No Download Link
Rate this Novel
Episode 04
فردین مُصطفی کا دماغ بلکل سُن تھا نکاح کو ایک گھنٹہ گُزر چُکا تھا مگر وہ ابھی تک اس سچویشن کو سمجھ نہیں کر پا رہا تھا بلکہ اُسکا دماغ اس چیز کو ابھی تک قبول بھی نہیں کر پا رہا تھا کہ اُس کے ساتھ یہ سب ہو گیا اور کیسے ہو گیا وہ اتنا بے بس کیسے ہو گیا کہ یوں اُسے کٹھ پتلی بنا کر اپنا من پسند فیصلہ کروا لیا سب سے زیادہ حیرت تو اسے مُصطفی کمال کی انٹری اور اُنکی باتوں پر ہو رہی تھی کہ وہ کیسے اپنے بھائی کی بیٹی زرلش پر سوتن لے آئے جسکی سات دن بعد رُخصتی تھی۔
نکاح کرتے ہی وہ وہاں سے اُٹھا اور بنا کسی کی طرف دیکھے فیاض کی طرف چلا گیا جو اس کی رام کہانی سُن کر خُود بھونچکا رہ گیا تھا وہ بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگا جو غم و غُصے میں پاگل ہو رہا تھا فیاض جو خُود بھی مُصطفی کمال کی اس حرکت پر بے یقین سا تھا مگر اُسے ٹھنڈا کرنے لگا تھا۔
رات کا ایک بج رہا تھا جب وہ گھر میں داخل ہوا لیٹ آنے کا مقصد مُصطفی کمال سے ناراضگی اور زرلش کا سامنا نہ کرنا تھا اس لیے چابی سے گیٹ کھولتا وہ اندر داخل ہوا گاڑی کو اندر لا کر گیٹ بند کرتا وہ ہال کے دروازے کو کھولتا اندر داخل ہوا پُورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا بس کچن کی لائٹ آن تھی وہ کچن کے پاس سے گُزرتا آگے بڑھ جانا چاہتا تھا کہ کچن سے نکلتیں سُلطانہ بیگم کو دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی رُک گیا تھا۔
“اتنا پریشان کیا تُم نے آج مُجھے فردین،نمبر تُمہارا بند تھا فیاض فُون اُٹھاتا نہیں تھا،کہاں تھے تُم۔۔۔۔۔۔”
“کیوں آپکے شوہر نے آپکو بتایا نہیں تھا کہ کس جہنم میں دھکیل کر آئے ہیں مُجھے،اُس کے بعد کس مُنہ سے یہاں قدم رکھتا میں بتائیے مُجھے،اب بھی صرف آپکا سوچ کے آیا ہوں ورنہ والد محترم تو شاید اب میری شکل بھی دیکھنا پسند نہ کریں آخر اُنکی برسوں کی بنائی گئی عزت کو خراب جو کر دیا ہے پر بخدا مجھے ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ آخر میں نے کیا کیا ہے،آپکو پتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے سوالیہ انداز پر سُلطانہ بیگم نے نظریں چُرائیں تھیں۔
“کھانا کھا لو،صُبح کا ناشتہ کیا ہوا ہے تُم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا کھانے کی گنجائش ابھی باقی رہ گئی ہے،آپ پریشان نہ ہوں میرا پیٹ بہت ذیادہ فُل ہو چُکا پے دو دن بھی نہ کھاؤں کُچھ تو فرق نہیں پڑتا،آپ سو جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکو کہتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا جبکہ سُلطانہ بیگم جو اُس سے کچھ کہنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہی تھیں اُسے جاتا دیکھ کر گہرا سانس بھرتیں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
فردین مُصطفی اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اُسے عجیب سے احساس نے اپنی گرفت میں لیا تھا لائٹ آن کر کے اُس نے ایک نظر اپنے کمرے میں دوڑائی اور اگلے لمحے اُسکی نگاہ ایک منظر پر ساکت ہوئی تھی اور وہ منظر تھا اُسکے بیڈ پر اطمینان سے محو خواب وجود اشنہ اعوان کا جو کُچھ دیر پہلے ہی اشنہ فردین مُصطفی بن چُکی تھی مگر اتنی جلدی اس رشتے کی آڑ میں اس کے بیڈ رُوم تک آ جائے گی یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا اس لیے تو بُت بنا اُس کے کمبل میں دُبکے وجود کو دیکھ رہا تھا۔
جب ہوش و حواس واپس آئے تو چہرے پر چھائی بے یقینی کی جگہ غُصے اور نفرت نے لے لی وہ طیش کے عالم میں اُسکی طرف بڑھا تھا اور کمبل کھینچ کر دوسری طرف اُچھال دیا تھا وہ جو ابھی کُچھ دیر پہلے ہی سُوئی تھی ہڑبڑا کر اُٹھی تھی فردین کو لال سُرخ آنکھوں سے اپنی طرف دیکھتے بلکہ گھورتے دیکھ کر اُسکی تو جیسے روح فنا ہو گئی تھی۔
“تُم یہاں میرے کمرے میں کس حق سے آئی ہو نکلو یہاں سے،مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم اتنی بے شرم نکلو گی اتنی جلدی اُس اقرار نامے کی آڑ لے کر آ جاؤ گئی جو صرف کُچھ لمحوں کی مجبوری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں،میں۔۔۔۔۔۔”
“کوئی بکواس نہیں سُننی مجھے نکلو میرے رُوم سے،مُجھے تُمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی اور جس خُوش فہمی کی بنا پر تم اس گھر میں میرے کمرے تک آئی ہو نہ وہ بھی میں آج ہی ختم کردُونگا۔۔۔۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اپنی صفائی میں کُچھ کہتی وہ درشت لہجے میں بولتا اُسکی بولتی بند کروا گیا تھا۔
“ویسے خوب ڈرامعہ رچایا ہے تم نے تُمہیں تو نوبل پرائز ملنا چاہئیے مُجھے وہاں بلوا کر میرے باپ کی نظروں میں مُجھے ذلیل کرو دیا،ویسے یہ سب پلاننگ کرتے ہوئے تُمہارے ضمیر نے تُمہیں ملامت تو نہیں کی ہو گی ہے نہ،تُم تو میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا لڑکی ثابت ہوئی ہو اس سے پہلے کہ میں آؤٹ آف کنٹرول ہو کر اپنی تربیت کے خلاف کوئی کام کر جاؤں نکلو یہاں سے دفعہ ہو جاؤ میری نظروں سے۔۔۔۔۔۔۔۔”غم و غُصے کی شدت سے چیخ اُٹھا اشنہ سہم کر پیچھے ہٹی تھی جو غُصے اور نفرت سے بلبلا رہا تھا اُسکی کوئی بات کوئی صفائی سُننے کے موڈ میں نہ تھا۔
“تُم ایسے نہیں مانو گی آخر ڈھیٹ جو ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے کلائی سے پکڑ کر باہر نکالنے لگا جو سسک اُٹھی تھی اُسکی سخت گرفت سے۔
“مُجھے درد ہو رہا ہے فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا ذخم نہ صرف دُکھا تھا بلکہ خُون بھی نکلنا شُروع ہو گیا تھا۔
“جتنا درد ہمیں دے رہی ہو اس کے بدلے تو یہ کُچھ نہیں۔۔۔۔۔۔”وہ بےحس بنا اسے باہر لا کر دھکا دیا تھا وہ اس سے پہلے کہ مُنہ کے بل زمین پر گرتی مُصطفی کمال نے اُسے گرنے سے بچا لیا تھا۔
“تُمہاری ہمت کیسے ہوئی اس کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔”وہ روتی ہوئی اشنہ کو صوفے پر بٹھا کر اُسکی طرف پلٹے تھے جو کھا جانے والی نظروں سے اشنہ کو دیکھ رہا تھا۔
“یہ اسی سلوک کی مستحق ہے بلکہ اس سے بھی بد تر کی،آپکو نہیں پتہ کس قماش کی عورت ہے یہ انتہائی تھرڈ کلاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس خاموش،اپنی زُبان کو یہی لگام دو فردین ورنہ میں بُھول جاؤنگا کہ تُم میرے بیٹے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ غُصے سے دھار اُٹھے تھے فردین نے لب بھینچ کر سُلطانہ بیگم کی طرف دیکھا جو اسے چُپ رہنے کا اشارہ کر رہی تھیں۔
“یہ تو آپ رات کو ہی بُھول گئے تھے کہ میں آپکا بیٹا ہوں ورنہ آپ کبھی بھی اس مکار لڑکی کے بہکاوے میں آکر مُجھے وہ کروا گھونٹ پینے کو نہ کہتے۔۔۔۔۔۔۔”
“میں تُم سے اس وقت کوئی فضول بحث نہیں کرنا چاہتا تُم جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مُصطفی کمال نے رُخ بدلا تھا فردین نے سر کو نفی میں ہلایا تھا۔
“ایسے نہیں پاپا،اس لڑکی کو میرے گھر سے ابھی اسی وقت دفعہ ہونا پڑے گا،آخر یہ کس حق سے میرے گھر اور میرے کمرے تک آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُسی حق سے جو اسکو تھوڑی دیر پہلے ملا ہے،اور اسے اس گھر سے کوئی بھی نہیں نکال سکتا میرے جیتے جی تو کوئی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ سختی سے اُسے باور کروا گئے جو حیرت سے اپنے باپ کا یہ رُوپ دیکھ رہا تھا کہ آخر مُصطفی کمال اُسکی سائیڈ کیوں اتنی لے رہے ہیں۔
“حق سے رہ رہی ہے نہ یہ اس گھر میں ٹھیک تو پھر وہ حق ہی ختم کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔”اُس کے برف لہجے پر جہاں سُلطانہ بیگم اور مُصطفی کمال نے چونک کر دیکھا تھا وہی اشنہ بھی دھک سی رہ گئی۔
“میں فردین مُصطفی اس مکار عورت کو طلاق دیتا ہوں طلاق۔۔۔۔۔۔۔”
“چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مُصطفی کمال کے اُٹھے ہاتھ نے باقی کے الفاظ اُس کے مُنہ میں روک دئیے تھے اشنہ جو اُس کے مُنہ سے طلاق کا سُن کا پتھر ہوئی تھی مُصطفی کمال کے ری ایکشن پر مُنہ پر ہاتھ رکھتی پھٹی پھٹی نگاہوں سے فردین کے سُرخ چہرے کو دیکھنے لگی۔
“یہ غلیظ الفاظ کہنے کی تُم نے ہمت کیسے کی،اگر تُم نے اشنہ کو طلاق دی تو میں تُمہاری ماں کو طلاق دے دُونگا۔۔۔۔۔۔۔”اُن کے مُنہ سے نکلتے الفاظ تینوں کو کرنٹ کی طرح لگے تھےسُلطانہ بیگم تو ہکا بکا اپنے نرم مزاج شوہر کا یہ رُوپ دیکھ رہی تھیں۔
“اور جہاں تک اسے اس گھر سے نکالنے کی بات ہے تو وہ تم کیا تُمہارا باپ بھی اسے یہاں سے نہیں نکال سکتا کیونکہ میں نے حق مہر میں یہ گھر اشنہ کے نام کر دیا ہے،اگر نکلنے کا شوق ہو پھر بھی تو تُم نکل جانا کیونکہ مُجھے تم جیسے بیٹے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سب پر بم گراتے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے فردین حیرت و اجتناب کے شدید جھٹکے سے نکلتا اپنی انگارہ آنکھیں اُس پر مرکوز کرتا جیسے اُسے سالم نگل لینے کے درپے ہو جو سر جُکائے آنسو بہا رہی تھی فردین نے ایک پُرشکوہ نگاہ سُلطانہ بیگم پر ڈالی جو خُود ابھی تک ساکت تھیں وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
“ارے تُمہارا تو خُون نکل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم کی نگاہ اُسکی کلائی پر پڑیں تو اُٹھ کر اس کے قریب آئیں جو اپنی کلائی کے ذخم سے نکلتے خُون کو دیکھ بھی لب سی کر بیٹھی تھی شاید جو تکلیف فردین مُصطفی کے الفاظ دے کر گئے تھے وہ اس درد سے بڑھ کر تھی۔
“_______________________“
باقی کی ساری رات اُسکی آنکھوں میں ہی کٹی تھی سُلطانہ بیگم سے بینڈیج کروا کر وہ اُسی کمرے میں پھر سے آ گئی تھی مگر اب سونے کے بجائے وہ صوفے پر بیٹھ کر فردین مُصطفی کے اتنے شدید رد عمل کو سوچتی رہ گئی تھی جو کُچھ ہوا تھا اس میں تو وہ بھی حیران تھی مُصطفی کمال کا اس کے بابا صغیر اعوان کے ساتھ ہسپتال جانا نکاح اور پھر اُسکا مُصطفی کمال کے ساتھ اس گھر میں آنا سب اسے بھی چکرا کے رکھ رہا تھا۔
موبائل کی بجتی ٹون پر وہ اپنے خیالوں سے نکلی اور موبائل کی طرف دیکھا جہاں مما کالنگ کے الفاظ جگمگا رہے تھے گہرا سانس لے کر کال پک کی اور یہاں کے بارے میں سب جُھوٹ بول کر اُنکی تسلی کرواتی کال بند کر گئیں جو اس کے یوں یہاں آنے پر پریشان سی تھیں کہ اجنبی لوگ اُنکی ناذوں پلی بیٹی کے ساتھ بُرا برتاؤ نہ کریں۔
واش رُوم سے فریش ہو کر اس نے ٹائم کی طرف دیکھا جہاں نو بج رہے تھے وہ دروازے کی طرف دیکھنے لگی اور لب کاٹنے لگی کہ وہ باہر جائے یا نہ کیونکہ صُبح سے کسی نے اُسکے دروازے پر دستک بھی نہ دی تھی ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی کل کے پلازو اور شرٹ میں ملبوس تھی جب کمرے سے نکلی تو پہلی نظر ہال میں بیٹھی سُلطانہ بیگم،زرلش کی ماما فردین اور زرلش پر پڑی جو رو رہی تھی اور فردین اُسے چُپ کروانے کی کوششوں میں تھا۔
“مُجھے افسوس تو بھائی صاحب پر ہو رہا ہے کہ وہ کیسے میری بیٹی پر سوکن لا سکتے ہیں ،ایسا کرتے ہوئے اُنکو زری یاد نہ آئی جسے دو سالوں سے نکاح پر بٹھا رکھا ہے جا کر لے آئے اُس لڑکی کو،مُجھے تو وہ کسی صُورت قبول نہیں اور نہ میں اُسے اس گھر میں ٹکنے دُونگی۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ زرلش کی ماما تھی جو اپنا غُصہ نکال رہی تھیں اشنہ اُنکی بات پر لب بھینچ کر واپسی کو پلٹنے لگی تبھی زرلش کی نگاہ اُس پر پڑی تھی وہ آنکھوں میں نفرت لیے ایک طوفان کی طرح اُٹھ کر اسکے پاس آئی جہاں اشنہ اسے اپنے قریب آتا دیکھ کر چونکی تھی وہی اُن تینوں کی نگاہ بھی اس پر پڑی تھی۔
“چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش کا غُصہ اس ری ایکشن کی صورت اس تک آیا تھا رُخسار پر ہاتھ رکھے اشنہ اسے ہکا بکا دیکھ رہی تھی ششدر تو باقی بھی گئے تھے فردین یکدم اپنی جگہ سے اُٹھا تھا اور ان کے درمیان میں آتا زرلش کو دوسرا تھپڑ مارنے سے روک گیا تھا۔
“ہوش کرو زری،پاگل ہو گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سخت لہجے میں بولا تھا یہ نہیں تھا کہ اُسے تکلیف ہوئی تھی بس اُسکی تربیت یہ گوارا نہیں کرتی تھی کہ کوئی یوں کسی کے ساتھ مس بی ہیو کرے۔
“مُجھے مت روکو فردین میں اس کی جان لے لونگی جو دوست کے رُوپ میں آستین کا سانپ ثابت ہوئی میرے لیے،اُسکی ہمت کیسے ہوئی میرے شوہر کے ساتھ نکاح کرتے ہوئے میرے گھر میں میرے رُوم میں رہتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھڑک گئی تھی فردین نے اُسے بازو سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا تھا جبکہ اشنہ آنکھوں میں آنسو لیے کمرے میں چلی آئی اور دروازہ بند کرتی وہی بیٹھتی چلی گئی۔
“تُم نے اسے رات بھر میرے کمرے میں رکھا فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”زری نے شکوہ کناں نگاہوں سے اُسے دیکھا تو وہ سُلطانہ بیگم کی طرف دیکھتا لب بھینچ گیا۔
“میرے بس میں ہوتا تو ایک منٹ نہ اُسے یہاں رہنے دیتا۔۔۔۔۔۔”
“تایا ابو سے تو میں خُود بات کرونگی میں اس لڑکی کو اور تُمہارے آس پاس برداشت نہیں کر سکتی یہ ڈائن میری ساری خُوشیاں چھین لے گی مجھ سے۔۔۔۔۔۔”وہ رونے لگی تھی فردین نے ا سکا ہاتھ پکڑ کر اُسے دلاسہ دیا تھا۔
“~||~|~~~|“
وہ باہر ہال میں بیٹھی اپنے موبائل کے ساتھ لگی تھی جب اُس نے گلاس ونڈو سے تہمینہ اعوان کی گاڑی پورچ میں رُکتی دیکھی تھی۔
“مما۔۔۔۔۔۔”وہ بوکھلا کر اُٹھی اور بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی اچھی طرح مُنہ ہاتھ دھو کر بالوں میں برش کر کے اُنکو کُھلا چھوڑا اور چہرے پر کریم لگا کر ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالتی باہر جانے کو ابھی پلٹی تھی کہ تہمینہ بیگم اُسکے کمرے میں داخل ہوئیں۔
“میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔”انہوں نے بانہیں وا کیں تھیں جن میں اشنہ سما گئی تھی۔
“کیسی ہے میری جان۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی پیشانی چُوم کر وہ پوچھنے لگیں۔
“آپکو کیسی نظر آ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکراتے ہوئے اُلٹا پوچھ بیٹھی اُنہوں نے ایک نظر اسکے مُسکراتے چہرے کی طرف دیکھا پھر بولیں۔
“ٹھیک مگر کُچھ بجھی ہوئی۔۔۔۔۔۔”
“آپ لوگوں سے دُوری کی وجہ سے اور تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔۔۔”نگاہ چُرائی تھی۔
“خُوش ہو نہ۔۔۔۔۔۔”ماں تھیں تسلی چاہتی تھیں۔
“فردین مُصطفی کو پا کر بھی خُوش نہ رہوں تو کافر ہوں پھر،جس کے پاس وہ ہے اُسے اور کیا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ عشق میں جھلی بن گئی تھی۔
“ایسا بھی کیا ہے اُس میں اشنہ جو تم اس قدر پاگل ہو رہی ہو۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی خوبصورتی سے تو واقف تھیں مگر دُنیا میں صرف وہ ہی تو خُوبصورت نہیں تھا پھر اشنہ اعوان کی نگاہ اس پر کیوں ٹکیں۔
“مما آپ نے کبھی فردین کو دیکھا ہے،جب وہ مُسکراتا ہے تب اُس کے دائیں گال پر پڑتا ڈمپل اور جب غُصے میں بات کرتا ہے تب ماتھے کے بل اور جب پیار سے دیکھتا ہے تو گرے آنکھوں کی چمک کُچھ بھی تو نظر انداز نہیں ہوتا مما۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دیوانگی سے بولتی دیوانی لگ رہی تھی۔
“اب میں فردین کو اُس نظر سے دیکھتی اچھی لگونگی،میرا داماد میرا بیٹا ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔”تہمینہ اعوان شرارت سے بولیں تو اشنہ کُھل کر ہنس دی تھی۔
“میرے علاوہ اس نظر سے کوئی دیکھے تو بھلا۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتی ہوئی دروازے کی طرف دیکھنے لگی جہاں سُلطانہ بیگم ٹی ٹرالی سمیت اندر داخل ہوئیں۔
“ارے آپ نے کیوں تکلف کیا،مُجھے کسی چیز کی طلب نہیں۔۔۔۔۔۔”تہمینہ اعوان نے ٹی ٹرالی پر سجے مختلف قسم کے لوازمات دیکھ کر کہا تو سُلطانہ کمال مُسکرا دیں۔
“آپ پہلی مرتبہ اپنی بیٹی کے سُسرال میں آئی ہیں اتنا تو حق بنتا ہے اور ویسے بھی تکلف تو آپ نے کیا ہے اتنا کُچھ لا کر۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ کمال کا اشارہ اُن فروٹس اور مٹھائی کے ٹو کروں کی طرف تھا جو ابھی وہ کچن میں رکھوا کر آئیں تھیں۔
“میں بھی تو پہلی مرتبہ اپنی بیٹی کے گھر آئی ہوں یوں خالی ہاتھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔”
“آنٹی آپ یہاں آئیں۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ اُٹھ کر سُلطانہ بیگم کو بیٹھنے کا کہنے لگی۔
“نہیں آپ لوگ بیٹھو،مُجھے ابھی عصر کی نماز پڑھنی ہے پھر آتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے چلی گئیں تو اشنہ تہمینہ اعوان کے لیے چائے کپ میں ڈالنے لگی۔
“کمرہ تو کافی اچھا ہے تُمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کمرے میں نظر دوڑانے لگیں جہاں ایک طرف بیڈ اور ڈریسنگ تھا ایک طرف صوفے اور ٹیبل تھا جہاں وہ خُود براجمان تھیں اٹیچڈ باتھ اور پنک کرٹن سے سجا کمرہ کافی کشادہ تھا۔
“اور میرا گھر۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکرا کر پوچھنے لگی۔
“وہ بھی اچھا ہے،چھوٹا ہے پر پیارا ہے،تُم چاہو تو جوہر ٹاؤن والے بنگلے میں شفٹ ہو جاؤ فردین کو لے کر وہ تُمہارا ہی تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چائے کا سپ لیتے ہوئے بولیں جبکہ اُس نے فورًا سر نفی میں ہلایا تھا۔
“نہیں ماما ابھی تو اسکے بارے سوچنا بھی نہیں فردین پہلے ہی غُصے میں ہیں اور ویسے بھی مجھے اس گھر میں کوئی تکلیف نہیں تمام سہولتیں تو موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے جیسے تُمہاری مرضی پر ہمارا سب کُچھ تُمہارا ہی تو ہے اس لیے اب فردین کو بولو کہ تُمہارے پاپا کے ساتھ آفس کو دیکھے کل کو اُس نے ہی تو ساری بھاگ دوڑ سھنبالنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ابھی نہیں ماما،ابھی مجھے فردین سے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کرنی،ابھی تو انکل اور فردین کے درمیان ایک سرد جنگ چھڑی ہوئی انکل نے یہ گھر نہ صرف حق مہر میں لکھا بلکہ میرے نام بھی کر دیا ہے اور اس بات کو لے کر فردین بہت غُصے میں ہیں کیونکہ اس گھر پر زرلش کا بھی اُتنا ہی حق ہے جتنا میرا،مجھے تو ابھی تک اس نکاح اور انکل کا وہاں جانا ہضم نہیں ہو رہا آپ ہی بتا دو کہ اصل بات کیا ہوئی۔۔۔۔۔۔”اشنہ کے پوچھنے پر تہمینہ اعوان نے ایک نظر اُس پر ڈالی جہاں سب جاننے کی بے چینی صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
“جس دن تُم نے سو سائیڈ کمٹ کی تھی اُس دن زرلش کی کال آئی تھی میں نے اٹینڈ کی تو میرے بولنے سے پہلے ہی وہ شُروع ہو گئی کہ تم میرے شوہر کا پیچھا چھوڑ دو،میں نے اُسے بتایا کہ تم نے سو سائیڈ اٹیمپ کر لی ہے،میں نے جب تُمہارا سیل چیک کیا تو فردین کے نمبر پر سینڈ کیے ہوئے تُمہارے میسج سب انکشاف کر گئے میں نے تُمہارے پاپا سے بات کی پھر وہ فردین کے گھر گئے اُس کے پاپا سے بات کی تو وہ مان گئے بس۔۔۔۔۔۔”تہمینہ بیگم خالی کپ ٹیبل پر رکھتے کُچھ باتیں گول کر گئیں۔
“اس لیے تو فردین غُصے میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
“تُم اُسکا غُصہ ختم کرنے کی کوشش کرو،اچھا میں اب چلتی ہوں تُمہارے پاپا ساتھ کسی دن آؤنگی وہ بھی بہت مس کرتے تُمہیں،میں کل ڈرائیور کے ہاتھ تُمہارے کپڑے اور گاڑی بجھوا دُونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ کھڑیں ہوئیں۔
“کپڑے بھجوا دیجیے گا مگر گاڑی ابھی نہیں،فردین کو اچھا نہیں لگے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ بھی اُنکے ساتھ ہی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
“فردین کو جلدی ٹھیک کرو،سب مجھ سے سو سو سوال کر رہے کہ ایسے کیسے تُمہیں رُخصت کر دیا،سو بہانے بنا رہی ہوں اس لیے فردین ٹھیک ہو اور تُمہارا یہ ذخم بھی تو دوبارہ سے ساری رسمیں کر کے دھوم دھام سے شادی کرونگی پتہ لگے اشنہ اعوان کی شادی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر محض سر ہلا گئی۔
“____________________“
“مُجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا فردین کہ وہ تُمہیں مُجھ سے چھین چُکی ہے۔۔۔۔۔۔۔”فردین اس وقت زرلش کے رُوم میں سر تھام کر بیٹھا تھا۔
“تُم نے کیسے نکاح نامے پر سائن کر دئیے فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُمہیں ہزار بار تو بتا چُکا ہوں کہ وہ سچوئشن ہی ایسی تھی کہ بابا کی بات نے میرے دماغ کو ایک دم مفلوج کر دیا تھا،مجھے تو ابھی تک یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ بابا وہاں گئے کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“یہ سارا پلان اشنہ کا تھا،اُس نے یہ سارا ڈرامہ رچایا پہلے تُمہیں کال کر بُلایا پھر تایا ابو کو،اُن سے پتہ نہیں کیا کہا ہوگا مُجھے تو لگتا کہ اُسکی خُودکشی بھی محض ایک ڈرامہ تھی ہمیں ٹریپ کرنے کو،کیا تم نے دیکھا اصل میں ذخم ہے کیا۔۔۔۔۔۔”زری کی بات پر فردین کے زہن کے پردوں پر اُسکا اشنہ کی کلائی پکڑنا اُسکا درد سے سسکنا اور ذخم سے خُون نکلنا لہرانے لگا مگر اُس نے اُس کی بات کی تروید نہیں کی تھی بس اُتنا بولا تھا۔
“کوئی جو بھی کہے بابا کو،بابا اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں اگر میں اُسے چھوڑنے کی بات کروں تو بابا اندر اماں کو لے آتے اُوپر سے نہ صرف گھر حق مہر میں لکھ دیا بلکہ گھر نام بھی اُس کے کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین کو رہ رہ کر مُصطفی کمال کے اس عمل پر غُصہ آ رہا تھا۔
“کیا تُمہارے ساتھ ساتھ میرا گھر بھی اُسکی جھولی میں ڈال دیا تایا ابو نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ حیرت زدہ رہ گئی۔
“ابھی تو پتہ نہیں کیا کیا دینا اُسے،میں تُم سے صرف یہ کہنے آیا ہوں کہ تم خُود کو ہلکان مت کرو یوں،میں تُمہارا ہوں تو تُمہارا ہی رہونگا وہ مُجھے کبھی پا نہیں سکے گی،زرا بابا کا غُصہ اُتر جائے میں اُن سے دو ٹوک بات کرتا ہوں مُجھے جب اُسے بسانا ہی نہیں تو گھر میں رکھنے کا کیا فائدہ،اس لیے تم سے کہنے آیا ہوں کہ چچی اور چچا جان کو بولو کہ غُصہ اپنے بھائی پر کریں اور تُمہیں میرے ساتھ رُخصت کریں۔۔۔۔۔۔”
“نہیں فردین مُصطفی مُجھے اب تب ہی اُس گھر میں جانا ہے جب وہ گھر اور تم میرے ہو جاؤ گئے اور وہ یہاں سے میرے گھر سے تُمہاری زندگی سے دفعہ ہو جائے گی میں اُسے ایک نظر برداشت نہیں کر سکتی،کہ اب وہ مزید تُمہارے آس پاس رہے۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے ٹھیک ہے میں کرتا ہوں کُچھ تم پریشان مت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے اُس کے آنسو صاف کر کےاُس کے ہاتھ تھامے تھے۔
“______________________“
زرلش کے پاس سے اُٹھاتا وہ سیدھا گھر آیا تھا ڈائنگ ٹیبل پر سُلطانہ بیگم مُصطفی کمال اور اشنہ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے اشنہ کو دیکھ کر اُسکا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا جو تھوڑی دیر پہلے اُسے بُھوک کا احساس جاگا تھا وہ بھی ختم ہو گیا تھا۔
“فردین کھانا کھا لو۔۔۔۔۔”سُلطانہ کمال نے پُکارا۔
“مُجھے بُھوک نہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ اشنہ کے جُھکے سر پر جلتی نگاہ ڈالتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اشنہ جب کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آئی تو وہ واشروم سے نکل رہا تھا اشنہ جھجھک کر چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی بیڈ پر ٹک گئی اور کن انکھیوں سے اُسے دیکھا جو بالوں میں برش کر رہا تھا پھر برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتا وہ صوفے کی طرف بڑھا اور لائٹ آف کرتا لیٹ گیا۔
“فردین۔۔۔۔۔۔۔”وہ پکار گئی مگر وہ ان سُنی کر گیا۔
“تُم یہاں بیڈ پر آ جاؤ۔۔۔۔۔۔”وہ لائٹ آن کرتی اُس کے قریب آئی تھی۔
“کیوں تُمہیں کیا تکلیف ہے میرے یہاں لیٹنے پر۔۔۔۔۔۔۔”وہ ماتھے پر تیوری چڑھا کر بولا۔
“صوفہ چھوٹا ہے تُم آرام سے نہ سو پاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔”
“میرے آرام کی تُمہیں اتنی فکر ہوتی تو اس وقت یہاں نہ ٹک کر بیٹھی ہوتی،اگر دو دن بعد میں یہاں آ گیا ہوں تو ذلیل مت کرو،اور نہ مُجھے بار بار اپنی شکل دکھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”سرد لہجے میان کہتا کروٹ بدل گیا تو وہ آنسو پیتی بیڈ پر آ کر لیٹ گئی مگر ساری رات اُس نے صرف اسے دیکھنے میں گزاری جو پوری رات سکون سے نہ سو پایا تھا۔
“________________
