Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

‘ ” وہ اپنے آفس میں بیٹھا کوئی فائل دیکھ رہا تھا جب اسکے فون بجا تھا .
‘ ” اس نے اک نظر فون کو دیکھ کر کال پک کی تھی.
‘ سر آپسے کوئی ہاشم خان صاحب ملنا چاہتے ہیں
میں نے انکو بہت منع کیا ہے کہ آپ فلحال کسی سے ملنا نہیں چاہتے ہیں ..
مگر میرے بتانے کے باوجود بھی وہ ضد کر رہیں ہے.
اسکی سکیٹری پریشانی سے ساری بات اسکو تفصیل سے بتانے لگی تھی ..
اپنی سکیٹری کی بات سن کر اک خوبصورت نے اسکے ہونٹوں کو چھوا تھا
پچھلے ساتھ دنوں میں وہ کم از کم دس بار اسکے آفس آ چکا تھا اس سے ملنے کے لئے
مگر ہر بار وہ ان سے بغیر ملے ہی ہاشم خان کو واپس بھیج دیتا تھا .
آفس سے مایوس ہو کر ہاشم خان نے اسکے گھر جانے کی بھی بہت کوشش کی تھی
آفس کی طرح انکو گھر میں انکو گھسنے نہیں دیا تھا
ہاشم خان کو یوں پریشان دیکھ کر وجدان کو جو سکون مل رہا تھا وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا تھا
” سر آپ بتایں میں کیا کروں ان لوگوں کو آج پھر واپس بھیج دوں ؟
اسکی سکیٹری نے اسکی خاموشی پر پھر سے اپنا سوال دوہرایا تھا
نہیں آج مت بھیجو آنے دوں انکو ۔
اس بار اس نے ہاشم خان سے ملنے کے بارے میں سوچ ہی لیا تھا
فون رکھنے کے بعد اسکی نگاہیں دروازے پر ٹک گئی تھی
وہ بس ہاشم خان کا پریشان چہرہ دیکھ کر اپنے دل کو سکون پہنچانا چاہتا تھا ..
‘ کچھ ہی دیر بعد ہاشم خان اسکے آفس روم کا دروازہ اک جھٹکے میں کھولتا غصّے میں اندر داخل ہوا تھا ..
جبکہ اسکے پیچھے ولید خان بھی تھا اسکو اپنے آفس میں دیکھ کر وجدان کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے
کیا چاہتے ہو تم اور میری بیٹی کو مجھسے کیوں نہیں ملنے دے رہے ہو
ہاشم خان غصّے میں بولتا اسکی طرف بڑھا تھا
آرام سے ….اور آواز ذرا نیچی رکھو یہ تمہارا نہیں میرا آفس ہے
وجدان اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا
جبکہ اسکا یہ انداز ولید کو اک آنکھ نہ بھایا تھا
میں کچھ نہیں بھولا ہوں
شاید تم اور تمہاری خالہ بھول چکی ہیں کہ میں کون ہوں ..
‘ ” اگر میری حرم کو تم نے ذرا سی بھی تقلیف دینے کی کوشش کی نہ تو تم دونوں کا وہ حال کروں کا زندگی بھر یاد رکھو گے ..
اسکی بات سن کر ہاشم خان سخت لہجے میں بولا تھا
کل ہی تو اسکو پریشے اور اسکے رشتے کے بارے میں معلوم ہوا تھا ..
‘ ” بس ہاشم خان خود پر قابو رکھو یہ مت بھولو کہ تمہاری بیٹی میری ہی قید میں ہے
اسکی بات نے وجدان کے غصّے کو مزید بڑھایا تھا
‘ تم سے امید بھی کیا کی جا سکتی ہے آخر اس عورت کی کے ساتھ جو رہتے ہو
کچھ تو اثر ہونا ہی ہے نہ اسکا …
‘ ہاشم خان طنزیہ انداز میں بولا تھا
زبان سمبھال کر ہاشم خان میری آنی کے بارے میں اک بھی لفظ بولا نہ تو ..
وجدان غصّے سے ہاشم خان کی طرف بڑھا تھا مگر کب سے خاموش کھڑا ولید اسکے سامنے آیا تھا
‘ تم یہ مت بھولو وجدان شاہ کہ اس وقت میں بھی یہاں ہوں تو ذرا اپنی زبان اور ہاتھ سمبھال کر رکھو .
اور رہی حرم کی بات تو .
ہم جلد حرم کو بھی تم سے آزاد کروا لیں گے
ولید اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا ..
ولید تم خاموش رہو مجھے بات کرنے دو
ہاشم خان سے اسکو اپنے پیچھے کیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی تماشہ ہو …
‘ ” اور تم کہہ دینا اپنی خالہ سے اس معصوم کو ہمارے بیچ لاکر اس نے بلکل اچھا نہیں کیا ہے
ہاشم اپنی بات کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا جس تیزی سے وہاں آیا تھا اتنی ہی تیزی سے اسکے روم سے نکل گیا تھا ..
اسکے جانے کے بعد ولید بھی اک نظر وجدان کو دیکھتا ہاشم کے پیچھے گیا تھا …
اچھا تو تم نے نہیں کیا ہے ہاشم خان بلکل اچھا نہیں کیا وہ وہیں کھڑا خود سے بولا تھا ..
💞💞
نہیں ہاشم یہ تم کیا کہہ رہے ہو میں ایسا کبھی نہیں کر سکتی ہوں
ہاشم کی پوری بات سن لینے کے بعد پریشے یکدم سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی
یار پری اس میں برائی کیا ہے ایک بات نکاح ہو جائے گا تو تمہاری آپی خود ہی ماں جائے گی
دیکھو تم نے کتنی کوشش کی ہے انہیں سمجھانے کی لیکن انہونے تمہاری کوئی بات نہیں سنی ..
ویسے بھی مجھے اب اس سے بہتر کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے
ہاشم اسکو پھر سے اپنی بات سمجھا رہا تھا
مگر پریشے اسکی بات سمجھنا ہی نہیں چاہ رہی تھی
ہاشم پلیز میں اپنی آپی کو یوں اس طرح سے دھوکہ نہیں دینا چاہتی ہوں
جب انکو معلوم ہوگا وہ تو بلکل ٹوٹ جائے گی
نہیں میں انکا بھروسہ نہیں توڑ سکتی ہوں
پریشے کی آنکھوں کے سامنے یکدم سے اپنی بہن کا چہرہ آیا تھا
صرف اک وہ ہی تو رشتہ تھا اسکا اس دنیا میں اور وہ انکو دکھ دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی
میں تمہارے احساسات کو سمجھتا ہوں
پر تم خود ہی دیکھو صرف ایک مہینہ رہ گیا ہے تمہارے واپس جانے میں
اور واپس جاکر تمہاری آپی نہ مانی اور نہ تمھیں آنے دیا ..
یا پھر تمہاری شادی کسی اور سے کروا دی تو کیا کروگی
کر لوگی کسی اور سے شادی ?
ہاشم اسکو آنے والی پریشانیوں سے آگاہ کر رہا تھا
اسکی بات سن کر پریشے کچھ لمحوں کے لئے تو خاموش ہی رہ گئی تھی
سچ ہی تو کہہ رہا تھا وہ
اگر آپی نے سچ میں ایسا کر دیا تو وہ کیا کرے گی
کیا وہ زندہ رہ لے گی ہاشم کے بغیر ..
نہیں میں ہاشم کے بغیر نہیں رہ سکتی میں مر جاؤں گی اسکے بغیر .
اسکے دل نے تڑپ کر کہا تھا …
ہاشم اگر آپی نہ مانی اور اگر انہونے مجھسے رشتہ توڑ لیا تو کیا کریں گے ?
وہ اسکی بات ماننے پر راضی تو ہو گئی تھی مگر اک سوال اسکو پریشان کر رہا تھا
ہم انکو منا لینگے پری ..
بس یہ بات یاد رکھنا پریشے جب ہم ساتھ دونوں ساتھ ہیں تو کچھ بھی کام ہمارے لئے ناممکن نہیں ہے
ہم انکو منا لینگے تم دیکھنا .
ہاشم نے اسکو اپنی بات کا یقین دلایا تھا
اور پریشے تو تھی ہی ہاشم کی دیوانی اسکی ہر بات پر بھروسہ کرنے والی ..
اسکی بات پر وہ ہکلے سے مسکرا دی تھی ..
💞💞
‘ ” سمن بیٹا کہاں جا رہی ہو اس وقت ?
سادیہ بیگم جو پریشے کے کمرے میں جا رہیں تھیں سمن کو باہر کی طرف جاتا دیکھ اس سے مخاطب ہوئی تھی
بس خالہ اپنی دوست کے پاس جا رہی ہوں تھوڑی دیر میں آ جاؤں گی
ویسے بھی جب سے وہ لڑکی اس گھر میں آئی ہے میرا اس گھر میں رہنا کہ بلکل دل نہیں کرتا ہے
اسکی شکل دیکھ کر ہی میرا غصّہ بڑھتا ہی رہتا ہے
سمن بےزاری سے بولی تھی۔۔
جبکہ اسکی بات سادیہ بیگم کو بلکل پسند نہیں آئی تھی
وہ اب اس گھر کا ہی فرد ہے وجدان کی بیوی ہے اور جتنی جلدی ہو تم اس بات کو تسلیم کر لو تمہارے لیے اتنا ہی اچھا ہوگا
سادیہ بیگم سخت لہجے میں بولی تھی
کیونکہ وہ اس بات سے بلکل انجان تھی کہ وجدان سمن سے شادی کا وعدہ کر چکا ہے
اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ حرم کو دل سے قبول کر چکی تھی ویسے بھی حرم انکو پہلی نظر میں پسند آ گئی تھی ..
چاہے شادی کس بھی حالات میں ہوئی ہو وہ حرم کو ہی وجدان کی بیوی قبول کر چکی تھی .
‘ آپ کچھ بھی کہہ لیں خالہ میں اس رشتے کو نہیں مانتی اور نہ وجدان کی نظر میں اس رشتے کی کوئی احمیت ہے
اس لئے مجھے کچھ بھی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے ..
وہ اپنی بات کہہ کر رکی نہیں تھی تیزی سے وہاں سے نکلی تھی
سادیہ بیگم بس اسکو جاتا دکھتی رہیں تھی
ویسے بھی انہیں اس سے یہی امید تھی ..
‘ سمن کے جانے کے بعد جب وہ پری کے روم میں گئی تو اندر کا منظر دیکھ کر وہ کچھ پل کے لئے حیران ہی رہ گئی تھی
حرم پریشے کے پاس بیٹھی انکو کھانا کھلا رہی تھی حیران کرنے والی بات جو تھی وہ پریشے تھی
جو آرام سے حرم کے ہاتھ سے کھانا کھا رہی تھی ورنہ وہ صرف وجدان یا سادیہ بیگم سے ہی کھانا کھاتی تھی
انکو یہ منظر دیکھ کر خوشی بھی ہوئی تھی اور ایک طرف اداس بھی
سمن پریشے کی اولاد ہونے کے بعد بھی اسکے پاس نہیں آتی تھی اور اک وہ تھی ..
‘ ” جسکو وجدان سزا کے طور پر یہاں لایا تھا ..
سادیہ بیگم نے حرم کو پریشے کے بارے میں سب بتا دیا تھا جسکو سن کر حرم کو بہت دکھ ہوا تھا
اسکو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسکے ماموں ایسا کر سکتے ہیں
مگر وہ ایسا نہیں ہے ضرور کوئی غلطفہمی رہی ہوگی حرم نے سادیہ بیگم سے بات کرنی چاہی تھی مگر انہونے اسکو خاموش کروا دیا تھا ..
جو بھی تھا دھوکہ ہوا تھا انکی بہن کے ساتھ اس لئے وہ اک لفظ نہیں سننا چاہتی تھی ہاشم خان کے بارے میں …
انکے چپ کرانے پر حرم خاموش ہو گئی تھی مگر اتنا تو اسکو یقین تھا اپنے ماموں جان پر کہ وہ کبھی کسی کے ساتھ غلط نہیں کر سکتے ہیں ..
‘ ” سادیہ بیگم کچھ دیر تو خاموشی سے کھڑی ان دونوں کو دیکھتی رہیں پھر واپس چلی گئی تھی
کیونکہ انکو لگ رہا تھا کہ حرم انکی بہن کا اچھے سے خیال رکھ سکتی ہے جو سچ بھی تھا …
💞💞
‘ ” سادیہ بیگم کے جانے کے بعد حرم پریشے کو کھانا کھلانے کے بعد پانی پلا رہی تھی جب انکے کمرے کا دروازہ پھر سے کھلا تھا ..
‘ حرم نے پلٹ کر دیکھا تو وجدان دروازے میں کھڑا خونخار نظروں سے اسکو گھور رہا تھا
تم میری آنی کے پاس کیا کر رہی ہو
اور کیا پلایا ہے تم نے انہیں …
وجدان غصّے سے اسکی طرف بڑھا تھا
اک تو پہلے ہی وہ ہاشم خان کی باتوں کی وجہ سے غصّے میں تھا
دوسرا حرم کی اپنی آنی کے پاس دیکھ کر اسکا غصّہ مزید بڑھا تھا ..
جبکہ اک پل کے لئے تو وہ حیران بھی ہوا تھا یہ دیکھ کر اسکی آنی کتنے آرام سے اسکے ہاتھ سے پانی پی رہی ہیں
مگر وہ بھی وجدان شاہ تھا اپنے تاثرات چھپانے میں ماہر
اس لئے اس نے جان بوجھ کر ایسے الفاظ بولے تھے
نہیں وہ تو میں بس انکو پانی پلا رہی تھی
حرم ڈرتے ڈرتے اپنی صفائی پیش کرنے لگی تھی
تم جیسے لوگوں کا کچھ بھروسہ نہیں ہے
تمہارے ماما کو میری آنی کو اس حال میں پہنچانے کے بعد بھی سکون نہیں مل رہا ہے
اور تم یہاں انکی خدمت کرکے کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہو
کہ تم بہت معصوم ہو ..
اگر تمھیں لگتا ہے کہ یہ سب کرنے کے بعد میں تمہارے اس جال میں پھنس جاوں گا جیسے تم نے میری مام کو پھنسایا ہے .
تو سن لو میں تمہارے اس ناٹک میں نہیں پھنسنے والا ہوں
سمجھ گئی …
وہ اپنی باتوں سے اسکا دل دکھا رہا تھا
اسکی ان باتوں سے حرم کی آنکھیں نم ہوئی تھی
نہیں تم غلط سمجھ رہے ہو
میں کوئی ناٹک نہیں کر رہی ہوں مجھے بہت ہمدردی ہے آنٹی سے ..
اور ضرور تمھیں کوئی غلط فہمی رہی ہوگی ورنہ ماموں جان کبھی کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ہیں …
وہ تو بہت اچھے انسان ہیں
آج تک انہونے کسی کا دل نہیں دکھایا ہے
مجھے تو لگتا ہے کہ پریشے آنٹی ..
حرم جو ہاشم خان کی حمایت میں وجدان کے سامنے بولے جا رہی تھی
اسکی بات سن کر وجدان کا ہاتھ اٹھا اور اسکے نازک رخسار پر اپنا نشان چھوڑ چکا تھا …
خاموش بلکل خاموش
اک لفظ اور نہ نکلے منہ سے
تم میرے سامنے کھڑی اس انسان کی حمایت کر رہی ہو جو میری آنی کی اس حالت کا زمیدار ہے
وجدان ن سختی سے اسکے بال اپنی مٹھی میں جکڑے تھے
حرم جو ابھی اسکے تھپڑ سے سمبھل نہ پائی تھی وجدان کے سختی سے بال پکڑنے پر اسکے منہ سے سسکی نکلی تھی ..
پلز چھوڑے مجھے بہت درد ھو رہا ہے
حرم اسکی سخت پکڑ میں بمشکل بول پائی ..
آنکھیں آنسووں سے بھر چکی تھی ..
درد ھو رہا ہے نہ ..
جبکہ تمہارا ی درد اس درد کے آگے کچھ نہیں ہے ضو میری ماں اور آنی اتنے سالوں سے برداشت کرتی آئیں ہیں …
وجدان نے اسکے بالوں پر اپنی پکڑ مزید سخت کی تھی مگر اسکی آنسوں سے بھری آنکھیں دیکھ کر یکدم سے اسکے ڈیل کو کچھ ہوا تھا
اسکی پکڑ یکدم سے ڈھیلی پڑی اور اس نے حرم کو اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا ..
یہ کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ کیوں وہ اسکے آنسوں دیکھ کر کمزور پڑ جاتا ہے
اسکی نظر حرم کے رخسار پر پڑی جہاں اسکی انگلی کی نشان صاف نظر آ رہے تھے ..
” ‘ آئندہ تم مجھے میری آنی کے آس پاس نظر نہ آنا ورنہ تقلیف کی زمیدار تم خود ہی ہونگی …
ووہ اسکو انگلی کی اشارے سے وارن کرتا ہوا بولا تھا ..
میری ہر تقلیف کی وجہ تو تم ہی ھو وجدان شاہ صرف تم ..
جاتے جاتے اسکے کانوں میں حرم کے یہ الفاظ سنائی دیے تھے ..
اسکا ڈیل کیا تھا کہ ووہ پلٹ کر دیکھ مگر وہ پلٹنا نہیں چاہتا تھا اس لئے بغیر مڑے کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا …
💞💞
وہ بہت خوش تھی
ابھی چند دن پہلے ہی تو اس نے ہاشم خان کی بات ماں کر اس سے نکاح کر لیا تھا
شروع میں تو وہ بہت ڈر رہی تھی
اسکا دل اس طرح سے نکاح کرنے کے لئے راضی نہیں ہو رہا تھا
مگر ہاشم کے حوصلہ دینے پر وہ کچھ پرسکون ہوئی تھی
دن یوں ہی گزر رہے تھے
نکاح کے بعد بھی وہ اسی فلیٹ میں رہ رہی تھی جس میں پہلے رہتی تھی
اسکے ساتھ جو لڑکی وہ فلیٹ شیئر کرتی تھی وہ اپنے کچھ دن کے لئے اپنے گھر گئی ہوئی تھی جس وجہ سے ہاشم اسکے پاس رہنے آ جاتا تھا …
دونوں اپنی زندگی میں بہت خوش تھے ایک دوسرے کو پاکر
پریشے کو اپنی بہن کی فکر بھی ہوتی تھی مگر اسکو اس بات کا بھی پورا یقین تھا کہ وہ انکو راضی کر لے گی …
جب بھی وہ ہاشم کو دیکھتی اسکو اپنی قسمت پر یقین ہی نہیں آتا تھا کہ کوئی اسکو اتنا پیار کرنے والا بھی ہے …
وہ اللہ کا جتنا شکر کرتی اتنا کم تھا
ابھی وہ کچن میں کھڑی ہاشم کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی کہ جب دروازے پر دستک ہوئی تھی
وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی دروازے تک آئی تھی اسکو لگا کہ ہاشم ھوگا مگر صفدر کو سامنے دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے …
جو صفدر سے بھی پوشیدہ نہ رہ سکے تھے ..
ہاشم نے صفدر کو بھی اپنے نکاح کے بارے میں نہیں بتایا ہوا تھا
اور اسکو بتانے سے پریشے نے ہی منع کیا تھا کیونکہ وہ اپنی آپی سے پہلے کسی سے بھی اس رشتے کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی ..
ویسے بھی اسکی بہن کی طرح ہاشم نے ہی اپنے بہن بھائی کو سمبھالا تھا اپنے ماں باپ کے بعد ..
کیا ہوا تم یہاں اس طرح اچانک میرے گھر کیوں آۓ ہو
پریشے اسکے بولنے سے پہلے ہی خود بول اٹھی تھی
وہ تھا تو ہاشم کا ہی بھائی مگر اسکو شروع سے ہی خاص پسند نہیں آیا تھا
وجہ صفدر کی نظریں تھی جو ہر وقت اسکو اپنے حصار میں لئے رہتی تھی .
اسی بات پر پریشے کو پسند نہیں تھا سب کچھ جاننے کے بعد بھی وہ ایسی حرکتیں کرتا تھا ..
تم یونی نہیں آ رہیں تھی تو میں سوچا کیوں نہ تمہاری خیریت معلوم کر لوں ..
صفدر اپنی بات کہہ کر اندر کی طرف بڑھا تھا
میں ٹھیک ہوں ہم کل یونی میں بات کر لیں گے فلحال یہاں سے چلے جاؤ ..
پریشے کو اسکا یہاں آنا اور اسکی باتیں کچھ عجیب سی لگی تھی
کیا یار تم اندر تو آنے دو ایسی بھی کیا بات ہے ہاشم بھی تو آتا رہتا ہے
اسکا لہجہ کچھ چبھتا ہوا سا تھا
وہ ہاشم اور اسکے بارے میں سب جانتا تھا مگر جان بوجھ کر اس نے ایسی بات کہی تھی ..
” صفدر تم پلز جاؤ ھم کل بات کرتے ہیں
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا پریشے نے تیزی سے دروازہ بند کیا تھا
‘ ” اسکے اس طرح سے اسکے منہ پر دروازے بند کرنے سے صفدر کو یکدم سے بہت غصّہ آیا تھا
تم نے میرے منہ پر اس طرح سے دروازہ بند کرکے بلکل اچھا نہیں کیا ہے پریشے ..
بہت غرور ہے نہ تمھیں اپنی محبت پر
اب دیکھنا میں کیسے تمھیں ہاشم کی زندگی سے نکالتا ہوں
صفدر دروازے کے باہر کھڑا نفرت سے سوچ رہا تھا
وہ بھی ہاشم کی طرح پریشے کو پسند کرتا تھا مگر پریشے شروع سے ہی ہاشم کو پسند کرتی تھی
اور یہ ہی بات صفدر کو غصّہ دلاتی تھی
وہ ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر جلتا رہتا تھا اور اب اسے اک اور وجہ مل گئی تھی اس سے نفرت کرنے کی..
💞💞💞
(جاری ہے )