No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
اگر اشنہ کی موت کے بعد فردین کے لیے سھنبلنا مُشکل تھا تو زری کی موت کے بعد بھی پر فردین نے خُود کو ننھے احد کے لیے سھنبال لیا تھا جو نہ صرف سب کی توجہ کا مرکز تھا بلکہ اُس نے سب کو بہلا لیا تھا اس لیے سب زری کی جُدائی کے غم کو ہلکا کرنے کے لیے احد کے ساتھ لگے رہتے تھے۔
احد جب دو سال کا ہوا تو سُلطانہ بیگم نے فردین سے تیسری شادی کرنے کے لیے کہا تھا مگر اُس کے لبوں پر ذخمی مُسکراہٹ چمکی تھی۔
“آنے والی کو کیا دُونگا؟دل جو میرے پاس ہے ہی نہیں،محبت جو کب کی ہو گئی،سکون جو میرے نصیب میں لکھا ہی نہیں یا خُوشی جو زری کو نہیں دے پایا کسی اور کو کیا دُونگا،چھوڑیں ماں کُچھ دن کی زندگی رہ گئی ہے کٹ جائے گی ویسے بھی احد ہے نہ جو زری جاتے ہوئے مجھ پر بہت بڑا احسان کر گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے کہنے پر وہ چُپ ہی رہی تھیں اور پھر سب ہی اپنی جگہ چُپ ہی کر گئے تھے صفیہ بیگم اور مُرتضی کمال بھی احد کے سہارے جی رہے تھے۔
“___________________“
پانچ سال بعد۔۔۔۔۔
“احد،کہاں چلے گئے تھے تُم،پاپا کب سے ڈھونڈ رہے تھے تُمہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ آفس کے کام سے دبئی آیا تھا احد نے اس کے ساتھ جانے کی ضد کی تو وہ اُسے بھی ساتھ لے آیا تھا اب وہ پاکستان واپس جا رہے تھے دونوں اس وقت ایئرپورٹ پر تھے جب فردین اپنے سامان کی چیکنگ کروانے میں مصروف ہوا تو احد اسے کے پاس سے چلا گیا جب دو منٹ بعد اپنے کام سے فارغ ہوا تو احد کو اپنی جگہ پر نہ پا کر پریشان ہوتا ڈھونڈنے لگا تبھی ایک طرف سے آتا دکھائی دیا۔
“پاپا میں اُس آنٹی کو اُنکا گرا ہوا پاؤچ دینے گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”اُحد نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا اُس کے اشارے کے تعاقب میں فردین نے دیکھا کوئی بھی نہ تھا۔
“کونسی آنٹی وہاں تو کوئی نہیں،اب آئندہ تُم مجھے بتا کر ہی جاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا اپنے سامان کی طرف مُڑا کہ اُسکی اگلی بات پر ششدر سا اُسے دیکھنے لگا۔
“پاپا وہ تصویر والی آنٹی،جس کی دادو کے پاس تصویر ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی بات پر بے یقینی کے شدید جھٹکے سے نکلتے ہوئے بولا۔
“وہ آنٹی یہاں کیسے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں پاپا وہی تصویر والی آنٹی تھی آپکو پتہ احد جُھوٹ نہیں بولتا۔۔۔۔۔”وہ اپنی بات پر زور دیتا ادھر اُدھر دیکھنے لگااُسے تلاش کرنے کے لیے تا کہ اپنے سچ کو ثابت کر سکے مگر فردین مُصطفی ساکت سا اپنے پانچ سالہ بیٹے کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ وہ اس پانچ سالہ بچے پر یقین کرے کہ چھ سال پہلے ہوئی اُسکی موت پر؟؟؟؟؟؟؟؟
“اچھا آؤ آپ فلائٹ کا ٹائم ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا مگر پھر کسی احساس کے زیر اثر پیچھے مُڑ کر دیکھا ضرور تھا۔
“___________________“
“آ گیا میرا ببر شیر،بھئی ہم نے بہت مس کیا اپنے شیر کو اس لیے اب تُم اپنے پاپا ساتھ کہیں نہیں جاؤ گئے۔۔۔۔۔۔”مُصطفی کمال نے احد کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا جس پر وہ جلدی سے سر اثبات میں ہلا گیا۔
“ابھی تو مان گیا ہے مگر کل جب فردین جائے گا پھر سے تیار ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم مُسکرا کر بولیں ہے بھی سچ تھا وہ چاہے اپنے دادا دادی اور نانا نانی سے بہت اٹیچ تھا مگر فردین کے بغیر اُسکا رہنا پھر بھی مُشکل تھا۔
“دادا ابو میں آپ کے لیے گفٹ لایا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”یکدم یاد آنے پر وہ مُصطفی کمال کی گود سے نکلا۔
“اور دادو کے لیے نہیں لائے۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم نے پوچھا۔
“لایا ہوں نہ،نانا ابو اور نانو کے لیے بھی ہے نہ پاپا۔۔۔۔۔”اُس نے فردین سے تصدیق چاہی تھی۔
“میرا شیر جُھوٹ تو نہیں بولتا۔۔۔۔۔”فردین پیار بھری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔
“تو پھر وہاں آپ نے کیوں کہا کہ شیر جُھوٹ بول رہا ہے۔۔۔۔۔۔”وہ ایئرپورٹ کی بات کو سوچتا بولا جس پر فردین کے مُسکراتے لب سمٹے تھے۔
“کب کہا فردین نے میرے شیر کو جھوٹا۔۔۔۔۔۔”مُصطفی کمال مصنعوعی غُصے سے پوچھنے لگے جو شُروع ہو چُکا تھا۔
“دادا ابو آپ کہتے ہیں نہ سب کی ہیلپ کرو تو میں نے بھی تصویر والی انٹی کی ہیلپ کی مگر پاپا کہتے وہ تصویر والی آنٹی نہیں تھی پر وہ وہی تھی۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر دونوں نے نا سمجھی سے فردین کو دیکھا۔
“کونسی تصویر والی انٹی۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم کے پوچھنے پر وہ بھاگ کر اُنکے کمرے میں گیا اگلے لمحے ہی جب وہ باہر آیا اُس کے ہاتھ میں ایک تصویر تھی جسے دیکھ کر سُلطانہ بیگم اور مُصطفی کمال چونکے تھے۔
“یہ تو اشنہ کی تصویر ہے۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم بولیں یہ تصویر انکے پاس چھ سال سے تھی جب اشنہ نے تہمینہ بیگم سے اپنا سامان منگوایا تھا اُس کے اندر یہ تصویر بھی تھی جسے تب اُس نے دراز میں رکھ لیا تھا مگر زری کے آنے کے بعد یہ تصویر سُلطانہ بیگم اپنے کمرے میں لے آئیں تھیں جسے کبھی کبھار وہ دیکھتں تو احد بھی دیکھ لیتا تھا۔
“یہ انٹی مُجھے ایئرپورٹ پر ملی تھیں۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات سُلطانہ بیگم اور مُصطفی کمال سناٹے میں رہ گئے جبکہ فردین بلکل چُپ تھا۔
“ان کا پاؤچ گرا تھا میں نے اُٹھا اُنکو دیا تھا،پھر اُنہوں نے مُجھے یہاں پاری بھی کی اور کہا کیوٹ بے بی۔۔۔۔۔۔۔”وہ تفصیل سے بتانے لگا۔
“پر یہ انٹی تو اللہ کے پاس چلی گئی ہیں بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم نم لہجے میں بولیں۔
“نہیں وہ یہی تھیں،دادا ابو شیر جُھوٹ نہیں بولتا،وہ یہ تصویر والی انٹی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی بات پر زور دینے لگا۔
“اوکے مان لیا،اب خُوش۔۔۔۔۔۔”فردین کے کہنے پر وہ مُسکرایا۔
“اوکے یہ تصویر یہاں رکھو اور چلو جا کر نانا ابو سے مل کر آئیں وہ بہت اُداس ہیں شیر سے ملنے کو۔۔۔۔۔۔”مُصطفی کمال نے اُسے اپنے ساتھ لیا اور باہر نکل گئے۔
“بچہ ہے اسے غلط فہمی ہوئی ہے بھلا وہ کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم دلگرفتگی سے بولتیں اُٹھیں تو فردین کے نگاہوں نے اشنہ کی مُسکراتی تصویر کو اپنا مرکز بنایا۔
“چھ سال ہو گئے تم سے جُدا ہوئے مگر ابھی تک دل میں ویسا ہی درد اُٹھتا ہے،ابھی تک ویسے ہی تُمہاری یاد میں دُنیا سے غافل ہو جاتا ہوں آج بھی تُمہارا ورد کرتا ہوں،بہت بڑی سزا دے گئی ہو بہت بڑی۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کی تصویر کو پکڑتا اُس سے مُخاطب ہوا کب ایک آنسو آنکھ سے ٹپکا اُسے پتہ بھی نہ چلا۔
“_______________________“
آج سالوں بعد وہ اُس روڈ سے گُزرا تھا جہاں اشنہ کا گھر تھا بے اختیار اُس نے گاڑی کا رُخ اُنکے گھر کی طرف کیا مقصد صغیر اعوان سے اشنہ کی قبر کا پوچھنا تھا وہ وہاں جانا چاہتا اُس سے باتیں کرنا چاہتا تھا دل کی بھڑاس نکالنا چاہتا تھا فاتحہ خوانی کرنا چاہتا تھا۔
“کیا صغیر اعوان گھر پر ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ گاڑی سے نکل کر چوکیدار سے مُخاطب ہوا۔
“نہیں وہ تو یہاں نہیں رہتے،سال میں بس ایک دفعہ آتے کُچھ دن کے لیے بس۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا لندن میں ہی رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟فردین نے اپنی معلومات کے سبب پوچھا۔
“نہیں تو وہ لوگ دبئی میں رہتے ہیں،وہاں بزنس کرتے ہیں اب وہ۔۔۔۔۔۔”چوکیدار کی بات پر وہ سر ہلا گیا۔
“اور یہاں کا بزنس۔۔۔۔۔”
“وہ سر کے چچا زاد بھائی دیکھ رہے یہاں کا سارا بزنس ۔۔۔۔۔”
“اوکے،شُکریہ۔۔۔۔۔۔۔”فردین اپنی گاڑی میں بیٹھا سر گاڑی کی پُشت پر لگا کر گہرا سانس لیتا وہ اشنہ کو سوچنے لگا۔
“تُمہارے والد صاحب مُجھے اپنی جائیداد کی چمک دکھا کر خریدنا چاہتے ہیں اس لیے تو مجھے آفس جوائن کرنے کا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”اُسے اپنے کانوں میں اپنی بھڑکتی ہوئی آواز سُنائی دی۔
“یہ بات نہیں ہے اصل میں پاپا دبئی میں فیکٹری لگا رہے اس لیے وہ چاہتے کہ تُم یہاں کا کاروبار سمھنبالو اور وہ دبئی کے کاروبار پر اپنا فوکس کر سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ کی نرم آواز اُس کے کانوں میں پڑی تو یکدم اُس نے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں۔
“پاپا وہ تصویر والی انٹی تھی۔۔۔۔۔۔”احد کا دبئی ایئرپورٹ پر کہا گیا جملہ اُس کے کانوں میں گونجا۔
“صاحب لوگ تو دبئی میں رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”چوکیدار کا کہنا۔
“پاپا دبئی میں فیکٹری لگا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ کی آواز۔
اور پھر اُسکا اشنہ کی موت کے تیسرے دن اُنکے گھر جانا اور چوکیدار کا ایک دن پہلے اُنکا لندن جانے کاُکہنا ایسے جوان بیٹی کی موت کے بعد اُسے دفنانے کے فورًا بعد چلے جانا چوکیدار کو اُسکی قبر کا نہ پتہ ہونا اور قبرستان میں اُسکی قبر کا نہ ملنا یہ سب باتیں اُسکے دماغ میں آتیں اُسے مسلسل چونکا رہی تھیں۔
“نہیں بھلا ایسے کیسے ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔؟اُس نے دماغ کو جھٹکا تھا پر نہ جانے کیوں دل کُچھ ہٹ کر دھڑک رہا تھا۔
“_______________________“
رات بھر وہ اسی سوچوں میں گُم رہا تھا کُچھ تو تھا جو اُسے اب عجیب لگ رہا تھا حالانکہ چھ سال ہو گئے ہو گئے تب تو اُسکے دماغ میں ایسا کُچھ نہیں آیا تھا اب اچانک سے اُسے سب عجیب سا لگ رہا تھا کہیں تو کُچھ گڑبڑ لگ رہی تھی۔
“صغیر اعوان مُجھے اُسکا چہرہ کیوں نہیں دیکھنے دے رہے تھے،ڈاکٹر نے اُنکو کیوں بلوایا شوہر تو میں تھا آپریشن کے لیے سائن تو میرے ہونے تھے۔۔۔۔۔۔”سوچوں نے ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔
“کیا وہ زندہ ہے،احد پانچ سال کا ہونے والا اُسے غلطی لگ گئی یا واقع میں سچ کہہ رہا وہ،نہیں ایسا کُچھ نہیں ہے بھلا اُس نے ایسا کیوں کرنا تھا اگر وہ زندہ تھی تو میرے تک آنے میں وہ صبر کیسے کر سکتی تھی،نہیں فضول ہے سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر جھٹک کر سوئے ہوئے احد کی طرف متوجہ ہوا اور پھر صُبح کے سات بجتے دیکھ کر سکول کے لیے اُسے اُٹھانے لگا۔
احد کو اُسکے سکول چھوڑ کر وہ اپنے آفس کی طرف جا رہا تھا کہ کسی خیال کے تحت گاڑی صغیر اعوان کے آفس کی طرف موڑ لی۔
“مُجھے یہاں کے ہیڈ سے ملنا ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ ریسپشن پر آکر بولا۔
“وہ تو یہاں نہیں ہیں وہ اسلام آباد گئے ہوئے،بس مینیجر صاحب موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے اُن سے ملاقات کروا دیں یہ میرا کارڈ؛اُن سے کہیے گا کہ صغیر اعوان کے سلسلے میں بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین کے کہنے پر وہ کارڈ پکڑ کر چلا گیا دس منٹ کے انتظار کے بعد فردین کو اُس کے رُوم میں بُلایا گیا۔
“جی کیا کام ہے آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکے نشت سھنبالنے پر وہ پوچھنے لگا۔
“صغیر اعوان اس وقت دبئی میں ہیں،مُجھے اُنکے ساتھ کُچھ پرسنل کام ہے کیا آپ میرا پیغام اُن تک پہنچا سکتے ہیں کہ میں اُن سے بات کرنا چاہتا ہوں یا اُنکا کوئی کونٹیکٹ نمبر مُجھے دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ابھی ہیڈ آف آفس مسٹر فرحان یہاں نہیں ہیں وہ اسلام آباد گئے،میں آپکا پیغام پہنچا دُونگا یہ کارڈ رکھ لیتا ہوں میں اور اُنکے دبئی کے آفس کا کونٹیکٹ نمبر بھی آپکو دے دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”مینیجر کے کہنے پر وہ مُسکرایا۔
“اوکے بہت شُکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دبئی کے آفس کا کارڈ پکڑتا وہ اس کے ساتھ ہاتھ ملاتا باہر چلا آیا۔
“_____________________“
اپنے آفس میں بیٹھتے ہی اُس نے سب سے پہلا کام دبئی کال ملائی تھی مقصد صغیر اعوان سے بات کرنا تھی اور اشنہ کی قبر کے بارے پوچھنے تھا اندر ہی اندر وہ اُسے کی موت کی تصدیق کرنا چاہتا تھا۔
دوسری طرف کال کسی لڑکی نے اٹینڈ کی تھی فردین نے اُس سے صغیر اعوان سے بات کرنے کو کہا مگر وہ آفس میں نہیں تھا جب اس نے صغیر اعوان کو اپنا پیغام دینے کا کہا تو لڑکی کی اگلی بات نے اسے ششدر ہی تو کر دیا تھا۔
“آپ ایسا کریں اشنہ میم سے مل لیں وہ اسلام آباد میں میٹنگ کے سلسلے میں آئی ہوئیں ہیں،آج رات اُنکی واپسی ہے،آپ خُود کو سر اعوان کا رشتیدار کہہ رہے اس لیے میں آپکو یہ سب بتا رہی شُکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے کہہ کر کال بند کر دی جبکہ فردین ابھی بھی ساکت سا اُس کے الفاظ کو زہن میں لاتا سُن دماغ لیے خالی خالی آنکھوں سے موبائل کو دیکھ رہا تھا۔
“آپ ایسا کریں اشنہ میم سے مل لیں۔۔۔۔۔۔”
“پاپا وہ تصویر والی انٹی ہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”احد کی آواز اور اُس لڑکی کی آواز گُڈمڈ ہونے لگیں وہ اس دھچکے سے باہر نکلا اُس کا دل تیز رفتار کی سپیڈ میں دھڑک رہا تھا جیسےابھی سینے سے باہر نکل آئے گا اُسکا دماغ جیسے ابھی اس سچائی کو قبول نہ کر پا رہا تھا کہ اتنا بڑا جُھوٹ کیسے بول سکتا کوئی کیسے؟
وہ ٹیبل سے گاڑی کی چابی اُٹھاتا آفس سے باہر نکلا اور جس طرح وہ گاڑی چلا کر گھر آیا تھا بمُشکل ایکسڈنٹ ہوتے ہوتے بچے تھے۔
“اماں مُجھے اسلام آباد جانا ہے،احد کو سکول سے بابا لے آئیں گئے۔۔۔۔۔۔”
“خیر ہے یوں اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم اُس کے تاثرات سے چونکیں۔
“اشنہ زندہ ہے،وہ مری نہیں تھی ہمارے لیے اُسے مارا گیا۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”دل پر ہاتھ رکھے وہ بھی ہکا بکا رہ گئیں بے یقینی ہی بے یقینی اُنکی آنکھوں پر تھی۔
“مُجھے چلنا ہوگا،دُعا کریں وہ سچ میں زندہ ہی ہو،ورنہ اب کی بار دل بند ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا اور سُلطانہ بیگم وہی ساکن سی بیٹھ گئیں۔
