Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part 2

Last Episode 10
“ارے واہ آپ تو بڑے سمجھدار بچے ہو،آپ کو تو ساری اچھی باتیں پتہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ احد کو گود میں لے کر بیٹھی اُس سے باتیں کر رہی تھیں جنکا وہ بڑی سمجھداری سے جواب دیتا اُسے چونکا رہا تھا۔
“کیونکہ شیر اچھا بچہ ہے اس لیے۔۔۔۔۔۔”اُس کے کہنے پر اشنہ نے مُسکراتے ہوئے اُس کے گال چُوم لیے۔
“شیر تو بہت پیارا بچہ ہے بلکل اپنی ماما کی طرح۔۔۔۔۔۔۔”
“پاپا بھی یہی کہتے ہیں کہ میں اپنی ماما جیسا ہوں،آپکو بھی لگتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”احد کے پوچھنے پر اشنہ نے دیکھا جسکی کالی آنکھیں بلکل زری جیسی تھیں کیونکہ فردین کی آنکھوں کا کلر گرے تھا۔
“آپکی آنکھیں اور آپکے ہونٹ مما جیسے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
“اور میری سمائل بھی۔۔۔۔۔۔۔”احد ہونٹ پھلا کر بولا تو اشنہ مُسکرادی۔
“کیا ہو رہا یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین اُنکے پاس بیٹھتا پوچھنے لگا.
“ہماری دوستی ہو رہی ہے،ہے نہ احد۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ نے اُس سے پوچھا جو اب جا کر فردین کی جھولی میں ٹک گیا۔
“رئیلی شیر،تُم اس انٹی سے دوستی کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین کے پوچھنے پر وہ اشنہ کو دیکھنے لگا کو بڑی آس سے اُسے دیکھ رہی تھی جو مُسکراتا ہوا سر نفی میں ہلا گیا۔
“کیا۔۔۔۔۔۔”اشنہ حیران ہی تو رہ گئی تھوڑی دیر پہلے اس نے خُود دوستی کنفرم کی تھی۔
“یہ اچھی ہیں انکو گیمز بھی آتی ہیں اور سٹوریز بھی،یہ میری دوست ہیں اوکے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس سے ہاتھ ملاتا کنفرم کر گیا۔
“اگر وہ اچھی ہیں اُنکو سب کُچھ آتا ہے تو ہم اُنکو شیر کی مما بنا دیں۔۔۔۔۔۔”فردین کے سوال پر جہاں اشنہ نے چونک کر دیکھا تھا وہی احد نے بھی عجیب نظروں سے دیکھا تھا۔
“میری مما تو وہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے ٹیبل پر پڑی زری کی تصویر کی طرف اشارہ کیا اشنہ اپنے آپ میں ہی شرمندہ ہونے لگی۔
“یس آپکی مما وہ ہیں،پر وہ تو اللہ کے پاس چلی گئیں اب ہمیں شیر کے لیے ایک اور مما چاہئیے جو اُنکے پاس رہے اس سے پیار کریں اس سے کھیلیں اور اسے مزے مزے کی سٹوریز بھی سُنائے۔۔۔۔۔۔۔”
“جیسے علی کی مما اُسے نہلاتی ہیں اُس کے ساتھ سکول جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے اکلوتے دوست کی مثال دینے لگا جس پر فردین نے سر ہلایا تھا۔
“اوکے آج سے یہ میری نیو مما ہیں۔۔۔۔۔۔”اُس کے بولنے پر اشنہ نے مُسکراتے ہوئے باہنیں واہ کی تھیں جن میں اگلے پل ہی وہ سما گیا تھا اشنہ نے اُسکی پیشانی چومی تو ایک آنسو اُسکی آنکھ سے نکلتا احد کے بالوں میں جذب ہو گیا فردین نے گہرا سانس لے کر خُود کسی بوجھ سے آزاد محسوس کیا تھا۔
_____________________
اشنہ کو یہاں آئے تین دن ہو گئے تھے مگر آج پہلی دفعہ وہ فردین کے کمرے میں داخل ہوئی تھی وہ ان تک گیسٹ رُوم میں ہی رہائش پذیر تھی آج صغیر اعوان اور تہمینہ بیگم کے آنے پر وہ فردین کے کمرے میں آئی تھی۔
کمرے پر طائرانہ نظر دوڑاتی وہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آ رُکی سب کُچھ تو ویسا ہی تھا یہ کمرہ اُسکا سامان بدلہ کیا تھا صرف وقت؟وہ گہرا سانس لیتی وارڈرب کی طرف بڑھی جہاں فردین اور احد کے کپڑے پڑے تھے ایک چیز پر اُسکی نظر تھمی تھی اور وہ وہی شرٹ اور جینز تھی جو اس نے تین دن تک پہنے رکھی تھی وہ مُسکراتی ہوئی وارڈرب بند کر کے بیڈ پر ٹک کر صوفے کی طرف دیکھنے لگی جہاں اتنے دن وہ سُوئی تھی۔
دروازے کے کھُلنے اور پھر بند ہونے پر وہ پیچھے مُڑ کر دیکھنے لگی جہاں فردین آنکھوں میں شوق کا جہان لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
“مجھے لگا شاید اس کمرے میں آنے کے لیے تُمہیں باقاعدہ انوٹیشن دینا پڑے گا،پر خیر تُم اماں کے کہنے پر ہی آ گئی۔۔۔۔۔۔۔”
“احد کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی بات کو نظرانداز کرگئی۔
“بابا کے پاس سو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین گھڑی اُتارنے لگا۔
“کیوں؟وہ تو تُمہارے ساتھ سوتا ہے۔۔۔۔۔۔”
“ہاں پر موڈی بندہ ہے وہ،کبھی تو چار چار دن بابا کے پاس سو جاتا۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے شرٹ اُتارتے ہوئے بتایا۔
“تُم لے آتے اُسے رُوم میں۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے غور سے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں کُچھ بے چینی سی تھی۔
“کیا ڈر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے مُسکراہٹ روکی تھی وہ گڑبڑا کر چہرے کا رُخ بدل گئی۔
“نہیں تو،ڈرنا بھلا کس بات کا۔۔۔۔۔۔”
“ہاں تو اور کیا،میں کونسا بھوت ہوں جو تُمہیں کھا جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں میں معنی خیز چمک تھی جس کو دیکھ کر اشنہ کے پُورے وجود میں ایک سُنساہٹ دوڑ گئی تھی وہ بالوں کی چہرے پر آئی چند لٹوں کو کان کے پیچھے اُڑستی بار بار ہاتھوں کو مسلتی اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوششوں میں تھی فردین اُس کے قریب آیا۔
“ریلیکس اشنہ،گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔۔۔۔”
“میں تُم سے کیوں گھبراؤنگی بھلا،تُم چینج کرنے لگے تھے تو کرو۔۔۔۔۔۔۔”وہ جا کر بیڈ پر بیٹھی تھی فردین اُسکی بات پر مُسکرایا۔
“چینج کرنے تو لگا تھا پر اب ارادہ بدل گیا۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے قریب لیٹتا بولا۔
“کیوں۔۔۔۔۔۔؟
“قریب آؤ گی تو بتا پاؤنگا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے کہتے ہوئے اُسے اپنے پہلو میں کھینچا تھا جس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا جس کو پانے کے لیے دن رات دُعائیں مانگیں تھیں اب وہ قریب تھا تو دل کی دھڑکن تھی کہ بس میں نہیں آ رہی تھی۔
“مُجھے یقین نہیں آ رہا یہ وہی اشنہ ہے جو بڑی بے باکی سے فردین مُصطفی سے اظہار محبت کرتی تھی اُس کی قُربت کے بہانے ڈھونڈنے والی آج ڈر رہی ہے،ویری بیڈ اب اگر میں میدان میں آیا ہوں تو تُم پیچھے ہٹ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی کلائی کو پکڑ کر لبوں سے لگایا تھا جس کی جان اُس کے لبوں پر آ گئی تھی فردین نے اپنی اُنگلی سے اُسکی پیشانی سے لے کر ہونٹوں تک پھر گردن تک ایک لکیر کھینچی تھی وہ زور سے آنکھیں میچ گئی جو اب لبوں کا لمس اُس کے چہرے پر چھوڑتا اب گردن پر جُھکا تھا۔
“اے اشنہ،آنکھیں تو کھولو۔۔۔۔۔۔”وہ شرارتی مُسکراہٹ لبوں پر سجا کر کہہ اُٹھا اُس نے آنکھیں کھولیں تھیں جو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“بہت ڈرپوک ثابت ہوئی ہو تُم تو اس معاملے میں۔۔۔۔۔۔”اُس کے پاؤں کو اپنے پاؤں سے مسلتا شوخ ہوا اشنہ شرم سے سُرخ ہوتی اُسے گھور بھی نہ سکی جو اب کیچر کو اُس کے بالوں سے آزاد کرواتا اُس کے کانوں میں موجود چھوٹی بالیاں اُتار رہا تھا۔
“تُم بہت بے شرم ہو۔۔۔۔۔۔”اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی وہ ہولے سے بولی جو ہنس دیا۔
“رئیلی،بس یہاں تک آنے پر ہی بے شرمی کا سرٹیفکیٹ دے دیا،ابھی تو شُروعات ہے مائے لو۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے کانوں کی لو کو چُومتا سرگوشی کے انداز میں بولا وہ اپنی دھڑکنوں کو منتشر ہونے سے نہ بچا سکی جو اُسکی بڑھتی شوخ شرارتوں اور جسارتوں پر اتھل پتھل ہو رہی تھیں۔
“ابھی تو یہ بھی بتانا کہ محبت کتنی ہے اور اُسکی شدت کتنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”پیشانی پر لب رکھتا اُسکی قمر میں ہاتھ ڈالتا اُسے اپنے بے حد نزدیک کر گیا بلا کی قُربت تھی بلا کی محبت تھی اور بلا کی شدت تھی جسے محسوس کرتی وہ آنکھیں بند کر گئی تھی۔
____________________
بارش صُبح سے ہو رہی تھی وہ اپنے کمرے کے ٹیرس پر کھڑی نظریں لان میں ایک حسین منظر پر جمائے ہوئے تھی جہاں فردین مُصطفی بلیک جینز کو ٹخنوں تک فولڈ کیے وائٹ ٹی شرٹ میں بارش میں نہاتا فُٹ بال کھیل رہا تھا اُس کے ساتھ بھاگتے احد اور دو سالہ حدید جو کسی بھی طرح اُن سے مات کھانے کو تیار نہ تھا اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا فٹ بال کو پکڑنے کی کوششوں میں تھا جسے احد اور فردین اُسکی پہنچ سے دُور کر دیتے تھے ہنستے مُسکراتے وہ اسکے لبوں پر بھی مُسکراہٹ لا گئے۔
اُس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا جہاں سامنے ٹیبل پر مُسکراتی ہوئی زری کی تصویر بھی جیسے مُسکرا رہی تھی اشنہ اور فردین نے اُسے اپنی خُوشیوں میں مگن ہو کر بھی بھلایا نہ تھا اشنہ نے اُسے ہمیشہ زندہ رکھا تھا اپنی دُعاؤں میں بھی اور احد کے دل میں بھی اُسے زندہ رکھنے کو اُسکی باتیں کرتی رہتی تھی۔
وہ آج بھی سوچتی تو افسردہ ہو جاتی تھی کہ انسان ہمیشہ دو چیزوں کے آگے بے بس رہا ہے ایک محبت اور دوسرا تقدیر اور ان تینوں کے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا انکو بھی محبت اور قسمت نے بے بس کر دیا تھا اشنہ کو محبت نے بے بس کیا تو اُس نے اپنی محبت کو پانے کے لیے ہر حربہ آزمایا مگر وہ اُسے پا نہ سکی پھر قسمت کے آگے بے بس ہوتی چھ سال کا ہجر کاٹ گئ اور اسی قسمت نے آخر اُسے اُسکی محبت سے ملا دیا اسی طرح زرلش اپنی محبت کے ہاتھوں بے بس ہوتے ہوئے اشنہ سے نفرت کرنے پر مجبور ہوئے اور پھر قسمت کے وار سے بچ نہ سکی جو اُسے موت تک لے گئی اور پھر فردین اس کے ساتھ بھی تو وہی کُچھ ہوا نہ تقدیر نے اُسے بھی محبت کے آگے اتنا بے بس کر دیا تھا کہ وہ بھی اُس اذیت میں مبتلا رہا جسے وہ ہوش مندی میں ہرگز گوارا نہ کرتا پر محبت ہوش رہنے دیتی ہے کیا؟؟؟؟کیا انسان کا بس چل جاتا ہے اپنے دل کو موڑنے پر؟؟کیا کبھی لوگوں کو اس وار سے بچتے دیکھا ہے کسی نے؟؟کیا محبت میں پاگل ہونے والوں کو جان دینے والوں کو پوچھا ہے کہ ایسی کونسی تڑپ ہے جس میں قرار نہیں ملتا ایسا کونسا زہر ہے یہ محبت جس کے پینے کے بعد کوئی علاج کوئی دوا کام نہیں کرتی؟
لوگ کہتے ہیں جب محبت کسی پر اثرانداز ہوتی ہے نہ تو انسان پھر انسان نہیں رہتا وہ پھر اُس محبت میں مٹی ہو جاتا ہے جو محبوب کے پیروں تلے خُود کو اُس وقت روندتی رہتی ہے جب تک اُسکا محبوب اُسے ماتھے پر نہ سجا لے یہی محبت ہی تو جو اتنا درد دیتی ہے کہ بندہ ہر درد سے خُود کو بے پرواہ کر لیتا ہے پھر کہنا کہ بندہ اس سے بچ جائے خُود کو روک لے کیسے ممکن ہے کیسے؟
پھر زری کیسے محبت میں شراکت داری قبول کر لیتی؟اشنہ کیسے اُس کے بغیر جی لیتی اور فردین وہ کیسے پھر اپنے دل سے اشنہ کی محبت نکال پھینکتا؟مجبور تو سارے تھے نہ اپنی اپنی محبت میں پھر کسی ایک کو غلط کہنا کہاں جائز ہے؟
اشنہ گہرا سانس بھرتی دوبارہ سے لان کی طرف دیکھنے لگی مگر وہاں وہ تینوں موجود نہ تھے وہ چونکتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی جہاں اسکی سوچ کے عین مطابق وہ تینوں باپ بیٹا کمرے میں آ رہے تھے۔
“خبردار اگر آپ تینوں میں سے کوئی بھی آگے بڑھا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تینوں کو وارن کرتی دروازے کے آگے پھیل کر کھڑی ہو گئی۔
“کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔”تینوں کے چہروں پر یہی سوال تھا پوچھا فردین نے تھا۔
“میرا نیا قالین گیلا کر دو گئے آپ تینوں باپ بیٹا۔۔۔۔۔۔”وہ کڑھے تیوروں سے بولی۔
“ماما میں بھاگ کر واشروم میں گُھس جاؤنگا۔۔۔۔۔۔”احد نے طریقہ بتایا۔
“بلکل نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پلیز مائے سویٹ مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مکھن لگائے جا رہے تھے اشنہ نے گھور کر فردین کی طرف دیکھا یہ مکھن لگانا اُسی سے سیکھا جا رہا تھا۔
“تُم میرے بچوں کو خراب کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے خراب تم نے کیا،بدلہ تو لینا تھا میں نے بھی،اب مُسکراتے ہوئے ہمیں اندر آنے دو،تا کہ تیار ہو کر فلم دیکھنے چلیں۔۔۔۔۔”فردین نے لالچ دیا تھا جس پر وہ نہ آنے والی تھی حدید اُنکو دیکھتا اپنے قدم اندر رکھنے لگا کہ اشنہ کی اُس پر نظر پڑ گئی۔
“کتنے تیز ہو تُم،چلو باہر۔۔۔۔۔”اشنہ کے گھورنے پر وہ مُنہ لٹکا کر باپ کی طرف دیکھنے لگا۔
“پاپا،مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے شاید شکایت لگائی تھی فردین نے معنی خیزی سے اشنہ کو دیکھا پھر اُس کے قریب ہوتا اُسے اپنے کندھوں پر لاد کر لان میں لے آیا۔
“فردین چھوڑو مجھے،تُمہیں پتہ مجھے بارش میں بھیگنا پسند نہیں۔۔۔۔۔”وہ چیخنے لگی تھی مگر فردین نے نہ صرف لان میں کھڑا کیا تھا بلکہ کمر سے پکڑتا اُسکی پُشت اپنے سینے سے لگاتا تب تک اُسے نہیں چھوڑا تھا جب تک وہ پوری بھیگ نہ گئی تھی اشنہ نے غُصے سے مُسکرا کر تالیاں بجاتے اپنے سپوتوں کو گُھورا تھا۔
“تم لوگوں کو میں بتاتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ غُصے سے اُنکی طرف بُڑھنے لگی کہ فردین نے اُسے روکا تھا اور وہ دونوں اندر اپنی دادو کے پاس بھاگ گئے تھے۔
“کتنا ظُلم کرتی ہو تُم میرے بچوں پر،کیا باپ کم تھا تُمہارے ظلم سہنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے دوبارہ اُسے اپنی بانہوں میں بھرا تھا۔
“کونسے ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے تُم پر۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ ظلم کم ہے کہ میرا وقت بھی بچوں کو دینے لگی ہو،سارا دن ہاتھ نہیں آتی تُم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر وہ اُسے گھورنے لگی۔
“رات کو جو ہاتھ لگ جاتی ہوں یہ کافی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بلکل نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی گردن پر چپکے بال پیچھے کرتا گردن پر لب رکھ گیا۔
“شرم کرو فردین،کہاں ہیں ہم یہ بھی دیکھو۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکے بڑھتے ہاتھوں کو روکتی بولی۔
“تیرے بھیگے بدن کی خُوشبو سے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہولے سے کہتا ایک لطیف سی شرارت کر گیا اشنہ اُسے زور سے دھکا دیتی اندر بھاگی تھی وہ بھی مُسکراتا ہوا اس کے پیچھے ہی گیا تھا۔
_ختم شُدہ_
نوٹ۔۔۔
ہر رائٹر اپنی سوچ کے مطابق ناول لکھتی ہے اس لیے ضروری نہیں وہ سب کو پسند آئے یہ ناول کُچھ کو پسند ہے تو کُچھ کو اس میں اشنہ کا کردار پسند نہیں آیا تو اُن سے اتنا کہونگی کہ ہماری زندگی میں بھی ہر طرح کے کردار پائے جاتے ہیں جو ہمیں اچھے بھی لگتے ہیں اور بُرے بھی سو اختلاف رائے کا سب کو حق ہے پر ایسا مت بولا کریں جس سے رائٹر کی دل آزاری ہو آخر دل تو سب کے پاس ہوتا ہے۔۔۔
شُکریہ کیسا لگا ضرور بتائیے گا۔۔۔