وہ کسی کے ساتھ کبھی غلط کر ہی نہیں سکتے ہیں
حرم کے لہجے میں اپنے ماما کے لئے یقین تھا ..
‘ ” مجھے کوئی غلطفہمی نہیں ہوئی ہے
ہاں تم ضرور کسی غلط فہمی میں رہ رہی ہو کہ تمہارے ماموں کسی کے ساتھ غلط نہیں کر سکتے ہیں ..
‘ ” جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ کسی معصوم کے ساتھ ظلم کر چکے ہیں ..
‘ ” اور میں تمھیں یہاں اسی ظلم کی سزا دینے کے لئے لایا ہوں
اب اسے پتہ چلےگا کہ کسی کی عزت کے سے کھیلنا کیا ہوتا ہے ..
‘ ” جب وہ خود پورے شہر میں بدنام ہوگا تب اسے یاد آۓ گا کہ اس نے بھی کسی کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا تھا ..
‘ ” وہ سپاٹ لہجے میں بولا اور ایک جھٹکے میں اسکا بازو پکڑ کر اسکو اپنی طرف کھنچا تھا ..
‘ ” اسکی آنکھوں میں نفرت اور غصّہ دیکھ کر حرم سہم گئی تھی ..
اپنی عزت کی حفاظت کے لیے وہ دل ہی دل میں دعایں مانگنے لگی تھی ..
‘ ” پلیز تم میری جان لے لو مجھے مار دو
میں تمھیں اپنا خون معاف کرتی ہوں .
پر پلیز یوں میری آن میری آبرو کا خون مت کرو
میری عزت کا قتل مت کرو …
‘ ” حرم اسکے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر اس سے گزارش کر رہی تھی ..
جانے اسکے الفاظ میں کیا درد تھا کہ وجدان کچھ لمحے کھڑا اسکو روتا دیکھتا رہا تھا ..
‘ پھر یکدم سے اسکو چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا
حرم حیران پریشان سی کھڑی اسکو باہر جاتا دیکھتی رہی تھی ..
‘ ” تھوڑی دیر جب وہ واپس آیا تو مولوی صاحب اور گواہ اسکے ساتھ موجود تھے …
ذرا سی دیر میں وہ حرم سے حرم وجدان شاہ بن گئی تھی ..
اس بار اس نے سچ میں اس سے نکاح کر لیا تھا
اور وہ یہ نکاح کرنے کے لئے مجبور تھی …
‘ “لیکن کہیں نہ کہیں دل میں یہ اطمینان بھی ہو گیا تھا کہ اسکی عزت اب محفوظ تھی ..
‘ ” تھوڑی دیر بعد جب وہ لوٹا تو اسکو دیکھ کر حرم خوفزدہ ہوکر دل بڑے زور سے دھڑکا تھا …
‘ ” وجدان کچھ دیر تو ماتھے پر بل ڈالے اسکو دیکھتا رہا پھر الٹے قدم واپس کمرے سے نکل گیا تھا ..
‘ “اسکے جانے پر حرم شکر ادا کرنے لگی تھی کیونکہ فلحال وہ اور کوئی اذیت برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی …
💞💞
‘ ” وہ جلدی سے اپنی ساری ضروری بک بیگ میں ڈالتی یونی جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی ..
‘ ” آج پھر سے اسکی دیر سے آنکھ کھلی تھی جس وجہ سے وہ آج یونی کے لئے لیٹ ہو چکی تھی
اب جلدی جلدی سے ہاتھ چلا رہی تھی ..
‘: ” ابھی وہ اپنی تیاری مکمل کر ہی رہی تھی کہ اسکے بیڈ پڑ پڑا فون یکدم سے بجا تھا .
‘ ” پریشے کی چلتے ہاتھ یکدم سے رکے تھے وہ بنا دیکھے بھی جان سکتی تھی اسکو فون کرنے والا کون ہیں ..
‘ ” سکرین پر سادیہ آپی کا نام دیکھ کر اسکے ہونٹوں نے ایک خوبصورت مسکراہٹ کو چھوا تھا ..
‘ ” اسلام علیکم آپی کیسی ہیں آپ ?
اس نے کال پک کرتے ہی سب سے پہلے انکی خیریت معلوم کی تھی ..
” ‘ وعلیکم اسلام میری جان ..
میں ٹھیک ہن تم بتاؤ کسی ہو ..
انکے لہجے میں اپنی بہن کے لئے محبت تھی .
” ” میں بھی ٹھیک ہوں آپی بس یونی جانے کی تیاری کر رہی ہوں آج تھوڑآ لیٹ ہو گئی ہوں میں.
ووہ بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی تھی .
لیٹ تو وہ ہو ہی چکی تھی اس لئے آج اس نے اب یونی جانے کے ارادہ بدل لی تھا ..
‘ ” ی تو تمہاری شروع سے عادت ہے ھر کام تمہارے ایسے ہیں ..
خیر یہ چھوڑو مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ تم کب آ رہی ہو مجھسے ملنے
جانتی ھو دانی بھی تمھیں کتنا ید کر رہا ہے ..
” وہ اپنے پانچ سالہ بیٹے کا ذکر کرتی ہوئی بولی تھی ..
سب اپنی بہن کی محبت کی وجہ سے انہونے اسکو دوسرے شہر پڑھنے کی اجازت دی تھی ورنہ وہ کبھی اسکو خد سے ڈور جانے نہیں دیتی ..
” آپی بس تین مہینوں کی بات ہے اسکے بعد تو میں ہمیشہ کے لئے آپکے پاس آ جاؤں گی ..
پھر آپکو میرے لئے وہاں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی …
” وہ اپنی بہن کے احساسات کو بہت اچھے سے سمجھتی تھی …
‘ ” آپی مجھے آپسے ایک بہت ضروری بات کرنی ہیں.
اس بار ووہ تھوڑا رک کڑ بولی تھی
بات ہی کچھ ایسی تھی جو وہ اپنی بہن کے سامنے کرنے سے تھوڑا جھیجھک رہی تھی ..
‘ ” ہاں بولو اس میں اتنے سوچ کر کیا بول رہی ہو تمہاری بہن ہوں میں تم مجھ سے کھل کر کچھ بھی بات کر سکتی ہو ..
اسکی جھیجھک کو وہ نوٹ کرتے ہوئے بولی ..
‘” ” آپی یہاں یونی میں میرا بہت اچھا دوست ہیں اور ہم دونوں یونی کے پہلے دن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ..اور وہ ..
پریشے چاہتی تھی کہ جانے سے پہلے وہ اپنی آپی کو سب بتا دیگی تاقی آگے چل کر اسکی بہن کو کوئی دکھ نہ ہو کہ اسکی بہن ن اتنی بڑی بات ان سے اج تک چھپا کڑ رکھی ہوئی تھی ..
‘ ” پریشے شاید تم بھول گئی ہو جب تم نے مجھ سے یہاں پڑھنے کی اجازت مانگی تھی ٹو میں نے سب سے پہلے تم سے اس بات کا وعدہ لیا تھا کہ تم اس راہ پر کبھی نہیں چلوگی ..
‘ ” اور نہ ہی مجھے یہ سب پسند ہے تو بہتر ہے کہ تم جب یہاں واپس آؤ تو اپنے دماغ سے ی سب باتیں نکال کر آنا …
سادیہ اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی غصّے میں بول اٹھی تھی ..
‘ ” پر آپی میری بات تو سنے وہ ایسا بلکل نہیں ہے
پریشے اسکی حمایت میں بولی تھی
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسکی بہن کی یہ باتیں پسند نہ کرنے کی کیا وجہ تھی ..
‘ ” ووہ چاہے کیسا بھی ہو بس میں نے جو بولا ہے وہ یاد رکھنا ..
اتنا کہہ کر انہونے فون رکھ دیا تھا ..
” ‘ پریشے بس فون کو دیکھتی رہ گئی تھی ..
اسکی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنی بہن کو کس طرح سے سمجھایں گی۔
ویسے بھی وں دونوں کا ایک دوسرے کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا …
‘ ” ماں باپ کے انتقال کے بعد سادیہ نے ہی اپنی چھوٹی بہن کی پرورش کی تھی ..
سادیہ کو لو میریج سے پسند نہیں تھی وجہ وہ خود اس میں بہت بڑا دھوکہ کھا چکی تھی ..
انکی شادی کے کچھ مہینوں بعد ہی انکا شوہر انکو چھوڑ کر کسی اور کیے پاس چلا گیا تھا ..
انکو پیار میں دھوکہ ملا تھا بس جب سے وہ ان سب چیزوں کے خلاف تھی .
اس لئے وہ اپنی بہن کے ساتھ بھی ایسا کچھ نہیں ہونے دینا چاہتی تھی ..
مگر اب پریشے کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب آگے کیا کرے گی…
💞💞
” ‘ وہ نہ جانے کب سے بس ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے ..
انکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ وجدان شاہ کے بارے میں کیسے معلوم کریں کہ اسکا پریشے کے ساتھ کیا رشتہ ہے ..
‘ ” دو دیں پہلے جب اسکا فون ایا تھا انکے پاس اور وجدان کے منہ سے پریشے کا نام سوں کر ووہ جیسے شاک ہی رح گئے تھے ..
‘ ” اسکے بعد انہونے وجدان کی بارے میں معلومات حاصل کروانی چاہی تھی مگر اب تک انکو کچھ خاص معلوم نہیں ہوا تھا اسکے بارے میں ..
‘” ” انکو رہ رہ کر اپنی حرم کی بھی فکر ہو رہی تھی نا جانے وہ کس حال میں ہوگی ..
پتہ نہیں ووہ کیا سلوک کر رہا ہوگا انکی حرم کے ساتھ ..
‘” ” انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حرم کو اسکے پاس سے لیں آئں مگر وہ اس وقت بہت بےبس تھے
چاہنے کے باوجود بھی وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے ..
‘ ” کیا ہوا ہے بھائی آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ..
صفدر جو بہت دیر سے انکو لاؤنج میں ٹہلت ھوا دیکھ رھا تھا
انکے قریب آ کر پوچھ بیٹھا تھا ..
‘ ” صفدر کی آواز پر وہ چونکے تھے
اور انکی ٹرف دیکھنے لگے تھے .
ہاں انہونے اپنے بھائی سے ابھی تک وجدان کی فون کے بارے میں کوچ نہیں بتایا ہے ..
‘ ” انکو صفدر سے بھی اس بارے میں بہت کرنی چاہئے شاید ووہ پتہ لگوا سکے کہ وجدان اور پریشے کا کیا رشتہ ہے ..
‘ ” صفدر وہ وجدان شاہ ہماری حرم کو اپنے بدلے کے لئے لیکر گیا ہے اور اسکا حرم سے نکاح کرنے کا بھی یہ ہی مقصد تھا …
‘ ” وہ جلدی سے انکی طرف دیکھ کر بولے تھے جبکہ انکی بات صفدر خان کو سمجھ نہیں آئی تھی ..
‘ ” بھائی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کیسا مقصد کیسا بدلہ
صفدر خان مزید ان سے جاننا چاہتا تھا ..
‘ ” جب وہ حرم کو یہاں سے لیکر گیا تھا اسکے اگلے دن وجدان شاہ نے مجھے فون کیا تھا .
وہ کہہ رہا تھا کہ وہ پریشے کا بدلہ لینے آیا ہے
وہ ہماری حرم کو تقلیف دیگا صفدر اسکو لے آؤ واپس کچھ کرو صفدر ..
‘ ” آخر وہ پریشے کیوں واپس آئی ہے آخر کیا چاہتی ہے وہ مجھ سے ..
ہاشم خان پریشانی سے بول رہا تھا
جبکہ ہاشم خان کے منہ سے پریشے کا نام سن کر صفدر کچھ پل کے لئے تو ہاشم خان سکو دیکھتا ہی رہ گیا تھا …
‘ ” اب اسکی سب سمجھ ا گیا تھا
شق تو اسکو پہلے ہی تھا وجدان شاہ پر اب ہاشم خان سے ساری بات سوں کر اسکا شق یقین میں بدل گیا تھا ..
” ‘ مگر اک بات سمجھ نہیں آئی آخر اتنے سالوں کے بعد یہ پریشے واپس کیوں آئی ہے ..
اور اب کیا چاہتی ہیں یہ سب کیوں کروا رہی ہے وہ.
‘ ‘ صفدر خان پرسوچ انداز میں بولا تھا
کچھ کچھ تو اسکی سمجھ آ رہا تھا
مگر ابھی بہت کچھ تھا جو جاننا ضروری تھا …
‘ ” بھائی آپ فکر نہ کریں میں کچھ نہ کچھ ضرور کروں گا ..
ہماری حرم کو کچھ نہیں ہوگا ..
صفدر انکو تسلی دیتا ہوا وہاں سے نکلا تھا ..
آخر حرم اور اسکی پراپرٹی واپس لانے کا راستہ مل ہی گیا ہے ..
ورنہ حرم کی شادی سے انکا پورا پلان خراب ہو گیا تھا …
وہ اب خوش تھا اور یہ بات سب سے پہلے ماریہ کو بتانی تھی …
‘ ” صفدر کے جانے کے بعد ہاشم خان صوفہ پر بیٹھ گئے تھے ..
انہونے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پریشے یوں اس طرح سے انکی زندگی میں واپس آۓ گی۔۔
” نفرت تو انکو اس سے کرنی چاہئے تھی بدلہ تو انکو لینا چاہئے تھا اس سے مگر وہ ایسا کر نہیں سکیں تھے ..
‘ ” کتنا برا کیا تھا اس نے انکے ساتھ اور آج تک صرف اسکی وجہ سے انہونے کبھی شادی نہیں کی تھی یا انکا یں سب باتوں سے ڈیل ہی اٹھ گیا تھا ..
‘ ” وہ آنکھیں بند کئے بیٹھے اسکے بارے میں سوچ رہے تھے جسکے کبھی نہ دیکھنے نہ سوچنے کی انہونے قسم کھائی تھی …
💞💞
‘ ” آپ مجھے کہاں لیکر جا رہے ہیں ..
پلز کچھ بولتے کیوں نہیں ہیں ..
‘ ” حرم مسلسل ڈرائیونگ کرتے وجدان سے روتے ہوئے سوال کر رہی تھی …
‘ ” مگر وہ تو جیسے اسکو سن ہی نہیں رہا تھا ..
‘ “نکاح کے بعد سے آج پورے دو دن بعد وہ واپس آیا تھا .
‘ اس سے نکاح کرنے کے بعد وہ جو گیا تھا ان دو دنوں میں اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا .
‘” اسکو خود پر غصّہ تھا کہ وہ تو ہاشم خان سے بدلہ لینے کے لئے اسکو اپنے ساتھ لیکر آیا تھا ..
مگر وہ اس سے نکاح کر چکا تھا ..
‘ ” آج جب پھر سے اسکی آنی کی طبیعت خراب ہوئی تو اسکا غصّہ حرم پر مزید بڑھا تھا ..
وہ سیدھا اسکے پاس آیا اور اسکو زبردستی کار میں بیٹھا کر تیزی سے ڈرائیو کر رہا تھا …
‘ ” آپ کچھ بتا کیوں نہیں رہے ہیں …
وہ پھر سے اس سے مخاطب ہوئی تھی .
دو دن سے جو وہ سکون سے گزرے تھے
آج وہ پھر سے اسکا سکون برباد کرنے کے لئے آ گیا تھا اور پتہ نہیں اتنے غصّے میں اسکو کہاں لیکر جا رہا تھا …
‘ “تمھیں تمہارے ماما کا کیا ہوا ظلم دکھانے کے لئے
وہ سخت لہجے میں اسکو جواب دیتا پھر سے سامنے کی طرف دیکھنے لگا تھا ..
‘ ” اسکا جواب سن کر حرم خاموشی سے اسکو دیکھ کر رہ گئی تھی
کچھ ہی دیر بعد گاڑی ایک خوبصورت سے ولا کے آگے رکی تھی ..
‘ ” نیچے اترو …
وہ اسکی سائیڈ پر آتا ہوا بولا تو اسکے کہنے پر حرم ڈرتے ڈرتے اتری تھی ..
‘ ” آپ مجھے یہاں کیوں لایے ہیں ..
وہ بمشکل بول پائی تھی .
‘” “ابھی پتہ چل جائے گا ..
وجدان نے سختی سے اسکا بازو پکڑا اور کھینچتا ہوا اسکو لیکر اندر کی طرف بڑھا تھا ..
‘ ” وہ اک بڑے سے کمرے میں داخل ہوا اور حرم کو زور سے زمین پر پٹخا تھا ..
زور سے گرنے کی وجہ سے حرم کی زور سے چیخ نکلی تھی ..
‘” وہ اس سے پہلے کہ اسکو دیکھتی اسکی نظر سامنے بیڈ پر بیٹھی ایک عورت پر پڑی تھی ..
اس عورت کے چہرے پر کتنی اداسی سی اور آنکھوں سے کس قدر ویرانی اور ڈر جھانک رہا تھا …
‘ ” اس عورت کو دیکھ کر حرم کو دکھ ہوا تھا ..
‘ “غور سے دیکھو انہیں ..
کیا تمھیں یہ کہیں سے بھی زندہ لگتی ہیں ..
وجدان نے سختی سے اسکے بال پکڑے تھے
اسکے ایسا کرنے پر درد کی وجہ سے حرم کی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا ..
‘ ” کون ہیں یہ …
حرم سے درد کی وجہ سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا ..
‘ ” یہ میری آنی ہیں اور انکی یہ حالت کرنے والا تمہارے ماما ہیں جنکو تم شریف سمجھتی ہو ..
‘ ” اس انسان نے میری آنی کو کہی کا نہیں چھوڑا ہے ..
دنیا انکو پاگل کہتی ہے اور انکی اس حالت کا زمیدار ہاشم خان ہے ..
‘ ” وجدان اسکے بال ایک جھٹکے میں آزاد کرتا نفرت سے بولا تھا ..
‘ ” یہ کیا ہو رہا ہے وجدان
اور یہ لڑکی کون ہے …
وہ جو حرم کو غصّے سے دیکھ رہا تھا سادیہ بیگم کی آواز پر اس نے دروازے کی طرف دیکھا تھا …
‘ ” سادیہ بیگم اسکی غصّے سے بھری آواز سن کر اس کمرے میں آئی تھی ..
مگر کمرے کے اندر کا منظر دیکھ کر وہ اپنی جگہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی …
💞💞
(جاری ہے )