Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

وہ جب گھر آیا تھا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے وہ فیاض کے ساتھ کھانا کھا چُکا تھا اس لیے سیدھا اپنے کمرے میں آیا پہلی نظر اُسکی بیڈ کی طرف اُٹھی جو خالی تھا اُس نے نظریں دوڑائیں تو اُسے صوفے پر سویا دیکھ کر تشکر کا سانس خارج کیا تھا۔
“میرے بیڈ کی جان تو چُھوٹی۔۔۔۔۔۔۔”وہ ریلیکس ہو کر سونے کے خیال سے خُوش ہوا تھا اور کپڑے تبدیل کرتا سونے کے لیے لیٹ گیا کروٹ بدلی تو پہلی نظر سُوئی ہوئی اشنہ پر پڑی وہ بے اختیار اُسے دیکھے گیا کہ آخر یہ لڑکی اتنے پاگل پن پر کیوں اُتر آئی تھی ساتھ ہی فیاض کی کہیں باتیں زہن میں چلنے لگی پھر گہرا سانس بھرتا سیدھا ہو کر لیٹ گیا اور کُچھ ہی لمحوں بعد وہ نیند کی وادیوں میں کھو چُکا تھا۔
اشنہ کی آنکھ فجر کے وقت کُھلی تھی کانوں میں اذان کے الفاظ پڑے تو بے اختیار اُٹھ بیٹھی بیڈ کی طرف دیکھا جہاں فردین سکون سے سویا ہوا تھا اُسے سویا دیکھ کر وہ مُسکرا دی اور اُٹھ کر اس کے بیڈ پر اسکے نزدیک بیٹھ گئی اُس کے چہرے سے کمبل اُترا ہوا تھا وہ آسانی سے اُسے دیکھ سکتی تھی اس نے کیا بھی ایسا ہی تھا پیار سے اُس کے ایک نقوش کو دیکھتی دل میں اُتارنے لگی پھر اپنے دل میں آتے خیال پر مُسکراتی جُھکی اور اُسکی روشن پیشانی پر اپنے لب رکھ دئیے فردین نیند میں کسمکسایا تھا ہڑبڑا کر اُٹھ کھڑی ہوئی اور چلتے ہوئے صوفے پر بیٹھ کر اُسے دیکھنے لگی باہر سے بولنے کی آواز آئی تو باہر آئی جہاں مُصطفی کمال مسجد جا رہے تھے اور سُلطانہ بیگم جائے نماذ فرش پر بچھا رہی تھیں اشنہ واپس اپنے کمرے میں آئی اپنا ڈوپٹہ اُٹھایا اور واش رُوم چلی گئی وضو کرنے کے بعد باہر آئی اور جائے نماذ ڈھونڈنے لگی جو اُسے مل گئی تھی نماذ پڑھ کر دُعا مانگی تو صرف فردین کا ساتھ مانگا دُعا مکمل کر کے جائے نماذ کو اُسکی جگہ پر رکھ کر فردین کے قریب آئی اور اُس پر پھونک ماری۔
“بہت مانگ لیا تُمہیں دُنیا سے فردین مُصطفی،اب اپنے اللہ سے مانگوں گی اُسی نے تُمہاری محبت میرے دل میں ڈالی ہے نہ،وہ ہی اب تُمہیں میرا کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ زیر لب بولی ڈوپٹہ گلے میں ڈال کر اُسکا کندھا ہلایا جس نے فٹ سے آنکھیں کھولیں۔
“نماذ کا ٹائم ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ جانتی تھی کہ وہ فجر کی نماذ کا پابند تھا باقی کی کبھی کبھار چُھوٹ جاتیں تھیں۔
“تُم کیسے اُٹھ گئی آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے اسکے دُھلے چہرے کی طرف نگاہ کی۔
“وہاں مُجھے نیند نہیں آ رہی تھی اس لیے تُمہیں اُٹھایا کہ تُم جاؤ اب میرا حق ہے اس بیڈ پر۔۔۔۔۔۔”
“کیوں جہیز میں لے کر آئی تھی تُم اسے۔۔۔۔۔۔۔”وہ بیڈ سے اُٹھ گیا۔
“تُم مجھے جہیز نہ لانے کا طعنہ دے رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے کمبل میں گُھس گئی تھی کمبل سے پھوٹتی اُسکی خُوشبو نے اُسے اپنے احصار میں لے لیا تھا۔
“یہ جو میری وارڈرب کو کباڑ خانہ بنا کہ رکھا ہوا ہے اسکے بعد بھی تُمہیں اپنے جہیز کی پڑی ہوئی ہے،خبردار اگر آئندہ سے تُمہارے ماں باپ کے گھر سے کوئی چیز آئی تو پھر دیکھنا،مُجھے اپنی امیریت سے امپریس کرنے کی تُمہاری کوشش بیکار ہے۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ انداز میں کہتا چلا گیا اشنہ نےسونے کا ارادہ ترک کیا وارڈرب سے اپنی تمام چیزیں نکال کر اُنکو بیگ میں رکھا باہر لان میں آ کر چہل قدمی کرنے لگی اور ساتھ صفائی والی کا انتظار کرنے لگی سُلطانہ بیگم کھانا وغیرہ خُود ہی بناتی تھیں بس صفائی والی آ کر صفائی اور کپڑے دھو جاتی تھی وہ اور لوگوں کے گھروں میں بھی جاتی تھی اس لیے پہلے ان لوگوں کے گھر آتی تھی۔
جب وہ آئی تو اُس نے پُورا بیگ اُسے تھما دیا۔
“اس میں کپڑے جوتے اور کُچھ اور چیزیں ہیں اپنے گھر لے جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔
جب فردین نماذ پڑھ کر معمول کی واک کر کے اپنے کمرے میں آیا تو اشنہ کو اپنے کپڑوں میں دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا اس کی پینٹ کو پائنچوں سے فولڈ کیا ہوا تھا اور بیلو ٹی شرٹ میں وہ عجیب ہی لگ رہی تھی۔
“میرے کپڑے کیوں پہنے ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ بُرے تیوروں سے پوچھنے لگا۔
“میرے پاس کپڑے ہی نہیں تھے۔۔۔۔۔”وہ سکون سے بولی فردین غُصے سے وارڈرب کی طرف بڑھا مگر ا سے خالی دیکھ کر حیران ہوا پھر نگاہ ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی جہاں اسکا میک اپ کا سامان بھی موجود نہ تھا۔
“میں نے سب کُچھ ہاجراں کو دے دیا،کیونکہ سب مما پاپا کی طرف سے تھا اور مجھے تم پر اپنی امیریت جتانے کی کوئی ضرورت نہیں،اب میرے پاس نہ کوئی ڈریس اور نہ کوئی جوتا ہے،لا دو گئے تو ٹھیک ورنہ میں ایسے ہی کام چلا لونگی۔۔۔۔۔۔۔”وہ آرام سے کہتی کمرے سے نکل گئی جبکہ وہ ابھی تک ہکا بکا کھڑا تھا۔
“یہ شرمندہ کروائے گی اماں اور بابا سامنے۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑایا
تیار ہو کر جب ناشتے کی ٹیبل پر آیا اشنہ سُلطانہ بیگم کا ڈوپٹہ اوڑھے بیٹھی تھی۔
“بابا چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سُلطانہ بیگم سے پوچھنے لگا وہ گورنمنٹ آفیسر تھے جلدی چلے جاتے تھے۔
“ہاں وہ تو سات بجے ہی نکل گئے،تم بیٹھو۔۔۔۔۔۔۔”اُن کے بتانے پر وہ سر ہلاتا کُرسی پر ٹک گیا اور ایک نظر اُسے دیکھا جو پینٹ اور ٹی شرٹ پر ڈوپٹہ اوڑھے عجیب و غریب مخلوق لگ رہی تھی فردین مُسکراہٹ چُھپاتا ناشتہ کرنے لگ پڑا۔
“بیٹا اشنہ کے پاس کوئی کپڑا نہیں پہننے کو،اسے کُچھ ڈریس ہی لا دو۔۔۔۔۔۔۔”
“اتنی امیر کبیر بہو آپکی ایک دن میں غریب کیسے ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لہجے میں تمسخر تھا۔
“جب خُود منع کیا ہے اسے اس کے والدین کی طرف سے لیے کپڑے پہننے کو تو اب تُم ہی لا کر دو گئے نہ اسے۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگن کے کہنے پر وہ اسے گھورنے لگا بھلا اس نے یہ تو نہیں کہا تھا حالانکہ اُسکا مقصد یہی تھا۔
“جو اس میڈم کو اس گھر میں لے کر آئے ہیں اُنکو بولیں اسکی ضرورتیں پوری کریں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھتا ہوا اُس پر ایک تیز نگاہ ڈالنا نہ بُھولا تھا۔
“میں نے کہا تھا کہ وہ نہیں مانے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین کے جانے کے بعد سُلطانہ بیگم کہنے لگیں۔
“اب میں اس کے لائے ہی ڈریس پہنوں گی ورنہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ ضدی لہجے میں بولی۔
______________________
“کہاں جا رہی ہو زری۔۔۔۔۔۔۔۔”صفیہ بیگم اُسے جاتا دیکھ کر پوچھنے لگیں۔
“اپنے گھر امی۔۔۔۔۔”
“کونسا تُمہارا گھر،جو اُس کے نام کر دیا،کس حق سے تُمہارا گھر بن گیا،دیکھو تو بھائی صاحب کو حق مہر میں ہی لکھ دیا،تُمہیں تو نہیں لکھ کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صفیہ بیگم کی بات میں سچائی بھی تھی جس کو مانتے ہوئے وہ لب بھینچ گئی۔
“اگر میں ایسے ہی منظر سے غائب رہی تو جس طرح اُس نے میرے گھر کو اپنا بنا لیا فردین کو بھی بنا لے گی،سب کُچھ تو ہے اُس کے پاس دولت،حُسن اور لب و لہجہ بہت میٹھی چُھڑی ہے وہ،کوئی بھی اُسکی باتوں میں آ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سُلطانہ بہن اُس پر مر مٹی ہیں،دو دن ہو گئے انہوں نے تُمہارا آ کر پوچھا کوئی اور بھائی صاحب تو امیر بہو کو پا کر جیسے سب بُھول ہی گئے ہیں۔۔۔۔۔۔”صفیہ بیگم نے جلتے دل کی بھڑاس نکالی تھی۔
“اس لیے تو جا رہی ہوں،میں اتنی آسانی سے اُسے سب حاصل نہیں کرنے دُونگی،فردین کی طرف سے مُجھے کوئی خطرہ نہیں وہ میرا ہے اور میرا ہی رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مرد زات کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا زری،تُم فردین کو بولو کہ بھائی صاحب سے دو ٹوک بات کریں،نہ صرف گھر واپس لیں بلکہ اُس بلا کو بھی یہاں سے چلتا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔”صفیہ کی بات کو سمجھتی وہ سر ہلا گئ۔
“میں چلتی ہوں،فردین بھی گھر ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُن سے کہتی یہاں آئی تو پہلی نگاہ اشنہ پر پڑی جو فردین کے کپڑوں میں بیٹھی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی اور سُلطانہ بیگم پاس بیٹھیں مٹر نکال رہی تھیں۔
“ارے زری بیٹا،آؤ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ کمال کی اس پر نظر پڑی تو مُسکراتے ہوئے بولیں اُن کے بولنے ہر اشنہ نے بھی اسے دیکھا تھا جو کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“کیسی ہیں آپ تائی جان،دو دن ہو گئے آپ بُھول گئیں اپنی بیٹی کو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شکوہ کرتی اُن کے پاس ٹک گئی۔
“ارے کون تمہیں بُھول سکتا ہے،بس گھر کے کاموں سے ہی فرصت نہیں نکلتی۔۔۔۔۔۔۔”
“سارے کام جو آپ کو کرنے پڑتے ہیں پہلے تو میں آپکا ہاتھ بٹا دیتی تھی،کوئی نہیں آپ فکر نہ کریں میں روزانہ آ کر بٹا دیا کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے کہنے پر اشنہ نے غور سے اُسکے چہرے کی طرف دیکھا تھا پھر کہہ اُٹھی۔
“روز آنے کی کیا ضرورت ہے زری،تُم آ جاؤ نہ یہی ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ کی بات پر دونوں چونکیں تھیں۔
“میرے مُنہ کی بات چھین لی اشنہ بیٹی نے۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم مُسکرائیں۔
“جب تُم ہمیشہ کے لیے یہاں سے دفعہ ہو جاؤ گی تو میں بھی آ جاؤنگی،یہ کہہ کر آخر کتنی دیر تک ان سب کی نظروں میں اچھی بنتی رہو گی کہ تُم بہت مہان ہو تُم قربانی دے رہی ہو کس چیز کی جو تُمہاری ہے ہی نہیں تُم نے کونسا فردین کو پایا ہے جو اُسے قربان کر رہی ہو وہ تو میں جانتی ہوں جسکا وہ ہے اور تُم چھین رہی ہو،میرا گھر تو چھین بھی چُکی ہو شرم نہ آئی تُمہیں میرا گھر لیتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زری تو اسکی بات پر ہی جل بھن گئی تھی۔
“زری اُسکا یہ مطلب تو نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم اُسکی آنکھوں میں نمی دیکھ کر بول پڑیں۔
“بہت اچھی طرح میں اس کے مطلب جان گئی ہوں تائی امی،آپ اس کے معصوم چہرے پر نہ جائیں صرف دھوکہ ہے یہ،آپ لوگوں کا پیار اور دل جیتنے کا۔۔۔۔۔۔”
“تُم غلط سوچ رہی ہو زری،میرا ایسا کوئی مطلب نہیں ہے،میں تو خُود تم سے بہت شرمندہ ہوں اور انکل نے یہ گھر کب میرے نام کیا مجھے کُچھ نہیں پتہ،بلکہ میں تو فردین کو بھی کہہ چُکی ہوں کہ میں یہ گھر تُم لوگوں کو واپس کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ نے نرمی سے اپنی صفائی دی تھی۔
“اوہ رئیلی،تو کب لوٹا رہی ہو یہ گھر اور فردین مجھے واپس۔۔۔۔۔۔۔”وہ طنزً مُسکرائی۔
“یہ گھر تو تُمہیں لوٹا دُونگی پر فردین تو میرا ہوا ہی نہیں وہ کیسے لوٹا سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔”اشنہ کے لبوں پر ذخمی مُسکراہٹ تھی جسے دیکھ کر زری کو بہت سکون ملا تھا جبکہ سُلطانہ بیگم نے تاسف سے اُسے دیکھا تھا۔
“یہی تو میں کہہ رہی ہوں تُم سے اشنہ اعوان کے یہاں سے دفعہ ہو جاؤ،ہماری زندگیوں سے اپنا منحوس سایہ لے کر،بہت دے لیے تُم نے ہمیں دُکھ اب چلی جاؤ،سب کُچھ یہی چھوڑ کر یہاں تک کہ فردین کا نام بھی۔۔۔۔۔۔۔”زری کے برفیلے لہجے پر وہ سر نفی میں ہلا گئ اور پھر روتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تبھی فردین نے ہال میں قدم رکھا وہ اُسے روتا جاتے دیکھ چُکا تھا۔
“کیسی ہو ذری۔۔۔۔۔۔۔”وہ زرلش کو دیکھ کر مُسکرایا پُورے چھ دن بعد اُس نے اس گھر میں قدم رکھا تھا ورنہ فردین ہی اس سے ملنے اُدھر جاتا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں،تُم لیٹ آئے ہو آج۔۔۔۔۔۔۔”وہ گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
“ہاں کسی دوست کو ڈراپ کرنا تھا،تُم بیٹھو۔۔۔۔۔۔”فردین کے کہنے پر وہ بیٹھ گئ جبکہ سُلطانہ بیگم اُس دوران کچن میں جا چُکی تھیں۔
“میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔۔۔۔”نہ جانے کیوں وہ کمرے میں جانا چاہتا تھا۔
“بعد میں ہو لینا،ابھی تو بیٹھو نہ۔۔۔۔۔۔۔”
“صرف دس منٹ،تُم چائے بنا کر لاؤ میں تب تک آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولتا ہوا اپنے کمرے میں آیا جہاں وہ کمبل میں دُبکی ہوئی تھی اُسکا ہلتا وجود اس بات کی علامت تھا کہ وہ رو رہی ہے فردین نے لب بھینچ کر اُسے دیکھا پھر وارڈرب سے اپنے کپڑے نکالے تبھی اشنہ کا موبائل بجنے لگا اُس نے ایک پل انتظار کیا کہ وہ اُٹھے گی مگر جب نہ اُٹھی تو فردین نے اُسکا موبائل پکڑا مما کالنگ کے الفاظ جگمگا رہے تھے۔
“تُمہاری مما کی کال ہے،اُٹھ جاؤ۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے اُٹھانا چاہتا تھا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔
“اوکے نہ اُٹھو،میں اُن سے کہہ دیتا ہوں تُم اُنکی یاد میں ٹسوے بہا رہی ہو۔۔۔۔۔۔”فردین کا تیر بلکل صحیح جگہ لگا تھا وہ ایک جھٹکے سے کمبل پڑے کرتی اُٹھی تھی فردین نے دیکھا رونے کے باعث جسکا ناک اور آنکھیں سُرخ ہوئیں تھیں اُسکا دل مٹھی میں آیا تھا۔
“جی مما،میں سُوئی ہوئی تھی،جی ذکام لگا ہوا ہے،گئی تھی ڈاکٹر کے پاس،جی فردین کے ساتھ ہی،اوکے پھر بات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ جُھوٹ بولتی جلدی سے کال بند کرتی موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر پھر سے پہلے والی پوزیشن میں چلی گئی۔
“فردین،تُم ابھی تک فریش نہیں ہوئے۔۔۔۔۔”زرلش حیرانگی سے اسے دیکھتی بولی جو ہاتھ میں کپڑے لیے کھڑا تھا۔
“ہاں وہ اب ارادہ کینسل کر دیا،تُم چلو۔۔۔۔۔۔”وہ کپڑے صوفے پر رکھتا اسکی طرف پلٹا۔
“مانا کہ ابھی فلحال میرے کمرے پر کُچھ لوگوں نے اپنی گھٹیا سازشوں سے قبضہ کیا ہوا ہے پر تھا تو میرا نہ اور رہے گا بھی میرا۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکے کمبل میں چُھپے وجود کو دیکھتی جتانا نہیں بھولی تھی۔
“چھوڑو تُم چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔”فردین اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے وہاں سے لے گیا۔
_____________________
زرلش پھر رات تک یہاں رہی تھی ڈنر بھی فردین کے ساتھ کر کے گئی جس نے بے دلی سے کھانا کھایا تھا اور نگاہ بار بار اپنے کمرے کی طرف اُٹھتی تھی۔
زرلش کے جانے کے بعد وہ کمرے میں آیا جو صوفے پر بیٹھی ایل ڈی پر ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔
“تُم نے کھانا کھانے سے کیوں انکار کیا۔۔۔۔۔۔”وہ بیڈ پر بیٹھتا پوچھنے لگا۔
“مُجھے بُھوک نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔”
“بُھوک نہیں تھی کہ مُجھے اور زری کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھنے کی ہمت نہ تھی۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے سُرخ چہرے کو دیکھتا چوٹ کر گیا۔
“تم لوگوں کو ساتھ دیکھنے کی ہمت ہے پر کوئی تُمہیں مُجھ سے الگ کرنے کی بات کرے یہ سُننے کی نہ تو ہمت ہے اور نہ برداشت۔۔۔۔۔۔۔”وہ صاف بول گئی تھی۔
“تو نہ سُنو چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔”
“تُمہارا نام لے کر جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس نام پر گُزار لو گی ساری عُمر۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں گُزار لونگی،میں تو تُمہیں دیکھ کر ہی ساری عمر بتا سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا لہجہ مضبوط تھا۔
“تو کر لیتے ہیں پھر کوئی ایسی ڈیل تُمہارے ساتھ،بس زری کو منانا ہوگا۔۔۔۔۔۔”
“میں بات کروں اُس سے۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ خُوش ہوئی تھی کہ کم از کم یہ چھوڑنے کے خوف سے تو وہ آزاد ہو گی۔
“جیسی آج کی تھی،پھر اتنی ہمت ہے کہ روتے ہوئے بھاگ جاتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُسکی تلخ باتوں پر مُجھے کوئی افسوس نہیں وہ اُسکا حق ہے،پر اُسے بولو کہ وہ تمہیں مُجھ سے الگ کرنے کی بات نہ کرے،ورنہ میرا دل بند ہو جائے گا کسی دن۔۔۔۔۔۔”
“کیا مر جاؤ گی۔۔۔۔۔۔”وہ بیڈ پر لیٹ گیا اور کروٹ کے بل اسے دیکھنے لگا نہ جانے کیا بات تھی کہ وہ آج اس سے مسلسل بات کر رہا تھا جس سے اشنہ بھی خُوش ہو رہی تھی۔
“ایک بار تو تُم پر مر گئی ہوں کہو تو ہزار بار بھی مر سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں مُجھے تُمہاری جان نہیں چاہئیے۔۔۔۔۔۔”
“کیا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”
“تُم۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ اُسکی بات پر چونکی تھی۔
“تُم سے چھٹکارا۔۔۔۔۔۔۔”بات مکمل کرتے ہوئے فردین نے اُسکی ساری خُوش فہمی ختم کر دی تھی وہ مُنہ لٹکا گئی۔
“ٹی وی بند کرو،مجھے سونا ہے اور پلیز میرے کپڑے کل اُتار دینا زری ناراض ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا کمبل اوڑھ گیا جبکہ اشنہ اُسکی بات پر افسردہ ہو گئی۔
______________________
تہمینہ اعوان اور صغیر اعوان نے کال کی تھی کہ وہ اس سے ملنے کے لیے رات کو آ رہے ہیں اشنہ تب سے پریشانی سے ادھر سے اُدھر چکر لگاتی اپنے حُلیے کے بارے سوچ رہی تھی کہ وہ اب اُن کے سامنے فردین کے کپڑوں میں کیسے جائے دوسرا وہ اُن سے ساری سچویشن بھی چُھپانا چاہتی تھی۔
“اگر زری آ گئی تو اُس نے کوئی لحاظ نہیں کرنا،اور پہنوں کیا؟آنٹی کا ڈریس تو فٹ نہیں آنا،کیا کروں۔۔۔۔۔۔.”وہ سوچ میں پڑ گئی دروازہ کُھلا اور فردین کمرے میں داخل ہوا اُس کے ہاتھ میں دو تین شاپنگ بیگز تھے جو اُس نے صوفے پر رکھے۔
“امی نے کال کی تھی کہ تُمہارے گھر والے آ رہے،اس لیے نہ چار مُجھے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین کی بات پر وہ خُوشی اور حیرت سے دم بخود رہ گئی۔
“اب کیا سکتے میں چلی گئی ہو۔۔۔۔۔”وہ اُسے حیرت کا بت بنے دیکھ کر کہنے لگا جو مُسکراتی ہوئی شاپنگ بیگز میں سے چیزیں نکالنے لگی۔
“واؤ فردین مُصطفی تُمہاری چوائس تو بہت کمال کی ہے۔۔۔۔۔۔”وہ پنک کلر کے برینڈڈ سُوٹ کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے زیر لب مُسکرائی فردین اسکے مُسکرانے پر ریلیکس ہوتا کپڑے چینج کرنے چلا گیا اشنہ نے جوتا پہن کر چیک کیا جو تھوڑا سا سائز میں ان فٹ تھا کیونکہ وہ اپنے حساب سے لے کر آیا تھا۔
وہ ساری چیزیں پکڑتی ڈریسنگ رُوم میں چلی گئی ڈریس پہن کر خُود کو مرر میں دیکھا تو مُسکرا دی واقع میں اُسے بہت سُوٹ کر رہا تھا جوتا پہنا پھر بالوں کو ویسے ہی کُھلا چھوڑتے ہوئے وہ رُوم میں آئی جہاں فردین تولیے سے بال رگڑ رہا تھا۔
“کیسی لگ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے پوچھنے پر فردین نے ایک سرسری نظر اُس پر ڈالی جو کب گہری ہوتی چلی گئی اُسے پتہ بھی نہ لگا تھا۔
“جیسی ہو ویسی ہی لگو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رُخ بدل گیا تو اشنہ دل مسوس کر رہ گئی جبکہ فردین سوچنے لگا اندازے کا مطابق سُوٹ لایا تھا اسے اتنا فٹ کیسے آ گیا؟
وہ سُلطانہ بیگم کی تلاش میں کچن میں آئی جو کباب کا مصالحہ تیار کر رہی تھیں۔
“یہ کیا آنٹی،آپ کیوں اتنی ذحمت کر رہی ہیں اُنہوں نے کھانا تو نہیں کھانا۔۔۔۔۔..”
“کھانا کیوں نہیں کھائیں گئے بھلا؟اُس دن بھی تُمہاری ماما ویسے ہی چلی گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔”
“میں ہیلپ کروں؟آپ سب کُچھ کیسے کریں گی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کُچھ شرمندہ سی ہونے لگی کہ اسے کُچھ بنانا آتا تو وہ ضرور انکو کچن سے فری کر دیتی۔
“مُشکل کُچھ بھی نہیں،کباب بنا کر فریج میں رکھ دیتی ہوں ڈنر کے ٹائم فرائی کر لیں گئے،میٹھے میں رس ملائی بنا کے رکھ لی ہے،اب بس مٹن اور بریانی بنانے لگی ہوں،باقی فردین کے بابا کو لسٹ سینڈ کر دی ہے وہ بازار سے لے آئیں گئے۔۔۔۔۔۔”اُنکے بتانے پر اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“اتنا کُچھ،ابھی اور لسٹ بنا کر دی ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“کیوں تُمہارے گھر میں اتنے کھانے مہمانوں کے سامنے نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔۔”اُن کے سوال ہر وہ سوچ میں پڑ گئی واقع اُس نے کبھی نوٹ ہی نہ کیا تھا۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو،میں نے تو شُکر کیا جب فردین نے بتایا کہ وہ تُمہارے لیے شاپنگ کر کے لایا ہے،مُجھے کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی اُس سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم کی بات پر وہ چونک اُٹھی۔
“آپ نے کال کر کے بتایا تھا فردین کو مما پاپا کے آنے کے بارے میں۔۔۔۔۔۔…”
“نہیں تو،کس نے کہا؟اُسے تو ابھی بتایا میں نے۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر اشنہ کو خوشگوار جھٹکا لگا۔
“امی نے کال کی تھی تُمہارے گھر والے آ رہے ہیں اس لیے مجھے یہ کڑوا گھونٹ بھرنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین کا کہا جملہ اُس کے کانوں میں گونجا وہ خُوشی سے مُسکرائی تھی اپنا آپ اُسے ہوا میں اُڑتا محسوس ہوا۔
ہال میں لگے دیوار گیر آئینے میں اپنے سراپے کو دیکھتی وہ مسلسل مُسکرائے جا رہی تھی اور پھر رات تک اس کے ہونٹوں سے مُسکراہٹ جُدا نہ ہوئی تھی۔
رات کو جب تہمینہ اعوان اور صغیر اعوان آئے تب بھی وہ مُسکراتے ہوئے اُن سے ملی جو اسے خُوش دیکھ کر پُرسکون ہو گئے تھے۔
“تُمہارے ساس اور سُسر تو بہت اچھے ہیں فردین کیسا ہے اب۔۔۔۔۔۔۔”تہمینہ اعوان نے پوچھا تھا۔
“وہ بھی بہت اچھے ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکرائی۔
“زرلش کو کب کروا رہے یہ رُخصت؟مُجھے تو بہت تکلیف ہو رہی تُمہارے لیے بیٹا بہت مُشکل ہے سوکن کے ساتھ رہنا ۔۔۔۔۔۔”
“مما سوکن وہ نہیں میں اُس پر بن کے آئی ہوں،مُشکل والی کوئی بات نہیں ہے وہ اس گھر میں رہے گی اور میں الگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکے مُسکرا کر کہنے پر وہ اسے دیکھتی رہ گئیں۔
_____________________
“تُم۔۔۔۔۔۔۔”زری اُسے اپنے گھر میں دیکھ کر چونکی پھر اُس کے چہرے پر شدید ناگواریت کے تاثرات چمکے جن کو دیکھ کر اشنہ نے لب بھینچ لیے۔
“اندر آنے کو نہیں کہو گی۔۔۔۔۔۔۔؟
“پہلے سارے کام میری اجاذت سے کیے ہیں تُم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مُجھے تُم سے کُچھ بات کرنی ہے زری۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ نے اُسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے آنے کی وجہ بتائی جس پر زرلش نے پیچھے ہو کر اُسے اندر آنے کا راستہ دیا تھا وہ اُس کے ساتھ اُسکے رُوم میں آئی۔
“بولو کیا کہنا ہے۔۔۔۔۔۔۔”زری نے بیٹھنے کا بھی نہیں کہا تھا۔
“میں جانتی ہوں تُم مجھ سے بہت ناراض ہو میں۔۔۔۔۔۔”
“اس سے اگلی بات کرو،جو بات کرنے آئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ لہجے میں اسکی بات کاٹ گئی۔
“میں یہی کہنے آئی ہوں کہ تُم فردین کو پریشان نہ کرو اور نہ خُود میری وجہ سے سٹریس لو،میں چلی جاؤنگی یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔”
“طلاق لے کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش کے سوالیہ انداز پر اشنہ کا دل تھما تھا یہ تو سوچنا بھی سوہان روح تھا۔
“نہیں بس فردین کا نام لے کر،میں ساری زندگی اشنہ فردین بن کر گُزارنا چاہتی ہوں بس اتناسا حق دے دو زری یہ جو میری سانس چل رہی ہے نہ صرف فردین کی وجہ سے،جس دن وہ دُور ہو گیا یہ سانس کی ڈوری ٹوٹ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور مجھے یہ کسی صورت گوارا نہیں اشنہ اعوان۔۔۔۔۔۔”اس نے چبا کر کہتے ہوئے اسکی حقیقت جتائی تھی کہ وہ ابھی تک اشنہ اعوان ہے اور رہے گی۔
“سچ کہتے ہیں ایک عورت ہی دوسری عورت کا گھر برباد کرتی ہے۔۔۔۔۔”زری تنفر سے کہہ گئی۔
“میں نے تُمہارا گھر برباد نہیں کیا زری،میں تب برباد کرتی اگر تُم سے سب چھین لیتی۔۔۔۔۔۔۔”
“چھینا ہی تو ہے میرا گھر،میرا شوہر۔۔۔۔”
“میں تُمہارا گھر تُمہیں دینے کو تیار ہوں،فردین بھی تُمہارا ،کوئی حق کوئی ڈیمانڈ نہیںُ ہوگی میری،میں اپنے مما پاپا کے ساتھ رہونگی تم لوگوں کی زندگی کو ڈسٹرب بھی نہیب کرونگی اس چیز کا وعدہ کرتی ہو میں…..۔۔۔۔۔۔”
“اوکے نام لے کر جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ پر اُس کے بعد تُم دوبارہ ہماری زندگی میں نہیں آؤ گی بولو منظور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش نے ہامی بھرتے ہوئے یقین دہانی چاہی تھی اشنہ تو جیسے پھر سے جی اُٹھی تھی۔
“ہاں مُجھے قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکرائی تھی جس پر زرلش نے کُچھ حیرت سے دیکھا تھا کہ صرف نام پہ کیسے وہ ساری زندگی گُزار سکتی ہے۔
اُس کے جانے کے بعد جب زرلش نے صفیہ بیگم کے گوش و گُزار سارا معاملہ کیا تو وہ زری کی عقل پر ماتم کرنے لگیں۔
“پاگل ہو گئی ہو تم زری،کتنی آسانی سے مان گئی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ گھر بھی میرے نام کرنے کو تیار،فردین کو بھی چھوڑ کر جا رہی ہے باقی کیا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔”
“طلاق لے کر تو نہیں نہ جا رہی وہ،ساری زندگی وہ تُمہارے سر پر خوف کی طرح سوار رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مطلب کیسا خوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زری نا سمجھی سے پوچھنے لگی۔
“اب مان مان لیا کہ وہ چلی جائے گی تم دونوں کی زندگی سے،مگر آنے والے کل کا کسے پتہ،ہو سکتا کل کو پھر سے آ جائے یا فردین کے دل میں اُس کے لیے لچک پیدا ہو جائے،مرد زات کا کیا بھروسہ کب بدل جائے اگر کل کو کوئی بچہ ہو گیا تو،پھر روتی رہنا تم اُسے،اتنی امیر ہے وہ کل کو سارا کُچھ اُسکا ہوگا تو وہ سب کُچھ فردین کو دے گی،فردین پھر اُسے اور اُسکی دولت کو سمنبھالے گا اور تم اپنے تایا اور تائی کو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ تو سوچا ہی نہیں تھا میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پاگل جو ہو تُم،وہ بہت تیز اور مکار لڑکی ہے،اُسے پتہ ابھی فردین زری زری کر رہا اس لیے کُچھ دیر قربانی دے کر سب کی نظروں میں اچھی بن جائے گی اور وقت گُزرنے کے ساتھ فردین کو اپنا بھی بنا لے گی،بھائی صاحب اور بھابھی کو تو وہ پہلے ہی اپنا بنا چُکی ہے،تُم بس فردین سے بولو کہ گھر پہلے ہویشاری سے اپنے نام کروائے پھر اُسے طلاق دے کر گھر سے باہر کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صفیہ بیگم کی باتوں پر وہ متفق ہوتی سر ہلا گئی۔
______________________