Harjai By Iqra Sheikh Readelle502003 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
‘ ” وہ اسکا ہاتھ سختی سے پکڑے ہوئے اپنی کار کی طرف بڑھ رہا تھا
جبکہ حرم اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کر رہی تھی ..
‘ ” مگر وجدان کی گرفت اسکے ہاتھ پر کافی مضبوط تھی ..
‘ “” وہ اسکو کھنچتا ہوا اپنی کار کے پاس لایا اور اسکو فرنٹ سیٹ پر ڈال کر خود تیزی سے اپنی جگہ آکر بیٹا تھا .
‘ ” پلیز مجھے جانے دو ایسا کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ ..
‘ اسکو کار سٹارٹ کرتے دیکھ حرم روتے ہوئے اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی ..
‘ ” مگر اس نے تو جیسے اسکی کوئی بات سنی ہی نہیں تھی ..
‘ “وہ سامنے دیکھتا تیزی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا .
کار کی تیز رفتار کے ساتھ ساتھ حرم کا دل بھی اتنی ہی تیزی سے دھڑک رہا تھا ..
‘ ” حرم کے آنسوں اسکا چہرہ بھگو رہے تھے
روتے ہوئے وہ وہاں سے فرار ہونے کی راہ تلاش کر رہی تھی ..
‘ ” جو ہی اسکی کار ویران سڑک پر آئی حرم نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانے کے خیال سے گاڑی کا دروازہ کھولنا چاہا ..
‘”” مگر وجدان کی چیل والی نگاہوں نے اسکے ارادے کو بھانپ لیا تھا ..
اس نے فورا ہی اسکا ہاتھ پکڑ کر دروازہ لاک کیا تھا..
‘ “مرنا چاہتی ہو کیا ..
وہ تیز لہجے میں بولا ..
‘ ‘ ہاں میں مرنا چاہتی ہوں
حرم روتے ہوئے اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی .
‘ ” اتنی بھی کیا جلدی ہے میں تمھیں مرنے کا موقع اور بہانہ ضرور دوں گا بس کچھ دن میرے ساتھ رہ لو
‘ اس نے حرم کی طرف ایک آنکھ دبائی تھی ..
‘ ” میں تمہارے ساتھ ایک دن بھی نہیں رہنا چاہتی ہوں وہ اس بار غصّے سے بولی تھی ..
‘ ” چلو ایک دن نہ سہی ایک رات تو رہ سکتی ہو نہ
وجدان نے مسکراتے ہوئے جس لہجے میں کہا تھا اور اسکو دیکھا تھا
حرم اسکے دیکھنے پر اندر تک جل کر رہ گئی تھی ..
‘ ” آدھے گھنٹے بعد اسکی گاڑی ایک بہت ہی خوبصورت سے بنگلے کے آگے آکر رکی تھی ..
‘ ” وہ جلدی سے کار سے نکلا اور اسکی طرف آکر حرم کو زبردستی کار سے نکالا تھا ..
‘ ” یہ گھر اس نے ابھی چند دن پہلے ہی خریدا تھا جو شہر کے بہت ہی سنسان علاقے میں تھا ..
‘ ” چھوڑو مجھے پلز مجھے میرے ماموں جان کے پاس جانے دو ..
میں تم سے اپنے اس تھپڑ کی معافی مانگتی ہوں
‘”” وہ حرم کو زبردستی اپنے ساتھ اندر کی طرف لے جا رہا تھا جب وہ اس سے التجا کرتی ہوئی بولی تھی ..
‘ ” اسکو اس وقت اس شخص سے خوف محسوس ہو رہا تھا .
‘ ” چلی جانا اتنی بھی کیا جلدی ہے پہلے میں وہ مقصد تو پورا کر لوں جس لئے میں تمھیں یہاں لیکر آیا ہوں ..
‘”” وہ حرم کو زبردستی کھینچتا ہوا ایک روم کے اندر لایا تھا …
‘ ” اس نے جیسے ہی کمرے کا دروازہ لاک کیا تو حرم کے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی
‘ ” حرم حیرت سے آنکھیں کھولے اس شخص کی طرف دیکھنے لگی تھی
اسکو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنے خوبصورت چہرے والا مرد اتنا گھٹیا بھی ہو سکتا ہے ..
‘ ” یہ ..یہ …دروازہ کیوں بند کیا ..
وہ اٹک اٹک کر اس سے پوچھ رہی تھی .
‘ ” ابھی پتہ چل جائے گا ..
اس نے حرم کا بازو پکڑ کر اسکو اپنی قریب کیا تھا ..
‘ ” دیکھو تم بہت غلط کر رہے پلز چھوڑ دو مجھے
یہ بات تو تم بھی اچھے سے جانتے ہو کہ ہمارا نکاح نہیں ہوا ہے ..
پلز مت کرو میرے ساتھ ایسا ..
حرم کو اب اپنی ٹانگو پر کھڑے رہنا مشکل لگ رہا تھا.
‘ ” میں غلط کر رہا ہوں
اور تمہارے ماما نے جو میری آنی کے ساتھ کیا وہ غلط نہیں تھا
انکی زندگی برباد کر دی ..
انکو کہیں کا نہ چھوڑا
کیا وہ غلط نہیں تھا …
‘ ” لیکن اب تمہارے ماما کی سزا تمھیں ملے گی
اسکو بھی اب پتہ چلے گا کہ کسی کی زندگی برباد کرنے سے کیا ہوتا ہے ..
اللہ نے اسکو بیٹی نہ دی تو کیا ہوا تم تو
اب تمہارا درد اسکو محسوس ہوگا تو تقلیف ہوگا اسکو بھی ..
‘ ” وہ زہر خند لہجے میں بولتا اسکو اپنی قید میں لے چکا تھا ..
‘ ” نہیں پلز ایسا مت کرو
یقینن تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے
میرے ماموں ایسے نہیں ہے .
حرم اسکی پکڑ میں بری طرح مچل رہی تھی ..
‘ ” اب تک وہ جو سوچ رہی تھی کہ وہ یہ سب اس تھپڑ کی وجہ سے کر رہا ہے
مگر اسکے منہ سے اپنے ماما کا ذکر سن کر اسکو حیرانی ہوئی تھی …
مگر اس وقت اسکے لئے سب سے ضروری اپنی عزت کی حفاظت تھی ..
جو یہ شخص اسکو بےمول کرنا چاہتا تھا۔
‘ ” کوئی غلطفہمی نہیں ہوئی ہے مجھے
اور تم بس تیار ہو جاؤ سزا کے لئے ..
وہ اسکے بالوں کو سختی سے پکڑتا ہوا بولا تھا ..
اسکے ایسا کرنے سے حرم کی چنخ نکل گئی تھی
وہ نازک سی لڑکی کہاں اتنے درد برداشت کر سکتی تھی اوپر سے اسکی باتیں حرم ی سب مزید برداشت نہیں کڑ سکی تھی اور لہرا کر اسکی باہوں میں گری تھی …
‘ ” اسکے اس طرح سے بےہوش ہونے پر وجدان یکدم سے سٹپٹایا تھا …
‘ “اے …اٹھو تمہارے یہ ناٹک میرے سامنے نہیں چلیں گے ..
‘ ” وہ اسکے گال پر ہاتھ مارتا ہوا بولا تھا اسکو لگ رہا تھا کہ وہ ناٹک کر رہی ہے مگر وہ سچ میں بےہوش ہو چکی تھی .
‘ ” وجدان اک گہرا سانس بھرتا ہوا اسکو اپنی باہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لیٹایا تھا ..
‘” ” اسکا ارادہ تھا کہ وہ اپنا بدلہ پورا کر کے واپس سے اسکو اسکے پہنچا دیتا اور ساتھ میں نقلی نکاح نامہ بھی ..
پھر ان لوگوں کو پتہ چلتا کہ کسی کی زندگی خراب کرنا کیا ہوتا ہے مگر اسکو بےہوش ہونے پر وہ اپنا غصّے ضبط کرکے رہ گیا تھا ..
💞💞
‘ ” یہ سب کیا ہو گیا ہے صفدر …
وہ لڑکی اور اسکی ساری پراپرٹی ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہے …
‘ ” ماریہ کو اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنا سب کچھ ہو گیا انکے پیٹھ پیچھے اور انکو خبر تک نہیں ہوئی تھی …
‘ ” انکو تو حرم بہت معصوم لگتی تھی بھلے وہ اسکو نپسند کرتی ہو ..
مگر وہ ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ حرم ایسا کرے گی ..
‘ ” نہیں مام میں اسکو اتنی آسانی سے جانے نہیں دوں گا ..
وہ کیا سمجھتی ہے کہ وہ یہ سب کر کے اپنی زندگی میں خوش رہ لے گی تو یہ اسکی بہت بڑی بھول ہے ….
‘” ” میں اسکو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ زندگی بھر یاد رکھے گی …
تب اسکو پتہ چلے گا ..
‘ ” ولید غصّے میں ادھر سے ادھر ٹہلتا ہوا بول رہا تھا
اتنا سب کچھ ہوا تھا آج
اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حرم کو ختم ہی کر دیتا ..
‘ ” آج اسکی کتنی بےعزتی ہوئی تھی اس حرم کی وجہ سے ..
” ‘ مام دیکھا آپنے کتنی شریف بنی پھرتی تھی اور چوری چھپے نکاح بھی کر لیا اور ہم لوگوں کو خبر بھی نہیں ہونے دی..
” ‘ اسکا لہجہ اس وقت سخت تھا ..
” ‘ یہ ہی سوچنے والی بات ہے
اور تم دونوں کب سے کھڑے فالتو کی بات کر رہے ہو .
تم خود ہی سوچو جس لڑکی کو یہاں واپس آۓ صرف چند ہی دن ہوۓ ہیں ..
وہ لڑکی اتنا برا قدم تو یوں اچانک نہیں اٹھا سکتی ہے .
‘ ” جبکہ وہ اپنی پراپرٹی اور ہمارے مقصد کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ہے..
‘ ” تو یکدم سے اسکے نکاح کی بات ہونا کچھ عجیب نہیں لگا تم لوگوں کو ?
‘ ” کب سے خاموش بیٹھا صفدر خان پرسوچ انداز میں
بولا تھا .
اسکی بات پر ماریہ اور ولید نے یکدم سے اسکی طرف دیکھا تھا ..
‘ ” یہ بات تو ان لوگوں نے سوچی ہی نہیں تھی ان لوگوں کو بس اپنے نقصان کی فکر ہو رہی تھی ..
‘ ” آج وجدان شاہ کا نکاح والے دن یہاں آنا اور یہ بتانا کہ وہ حرم کا شوہر ہے جبکہ حرم بار بار اس بات سے انکار کر رہی تھی ..
‘” اس بات سے تو صرف مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہو رہا ہے ..
صفدر خان اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا .
‘ ” اسکو شق تو ہوا تھا مگر نکاح کے پیپر دیکھ کر اسکو خاموش رہنا پڑا تھا .
‘ ” تو آپکے کہنے کا کیا مطلب ہے وہ جھوٹ بول کر حرم کو یہاں سے لیکر گیا ہے
اگر ایسا ہے تو کیا مقصد ہے اسکا ..
وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ..
ماریہ کو بھی اب کچھ کچھ سمجھ آ رہا تھا ..
” ‘ نکاح کا تو مجھے معلوم نہیں لیکن اس بات کا پورا یقین ہیں کہ اسکا ان سب کے پیچھے کوئی مقصد ضرور ہے ..
صفدر ان دونوں کی طرف دیکھ کر بولا تھا ..
‘ ” تو اب ہم کیا کریں گے ?
‘ ماریہ کو پھر سے حرم سے ملنے والی جائیداد کی فکر ہوئی تھی ..
‘ ” وہ تو ہم حاصل کر لینگے بس ذرا اس وجدان شاہ کے بارے میں معلوم ہو جائے آخر وہ چاہتا کیا ہے .
‘ ” اسکی بات پر ماریہ اور ولید خاموشی سے اسکی طرف دیکھ کر رہ گیے تھے .
💞💞
‘ ” وہ کب سے بس اک ہی پوزیشن میں بیٹھے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھے .
‘ ” اس وقت انکی سوچوں میں کوئی اور نہیں حرم تھی
بار بار انکی آنکھوں کے سامنے اسکا روتا ہوا چہرہ آ رہا تھا ..
کل سے اب تک کتنا کچھ ہو گیا تھا .
کبھی کبھی تو انکا دل اس بات کو ماننے کے لئے بلکل راضی ہو رہا تھا کہ حرم جو کہہ رہی تھی بلکل ٹھیک کہ رہی تھی ..
وہ نہیں جانتی ہو اسکو ..
مگر نکاح کے پیپر دیکھ کر انکو خاموش رہنا پڑا تھا
انکو اب لگ رہا تھا کہ شاید حرم ان لوگوں کر ڈر کی وجہ سے اس رشتے سے انکار کر رہی ہو ..
‘ ” جو بھی تھا انکا دل کل سے اب تک حرم کے لئے بہت پریشان ہو رہا تھا .
‘ ” انکو اپنی حرم پر پورا یقین بھی تھا کہ انکی حرم ایسا نہیں کرے گی
مگر نکاح کے پیپر دیکھ کر وہ بےبس ہو گئے تھے .
‘ ” ورنہ وہ کبھی بھی حرم کو یوں اس طرح سے کسی کے ساتھ جانے نہیں دیتے ..
‘ ” وہ نہ جانے کب تک یوں ہی بیٹھے رہتے جب انکے پاس پڑا موبائل بجنا شروع ہوا تھا
موبائل کی آواز پر وہ اپنی سوچوں سے باہر نکلے تھے ..
‘ ” انجان نمبر دیکھ کر انہونے فون کٹ کر کے واپس رکھ دیا تھا
کیونکہ وہ اس وقت کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتے تھے ..
‘ ” ہاشم صاحب نے ابھی فون رکھا ہی تھا کہ وہ دوبارہ پھر سے بجنا شروع ہوا تھا ..
اسکو مزید بجنے سے روکنے کے لئے ناچاہتے ہوئے انہونے کال پک کی تھی …
‘ ” کیا بات ہے صفدر صاحب بیٹی کی شادی کا غم زیادہ ہی ہو گیا ہے …
کال پک کرنے کے بعد سامنے والا یکدم سے بولا تھا
‘ ” کون بول رہا ہے
انجان نمبر کی وجہ سے ہاشم صاحب پہچان نہیں سکیں تھے …
‘ ” کتنی غلط بات ہے آپ اپنے داماد کی آواز نہیں پہچانتے ….
اسکا انداز مذاق اڑانے والا تھا ..
‘ ” تم …..
میری بیٹی کہاں ہے
میری بات کرواؤ اس سے …
‘ ” اسکی بات پر ہاشم صاحب یکدم سے سیدھا ہوکر بیٹھے تھے ..
‘ ” کس سے بات کرنی ہیں
یہ تم کس بیٹی کی بات کر رہے ہو
ہاشم خان ….وہ انجان بنتا ہوا بولا تھا ..
‘ ” اسکی بات پر ہاشم خان کو یکدم سے کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہوا تھا ..
‘ ” میں حرم کی بات کر رہا ہوں جس کو تم اپنی بیوی بتا کر یہاں سے لے گئے تھے ..
ہاشم خان اپنا غصّہ ضبط کرتا ہوا بولا تھا ..
‘ ” اسکی بات پر وجدان ہنسا تھا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا تھا
تمہاری کوئی بیٹی بھی ہے میرا مطلب بھانجی یہ اب تم بھول جاؤ ہاشم خان ..
کیونکہ اب سے تم اسکی شکل دیکھنے کے لئے ہر لمحہ تڑپوگے …
‘ ” اور وہ تمہارے گناہ کی سزا بھگتے گی ساری زندگی ..
وجدان کے لہجے میں نفرت تھی …
‘ ” کیا بکواس کر رہے ہو تم
کیسا گناہ ?
کون ہو تم اور چاہتے کیا ہو ?
‘ ” وہ اک جھٹکے میں اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے
انکی حرم کے لئے پریشانی مزید بڑھی تھی …
‘ ” گناہ کر کے بول رہے ہو کیسا گناہ
خیر تم یہ سب بھول سکتے ہو مگر بےفکر رہو
میں تمھیں پل پل یاد دلاتا رہوں گا تمہارے گناہ کا
‘ ” جسکی سزا تمھیں تو میں دے نہیں سکا لیکن تمہاری بیٹی کو ضرور ملے گی
اور یہی سزا ہے تمہاری …
‘ ” وہ اک اک لفظ چبا چبا کر بول رہا تھا …
‘ ” کون ہو تم آخر بتاتے کیوں نہیں ہو اور کس گناہ کی بات کر رہے ہو …
ہاشم کے سامنے اپنی معصوم سی حرم کا چہرہ آیا تھا ..
‘ ” پریشے تو یاد ہوگی تمھیں ..ہاشم خان ..
اسکا لہجہ سخت تھا
جبکہ سامنے والے کے منہ سے پریشے کا نام سن کر ہاشم خان اپنی جگہ کھڑا کا کھڑا رہ گیا تھا …
‘ ” اتنے سالوں بعد یہ نام سنا تھا
اچانک ہی آنکھوں کے سامنے کسی کا خوبصورت سا چہرہ آیا تھا …
‘ ” پریشے کے ساتھ تم نے جو کیا ہیں نہ اس گناہ کی سزا ملے گی تمھیں …
‘ ” نہیں حرم کو کچھ مت کرنا تم وہ بلکل بےقصور ہے ..
ہاشم صاحب جلدی سے بولے تھے مگر فون تو پہلے ہی کٹ چکا تھا ..
انہونے پھر سے فون کرنا چاہا مگر نمبر بند جا رہا تھا..
‘ ” اتنے سالوں بعد انکا ماضی پھر سے انکے سامنے آیا تھا
اور وہ کس گناہ کی بات کر رہا تھا
دھوکہ تو انکے ساتھ ہوا تھا ..
اور وہ پریشے کا کون تھا .?
وہ بار بار اپنی پیشانی مسلتے ہوئے پریشانی میں ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے ..
‘ ” مگر سب کچھ انکی سمجھ سے باہر تھا ..
💞💞
” ‘ (جاری ہے )”””
