Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

قسط نمبر آٹھ
فردین مُصطفی اپنے ساکن وجود کو حرکت میں لاتا اُٹھا تھا اور اشنہ کو دیکھنے شاید آخری نظر دیکھنے کے لیے وہ اُس کے پاس جانا چاہتا تھا مگر صغیر اعوان نے اُسکی یہ آرزو پوری نہ ہونے دی تھی۔
“جو اندر ہے وہ میری بیوی ہے،مُجھے دیکھنا ہے اُسے۔۔۔۔۔۔”وہ سخت لہجے میں بولا تھا۔
“بیوی تھی فردین،اب وہ تُمہاری کُچھ نہیں لگتی اور ویسے جتنے دُکھ تُم نے اُسے جیتے جی دئیے ہیں نہ اُس کے بعد تو تُمہیں اُسکا نام بھی نہیں لینا چاہئیے،آزادی چاہتے تھے نہ تُم اُس سے،اُس زبردستی کے رشتے سے یہ لو آج سے آذاد ہو تُم،ہر بندھن سے اور اشنہ اعوان کے پاگل پن سے بھی۔۔۔۔۔۔۔”صغیر اعوان لہو رنگ آنکھوں سے اُسے دیکھتے بولے جو لب بھینچ گیا تھا مُصطفی کمال نے اُسے کندھے سے پکڑا اور ساتھ لے کر جانا چاہا۔
“ایسے کیسے روک سکتے ہیں یہ مُجھے،اُس کے پاس جانے سے مُجھے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھڑکا تھا۔
“میں روک سکتا ہوں،میں باپ ہوں اُسکا اور میری اجاذت کے بغیر تُم اُس تک نہیں جا سکتے،مُجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی آخر کونسی کثر رہ گئی جو اب پوری کرنا چاہتے ہو،جاؤ جا کر خُوشیاں مناؤ اشنہ اعوان سے جان چُھوٹ گئی تُم سب کی،مر گئ ہے وہ،اپنا آپ قربان کر دیا میری بچی نے تُم لوگوں کی خُوشیوں کے لیے،کیونکہ اُس نے تُم لوگوں کی زندگی میں زبردستی گُھس کر شاید تُم لوگوں کی پُرسکون زندگی میں خلل ڈالا تھا،اُسکے لیے معاف کر دینا اُس محبت کی ماری کو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ زمین پر گرے روتے چلے گئے تھے اُن کو یوں بلک کر روتا دیکھ کر سب کے دل پھٹنے کو آرہے تھے مُصطفی کمال نے زبردستی فردین کو وہاں سے نکالا تھا۔
“بابا کیا ایک نظر کا حقدار بھی نہیں رہا میں،کیا آخری دفعہ اُسے دیکھنے کے قابل بھی نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔”پُرنم لہجے میں سوال کرتا مُصطفی کمال کی آنکھیں بھگو گیا وہ سُلطانہ بیگم اور زری کو اشارہ کرتے اُسے زبردستی گھر لے آئے تھے۔
__________________
اشنہ کی اچانک موت کو کوئی بھی ہضم نہیں کر پا رہا تھا سب کو ہی ایسا لگ رہا تھا کہ شاید کوئی بھیانک خواب ہو جس پر وہ اپنی آنکھیں کھولیں گئے اور اشنہ مُسکراتی ہوئی واپس آجائے گی ایک دھچکا تھا سب کے لیے اور سب ہی پچھلے دو دن سے اس غم سے ابھی تک خُود کو نکال نہ پا رہے تھے ایک جیتا جاگتا وجود اگر یوں بچھڑ جائے تو اُس غم کی شدت کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو ان مراحل سے گُزر رہے ہوں جیسا کہ فردین مُصطفی جس کے اعصاب ابھی تک اُس کے غم کی شدت کو قبول نہ کر پا رہے تھے اُسے دو دن ہو گئے تھے کمرہ بند کیے پڑے اس کے دل کی کیفیت کو سمجھتے ہوئے مُصطفی کمال اور سُلطانہ بیگم نے بھی فلحال اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا اگر سچ پوچھا جائے تو وہ خُود اشنہ کی موت کے غم سے نڈھال تھے۔
فردین صوفے کی پُشت سے آنکھیں موندھے لیٹا ہوا تھا جب اپنے پاس کسی کی موجودگی کا احساس کرتے وہ آنکھیں کھول کر آنے والے کو دیکھنے لگا۔
“کیسے ہو؟دو دن سے نہ کوئی فُون کال نہ کوئی ملاقات۔۔۔۔۔۔”فیاض نے اسکے قریب ٹکتے ہوئے ہلکے پُھلکے لہجے میں پوچھا تھا پھر ایک نظر اُس پر ڈالی جو دو دنوں کے ملگیجے شکن زدہ لباس میں بکھرے بال اور سُرخ سوجی ہوئی آنکھیں لیے اس بات کا مُنہ بولتا ثبوت تھا کہ پچھلے دن اس پر غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا جو اُسکی راتوں کی نیند بھی لے چُکا تھا۔
“میں ٹھیک،تُم کیسے آ گئے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے بالوں کو ہاتھوں سے سنوارتا ہوا بولا۔
“تُم کال پک نہیں کر رہے تھے،تو میں نے سوچا چلو مل آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر ہلا گیا۔
“جوگ لے رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”فیاض کی بات پر وہ لب بھینچ کر سر نفی میں ہلاتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
“بلکل بھی نہیں ،میں پاگل تھوڑی ہوں،مُجھے کیا ضرورت اُس پاگل کے لیے جوگ لینے کی،بلکل سرپھری تھی وہ،مانا کہ زبردستی لائف میں گُھسنے والی دل میں گُھس گئی تھی پر اُسکا مطلب یہ تو نہیں کہ میں اُس کے پاگل پن کو یاد کر کے روؤنگا یا اُس پگلی کے لیے اپنی راتوں کی نیند اُڑاؤنگا بلکل نہیں فیاض۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کھڑکی کے پاس کھڑا ہوتا جتنے مضبوط لہجے میں بولا تھا اُسکا دل اُتنی ہی نرمی سے پگھلتا چلا گیا پُرنم آنکھیں بھینچے ہونٹ اور سُرخ چہرہ وہ ضبط کی انتہا پر تھا فیاض بھی دل مسوس کر رہ گیا۔
“کتنی پُرسکون تھی زندگی،ہر فکر سے آذاد،پھر وہ آ گئی کیا کُچھ نہیں کیا اُس نے،ٹینشن دی فکر دی بے سکونی بے آرامی اور شاید اُسے گوارا نہیں تھا کہ اس کے جانے کہ بعد بھی ہم سکون سے رہیں اس لیے تو جاتے ہوئے بھی دل کو ایک انوکھا سا روگ لگا گئی کہ یہ لو فردین مُصطفی اب ترسو گئے تُم سکون و راحت کے لیے،میں نے جتنی اذیت اُسے دی ان چند دنوں میں مانتا ہوں پر وہ تو مُجھے زندگی بھر کی بے قراری سونپ گئی۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے ہاتھ سے آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا تھا۔
“اور ایک یہ ظالم محبت،تُم تو بہت لیکچر دیتے تھے نہ محبت یہ محبت وہ،دیکھو محبت کیا کر گئی،محبت نے ہی اُسے اس مقام تک لا پہنچایا تھا کہ وہ اسی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہر روز اپنی عزت نفس کو کُچل کر میرے آگے ہاتھ پھیلاتی تھی،کیا کیا نہیں کروایا اس محبت نے اُس سے،اُسے رولایا بھی تڑپایا بھی اور آخر اُسکی جان لے لی،ایسا ہی یہ میرے ساتھ کرے گی دیکھنا تُم،چھبیس سالوں سے میں اس محبت نامی مرض سے بچتا آیا تھا اور دیکھو تو کب میں اس مرض میں مبتلا ہوا جب میرا دل بلکل خالی ہو گیا تب۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین اُسکی طرف پلٹا تھا فیاض ششدر سا اُسے دیکھ اور سُن رہا تھا جو واقع میں تب محبت کو قبول کر پایا جب محبت اُس سے دور جا چُکی تھی اشنہ مر کر بھی بازی جیت گئی تھی جاتے ہوئے فردین مُصطفی کو وہ سزا دے گئی تھی جس کی قید سے وہ ساری عُمر رہائی نہ پا سکتا تھا۔
“کیا تُمہیں اشنہ بھابھی سے محبت ہو گئی ہے فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”فیاض کو یہ پوچھنے کی ضرورت تو نہ تھی مگر وہ پھر بھی پوچھ گیا اُسکی بات پر فردین کے لبوں پر ایک ذخمی سی مُسکراہٹ آئی تھی۔
“نہیں تو مُجھے محبت کہاں ہوئی؟؟؟؟اُسکی محبت میرے اندر تک اُتر گئ ہے اُسے نکالنے کے لیے مُجھے شاید اپنی روح کو نکالنا پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا لہجہ بھاری تھا۔
“تُمہیں یقین نہیں آ رہا نہ،مجھے بھی خُود پر یقین نہیں آ رہا کہ میں اُسکی محبت سے نفرت کرتا تھا تو پھر محبت بیچ میں کہاں سے آ گئی،مُجھے کیسے اُس کے پاگل پن سے پیار ہو گیا جسکو دیکھ مجھے غُصہ آتا تھا چڑتا تھا میں اُس کی حرکتوں سے،پر پتہ نہیں یہ دل اُسکی کونسی ادا میں اُلجھ گیا کہ مُجھے پتہ بھی نہ چلا اور اُسکا ہو گیا۔۔۔۔۔۔”وہ رُکا تھا پھر گہرا سانس بھرتا اُسکے حیران چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔
“تُمہیں سب عجیب لگ رہا ہوگا ہے نہ،فردین مُصطفی جس نے چھبیس سالوں سے خُود کو اس مرض سے بچا کر رکھا تھا وہ کیسے اچانک سے اُس میں مبتلا ہوگیا،سمجھ تو مُجھے بھی نہیں آ رہا،حالانکہ زری سے نکاح کو دو سال ہو گئے وہ بھی بیوی تھی مگر پھر بھی دل کبھی معمول سے ہٹ کر نہیں چلا،مُجھے وہ پسند ہے اُسکی عادتیں اُسکا کردار سب کُچھ پر پھر بھی اُسے دیکھ کر دھڑکنیں یوں ساذ نہیں بجاتی تھیں،آنکھیں بند کرتا تھا تو اُسکا چہرہ آنکھوں میں آ کر سماتا نہیں تھا،پتہ نہیں کیوں یہ سب اب ہو رہا ہے پتہ نہیں کیوں،کیسے دل دغا دے گیا کیسے وہ بھی تب جب وہ میری پہنچ سے میری دسترس سے دُور ہو گئی ہے تب،جب میں چاہوں بھی تو اُسے اپنے پاس نہیں بُلا سکتا چاہوں بھی تو اُسے دیکھ نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر ہاتھوں میں تھام کر بیٹھا تھا فیاض نے گہرا سانس بھرتے ہوئے اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا وہ چاہ کر بھی یہ نہیں کہہ سکا تھا کہ اب اُسکا جنون اُسکی محبت بے معنی ہے جب وہ زندہ تھی اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی تب اس نے اُسکی قدر نہ جانی تھی اور جب جانی تھی تب وہ تھی کہاں؟؟
_____________________
“صاحب جی صغیر صاحب اور بیگم صاحبہ تو کُچھ ماہ کے لیے لندن چلے گئے۔۔۔۔۔۔”فردین اگلے دن صغیر اعوان کے گھر آیا تھا مگر چوکیدار سے سُن کر دو پل کے لیے چُپ ہوا تھا۔
“کیا آپ بتا سکتے کہ اُنکی بیٹی اشنہ کی قبر کہاں ہے۔۔۔۔۔۔”یہ پوچھتے ہوئے اُسکا دل سو بار کٹا تھا ایک تکلیف پُورے وجود میں سرائیت کر گئی تھی۔
“جی نہیں مُجھے نہیں معلوم صاحب۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے سر نفی میں ہلانے پر وہ لب بھینچ کر اپنی گاڑی میں بیٹھا اب اُسکا رُخ نزدیکی قبرستان کی طرف تھا۔
“تین دن پہلے یہاں کوئی جنازہ آیا ہو،اُسکی قبر کا بتا سکتے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہاں موجود چوکیدار سے اُس نے پوچھا تھا جس نے اسے ایک قبر کا بتایا وہ بھاری دل کے ساتھ وہ اُس قبر کے پاس آیا مگر وہ کسی مرد کی تھی۔
“اشنہ اتنی ظالم تو تُم نہ تھی،کس دوڑاہے پر لا کھڑا کیا ہے مجھے بے بس ہو کر رہ گیا ہوں اس دل کے ہاتھوں،کیسا روگ لگا دیا تم نے مُجھے۔۔۔۔۔۔۔”ضبط سے آنکھیں بند کرتا اس نے ایک اذیت کا گھونٹ دل میں اُتارا تھا۔
اشنہ کی موت کے تین ماہ بعد زری رُخصت ہو کر کمال ہاؤس میں آئی تھی جہاں سب کا خیال تھا کہ فردین زری کے آنے کے بعد اپنے خول سے باہر آ جائے گا تو سب کی خام خیالی تھی وہ اور زیادہ سنجیدہ ہو گیا تھا یہ نہیں تھا کہ وہ زری کے ساتھ بُرا برتاؤ رکھتا تھا یا اُس کے حقوق و فرائض سے کوتاہی برت رہا تھا بلکہ وہ اُسکی عزت اور اُسکا خیال پہلے کے انداز میں ہی کرتا تھا مگر اُسکا دل خالی تھا وہ خاص سے خاص بات پر بھی صرف مُسکراتا تھا اُسکا چہرہ ہمیشہ سپاٹ رہتا تھا اپنے دل تک کی رسائی انس نے زری کو نہ دی تھی اور نہ اُسے اپنی تنہائی کا حصہ بنایا تھا اسی بات پر تو زری کڑھ کر رہ جاتی تھی۔
“تُم پہلے تو ایسے نہ تھے فردین۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر فردین نے فائل سے نظریں ہٹا کر اُسکی بات پر غور کرتے ہوئے اُسے دیکھا۔
“کیا مطلب زری،ایسا ہی تو تھا۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں،تُم ان چھ ماہ میں بہت بدل گئے ہو،ٹھیک ہے تُم میرا خیال پہلے بھی کرتے تھے اب بھی کرتے ہو،میری ہر ضرورت پوری کرتے ہو،مُجھے روک ٹوک یا کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کرتے ہو،مگر ہمارے رشتے میں یہ سب تو نکاح کے بعد بھی تھا،مگر اب ہماری شادی ہو چُکی ہے تُمہیں اس چیز کو لے کر چلنا چاہئیے۔۔۔۔۔۔”
“اُسی چیز کو لے کر چل تو رہا ہوں،پلیز زری مُجھے بحث نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا لہجہ کُچھ اُکتایا ہوا تھا زری کو تو گویا آگ لگ گئی۔
“یہی تو میں رونا رو رہی ہوں کہ تُم میرے ساتھ بحث کیوں نہیں کرنا چاہتے،آخر کیوں تُم میرے ساتھ چھوٹی موٹی باتوں پر لڑائی نہیں کرتے،تُمہاری آنکھوں میں مُجھے وہ چمک نظر کیوں نہیں آتی جو شوہر کی نظروں میں بیوی کو دیکھ کر آتی ہے ،میں تُمہارے لیے تیار ہوتی ہوں تو تُم میری طرف دیکھتے نہیں تعریف نہیں کرتے،کوئی شرارت ،پاس سے گُزرتے ہوئے کوئی شوخ جُملہ،کوئی محبت کے دو بول کُچھ بھی تو نہیں فردین،مُجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے مجھے ہر احساس سے خالی فردین مُصطفی ملا ہے،جس کے سینے میں دل ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“زری تُم ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر غُصے ہو رہی ہو؟تُم جانتی ہو کہ مجھے یہ سب فضول کام کرنے نہیں آتے،شُروع سے جانتی ہو مُجھے میں ایسا ہی ہوں،کیا نکاح کے بعد کبھی ایسا کوئی کام کیا جو اب کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔”
“فضول کام۔۔۔۔۔۔”وہ طنزً مُسکرائی
“سیدھی طرح یہ کیوں نہیں کہتے فردین مُصطفی کہ یہ سب کرنے کو تُمہارا دل نہیں مانتا کیونکہ جس کے ساتھ تُمہیں یہ سب کرنے کی خواہش تھی وہ تو رہی نہ۔۔۔۔۔۔۔”فردین اُسکے کٹیلے لب و لہجے پر لب بھینچ گیا۔
“میں تُم سے جُھوٹ بولنا نہیں چاہتا اور سچ تُم سے کہنا نہیں چاہتا اس لیے اس ٹاپک کو یہی ختم کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیوں کروں میں اس ٹاپک کو یہاں ختم؟اور کیا سچ ہے جو کہہ نہیں پاؤ گئے؟میں کیا ہم سب پچھلے چھ ماہ سے اس سچ کو جانتے ہیں جسکو تُمہارا چہرہ تُمہاری آنکھیں تُمہارا انداز چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ تُم اشنہ کے غم کو ابھی تک سینے سے لگا کر بیٹھے ہو اُسکا روگ لگ گیا ہے تُمہیں اُسکی یادوں میں گُم رہتے ہو تنہائیوں میں اُسکے نام کا ورد کرتے ہو،میں بچی نہیں جو دیکھتی نہیں محسوس نہیں کرتی کُچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”چھ ماہ سے اس کے اندر تپنے والا الاوا اب پھٹا تھا وہ اسکے بے تاثر انداز سے تنگ آ گئی تھی۔
“میرے خیال میں مجھے اس وقت یہاں سے چلے جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سُرخ چہرہ لیے اُٹھا تھا۔
“ہاں تو جاؤ جا کر رو اُسے جو خُود تو چلی گئی مگر میرے سر پر کسی عذاب کی طرح مسلط ہو گئی ہے جا کر بھی وہ ہماری زندگیوں سے کھیل رہی ہے اس سے تو بہتر تھا مرتی نہ کم از کم اس اذیت سے تو چُھٹکارہ ملتا کہ میرا شوہر میرا ہو کر بھی میرا نہیں ہے اس کے دل و دماغ پر وہ چھائی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار وہ آپے سے باہر ہوئے تھی فردین ضبط کرتا مُٹھیاں بھینچتا اسکی طرف دیکھے بنا کمرے سے آؤٹ کر گیا اور زری پیچھے غُصے سے بل کھاتی رہ گئی۔
_____________________
سُلطانہ بیگم کے بُلانے پر وہ اُنکے کمرے میں آیا جو عشاء کی نماز سے فارغ ہو رہی تھیں۔
“بابا ابھی آئے نہیں مسجد سے۔۔۔۔۔۔”وہ پُورے کمرے میں نگاہیں دوڑاتے پوچھنے لگا۔
“نہیں،صدیقی بھائی کی طبعیت پوچھنے اُنکے گھر چلے گئے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے قریب چلی آئیں اس پر کُچھ پڑھ کر پھونک ماری فردین کے زہن کے پردوں میں اشنہ کا عکس لہرایا جس نے یہ عمل کرتے ہوئے ہوئے فردین کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔
“کہاں کھو گئے فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم کے پوچھنے پر وہ چونکا پھر سر نفی میں ہلا گیا۔
“آپ نے بُلایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُمہاری اور زری کی لڑائی ہوئی آج یہ نہیں پوچھونگی کہ وجہ کیا بنی بس اتنا بتاؤ قصوروار کون تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“قصور وار تو میں ہی تھا اماں،تب بھی اور اب بھی۔۔۔۔۔۔۔”وہ دھیمے لہجے میں کہہ اُٹھا۔
“تب کا وقت تو نکل گیا پر اب کا وقت تُمہارے ہاتھ میں ہے فردین،ا سکی جیتے جی قدر نہیں کی اب اُس کے لیے یوں خوشیوں سے مُنہ پھیرنے کا فائدہ،جو اب تُمہارے پاس ہے اُس کو تو خُوش رکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر اُسکا دل کٹا تھا۔
“اگر اُسکی قدر نہیں کی تو سزا بھی تو کاٹ رہا ہوں نہ،کسی پل چین نہیں ہے ماں،آپ کہہ رہی ہیں نہ زری کو خُوش رکھو تو یقین مانے اُسکی پوری کوشش کرتا ہوں پر میں بے بس ہوں اپنے دل کے ہاتھوں،اُسکا خیال کرتا ہوں اُسکی ہر خواہش پوری کرتا ہوں جو وہ کہتی ہے ویسا ہی کرتا ہوں پر جن باتوں کا وہ زکر کر رہی وہ تو دل کے ساتھ جُڑی ہیں نہ اُن پر میرا اختیار نہیں ہے ماں۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لہجے اور چہرے پر بھی بے بسی صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
“اشنہ کو بُھول جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر اُس نے اپنے سُرخ آنکھیں اُن پر ٹکائیں۔
“یہ میرے بس میں ہے کیا؟اگر ہوتا تو یقین مانیے اُس پاگل سے کبھی دل نہ جوڑتا،اُس بیوفا کی یاد میں کبھی یوں نہ تڑپتا پر میرے اختیار میں نہیں نہ اُس کی محبت دل سے نکالنی اور نہ اُسکا عکس زہن سے نکالنا،ورنہ مُجھے کوئی شوق نہیں زبردستی زندگی میں گُھسنے والی کے لیے یوں بے قرار رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھیں جہاں نم ہوئیں وہی اُسکا لہجہ بھی نم ہوا تھا سُلطانہ بیگم نے بے اختیار اُسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
“ماں میں بہت مجبور ہوں،میرا دل میرے بس میں نہیں ہے مُجھے زری سے محبت نہ ہوئی جا کے ساتھ میرا نکاح دو سال رہا اور مُجھے محبت اُس سے ہوئی جو دو ماہ میری نفرت کے ساتھ اس گھر میں رہی،ایسا کیوں ہوا یہ کیسی سزا منتخب کی اللہ نے میرے لیے جو مُجھے سکون نہیں لینے دیتی۔۔۔۔۔۔۔”بہت ٹوٹا بکھرا انداز تھا سُلطانہ بیگم کا دل کٹ سا گیا وہ اُسکی پیشانی چومتی اُسے دلاسہ دینے لگیں۔
______________________
اُس دن کے بعد اتنا فرق پڑا تھا کہ فردین مُصطفی اب زری کو کُچھ وقت دینے لگا تھا جس سے زری خُوش تو نہیں البتہ چُپ ہو گئی تھی شاید کسی اچھے وقت کی اُمید پر اور پھر وہ اچھا وقت جلد ہی انکی زندگی میں آ گیا تھا جب زری کو اپنی ہری گود ہونے کی خُوش خبری ملی تھی اس سے اتنا ہوا تھا کہ فردین خُوش بھی نظر آتا تھا اور زری سے بچے کے حوالے سے بات چیت بھی کرنے لگا تھا ساتھ اُسکا خیال بھی اور اچھے سے کرنے لگا تھا جس پر زری خُوش تھی۔
آج زری کا چیک اپ تھا اس لیے فردین جلدی آفس سے آ گیا تھا اس نے ہال میں قدم رکھا کہ ایک چیز پر اُسکی نگاہ ساکت ہوئی تھی اور وہ تھی اُسکی وہ پینٹ شرٹ جسے اشنہ نے دو دن پہنے رکھا تھا۔
“یہ کپڑے اپنے بیٹے کو دے دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زری ہاجراں سے کہہ رہی تھی فردین یکدم ہوش میں آیا اُنکے پاس آ کر ہاجراں کے ہاتھ سے وہ لباس پکڑ لیا۔
“زری میں نے تُم سے کتنی دفعہ کہا تھا کہ اسے ہاتھ مت لگانا پھر بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیوں نہ ہاتھ لگاؤں؟مُجھے نہیں رکھنی اُسکی کوئی نشانی بھی اپنے گھر میں،کوئی بھی ایسی چیز جس سے اُسکی یاد آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھڑکی۔
“تو پھر سب سے پہلے مجھے اس گھر سے دُور پھینکو،کیونکہ میں ہوں اُسکی یاد کی سب سے بڑی نشانی،کیا جب مجھے دیکھتی ہو تو اُسکی یاد نہیں آتی تُمہیں؟۔۔۔۔۔”وہ بھی طیش میں آیا تھا سُلطانہ بیگم نے فردین کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
“پلیز زری،میرے اور اُس کے معاملے میں نہ پڑا،اپنے لئے لڑو مجھ سے پر اُس کے لیے لڑنا چھوڑ دو کیونکہ اُس کے معاملے میں تُمہاری کیا میں اپنی بھی نہیں سُنتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہنٹ شرٹ ہاتھ میں لیے سیڑھیاں چڑھ گیا سُلطانہ بیگم زری سے نظریں چُراتی کچن میں چلی گئیں جبکہ وہ پیچ و تاب کھاتی وہی کھڑی رہ گئی۔
_____________________
انہی گُزرتے دنوں میں وہ دن بھی آ گیا جس کا سب کو بے چینی سے انتظار تھا مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ دن انکو کسی بڑے دھچکے سے بھی دو چار کر سکتا ہے جس کو سہنہ سب کے لیے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا تھا اور وہ تھا زری کی موت جو کہ ڈلیوری کے دوران بی پی شُوٹ کر جانے کی وجہ سے ہوئے تھی اشنہ کی موت کے بعد اگر فردین کے لیے سب سے اذیت ناک خبر تھی تو وہ یہ تھی جس نے سب کو ہی توڑ دیا تھا۔
_______________________