Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

‘ ” اسکی کار اس خوبصورتی سے سجاۓ گئے خان ولا کے سامنے آکر رکی تھی ..
‘ ” وہ اپنی کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور ایک نفرت بھری نظر اس نے اس گھر پر ڈالی تھی ..
‘ ” اسکی آنی کو برباد کر کے یہ لوگ اپنی خوشیاں منا رہے تھے
اسکی آنی برباد کر کے خود اپنی زندگیوں میں خوش تھے .
‘ ” مطمعین تھے ..
‘ ” جتنی خوشیاں منانی تھی تم لوگ منا چکے ہو
جتنا خوش رہنا تھا تم لوگوں کو تم رہ چکے ہو ..
‘ ” آج سے تم لوگ اسی درد سے گزروگے جس درد سے میری ماں اتنے سالوں سے گزرتی آ رہی ہے ..
‘ ” اسکے لہجے میں اس وقت ان لوگوں کے لئے صرف نفرت تھی بےپناہ نفرت …
‘ ” اپنی کار کا دروازہ زور سے بند کرکے وہ اندر گھر کی طرف بڑھا تھا ..
‘ ” صفدر اور ماریہ نے شادی کا انتظام لان میں کرایا ہوا تھا .
اس وقت لان پورا مہمانوں سے بھرا ہوا تھا ..
‘ ” یہاں شہر کے سبھی بڑے بڑے بزنس مین موجود تھے
آخر صفدر خان کر اکلوتے بیٹے کی شادی جو تھی ..
‘ ” صفدر خان اور ماریہ اسٹیج پر دولہا بنے بیٹھے ولید کی پاس جا رہے تھے
یقینن نکاح ہونے والا تھا ..
‘ ” اور یہ ہی وہ وقت تھا جسکے لئے آج وہ یہاں آیا تھا ..
‘ ” یہ شادی نہیں ہو سکتی …
اس سے پہلے کہ مولوی صاحب نکاح پڑھانا شروع کرتے اس نے تیز آواز میں بول کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا”
” ” اسکی آواز پر سب نے ایک ساتھ ہی اسکی طرف دیکھا تھا جو ہونٹون پر مسکراہٹ لئے سب کے چہروں کو دیکھ رہا تھا …
‘ ” یہ کیا کہہ رہے ہو تم
صفدر خان تیزی سے اسکے پاس آیا تھا
انکا لہجہ نرم تھا کیونکہ
وہ وجدان شاہ تھا شہر کے بڑے بزنس مین میں اسکا نام شمار ہوتا تھا ..
‘ ” اس لئے انکے لئے یہ بات حیران کرنے والی تھی آخر وہ ایسا کیوں بول رہا تھا …
‘ ” میں جو کہہ رہا ہوں آپ لوگ اچھے سے سمجھ چکے ہیں
یہ شادی نہیں ہو سکتی ..
‘ ” اک بار پھر اس نے اپنا جملہ دوہرایا تھا ..
‘ ” کیوں نہیں ہو سکتی یہ شادی
اور تم یہ شادی روک کر ثابت کیا کرنا چاہتے ہو ?
‘ ” اس بار خاموش کھڑی ماریہ اپنی ساڑی سمبھالتی ہوئی اسٹیج سے اتر کر ان دونوں کے پاس آئی تھی .
” انکے بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر وجدان شاہ کو اس شادی سے کیا پرابلم ہو سکتی ہے .
‘ ” جبکہ ہاشم اور ولید ابھی بھی وہیں کھڑے تھے
اور اس لان میں موجود لوگوں کے لئے موجودہ حالات کسی فلم کے سین سے کم نہیں لگ رہا تھا ..
‘ ” یہ شادی زبردستی کی جا رہی ہے اس لئے میں یہ شادی روکنے آیا ہوں ..
وہ بہت اطمینان سے ان سبکی طرف دیکھ کر بولا تھا
‘ ” کیا بکواس کر رہے تم
حرم ہماری بیٹی کی ترح ہے اور یہ شادی اسکی مرضی سے ہو رہی ہے …
تم ہوتے کون ھو یہ سب بکواس کرنے والے ..
اس بار صفدر خان اپنا غصّہ ضبط نہیں کر سکا تھا
‘ ” اتنے سارے لوگوں کے سامنے انکی عزت خراب ہو رہی تھی .
‘ ” میں کون ہوتا ہوں .
چلیں یہ بھی میں آپ سب کو بتا دیتا ہوں کہ میں ہوتا کون ہوں …
‘ ” وہ اک قدم ان لوگوں کی طرف بڑھا تھا
اس وقت اسکی آنکھوں میں اک الگ ہی چمک تھی ..
‘ ” جس لڑکی کو آپ اپنی بیٹی جیسا بولتے ہو
اور جسکی شادی آپ لوگ اپنے بیٹے سے زبردستی کروا رہے ہو ..
میں اس لڑکی کا شوہر ہوں …
‘ ” حرم میری بیوی ہے …
‘ ” اس مسکراتے ہوئے وہاں کھڑے سبھی لوگوں کے سر پر جیسے کوئی بم سا پھوڑا تھا ..
ہر کوئی اسکو حیرانی سے کھڑا دیکھ رہا تھا ..
‘ ” بس بہت ہو گیا بند کرو اپنی یہ بکواس ..
بہت دیر برداشت کر لیا اب اک لفظ اور نہیں
ورنہ تمہارے لئے بلکل اچھا نہیں ہوگا …
‘ ” ولید جو بہت دیر سے بیٹھا اسکی باتیں سن رہا تھا جب اسکی یہ سب برداشت سے باہر ہو گیا تو وہ غصّے سے وجدان کی طرف بڑھا تھا ..
‘ ” جبکہ اسکو غصّے میں دیکھ کر ہاشم بھی تیزی سے اسکے پیچھے گیں تھے ..
‘ ” آرام سے مسٹر ولید خان
اتنا غصّہ تمہارے لئے بلکل ٹھیک نہیں ہے ..
‘” جبکہ غصّہ تو مجھے ہونا چاہئے تھا
آپ سب میری بیوی کی شادی جو کروا رہے تھے .
‘ ” وہ بہت ہی آرام سے اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتا ہوا بولا تھا
جبکہ ہونٹوں پر اک دل جلانے والی مسکراہٹ تھی .
‘ ” ہم کیسے مان لیں کہ تم جو کچھ بھی کہہ رہے ہو سچ ہے .
کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس ?
‘ ” اس بار ہاشم خان بھی چپ نہیں رہ سکا تھا
کیونکہ بات حرم کی تھی اور وہ اپنی بھانجی پر خود سے بھی زیادہ یقین کرتا تھا ..
‘ ” اس لئے اس نے ثبوت مانگا تھا کیونکہ جانتا تھا کہ سامنے کھڑے شخص کے پاس اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہوگا ..
‘ ” دوسرا ان لوگوں کی پورے شہر میں بدنامی ہونے سے بھی بچ جائے گی …
‘” ” یہ ہاشم خان کی سوچ تھی مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ سامنے کھڑا شخص بھی وجدان شاہ ہے ..
وہ یہاں پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا ..
‘ ” ثبوت چاہئے نہ آپ لوگوں کو تو یہ رہے نکاح کے پیپر ..
اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا مسٹر ہاشم خان ..
‘ ” وجدان نے اپنی کوٹ کی پاکٹ سے اک سفید کاغذ نکال کر اسکی طرف بڑھایا تھا ..
‘ ” نکاح نامہ دیکھ کر ہاشم خان کچھ پل کے لئے تو خاموش ہی کھڑا رہ گیا تھا ..
یہ کاغذ نہیں تھا انکا بھروسہ ٹوٹا تھا ..
‘ ” انکو یوں خاموش کھڑا دیکھ کر ولید نے وہ پیپر انکے ہاتھ سے لے کر دیکھ تو اسکا بھی حال ہاشم خان سے کم نہ تھا ..
💞💞
‘ ” پری پلز تھوڑا سا اور کھا لو میری جان
دیکھو تم نے بس اتنا سا ہی کھایا ہے ..
اگر تم کھانا اچھے سے نہیں کھاؤ گی تو پھر کیسے ٹھیک ہوگی …
‘ ” سادیہ بیگم کب سے بیٹھی اسکو کھانا کھلانے کی کوشش کر رہیں تھی
مگر وہ بس ہمیشہ کی طرف بس اک جگہ نظریں جماۓ بیٹھی تھی …
” جبکہ اپنے ہاتھوں کو وہ آپس میں مثل رہی تھی .
” ‘ انکی بہن سکو دنیا والے پاگل کہتے تھے مگر انکے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ زندہ تھی اور انکی آنکھوں کے سامنے تھی
وہ انکی چھوٹی بہن تھی
سادیہ بیگم میں اسکی جان تھی ..
” ‘ ایک وقت تھا جب وہ بھی یوں ہنستی بولتی ادھر ادھر پھرتی رہتی تھی ..
مگر اب جیسے بلکل خاموش ھو کر رہ گئی تھی ..
” ‘ وجدان اور انہونے ہر جگہ اسکا علاج کرایا تھا مگر وہ خود ٹھیک نہیں ہونا چاہتی تھی .
جیسے وہ تو زندہ ہی نہیں رہنا چاہتی ہو ..
” ‘ میری پری کھا لو نہ دیکھو تم اپنی آپی کی بات نہیں سنوگی ..
” وہ پھر سے اسکو کھلانے کی کوشش کرنے لگی تھی ..
مگر اس پر تو جیسے انکی باتوں کا کوئی اثر ہیں نہیں ھو رہا تھا ..
” ‘ خالہ امی ….یہ دانی کہاں ہیں میں فون کر رہی ہوں مگر میری کال پک نہیں کر رہا ہے ..
‘ ” سمن انکے روم میں داخل ہوتے ہی سادیہ بیگم کے پاس جاکر اپنی پریشانی بتا رہی تھی ..
‘ “وہ اس کمرے میں بہت ہی کم آتی تھی
ابھی بھی صرف اپنی پریشانی لیکر آئی تھی سادیہ کے پاس ..
‘ ” تو بیٹا تم اسکے آفس فون کر کے معلوم کر لو شاید کوئی میٹنگ میں مصروف ہوگا اس لئے تمہارا فون نہیں اٹھا رہا ہے ..
‘ ” وہ اسکی پریشانی کم کرتی ہوئی بولی اور پاس بیٹھی اپنی بہن کی طرف دیکھا جو سمن کے روم میں آ جانے پر اب اسکی طرف دیکھ رہی تھی ..
خالہ میں نے آفس بھی فون کر کے معلوم کیا تھا اسکے بارے میں مگر اسکی سکیٹری بول رہی ہے کہ دوپہر کے بعد سے کمپنی نہیں گیا ہے ..
‘ ” آپ اک بار کال کر کے دیکھیں شاید آپکی کال پک کر لے…
‘ ” سمن انکی طرف فون بڑھا کر بولی تھی ..
‘ ” بیٹا وہ کسی کام میں بیزی ہوگا تو بہتر ہے تم اسکو ڈسٹرب نہ کرو ..
اور ویسے بھی پری کو کھانا کھلا رہیں ہوں تو میں ابھی اسکو کال نہیں کر سکتی ہوں …
‘ ” وہ چمچ پھر سے انکی منہ کی طرف کرتے ہوئے بولی تھی اور اس بار انہونے آرام سے کھا بھی لیا تھا ..
‘ ” خالہ ان کو کھانا کھلانے سے زیادہ ضروری کام میرا ہے تو پلز آپ اک بار دانی کو کال کر دیں ..
‘ ” وہ ناگواری سے بولتی ہوئی اس نے پھر سے انکی طرف انکا موبائل بڑھایا تھا …
‘ ” سمن میں نے جب کہہ دیا ہے تو تمہارے اک بار میں بات سمجھ کیوں نہیں آتی ہے ..
‘” اور دوسری بات وجدان اتنی بڑی کمپنی چلاتا ہے تو کہیں نہ کہیں بیزی ہوگا ..
‘ ” تم فلحال اپنے کمرے میں جاؤ میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں ..
وہ اسکی بات سنکر سخت لہجے میں بولی تھی ..
‘ ” سمن کی بہت سی باتوں پر انکو غصّہ تو بہت آتا تھا مگر وہ ہر بار ضبط کرکے رہ جاتی تھی آخر وہ انکی بھانجی تھی ..
مگر وہ جب بھی انکی پری کو کچھ کہتی تو وہ اسکو باتیں سنا دیتیں تھیں …
جس پر سمن بس منہ بنا کر رہ جاتی تھی ..
” ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا انکے جواب سن کر وہ پیر پٹختی روم سے باہر نکل گئی تھی …
‘ ” اسکے اس طرح جانے پر وہ بس اک گہرا سانس بھر کر رہ گئیں تھیں …
💞💞
” ‘ وہ بہت دیر سے آنکھیں بند کیے بیٹھی ہوئی تھی
آنے والے وقت کے لئے خود میں ہمت جما کر رہی تھی شاید ..
‘ ” اسکو ایسے بیٹھے بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب اسکو اونچی آوازیں آنا شروع ہوئی تھی .
‘ ” وہ اس وقت جس روم میں موجود تھی اس روم کی کھڑکی لان میں کھلتی تھی .
‘ ” وہاں سے لان کا سارا منظر صاف دکھائی دیتا تھا..
‘ ” حرم کو یکدم سے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تھا
وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنا بھاری بھرکم لہنگا سمبھالتی ہوئی اس کھڑکی کی طرف بڑھی تھی .
‘ ” مگر لان میں اسکو کوئی ہلچل نظر نہیں آئی تھی
‘ “” وہ ابھی کھڑی دیکھ ہی رہی تھی کہ اسکو پھر سے آوازیں آنا شروع ہوئی تھی ..
اسکو یہ سمجھنے میں اب دیر نہیں لگی تھی کہ یہ آواز اسکے برابر والے روم سے آ رہیں تھی ..
‘ ” حرم کو یکدم سے کچھ بہت ہی غلط ہونے کا احساس ہوا تھا ..
‘ ” وہ تیزی سے روم سے نکلی تھی ..
‘ ” برابر والے روم کا دروازہ کھلا تھا جہاں اسکو سب کھڑے دکھائی دئے تھے …
‘ ” مگر کوئی اور بھی وہاں موجود تھا جسکی شکل حرم دیکھ نہیں سکی تھی ..
‘ ” وہ جیسے ہی وہ اس روم میں آئی تو یکدم سے سبکی نگاہیں اسکی طرف اٹھی تھی .
مزید بات بڑھتا دیکھ کر ہاشم ان سب کو اندر لے آیا تھا
کیونکہ بات اب سب لوگوں کے سامنے کرنے کی نہیں رہ گئی تھی …
‘ ” اس وقت اسکا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا
وہ اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کو سمبھالتی آگے بڑھی تھی ..
‘ ” کیا ہوا آپ سب لوگ خاموش کیوں ہو گئے ..
حرم جو انکی طرف بڑھ رہی تھی اس آواز پر اسکے قدم رکے تھے …
‘ “یہ آواز …..یہ آواز تو وہ کبھی بھول بھی نہیں سکتی تھی …
” ‘ سبکی نظریں دروازے پر دیکھ کر اس نے بھی گردن موڑ کڑ دیکھا تو حرم کو وہاں کھڑا دیکھ کر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی …
‘ جبکہ حرم اسکو دیکھ کر سوچ میں پر گئی تھی .
تو کیا جسکا اسکو ڈر تھا وہ ہو گیا ہے ?
وہ شخص اس سے بدلہ لینے آ گیا ہی ؟
‘” ” تو اب کیا چاہتے ہو تم ?
یہ آواز ہاشم خان کی تھی .
‘ “” رخصتی …
اپنی بیوی حرم کی رخصتی چاہتا ہوں میں
اب تو میری بیوی بھی یہاں آ چکی ہے
تو میں اب اس کام میں دیر نہیں چاہتا ہوں ..
‘ “: اسکی بات پر حرم کو لگا کہ اب وہ اک بھی قدم مزید نہیں چل سکے گی …
یہ کیا بول رہا تھا وہ شخص ..
بیوی …
رخصتی …
‘ ” نہیں جھوٹ ہے یہ سب
میں اس شخص کو نہیں جانتی ہوں ..
میں تمہاری کچھ نہیں لگتی ہوں …
ساری بات سمجھ آتے ہی حرم جیسے ہوش میں آئی تھی ..
‘ ” حرم کی بات پر ہاشم خان سوچ میں پڑ گیے تھے انکو اپنی بیٹی پر بھی پورا بھروسہ تھا
مگر اس نکاح نامہ کو بھی وہ جھٹلا نہیں سکتے تھے
‘ “: حرم اب تمھیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں تمہارے ساتھ …
وجدان کو اس وقت کتنا سکون مل رہا تھا ان لوگوں کے چہرے دیکھ کر یہ بس وہ ہی جانتا تھا ..
‘ ” مامی یہ جھوٹ بول رہے ہیں میرا یقین کریں ..
حرم کی بات پر ماریہ اور صفدر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا ..
وہ کسی بھی صورت میں حرم کو اپنے ہاتھ سے نکلنے نہیں دے سکتے تھے ..
‘ ” چلو یار پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اب ہمیں چلنا چاہئے ..
وہ ڈری ہوئی حرم کی طرف بڑھا تھا ..
” ‘ نہیں جانا مجھے تمہارے ساتھ
پلز میرا یقین کریں یہ جھوٹ ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے …
وہ اک بار پھر سب کی طرف دیکھ کر بولی تھی
مگر وہ لوگ اس وقت مجبور تھے وہ زبردستی حرم کو یہاں بھی نہیں روک سکتے تھے کیونکہ وجدان اسکا شوہر تھا ..
” ‘ اس نے پیپر ہی ایسے بناۓ تھے کہ کوئی بھی انکو نقلی کاغذ نہیں کہہ سکتا تھا …
” ‘ اگر تمھیں اپنا تماشہ نہیں بنوانا ہے تو چپ چاپ چلو ورنہ میں زبردستی بھی لے جا سکتا ہوں
وجدان نے سخت لہجے میں کہتے ہوئے اتنی ہی سختی سے اسکا بازو اپنی پکڑ میں لیا اور زبردستی اسکو اپنے ساتھ لئے روم سے باہر نکلا تھا ..
” ‘ جبکہ وہ چاروں چاہ کر بھی اسکو روک نہیں سکے تھے ..
💞💞
(جاری ہے )